تازہ ترین  

نہ جسم میرا نہ مرضی میری۔۔۔!!!
    |     4 weeks ago     |    کالم / مضامین
وہ کہتے ہیں کہ عورت کی اصلاح آنے والی کئی نسلوں کی اصلاح ہے۔ اس کاسدھرنا کئی نسلوں کا سدھار اور اس کا بگڑنا کئی نسلوں کا بگاڑ ہے۔ 8 مارچ "International women's day" کے طور پر منایا جاتا ہے۔ 8 مارچ کی تاریخ ماضی قریب سے ایک معمہ بن چکی ہے۔ حقوق نسواں کے نام پر لبرلزم اور فیمینزم کو فروغ دینے کا ایک ناختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ یہ مارچ نہیں دراصل حیا اور غیرت کو کفن میں لپیٹ کر اس کے جنازے کا دن ہے۔ عورت کی آزادی کے نام پر معاشرے کی باحیا خواتین کے پاک کردار کو داغ دار بنانے کا دن ہے۔
آزادی کے نام پر جس مغربی کلچر، بے حیائ، بد تہذیبی اور بدچلن کو فروغ دینے کی کوشش کی جارہی ہے، یقینا وہ یک بار نہیں صد بار قابل مذمت ہے۔ اور اس مدینہ جیسی ریاست میں ستم بالائے ستم تو یہ کہ اس کے خلاف کورٹ میں دائر کی گئی درخواست یہ کہہ کر مسترد کردی جاتی ہے کہ " آئین کے مطابق اس مارچ کو نہیں روکا جاسکتا"۔ کیا میں یہ پوچھ سکتا ہوں کہ اسلام کے نام پر بننے والے اس ملک میں کوئی ایسا آرٹیکل نہیں جس کے مطابق بے حیائی اور عریانیت قابل مواخذہ ہو؟؟ یقینا جہاں یہ عمل اخلاقی طور پر قابل مذمت ہے، وہیں اس ملک کا آئین قطعا اس ننگے پن کی اجازت نہیں دے گا۔ صد افسوس ہے صاحب اقتدار اور انصاف کے رکھوالوں پر جو اس فحاشی اور عریانی کی سر توڑ سرپرستی کررہے ہیں۔
آئیے!!! اس مارچ کا حقیقی چہرہ دیکھتے ہیں۔ گنتی کی چند نام نہاد حقوق نسواں کی علمبردار ان خواتین کے نظریے کو ٹٹولتے ہیں کہ آخر اس مارچ سے ان کا دستور اور منشور کیا ہے؟
"سنا ہے آزادی چاہتی ہیں"۔ میں پوچھ سکتا ہوں کہ کس قسم کی آزادی چاہتی ہیں؟ کیا اسلام نے جتنی آزادی دی ہے، وہ کافی نہیں؟ کیا انہیں وہ زمانہ یاد نہیں جب اس عورت کو معاشرے کا نحس تصور کیا جاتا تھا۔ مگر اسلام نے وہ عزت دی کہ دنیا کے تمام ادیان و مذاھب اس عزت و تکریم کو سراہتے نظر آتے ہیں۔ عورت جس روپ میں بھی ہو قابل احترام قرار دی گئی۔ اگر عورت ماں کے روپ میں ہے تو جنت، بہن کے روپ میں ہے تو ہمت، بیوی کے روپ میں ہے تو سکونت، بیٹی کے روپ میں ہے تو رحمت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر کہا گیا کہ اس مارچ سے مقصد عورتوں کے حقوق کی جنگ لڑنا ہے۔ کیا کوئی بتا سکتا کہ پلے کارڈز پر لکھے slogans: "میرا جسم میری مرضی"، "کھانا خود گرم کرلو"، "میں طلاق یافتہ ہوں، میں خوش ہوں"، میری مرضی میں جیسے بیٹھوں"، "اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لو" جیسے فحش، غیر اخلاقی، غیر روایتی اور غیر اسلامی نعرے آخر کس حق کی عکاسی کررہے ہیں؟ آخر ان جملوں میں کس حق کا مطالبہ کیا جارہا ہے؟ کاش! واقعی عورتوں کے حقوق کی بات ہوتی۔۔۔۔ کاش! اس مارچ کا ایجنڈا واقعی "حقوق نسواں" ہوتا۔۔۔۔۔ جس میں عورت کے وراثت کی بات ہوتی، معاشرے میں اس کے بلند وقار اور عزت کی بات ہوتی، اس کی جان و مال کے تحفظ کی بات ہوتی، اس کی عزت کو تار تار ہونے سے بچانے کی بات ہوتی، اس کے لیے نکاح کو آسان بنانے کی بات ہوتی، اس کو جہیز کی لعنت سے بچانے کی بات ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر کہاں!!! بات تو کچھ اور ہی ہے۔ یہاں تو معاشرے کو جس رخ پر ڈالا جارہا ہے اس کا نقشہ کچھ یوں نظر آرہا ہے کہ اگر بیٹی رات دیر گھر لوٹے تو والد سوال کا حق نہ رکھے اور اگر رکھے تو اس کے کان یہ سننے پر مجبور ہوں "کہ میرا جسم میری مرضی"۔ اگر غیرت مند شوہر اپنی صنف نازک کو کسی غیر مرد کے ساتھ دیکھے اور سوال کر بیٹھے تو اس کی سماعت تک جو آواز پہنچے وہ یہ ہو کہ " میرا جسم میری مرضی"۔ جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ
جان دی ہوئی اسی کی تھی ۔۔۔۔حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
پھر کہتی ہیں کہ ہمیں مردوں کے برابر حقوق دیے جائیں۔ یاد رہے جس کو سپیرئیر رب نے بنایا ہو، جس کو حاکمیت رب نے عطا کی ہو، اس کی حکومت کو پاؤں تلے روند کر اپنی حاکمیت مسلط کرنا گویا خدائی نظام کو چیلنج کرنا ہے۔ کیا اسلام کا دیا گیا حق قابل قبول نہیں۔ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فرمان یاد نہیں کہ آپ نے تاکیدا مردوں کو مخاطب کر کے فرمایا: "تم عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو"۔ یہی تو وہ عورت ہے جس کے متعلق میرے نبی کا ارشاد ہے: "جنت ماں کے قدموں تلے ہے"، رب کی بنائی ہوئی جنت اگر عورت کے قدموں میں رکھی گئی تو کیا یہ عزت نہیں، احترام نہیں۔۔۔۔۔۔؟ آخر اب کس عزت کی تلاش ہے؟؟ خدارا اس معاشرے پر رحم کھائیں، اس ملک خدادا پر بیرونی ایجنڈے مسلط نہ کریں۔ اس سر زمین کو بیرونی طاقتوں کا آلہ کار نہ بنائیں۔
انتہائی معذرت کے ساتھ اس نظریے اور سوچ کے ساتھ اس فحاشی اور بے حیائی مارچ کو حقوقِ نسواں کا نام دینا پیشاب کو شہد کہنے کے مترادف ہوگا۔ میں صاحب اقتدار اور ایوانوں میں بیٹھے اس ملک کی باگ دوڑ سنبھالنے والوں سے بھی درخواست کروں گا کہ خدا کے لیے اس بے حیائی اور بد چلن کی روک تھام کے لیے مناسب اقدامات کریں۔ چند نام نہاد حقوق نسواں کی علم بردار خواتین کی وجہ سے اس ملک کی باحیا اور پاک دامن خواتین کے دامن کو داغ دار ہونے سے بچائیں۔
آخر میں ان لبرلز خواتین کو بھی ایک پیغام دینا چاہوں گا کہ خدا کے لیے اپنی حیثیت پہچانیں۔ بیرونی ہاتھوں میں استعمال ہونے کے بجائے اسلام کے آغوش میں پناہ لیں۔ یاد رکھیں!! عزت صرف رب کی مرضی میں ہے، اپنی مرضی میں صرف ذلت ہی ذلت ہے۔ نہ جسم میرا ہے اور نہ مرضی میری ہے۔
انداز بیاں میرا کوئی شوخ نہیں
کاش اتر جائے تیرے دل میں میری بات





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved