تازہ ترین  

چینی مینی۔۔۔۔۔!
    |     1 month ago     |    طنزومزاح
چینی ایسا لفظ ہے کہ جسے سنتے ہی ہونٹ اور زبان للچانے لگتے ہیں۔”چینی“چائے میں مکس ہو جائے یا ملک میں گھس جائے نکلنے کا نام نہیں لیتے۔کچھ احباب چائے میں چینی ڈال کر پیتے ہیں اور کچھ چائے ہی چینی کے لئے پیتے ہیں۔میرا ایک سٹوڈنٹ ایم بی بی ایس کے لئے چائنہ گیا تو جس ”چینی“کے ساتھ بیٹھ کر شام کی چائے پیتا تھا وہ اسے ساتھ ہی لے آیا،اب ماشااللہ سے وہ دو چینے مینے بچوں کی ماں ہے۔یہ بھی ضروری نہیں کہ چینی گھر لانے کا تجربہ سب کا ہی درست ثابت ہو کبھی کبھار چینی بھی چائنہ کا مال ہی ثابت ہوتے ہیں۔میرے محلہ کا کاروباری شخص چائنہ گیا تو اسے اس وقت تک چین نصیب نہ ہوا جب تک کہ وہ ایک چینی خاتون کو بیاہ کر پاکستان نہ لے آیا۔پاکستان آتے ہی وہ چینی ایسے بیمار پڑی کہ تندرست نہ ہو سکی۔اس کی وفات کے بعد محلہ کی خواتین مہینہ بھر منہ میں انگلیاں دبائے باتیں بناتی رہیں کہ”اسیں تاں پہلاں ای کہندے ساں کہ چین دا مال اے،چلے تو چاند تک ورنہ رات تک“
پاکستانی اشرافیہ بھی عجب ہیں کہ پاکستان میں ہوں تو ”چینی“سے مکمل پرہیز،کہ کہیں ذیابیطس نہ ہوجائے۔بیرونِ ملک جائیں تو ”چینی“کے بنا ایک رات بھی بسر نہیں کرپاتے۔ریڑھی والے سے امرود میٹھے مانگتے ہیں جبکہ کھاتے نمک لگا کر ہیں۔بیرونِ ملک کافی بھی وہیں سے پیتے ہیں جہاں کافی (بہت زیادہ)ملتی ہو۔مٹھے کٹوا کر اس وقت تک نہیں چوستے جب تک کڑوے نہ ہو جائیں،مٹھوں پر ایسے نمک چھڑکتے ہیں جیسے زخموں پر۔خربوزوں کے ٹھیلے پہ جا کر پوچھتے ہیں ”مٹھے“ہیں اور مٹھے والے ٹھیلے پر بحث کر رہے ہوتے ہیں کہ مٹھے اگر ٹھنڈے نہ ہوئے تو پیسے نہیں دونگا۔چائے میں چینی سے مکمل پرہیز جبکہ چائے برفی کے ملاپ کو لیلیٰ مجنوں کا ساتھ قرار دیتے ہیں۔خاندان کی ہر شادی میں اس نیت سے ناراض ہوتے ہیں کہ انہیں منت سماجت اور منا کر عزت سے لایا جائے۔یہی حال خواتین کا بھی ہے۔پچاس ہزار کا میک خرید کر کے رکشے والے سے پچاس روپے کے لئے لڑ تی ہیں جیسے”ساس بھی کبھی بہو تھی“ چل رہا ہو۔
دنیا میں ہر چیز کے ایک سے زائد فوائد واستعمالات ہوتے ہیں،جیسے چادر باندھ بھی سکتے ہیں اور سردی ہو تو اوڑھ بھی سکتے ہیں۔لیکن میرے ایک دوست نے ایک چینی عورت سے شادی کر کے ”چینی“کے نئے استعمال سے ہمیں واقف کیا۔کہتے ہیں سب سے زیادہ چینی چین میں ہی پائے جاتے ہیں اور جہاں چینی ہوں وہاں سکون ہی سکون ہوتا ہے اور جہاں ہم پاکستانی ہوں وہاں کسی اور کی کیا مجال کہ وہاں پر بھی مار جائے۔ایک بات طے ہے کہ چینی اور شوگر جسے ایک بار لگ جائے جان لے کر ہی چھوڑتے ہیں۔میرا ایک دوست چین گیا تو غلطی سے ایک چینی خاتون سے ایڈریس پوچھ بیٹھا بس پھر کیااب تک اس”چینی“ نے جان نہیں چھوڑی۔کہتی ہے اب جان لے کر ہی چھوڑوں گی۔چینی خواتین کو اپنے مرد کی دوسری شادی کی اتنی فکر نہیں ہوتی جتنی دوسرے بچے کی۔جیسے پاکستان میں مرد دوسری شادی کے لئے بیوی سے اجازت طلب کرتا ہے ایسے ہی چینی بیوی دوسری اولاد کے لئے عدالت سے اجازت مانگتی ہے۔ویسے اس سلسلہ میں ہم خودکفیل ہیں کہ چاہیں تو جتنے بھی بچے چاہ لیں حکومت،عدالت اور بیوی اس سلسلہ میں کوئی رخنہ نہیں ڈالتی۔اگر کسی پارٹی کی طرف سے کوئی قدغن ہوتا ہے تو وہ ساسُو ماں ہوتی ہے۔وہ بھی ایسی ساس جس کے اپنے پانچ سے کم بچے نہیں ہوتے۔ویسے چینی عورت سے شادی کا ایک فائدہ ہے کہ بندے کی ساس بھی چینی ہی ہوتی ہے۔اکثر چینی بچے یا تو چینے مینے ہوتے ہیں یا اپنی ماں پہ ہوتے ہیں خاوند کا کردار شادی میں ”اسٹپنی“والا ہوتا ہے،اسی وقت کام آتا ہے جب ٹائر پھٹتا ہے۔
چین سے میرا پہلا تعارف ابنِ انشا کے سفر نامہ”چلتے ہو تو چین کو چلئے“جو کہ میر تقی میر کا مصرع ِمستعار ہے،چلتے ہو تو چمن کو چلئے سنتے ہیں کہ بہاراں ہیں۔میں جس محکمہ میں کام کرتا ہوں میری ہم عصر چینی وفلپائنی خواتین بھی ہیں،لہذا میں،میر کے اس مصرع کا چشم دید گواہ ہوں کہ واقعی انہیں دیکھ کر چہرے پر بہار ہی بہار آجاتی ہے۔
چینی جہاں جاتے ہیں بے حساب جاتے ہیں،مگر چینی جہاں بھی ہو سابقہ لاحقہ سمیت ہی ہوتی ہے جیسے کہ دار چینی،نکتہ چینی،گل چینی،چینی ظروف اور چینی مافیہ۔ان سب میں سب سے مظبوط چینی مافیہ سمجھا جاتا ہے،چونکہ پاکستان میں چینی مافیہ کا راج رہتا ہے اسی لئے اکثر چینی آؤٹ آف سٹاک ہی رہتی ہے۔مگر کوئی پاکستانی اگر چین میں ہو تو چینی کو ”آؤٹ آف سٹاک“کر کے بیاہ کر ساتھ ہی لے آتا ہے۔آؤٹ آف سٹاک سے یاد آیا کہ ایک بار میں اور میرا بیٹا بازار مارکیٹ میں کریانہ خرید رہے تھے کہ ایک دوکان پر لکھا تھا کہ چینی ”آؤٹ آف سٹاک“ہے،میرے بیٹے نے پوچھا کہ بابا یہ آؤٹ آف سٹاک کیا ہوتا ہے،میں نے سمجھانے کی غرض سے کہہ دیا ہے جو چیز دستیاب نہ ہو یا موجود نہ ہو۔ایک دن میرا ایک دوست مجھ سے ملنے گھر آیا تو مجھے گھر میں موجود نہ پاکر میرے بیٹے نے دوست سے کہا کہ بابا ابھی ”آؤٹ آف سٹاک“ہیں۔آپ بعد میں تشریف لائیے گا۔
یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ چینی کھاکر شوگر کروانے سے بہتر ہے اسے بیاہ لیا جائے۔ویسے بھی شوگر سے بچنے کا واحد اور آسان حل یہ ہے کہ ملک میں چینی مہنگی کردی جائے۔چینی واحدزبان ہے جو سننے میں شیریں اور بولنے میں کڑوی کڑوی سی لگتی ہے لہذا زبان میٹھی کرنے لئے ضروری ہے ایک آدھ”چینی“ کو منہ لگا ہی لیا جائے۔زندگی اور چائے میٹھی کرنی ہو تو”چینی“کاگھر میں ہونا بہت ضروری ہے،مگر اس میں احتیاط دامن گیر رہنی چاہئے وگرنہ آپ کی پہلی بیوی آپ سے دامن چھڑا سکتی ہے بالکل ایسے ہی جیسے کہ میرے ایک دوست کی بیوی دوماہ میکے گزار کر واپس آئی تو اس نے اپنے خاوند سے پوچھا کہ سنئے یہ چینی کہاں ہے؟خاوند کے منہ سے بے اختیار نکل گیا کہ، بیڈ روم میں،بیوی کا چلاّنا بنتا تھا کہ ہائے ہائے پہلے تو یہ کم بخت کچن میں ہوا کرتی تھی، اب بیڈ روم میں کیا گل کھلا رہی ہے،میرا مشورہ ہے کہ زندگی میں اگر سکون چاہتے ہو توچینی کو کچن تک محدود رکھیں،بیڈ روم والی ”چینی“رکھنی ہو تو اسے کچن والا دوسرا گھر بنا دیں۔
ذیابیطس کے مریض کو ڈاکٹر میڈیسن کے ساتھ ساتھ یہ بھی تجویز کرتے ہیں کہ ہمہ وقت اپنی پاکٹ میں ایک عدد ”ٹافی“ضرور رکھیں کہ کسی وقت بھی اگر شوگر کم ہوجائے تو فوراً ٹافی کھا کر شوگر لیول کو پورا کیا جا سکے۔میرے ایک ذیابیطس کے مریض دوست کو ایسی ہی ایک تجویزڈاکٹر نے دی تو اس نے پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب اگر ٹافی دستیاب نہ ہو تو چینی جیب میں رکھی جا سکتی ہے۔ڈاکٹر کے اثبات میں جواب دینے پر آجکل وہ دوست،ڈاکٹر کے نسخہ پر عمل پیرائی کے لئے چین گیا ہوا ہے۔دیکھئے وہاں سے ٹافی لاتا ہے کہ ”چینی“۔چینی کس قدر مضرِ صحت ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ ”چینی“کا زیادہ استعمال شوگر کا باعث بنتا ہے یا ”کرونا“کے مرض کا۔لہذاشوگر اور کرونا سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر میں یہ بھی شامل کرلیا جائے کہ ”چینی“سے ہر ممکن بچاؤ کیا جائے۔ایک بات تو طے ہے کہ ”چینی“ چائے میں ہو یا گھر میں ہر سُومیٹھا،میٹھا ہی کر دیتی ہے۔سی پیک اور پاک چین دوستی کا شہرہ پاکستان میں کیا پوری دنیا میں ہے،سی پیک پراجیکٹ پر کام کرنے والے ایک دوست نے بتایا کہ چینی ہر چیز کھا جاتے ہیں،سچی بات ہے مجھے تو اس وقت سے فکر دامن گیر ہے کہ خدا میرے ملک اور نوجوانوں کو سلامت رکھے۔





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved