تازہ ترین  

میرے پاس ”دانش“ سے عاری قوم ہے
    |     3 weeks ago     |    کالم / مضامین
آج سے تین چار ماہ پہلے تک ملک کے نامور انٹرٹینمنٹ چینل سے نشر ہونے والے ڈرامے ”میرے پاس تم ہو“ کی کسی کو کچھ خبر نہ تھی لیکن راتوں رات یہ سیریل اس قدر مقبول ہوا کہ پاکستانیوں کی زندگی کا اہم ترین مسئلہ بن گیا۔ اس ڈرامے کی ناقابلِ برداشت اور ناقابلِ قبول کہانی میں نجانے ایسا کیا جادو تھا کہ یہ قوم ہر مصیبت اور ہر مسئلے کو فراموش کر بیٹھی۔ مہنگائی کا رونا رونے اور آٹے کی قلت کو بنیاد بنا کر غل غپاڑہ کرنے والے خواتین و حضرات نے بچوں سمیت ڈرامے کی آخری قسط دیکھنے کیلئے سینما گھروں کا رُخ اختیار کیا اور مہنگے ٹکٹ خرید کر ڈرامہ سازوں اور نشر کرنے والوں کو خوب پیسہ بنانے کا موقع فراہم کیا لیکن پھر ”میرے پاس تم ہو“ کا اختتام پاکستانیوں کی امنگوں کے مطابق نہ ہو سکا ، دانش سے عاری عوام ”دانش“ کی موت کا غم دل میں سموئے گھروں کو لوٹ گئی اور ”ویلے مصروف “ افراد نے سوشل میڈیا کو تختہ مشق بنا لیا۔
محترم خلیل الرحمٰن قمر صاحب کے قلم سے تحریر شدہ اس ڈرامے کی کہانی کچھ اس طرح تھی کہ ایک نہایت حسین و جمیل عورت ، جس کا غریب شوہر اس سے بے پناہ محبت کرتا تھا ، اس نے اپنے شوہر کے ساتھ بے وفائی کی اور شوہر سے طلاق لے کر ، کم سن بچے کو حالات کے رحم و کرم پہ چھوڑ کردولت کی خاطر ایک امیر مرد کے ساتھ چلی گئی اور دونوں بغیر نکاح کے ساتھ رہنے لگے ۔ کہانی کے حوالے سے زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ سیریل ساری قوم نے دیکھا اور ازبر کیا ۔
اﷲ رب العزت نے مرد کو عورت پہ فضیلت دی ہے ۔ شوہر ، بھائی ، باپ اور بیٹے کی شکل میں عورت کا سرپرست بنایا ہے ۔ ایک حد میں رہ کر مرد و عورت برابر ہو سکتے ہیں لیکن ہر جگہ عورت مرد کی برابری نہیں کر سکتی ۔ یہاں یہ کہنے کا ہرگز مطلب نہیں کہ مرد کو بے وفائی کا حق ہے یا وہ بغیر نکاح کے دوسری عورت رکھ سکتا ہے تاہم یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ڈرامے میں مرد کو انتہائی بے بس ، لاچار، کمزور اور کسی حد تک بے غیرت بھی دکھایا گیا ہے ۔ یہاں صرف ہیرو دانش کے حوالے سے بات نہیں ہو رہی بلکہ ڈرامے کے آخر میں بیوی کے ہاتھوں شہوار نامی آدمی کی بھی نذلیل ہوئی ہے اور انتہا کی ہوئی ہے۔ سمجھ سے باہر ہے کہ ایک مرد اتنا بے غیرت کیسے ہو سکتا ہے اور ڈرامے کے آخر میں وہ بھلا مرد ہی کیوں مرا ؟ وہ عورت کیوں نہ مری جس کی وجہ سے کئی زندگیاں اجڑ گئیں۔ دوسری جانب اس ڈرامے کے طفیل استاد اور شاگرد کے رشتے کو بھی بری طرح مجروح کرنے کی کوشش کی گئی۔ مانا کہ آج کے بچے اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے استاد کا ادب و لحاظ فراموش کر چکے ہیں لیکن اتنی ہمت اب بھی کسی میں نہیں کہ وہ اپنے باپ کیلئے ٹیچر کا ہاتھ مانگ لے ۔
ہمیں یہ بھی سمجھ نہیں آیا کہ دنیا میں ایسا کون سا ہسپتال ہے کہ جہاں مریض وینٹی لیٹر پہ مشینوں میں جکڑا ہو اور روانی سے ڈائیلاگ بھی بول رہا ہو ، ایسا کون سا ہسپتال ہے کہ جہاں ڈاکٹرز ایک کم عمر بچے کو آئی سی یو میں آنے کی دعوت دیتے ہیں اور دنیا میں ایسا کون سا بچہ ہو گا جو اپنے باپ کو بستر مرگ پہ دیکھ کر بھی سپاٹ چہرے کے ساتھ فلسفہ بیان کیے جائے اور باپ کی موت پہ اس کی آنکھ سے ایک آنسو نہ نکلا ہو؟ میرے پاس تم ہو نے پاکستانی عوام پہ نئے نئے انکشاف کیے ۔ یہ سچ ہے کہ عورت بے وفائی کرتی ہے ، مرد بھی کرتا ہے یہ معاشرے کی غلاظت ہے لیکن معاشرے کی غلاظت کو اُٹھا کر لوگوں کے گھروں میں نہیں پہنچا دینا چاہیئے تھا ۔ بڑوں سے لے کر بچوں تک سب نے یہ ڈرامہ دیکھا اور حسبِ عادت یہ قوم بجائے برائی کو رد کرنے کے ، کوئی اخلاقی سبق دیکھنے کے ، مہوش یا شہوار بننے میں دیر نہیں لگائے گی۔
سوال یہ ہے کہ کیا اس قوم کو احساس ہے کہ وہ کیا کر رہی ہے ؟ ایک تھرڈ کلاس ڈرامہ کیسے سوشل میڈیا کا ٹاپ ٹرینڈ بن گیا؟ کیا پاکستانی میڈیا کو احساس ہے کہ وہ کس قسم کی گھٹیا صحافت پر اُتر آیا ہے؟ ڈرامے کے ہیرو دانش کی موت کو بریکنگ نیوز بنا کر نشر کیا گیا ۔ ہمیں تو پاکستانی میڈیا مہوش نامی عورت ہی معلوم ہو رہا ہے کہ جس نے پیسوں کی خاطر ذلت کی زندگی قبول کر لی اور ہمارے میڈیا نے آمدنی کی خاطر ہر حد پار کر دی۔ ڈرامے کا اختتام ہوتے ہی سوشل میڈیا پہ پوسٹوں کا امبار لگ گیا ۔ جس نے جو دل میں آیا لکھا اور فیس بک ، واٹس ایپ سٹیٹس پہ عجیب و غریب قسم کی مزاحیہ بمعہ گھٹیا پوسٹیں گردش کرتی رہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی عوام اتنی ہی فارغ یا ترقی یافتہ ہے کہ اس کی زندگی کا محور و مقصد محض ایک ٹی وی سیریل بن کر رہ جائے؟ کیا اس قوم کو اپنی عزت و وقار کا خیال نہیں ؟ کیا زندگی صرف موج مستی کا نام ہے؟ تفریح کرنے یا ڈرامے دیکھنے میں کوئی ہرج نہیں لیکن ہر چیز اپنے حد میں رہ کر ہی اچھی لگتی ہے ۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس قوم نما ہجوم کے پاس اپنے جدبات ہیں نہ مثبت رخ پہ سوچنے کی صلاحیت ، اپنے احساسات ہیں نہ صحیح غلط کو رد کرنے کی صلاحیت ۔ پاکستانی عوام کو جس راہ پہ لگایا جائے ، اس پہ لگ جاتی ہے ۔ جیسا کہ ”میرے پاس تم ہو“ کے پیچھے لگ گئی ۔ غرض کہ یہ اخلاقی ، معاشرتی اور قومی زوال کی انتہا ہے ۔ ترقی کرنے والی قوموں کے یہ چلن نہیں ہوتے ، مدینہ کی ریاستیں یونہی تعمیر نہیں ہوتیں۔ اعلٰی عدلیہ کو چاہیئے کہ وہ اس چیز کا نوٹس لے اور اس قسم کے ڈراموں کو گھروں میں رکھے ٹی وی سیٹس سے نکل کر سینما گھروں تک پہنچنے سے روکے بصورتِ دیگر یہ قوم میڈیا کے ہاتھوں کا کھلونا بن کر اپنی قدروں اور ثقافت کو فراموش کر جائے گی۔





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved