تازہ ترین  

"غور و فکر کیجئے"
    |     4 weeks ago     |    کالم / مضامین
"غور و فکر کیجئے"
لفظ غور و فکر ہے تو بہت سادہ سا؛ لیکن اس پر عمل کرنے سے یہ بہت کچھ سمجھا دیتا ہے، اگر ماضی میں جھانکنا ہو تو غور فکر کیجیے کہ آپ کا ماضی کیسے گزرا ہے؟ کہاں گزرا ہے؟ اچھا گزرا ہے یا برا.
اب یہ اچھا اور برا دو اعتبار سے ہوسکتا ہے: نمبر ایک دین کے اعتبار سے نمبر دو دنیا کے اعتبار سے.
دین کے اعتبار سے ماضی کے اچھا اور برا ہونے کا مطلب ہے کہ آیا ماضی میں اچھے کام مجموعی لحاظ سے زیادہ ہیں یا برے کام؟
اگر تو اچھے کام زیادہ ہیں پھر تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس پاک ذات نے اچھے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائی، ورنہ ہم میں اچھا کام کرنے کی طاقت بغیر اس کی توفیق کے نہیں ہے، اور اگر مجموعی لحاظ سے برے کام زیادہ ہیں تو اللہ کے حضور گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کی ضرورت ہے، اور پکی توبہ کرنے کی ضرورت ہے، اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ عزم کرنے کی ضرورت ہے.
اگر دنیا کے اعتبار ماضی کے اچھا اور برا ہونے کو دیکھا جائے تو اگر ماضی دنیا کے اعتبار سے اچھا گزرا یعنی اللہ کی طرف سے عافیت کا معاملہ رہا، کوئی مصیبت یا پریشانی نہیں آئی تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے کہ اس نے عافیت کا معاملہ فرمایا.
اور اگر ماضی برا گزرا ہے اس اعتبار سے کہ مصیبتوں، پریشانیوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے اس پر آپ نے صبر کیا جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بہترین بدلہ عطا فرمائیں گے؛ کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ مسلمان کو جب کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے گناہوں کو معاف فرماتے ہیں، یوں گویا کہ مسلمان دونوں طرف سے فائدے میں ہے، نعمت پر شکر کرنے کی وجہ سے ثواب کا مستحق، اور مصیبت پر صبر کرنے کی وجہ سے بھی ثواب کا حقدار ٹھہرتا ہے.
اس لئے اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے کہ اس نے ہمیں ایمان جیسی لازوال نعمت سے نواز کر کتنا بڑا احسان فرمایا ہے، اور ہر طرف سے ہمیں فائدے ہی فائدے میں رکھا.
یہ تو بات تھی ماضی کے حوالے سے سوچنے کی اب آتے ہیں حال اور مستقبل کی بات پر تو جس زمانے میں ہم چل رہے ہیں وہ ہمارا "حال" ہے اس میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا "حال" کیسے چل رہا ہے؟ اور کیسے چلنا چاہیے؟ اس پر غور کرتے ہوئے "زمانہ مستقبل" کے لیے سوچنے کی ضرورت ہے کہ کس طرح مستقبل اچھا ہوجائے.
آج کل دنیاوی اعتبار سے تو "زمانہ مستقبل" کے لیے منصوبہ بندی کی جاتی ہے، اس پر غور و فکر کیا جاتا ہے کہ کس طرح ہمارا اور ہماری اولاد کا مستقبل سنور جائے، اچھا ہوجائے؛ لیکن جو اصل مستقبل ہے اس کے لیے نہ ہمارے پاس کوئی منصوبہ بندی ہے نہ اس حوالے سے غور و فکر کرتے ہیں، حالانکہ اصل مستقبل وہی ہے جہاں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے، اس کے لیے ہمیں کیا تیاری کرنی چاہیے؟ اور ہم نے کتنی تیاری کی ہے؟ جب کہ ہم یہ سب کچھ جاننے کے باوجود انجان بنے بیٹھے ہیں. سفر طویل ہے؛ لیکن سامان سفر کچھ بھی نہیں ہے. لہٰذا ہمیں اس مستقبل کے بارے میں سوچنا ہوگا اور سنجیدگی سے سوچنا ہوگا.
اللہ پاک ہمیں آخرت والے گھر کی مکمل تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے، منزل آسان فرمائے اور خاتمہ بالخیر فرمائے. آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved