تازہ ترین  

14 نومبر، شوگر کا عالمی دن
    |     1 month ago     |    صحت
14 نومبر کو پوری دنیا میں شوگر کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔یہ سلسلہ سن 1991 سے شروع ہوا اور اس سال 14 نومبر 2019 کو  اٹھائیسواں سالانہ شوگر کا عالمی دن منایا جائے گا۔

1991 میں اس کا آغاز انٹرنیشنل ڈایابیٹیز فیڈریشن (IDF) اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن(WHO) کے تحت کیا گیا اور اس وقت تقریبا دنیا کے 130 سے زائد ممالک میں یہ دن منایا جاتا ہے۔

شوگر کے عالمی دن کو 14 نومبر سے ہی کیوں منسوب کیا گیا ہے ؟
یہ ایک دلچسپ سوال ہے اور اس کا جواب بھی نہایت دلچسپ ہے۔

دراصل 14 نومبر فریڈرک بینٹنگ( Fradrick Banting) کا تاریخ پیدائش ہے۔یہ وہ انسان تھا جس نے سن 1922 میں اپنے تجربات کے ذریعے انسولین دریافت کی تھی اور یہ ثابت کیا تھا کہ یہی وہ ہارمون ہے جو جسم میں شوگر کنٹرول کرنے کیلئے ناگزیر ہے۔
فریڈرک کو اس عظیم کارنامے پر نوبل پرائز سے بھی نوازا گیا، اور بعد میں اسے مزید خراج تحسین پیش کرنے کی غرض سے اس کی تاریخ پیدائش 14 نومبر کو شوگر کے عالمی دن سے منسوب کیا گیا۔

اس دن کو منانے کا مقصد یہی ہے کہ عوام کو اس کے بارے میں بھرپور اور عام فہم انداز میں آگاہی فراہم کی جائے ۔

شوگر اس وقت دنیا بھر کی طرح پاکستان میں نہایت تیزی سے پھیلتا ہوا مرض ہے۔ایک تحقیق کے مطابق اس وقت پاکستان میں ہر پانچواں شخص اس مرض کا شکار ہے،اور خطرہ ہے کہ آئندہ دس سے پندرہ سال میں ہر تیسرا شخص اس بیماری کا شکار ہو گا۔اور اگر یوں کہا جائے کہ اس وقت پاکستان میں کوئی بھی خاندان ایسا نہیں جس میں کوئی نہ کوئی فرد شوگر کے مرض کا شکار ہے تو یہ غلط نہ ہو گا۔

شوگر کو عموما" دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے( اگرچہ اس کی اور بھی اقسام ہیں لیکن آسان الفاظ میں سمجھنے کیلئے اسکی یہی تقسیم بہتر ہے) ایک جسے ٹائپ ون کہا جاتا ہے جس سے عام طور پر بچے ذیادہ متاثر ہوتے ہیں،وجہ اسکی یہ ہوتی ہے کہ اس قسم کی شوگر میں انسان کا لبلبہ انسولین نہیں بناتا جو خون میں شوگر کی مقدار کو کنٹرول کرنے کیلئے لازمی ہے۔اس کا علاج صرف انسولین سے ہی ممکن ہے۔
دوسری قسم کی شوگر وہ ہے جسے ٹائپ ٹو کہا جاتا ہے۔یہ عموما" ان لوگوں میں ذیادہ ہوتی ہے جن کے خاندان میں ایک تو پہلے سے ہی کسی نہ کسی کو شوگر ہو مذید اس پر یہ کہ اگر یہ لوگ بہت ذیادہ جسمانی طور پر فعال(physically active) نہ ہوں اور ان کا وزن بھی ذیادہ ہو خاص طور پر پیٹ پر چربی(central adipocity) ذیادہ ہو تو ان لوگوں کو شوگر ہونے کا خطرہ بہت ذیادہ ہوتا ہے۔
اس دوسری قسم کی شوگر سے وزن کم کر کے اور جسمانی طور پر بھرپور فعال زندگی گزار کے بچا جا سکتا ہے ۔
مذید یہ کہ ایسی غذاوں  کا استعمال جو کہ موٹاپے کا باعث بنتی ہیں مثلا" فاسٹ فوڈ ( پزا، برگر, کولڈ ڈرنکس وغیرہ)، چکنائی اور تلی ہو ئی چیزوں کا کم سے استعمال کر کے  اور ان کے متبادل کے طور پر تازہ پھل ،سبزیاں اور خشک میوہ جات کا مناسب استعمال کر کے موٹاپے اور شوگر سے بچا سکتا ہے۔

ہر سال کی طرح اس سال بھی سروسز ہسپتال کے شعبہ اینڈوکرائنالوجی کے تحت ایک  واک کا اہتمام کیا گیا ہے۔
جی ہاں وہی شعبہ جس کی داغ بیل محترم پروفیسر فیصل مسعود صاحب نے ڈالی تھی اور جو اب ایک تناور درخت بن چکا ہے۔
وہ اگرچہ آج ہم میں موجود نہیں ہیں لیکن انسانیت کی خدمت کا ان کا مقصد آج بھی زندہ ہے ۔

آئیے ہم سب اس واک اور آگاہی مہم میں بھرپور  شرکت کریں اور خود کو،اپنے پیاروں کو اور پورے پاکستان کو اس مرض سے بچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: ڈاکٹر ارسلان نواز
پی جی ٹرینی
شعبہ اینڈوکرائنالوجی
سروسز ہسپتال لاہور    





Comments


پا جی ایڈز کا دن کب منایا جاتا ہے؟


فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved