تازہ ترین  

سکول و کالج کے ہم جماعتوں کے ساتھ چند یادگار ساعتیں ۔۔۔ تحریر : ابنِ ریاض
    |     2 weeks ago     |    طنزومزاح

جس زمانے میں ہم نے ایف ایس سی کی اس زمانے میں موبائل کا تصور ہی نہ تھا بلکہ ٹیلی فون بھی ہر گھر میں عام نہ تھا۔ محلے میں دو چار گھروں میں ٹیلی فون ہواکرتا تھا اور اس سہولت سے تمام اہل محلہ بوقت ضرورت مستفید ہوتے تھے۔ دوستوں اورہم جماعتوں سے بالمشافہ ملاقات یا توسکول میں ہوتی تھی یا کسی کے گھر جا کر۔ایف ایس سی کے بعد سب نے اپنی صلاحیت و استعداد کے مطابق میدان چنے اور منتخب میدانوں میں عازم سفر ہو گئے۔ کچھ نے ائیر فورس میں شمولیت اختیار کی تو ہم جیسے انجیئنرنگ میں چلے گئے۔ خواتین کلاس فیلوز میں سے کچھ کومیڈیکل کالجز نے برداشت کیا اور کچھ کو بی اے،ایم اے اور باقی ماندہ کو سسرال نے۔
خط لکھ کر رابطے بحال رکھے جا سکتے تھے مگر اردو”ب“کے خطوں کے ایسے ڈ سے ہوئے تھے کہ کسی نے کبھی یہ کوشش نہ کی۔ کسی کا ایک کے ساتھ رابطہ تھا تو کسی کا دو کے ساتھ۔ فیسبک اور واٹس ایپ میں شامل ہوئے تو گروپ بنانے کا بھی خیال آیا اور ایک، ایک، دو ، دو کر کے ہم جماعتوں کو اکٹھا کیا گیا۔ یہ گروپ دو سال پرانا ہے مگر ہماری شمولیت کو ابھی چند ماہ ہی ہوئے ہیں۔ گروپ میں آ کر معلوم ہوا کہ ماشاء اللہ ہمارے ہم جماعت بہت اچھے عہدوں پر اور کئی ممالک میں مقیم ہیں۔ ہمارے پاکستان آنے سے قبل ہی یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ اس مرتبہ حتٰی المقدور ملاقات کی کوشش کرنی ہے۔ دوستوں کی مشاورت سے 20 جولائی کا دن اور مقام سیرینہ ہوٹل طے ہوا۔بکنگ ونگ کمانڈر انوار کاظمی نے کروائی۔ ہم اس اجتماع کے لئے منتظرتھے اور جولائی کے شروع میں ہی بتا دیا تھا کہ ہم نے اس تاریخ کو کوئی اور ذمہ داری اد انہیں کرنی۔ مقررہ تاریخ کو ہم بہت پرجوش تھے۔ہم طے شدہ وقت سے 3 منٹ پہلے ہی ہال میں پہنچ گئے۔ہمارے استقبال کو ہوٹل کی انتظامیہ کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ ہمارے ہم جماعتوں نے ہمیں گھر کا مرغا ہی سمجھا تھا۔ ہم بھی داخلی گیٹ کے سامنے موجود صوفے پر بیٹھ گئے تا کہ کوئی ہماری عقابی عینکوں سے نہ بچ پائے۔ عظمان چونکہ ہوٹل کے بالکل ساتھ تھا تو فوراً آ دھمکا۔ ڈاکٹر رقیہ ہسپتال سے براہ راست آئیں۔ کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر کلثوم و نوشین بھی آ گئیں۔ ان کے تعاقب میں اسماء اور مہوش پہنچیں۔ اسماء لاہور اور کلثوم چونیاں سے آئی تھیں اور ڈاکٹر کلثوم کے ساتھ ان کی بیٹی ہادیہ بھی تھی۔اس کے فوراً بعد ہمارے میزبان انوار کاظمی آئے جن کا ہم سب نے پرتپاک استقبال کیا۔ انوار نے بتایا کہ حارث پہلے سے موجود ہیں۔ انہوں نے میز سنبھال رکھی تھی کہ کوئی اور قبضہ نہ کر لے۔کرسی کے علاوہ اپنی میز بھی کسی کو نہیں دینی چاہیے ورنہ کوئی واپس نہیں کرتا۔ کچھ ہی دیر میں مہمان خصوصی کینیڈین پاکستانی اور ہماری ہم جماعت صائمہ اعظم تشریف لائیں تو کورم پورا ہوا۔ عظمان اور رقیہ کے علاوہ سب سے ہماری ربع صدی بعد ملاقات ہو رہی تھی سو خوشی و مسرت تو تمام لوگوں کے چہروں سے عیاں تھی۔ہمارے علاوہ تمام لڑکے یعنی مرد حضرات اپنے سکول یونیفارم یعنی پینٹ شرٹ میں آئے تھے۔ ہماری وجہ سے ہی یہ تقریب غیر روایتی تھی۔ خواتین بہرحال دیدہ زیب رنگوں کے ملبوسات زیب تن کیے ہوئے تھیں۔
خواتین کلاس فیلوز میں ہماری مہوش اور اسماء سے پہلی ملاقات تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میٹرک کے بعد نوے فیصد لڑکوں نے پری انجینئرنگ اور اتنی ہی خواتین نے پری میڈیکل رکھ لیا تھا۔ لڑکے بائیلوجی کی کلاس لڑکیوں کے ساتھ لیتے اور پری انجینئرنگ کی اکلوتی دو لڑکیاں ریاضی کی کلاس میں ہماری ساتھ ہوتیں۔ سو ہم انہی کلاس فیلوز سے متعارف تھے جو میٹرک یا اس سے قبل ہمارے ساتھ تھیں۔ تاہم صائمہ اعظم کے علاوہ کسی لڑکی نے ہمیں اپنا کلاس فیلو نہیں مانا۔ پریپ سے ایف ایس سی تک ہمارے ساتھ پڑھنے والی نوشین نے جب ہمیں دیکھ کر بھی نہ پہچانا تو جی میں آئی کہ چلو بھر پانی میں ڈوب مریں۔ ہم نے غیرت کو مصلحت کا لبادہ پہنایا اور عذر تراشا کہ خودکشی حرام ہے۔پھر خود کو تسلی دی کہ نوشین کا حافظہ ہی کمزور ہے تو ہمارا کیا قصور۔
ایک دوسرے سے باتیں کرتے وقت کا معلوم ہی نہیں ہوا۔ کھانا لگا تو ہمیں عظمان کی صلاحیتوں کا علم ہوا۔ عظمان سب کو ہر ڈش کی خصوصیات بتانے کے ساتھ ان کی پلیٹ میں بھی ڈال دیتا تھا۔ اس مہربانی کا اندازہ ٹیبل پر جا کر ہوا جب کسی کو کوئی چیز پسند نہ آتی تو عظمان وہ ڈش کھانا شروع کر دیتا۔ یوں عظمان نے بغیر کسی کی نظروں میں آئے چھ لوگوں کا کھانا اکیلے چٹ کر لیا۔
کھانے سے قبل اور کھانے کے دوران بھی تصاویر کا سلسلہ جاری رہا اور اس میں ہادیہ بیٹی کا بڑا ہاتھ رہا تاہم کھانے کے بعد ایک روایتی فوٹو سیشن بھی ہوا۔ گروپ فوٹو بھی ہوئے اور لڑکے اور لڑکیوں کے الگ الگ بھی۔ ان سب میں کیمرہ وومن بلکہ کیمرہ گرل ہادیہ کا فن اپنے عروج پر رہا۔ یہاں بھی عظمان چھایا رہا اور ہر زاویے سے اپنی تصاویر بنوائیں۔
باتوں باتوں میں نجانے کسی کے دماغ میں خیال آیا کہ ہمارے پاس بہت زمینیں اور پلاٹ ہیں۔ ممکن ہمارا”نیب والو یہ بھی ناجائز اثاثے ہیں“والا کالم پڑھ رکھا ہو اور وہیں سے یہ خیال اخذ کیا گیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی کوئی پلاٹ دے دیں۔ پھر تو سب نے ہی فرمائش کر ڈالی۔ کوئی ایک ایکڑ زمین مانگنے لگا تو کوئی پلازہ اور کسی قناعت پسند کو محض چھوٹا سا گھر ہی چاہیے تھا۔ ہم نے معذرت کی اور عرض کیا کہ اگرچہ ہم ابنِ ریاض ہیں مگر بحریہ والے ملک ریاض سے ہمارا کوئی ناتا نہیں ہے۔
کینیڈا سے سب کے لئے تحفے آئے تو ہمیں بھی خیال آیاکہ کتاب بھی دینی ہے۔ ابھی ہم کتاب دینے کا سوچ ہی رہے تھے کہ اسماء نے بتایا کہ ان کی بکنگ کا وقت قریب ہے۔ ہم نے کتابوں پر آٹو گراف دئیے اور ساتھ ہی یہ شرط بھی عائد کر دی کہ جو ہماریانداز تحریر کی تعریف کرے گا کتاب بس اسے ہی ملے گی۔ سب نے ہمیں اردو مزاح نگاری کا غالب قرار دیا حتٰی کہ انہوں نے بھی جنہوں نے کبھی ہماری تحریر پڑھی ہی نہیں۔ ان کے رائے چونکہ تعصب سے پاک تھی سو ہمیں یقین آ گیا کہ سچ بول رہے ہیں۔ ہم نے کتب سب کے حوالے کیں اور پھر رخصت چاہی۔ یوں ایک یادگار محفل اختتام پذیر ہوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔






Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved