تازہ ترین  

آزادی مارچ اور حکومت کی بوکھلاہٹ
    |     4 weeks ago     |    کالم / مضامین
آزادی مارچ اور دھرنے کی تیاریاں،باتیں پرانی ہیں صرف سال کا فرق ہے کچھ ایسا ہی 2014ء میں ہواتھا جوکہ اب 2019ء میں ہونے جارہاہے یہ مکافات عمل ہے،دنیامیں اپنی ہی آواز کی بازگشت سننا پڑتی ہے، آج کی حکومت اور اُس وقت کی اپوزیشن یہی نعرہ لے کراٹھی تھی جس میں اس وقت کی حکومت کی حماقتوں نے جان بھر دی تھی،اب ایسی ہی بوکھلاہٹ اورحماقتیں موجودہ حکومت کی جانب سے ظاہرہورہی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ہوش کے ناخن لے،سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن شخصی احترام لازم ہے۔جے یوآئی کے رہنماؤں نے کہاہے کہ ہم ملکی املاک کو نقصان نہیں پہنچائیں گے صر ف پر امن احتجاج (مارچ) کریں گے جوکہ ان کا آئینی وقانونی حق ہے وہ ان کو کرنے دیں۔اگر وہ قانون کو ہاتھ میں لیں، جیسا کہ موجودہ حکومت اورسابقہ دور کی اپوزیشن نے اپنے دھرنے کے دوران لیاتھا، توپھر ریاست کو حق ہے کہ وہ ان کے ساتھ آہنی ہاتھ سے نمٹے۔قبل از وقت ملک میں کرفیو کی فضا قائم کرنا،ا ٓسمان کو سرپر اٹھا نا،واویلا کرنا مناسب نہیں۔ایساہرملک میں ہوتارہاہے عوام اپنی حکومتوں کے خلاف احتجاج کرتے آئے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں جو اس آزادی مارچ کو اتنا ہوا بنا کر پیش کیاجارہاہے،حکومت کی گھبراہٹ سے محسوس ہوتاہے کہ یہ خود اس مارچ کو کامیاب بنانا چاہتی ہے۔خدارا اپنی غریب رعایا کا خیال کریں ان کا جینا دوبھرنہ کریں اپنے ہی ملک میں مقبوضہ کشمیرجیسی صورتحال پیدانہ کریں،غریب عوام تو پہلے ہی مہنگائی،بے روز گاری کی ماری ہوئی ہے اسے مزید نہ ماریں۔یہ خبریں بھی گردش کررہی ہیں کہ اسلام آباد کے داخلی راستوں میں خندقیں کھودی جارہی ہیں،خندقیں تو دشمن سے بچاؤ کے لیے کھودی جاتی ہیں اپنی عوام کے لیے نہیں بنائی جاتی،یہ حرکتیں حکومت کی بزدلی ظاہر کرتی ہیں۔حکومت جو نعرہ لے کر آئی تھی اگر اس نعرہ پر عمل کرتی تو اس حکومت کو ان حالات کا سامنا نہ کرناپڑتا تبدیلی سرکار کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے عوام احتجاج کرنے اور اپناحق مانگنے پر مجبور ہوئے ہیں۔دوسری طرف دھرنے والوں سے بھی ہے کہ وہ ملک کی موجودہ صور ت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے اقدامات سے گریز کریں جس سے ملک کوکسی قسم کانقصان ہو۔ ملک میں پہلے ہی بڑی قربانیوں کے بعد جمہوری عمل بحال ہواہے اس کو چلنے دیاجائے۔یہ تو سب کومعلوم ہے کہ یہاں کسی دور میں بھی الیکشن شفاف نہیں ہوئے، لیکن اس کے باوجود پہلی تمام حکومتوں کو برداشت کیاگیاتو وہاں اس حکومت کو بھی برداشت کرلیں کوئی پہاڑ نہیں گرنے والا۔مولانا فضل الرحمن ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں ان کو اپنے مفادات کو پس پشت ڈال کر ملکی مفادات کی خاطر قربانی دینی چاہیے۔پاکستان کے دشمن بڑی ہوشیاری سے ملک میں انتشار پیداکرنے کی سازشیں کررہے ہیں پاکستان کاامن استعماری قوتوں کو کسی صورت برداشت نہیں ہورہاہے بارڈر پر جنگ کی صور ت پیداکردی گئی ہے ان حالات میں تمام سیاستدان اورعوام کو متحدہوکردشمن کو بتادیناچاہیے کہ ہم اپنے ملک کی طر ف اٹھنے والی ہرمیلی آنکھ کو نکال دیں گے ناکہ ہم اپنے مفادات کے لیے آپس میں لڑتے رہیں اور ہماری ہوا اکھڑ جائے اور دشمن ہماری غلطیوں سے فائدہ اٹھائے۔ملک میں یہ امن بڑی قربانیوں کے بعد حاصل ہواہے،غیر ملکی ٹیمیں پاکستان میں کھیلنے آرہی ہیں،برطانیہ کے شاہی جوڑے کی پاکستان میں آمد سے ملکی امیج بہترہوا ہے،ملکی کرنسی میں استحکام پیداہواہے۔عمران خان بذات خود ایک اچھا انسان ہے ایماندار ہے لیکن کابینہ میں وہی اگلی حکومتوں کے ابن الوقت لوٹے ہیں جن کی وجہ سے یہ نظام پہلے ہی خراب تھایہ نظام کو کیسے درست کریں گے۔خان صاحب کو اپنی کابینہ میں ایسے وزراء سے پاک کرنا ہوگا اور ملک کی بیوروکریسی میں کرپٹ اور قادیانی نوازعناصر بھی موجودہیں جو اکھنڈبھارت کامذہبی عقیدہ رکھتے ہیں ملک کوترقی کرتانہیں دیکھ سکتے ایسے عناصر کاکوئی سدباب کریں اور ملک میں اسلامی سزاؤں کونافذ کریں،سودجیسی لعنت کوفی الفور ختم کریں اسلامی نظام معیشت کورائج کریں،ان شاء اللہ تعالیٰ ملک خوشحالی کی جانب گامزن ہوجائے گا۔ہماری حکومتوں کا المیہ یہ ہے کہ ملک کے آئین پر ٹھیک طرح سے عمل درآمد نہیں کراسکتی ہیں اگر ملک کے آئین پر عمل درآمد ہوجائے تو ملک سے تما م خرافات کا خاتمہ ہوجائے گا۔تمام سیاسی پارٹیوں سے التماس ہے کہ وہ اس حکومت کو چلنے دیں اور اس کا ساتھ دیں ورنہ مارشل لاء آیاتو تما م سیاسی قائدین اور رہنماجیلوں کی ہواکھانے پرمجبورہوں گے۔اس سے پہلے کہ ایسا وقت آئے سنبھل جائیں اورہوش کے ناخن لیں،مہنگائی، بے روزگاری اور اندرونی وبیرونی دشمن کا متحد ہوکر مقابلہ کریں اپنے اپنے مفادات سے بالاتر ہوکر ملکی وقار اورملکی مفادکی خاطر تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کراپنی آنے والی نسلوں کی فکرکریں۔اپنے ملک کی جغرافیائی سرحدوں کا دفاع کرنے والی بہادر فوج کا احترام کریں۔ ہماری فوج کے جوان اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے اپنی مادرملت کی حفاظت کررہے ہیں ہمیں ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے ناکہ حوصلہ شکنی۔ان حالات میں جب ملک کو گھمبیرحالات کا سامناہے عوام،سیاست دان اور فوج کو ملک کے بہترمفاد کے لیے یکجاہونا ہوگا،دشمن عناصر پاکستان کو زک پہنچانے کے لیے موقع کی تلاش میں ہیں۔تمام سیاستدانوں سے دست بدستہ درخواست ہے کہ اپنے ملک کی بہتری کے لیے سوچیں اپنی انا کی بھینٹ اس ملک کو نہ چڑھائیں ورنہ آنے والی نسلیں اور تاریخ تمہیں کبھی معاف نہیں کریں گی،یہ تما م سیاستدانوں سے دردمندانہ اپیل ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ اللہ میرے ملک پاکستان کی حفاظت فرمائے اوراس کے تمام اندرونی وبیرونی دشمنوں کوتباہ وبرباد کرے! آمین۔ 





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved