تازہ ترین  

امت مسلمہ کا اتحاد ، وقت کی اہم ضرورت
    |     1 month ago     |    کالم / مضامین

تاریخ گواہ ہے کہ برصغیر میں مسلمان حکمرانوں نے ایک ہزار سال تک حکومت کی اور ایسی حکومت کی جس میں عدل و انصاف تھا ، اس دور کی رعایا اپنے حکمرانوں سے خوش تھی کیونکہ وہ اپنی رعایا کا نہ صرف خیال رکھتے تھے بلکہ ان کی تمام ضروریات بھی پوری ہورہی تھیں امیر غریب کے لیئے یکساں قانون تھا، اسلامی تعلیمات کی روشنی میں فیصلے ہوتے تھے اور حکمران اپنے حکومتی امور چلانے کے لیئے علماء دین کے نقش قدم اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اپنے منصب کے تمام فراءض انجام دیا کرتے تھے اور ان کے عدل و انصاف کے چرچے دور دور تک مشہور تھے ، اس دور میں بھی غیر مسلم قوتیں جو مسلمانوں کی بڑہتی ہوئی تعداد اور دن بدن مضبوط ہوتی ہوئی طاقت سے جہاں خوفزدہ تھے وہیں مسلمانوں کے اقتدار کو ختم کرنے کے لیئے مختلف قسم کے گھٹیا حربوں کو بھی استعمال کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے اور جب ان غیر مسلم طاقتوں کی تمام چالیں ناکام ہونا شروع ہوگئیں او رکسی بھی طرح سے وہ مسلمان حکمرانوں سے اقتدا ر چھیننے میں کامیاب نہیں ہوپا رہے تھے تو کافی سوچ بچار کے بعد انہوں نے ایک فیصلہ کیا کہ ایک ہی چیز سے ان کو شکست دی جاسکتی ہے اور وہ ان کے دلوں میں پائی جانے والی ایمان کی مضبوطی ہے ، جب تک مسلمانوں کا ایمان کمزور نہیں ہوتا تب تک ہم انہیں کسی بھی طرح سے شکست نہیں دے سکتے کیونکہ ماضی میں ایسی کئی مثالیں ہیں جس میں مسلمانوں نے اپنے سے کئی گنا بڑے لشکروں سے جنگیں لڑیں اور فتح سے ہمکنار ہوئے کیونکہ ان کے دل میں ایک جذبہ ایمانی موجود ہے جو ان کو ہارنے نہیں دیتا، مسلمانوں کو شکست دینے کے لیئے ان کو دین سے دور کر کے دنیا کی محبت میں غافل کرنا ہوگا اور یہی ہماری جیت ہے، غیر مسلم قوتوں نے اپنی چالیں چلنا شروع کردیں اور مسلمانوں کو دین سے دور کرنے کے لیئے مختلف حربے استعمال کرنے لگے اور آخر کار وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے ، مسلمانوں کا اتحاد ختم ہوگیا، ایمان کمزور ہوگیا اس دن کے بعد سے لیکر آج تک پوری دنیا میں صرف مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہے،فلسطین، عراق ، شام ، ایران ، جموں کشمیر سمیت نہ جانے کتنے ممالک ہیں جہاں صرف مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہے اور اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی عالمی تنظی میں ، ( جن کویہیودیوں پر ہونے والے مظالم بہت جلدی نظر آجاتے ہیں ) امت مسلمہ اور تمام وہ مسلم ممالک جو ایٹمی اور فوجی طاقت رکھتے ہیں اور عالمی برادری پر مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو رکوانے کے لیئے دباءو ڈال سکتے ہیں مگر سب نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں ، کہیں ڈالروں کی چمک نے آنکھوں پر پٹی ڈالی ہوئی ہے تو کہیں تیل کے کنوءوں نے آنکھیں بند کرنے پر مجبور کیاہوا ہے، اور کہیں مفاد پرستی نے، غیر مسلم طاقتوں نے مسلمانوں کو تقسیم کر کے رکھ دیا ہے آج ہم مسلمان بٹے ہوئے ہیں ، کہیں فرقوں میں ، کہیں مسلک میں ، اور کہیں حکمرانوں کی چالوں نے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر ہ میں بانٹا ہوا ہے، مسلمانوں پر مظالم اس وقت تک ہوتے رہیں گے جب تک مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد نہیں ہوگا، اخباری بیانات اور ٹیلیویژن کی اسکرینوں پر آکر مذمتی بیان دینے سے آگے بڑھنا ہوگا اور عملی طور پر پوری امت مسلمہ کو متحد ہونا ہوگا،کیونکہ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے ، دنیا میں اس وقت صرف مسلمانوں کا خون نا حق بہہ رہا ہے، اسرائیل فلسطین کے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑرہا ہے تو بھارت جموں و کشمیر کے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل رہا ہے، کہیں روہنگیا مسلمانوں کو گاجرمولی کی طرح کاٹاجارہا ہے تو کبھی عراق اور شام میں مسلمانوں کا قتل کیا جارہا ہے اور پوری مسلم کمیونٹی دیکھ رہی ہے، ظلم ہوتے ہوئے دیکھنے والا بھی ظلم میں شامل ہوجاتا ہے، تاریخ گواہ ہے کہ طاقتور مسلمان حکمرانوں نے ہر اس کمزور مسلم ریاست کی مدد کی ہے جس پر مظالم ہوتے تھے یا وہ مالی طور پرکمزور تھے اور صرف یہ سوچ کر مدد کی جاتی تھی کہ وہ مسلمان ہیں اور ہمارے بھائی ہیں ، حالیہ اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کا خطا ب بہت جاندار تھا اور انہوں نے کشمیری مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو نہایت واضح الفاظوں میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے شرکاء کے سامنے رکھا ، اور انہوں نے کشمیر کا سفیر بن کر بھی دکھا یا لیکن کیا دوسرے اسلامی ممالک کو کشمیر ، فلسطین ، شام اور عراق سمیت مختلف ممالک میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم نظر نہیں آتے، جب غیر مسلم قوتیں مسلمانوں کو شکست دینے کے لیئے ایک ہوسکتی ہیں تو مسلمان ایک کیوں نہیں ہوسکتے، اس وقت حالات کا تقاضا ہے کہ تمام مسلم ممالک کے علماء دین ، عسکری و سیاسی قیادتوں سمیت ہر مسلمان کو نہ صرف اتحاد و یگانگت کے فلسفے پر عمل کرنے کا درس دینا چاہیے بلکہ اپنی زندگی کو دین اسلام کے بتائے ہوئے اصولوں پر گزارنے کی کوشش بھی کرنی چاہیے ، ہ میں اس وقت رنگ و نسل کے فرق کو مٹاتے ہوئے اپنے دینی احکامات کی روشنی کو مدنظر رکھتے ہوئے ان تمام مسلمانوں کی مدد کرنی چاہیے جو اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہیں ۔ ختم شد 







Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved