تازہ ترین  

نیا پاکستان“ غریبی کا بھی ثبوت پیش کرنا پڑے گا؟ صحت کے تشخیصی ٹیسٹوں کی قیمتوں میں 50سے 200فیصد تک اضافہ
    |     3 months ago     |    اہم خبریں
پینے کے صاف پانی کی عدم فراہمی،ناقص خوراک اور بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی سمیت دیگر مسائل کے باعث پاکستان میں موجودہر دوسرا شخص کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا دکھائی دیتا ہے، اگر بیمار شخص صاحب ثروت ہے ہو تو لاحق بیماری سے چھٹکارہ پانے کیلئے نجی ہسپتالوں کا رخ کرتا ہے، بدقسمتی سے وہ شخص غریب ہو تو اس کی پہلی ترجیح سرکاری ہسپتال ہی ہوں گے اور ملک میں موجود جو سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار پاکستان میں موجود کسی بھی فرد سے ڈھکی چھپی نہیں ہے،کیونکہ ان ہسپتالوں میں کہیں ڈاکٹروں کی کمی ہے تو کہیں صحت کی بنیادی سہولیات ناپید ہیں جس کے باعث زندگی کی امید لے کر آنے والے مریض نہ صرف ڈاکٹروں کے ناروا رویے کا شکار ہوتے ہیں بلکہ سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث ہسپتالوں کے ٹھنڈے فرشوں پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔ملک میں آنے والی ہر نئی حکومت نے سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار کو بہتر بنانے اور غریب و مستحق مریضوں کو صحت کی مفت سہولیات فراہم کرنے کی اپنے تئیں کوششیں کیں جس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے مگر شعبہ صحت سے متعلق عوامی شکایات کو ختم نہیں کرپائے،اگر ہم اس حوالے سے آباد ی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کی بات کریں تو یہاں پر بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر صحت کی سہولیات کا فقدان دکھائی دیتا ہے اور سرکاری ہسپتال عوامی توقعات پر پورا اترنے سے قاصر ہیں۔سابقہ حکومت پنجاب نے وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی سربراہی میں شعبہ صحت کی ترقی کیلئے سرکاری ہسپتالوں میں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کو یقینی بنایا تھا جس کے باعث کسی حد تک عوامی اعتماد بحال بھی ہوا تھا مگر جب سے ملک کی بھاگ دوڑ کا فریضہ وزیر اعظم عمران خان کی سر براہی میں تبدیلی سرکار نے سنبھالا ہے تب سے لے کر آج تک مسائل کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو پڑا ہے اور ان بڑھتے ہوئے مسائل کے باعث جو افراد کل تک ان کے حامی اور مدد گا ر تھے وہ آج ان کے مخالفین کی صف میں دکھائی دے رہے ہیں۔ کیونکہ موجودہ حکومت نے اپنی الیکشن کمپین اور اقتدار کی منزل پانے کے بعد عوام سے جو وعدے اور دعوے کیے تھے ان میں سے کوئی ایک بھی پورا نہیں کرپائی بلکہ الٹا مسائل میں اضافے کا موجب بن رہی ہے جس کے باعث ملک میں موجود نوے فیصد آبادی پر مشتمل غریبوں کا جینا دو بھر ہوکر رہ گیا ہے۔اس سے بڑھ کر حکومتی ستم ظریفی اور کیا ہوسکتی ہے کہ انہوں نے پہلے پہل انسانی زندگی بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں 20سے 25فیصد تک کے اضافے کی منظوری دی اور اس منظوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فارما سیوٹیکل کمپنیوں اور میڈیکل سٹورز مالکان نے عوام کا بھرکس نکال ڈالاہے اب رہی سہی کسر پنجاب بھر کے سرکاری ہسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت میں غریب و نادار مریضوں کو فراہم صحت کی مفت سہولیات ختم کردی گئیں اور ان ہسپتالوں میں ہونے والے تشخیصی ٹیسٹوں کی قیمتوں میں بھی 50سے200فیصد تک اضافہ کردیا گیا ہے۔
حکومت پنجاب کے محکمہ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کے نوٹیفکیشن کے مطابق مفت ملنے والی ڈینٹل ٹیسٹ کی پرچی 50روپے، سٹی سکین ٹیسٹ ایک ہزار روپے کے بجائے 2500 روپے، خون ٹیسٹ 100 سے 200 روپے، ایل ایف ٹی 50سے بڑھا کر 300روپے، ای سی جی 60سے 100روپے، الٹرا ساؤنڈ50سے 150روپے، تھائیرائیڈ ٹیسٹ200 کے بجائے900روپے ہوگیا۔اسی طرح ایکسر ے کرانے کے 60روپے، ہیپاٹائٹس کی سکریننگ کی 75روپے فیس دینا ہو گی۔ایڈز کی سکریننگ اور او پی ڈی پرچی کے بھی 50,50روپے اداکرنا ہوں گے، ای سی جی 100روپے اور الٹر ا ساؤ نڈ 150 روپے، پتھالوجی کی 43مختلف اقسام پر بھی نئی فیس ہو گی۔سی بی سی ٹیسٹ کے لیے 200روپے، ای ایس آر کے لیے 60 روپے، شوگر ٹیسٹ کے 65روپے، بلڈ یوریا لیول کے لیے 65، سیرم کریٹنن کے 65، سیرم یورک ایسڈ 65، جگر کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے لیور فنگشنگ ٹیسٹ کے 300 روپے، پیشاب کی مختلف بیماریوں کا جائزہ لینے کے لیے مریض کو60روپے دینا ہوں گے۔خواتین کے اسقاط حمل کے حوالے سے ٹیسٹ کی فیس 65روپے، خون کے گاڑھے پن کا تجزیہ کرنے کے لیے 400روپے، ہیپاٹائٹس بی اور سی کی سکریننگ کے لیے 75 روپے، دل کے دورے کی صورت میں ٹراپ ٹی ٹیسٹ کی قیمت 600 روپے، جوڑوں کے درد کا پتہ چلانے کے لیے ٹیسٹ کی قیمت 110روپے، ٹائیفائیڈ بخار کا ٹیسٹ کرنے کے لیے مریض کو 125روپے، مردوں کے مخصوص امراض کی تشخیص کے لیے سیمن ٹیسٹ 125 روپے، پاخانے کا تجزیہ کرنے کے لیے 75، فلویڈ روٹین کے لیے 200، ہیپاٹائٹس بی اور سی کے لیے پی سی آر کی فیس بالترتیب 200اور 400روپے مقرر ہوئی ہے۔اے این اے ٹیسٹ کی فیس 200، ملیریا بخار کے ٹیسٹ کی فیس 100روپے، خون میں ہیوموگلوبن لیول چیک کرنے کی فیس 350روپے، سوڈیم اور پوٹاشیم کی فیس175، سیریم کیلشیم 125، سریم ایملس کے لیے مریض کو 125روپے اد ا کرنا ہوں گے۔لیپڈ پروفائل کے لیے 250، تھرائی رائیڈ کا بیلنس چیک کرنے کے ٹیسٹ کی قیمت 900روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ ایمرجنسی وارڈ میں آنے والے مریضوں کو ٹیسٹ کی مفت سہولت دستیاب ہو ں گی۔ وارڈز میں داخل ہونے یا معمول کا چیک اپ کرانے والے مریضوں کو مذ کورہ فیسیں ادا کرنا ہوں گی اور مفت علاج کیلئے مستحق مریضوں کو غریب حلف نامہ پْر کر کے اپنے علاقے کے چیئرمین عشر وزکواۃ کمیٹی سے تصدیق کراکر جمع کرانا ہوگا۔
ایک طرف تو موجودہ حکومت ملک بھر کے عوام کیلئے صحت انصاف کارڈ کا اجراء کرکے انہیں صحت کی مفت سہولیات فراہم کرنے کا واویلا کررہی ہے تو دوسری طرف ایک ایسے وقت میں حکومت پنجاب نے صوبہ کے سرکاری ہسپتالوں میں غریب و نادار مریضوں کو صحت کی مفت سہولیات سے محروم کردیا ہے جبکہ وہ پہلے غربت،بے روزگاری اور مہنگائی کے ہاتھوں مجبورہوچکے ہیں اور مجبو ر وبے کس عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی بجائے جو تبدیلی سرکار نے ان پر ٹیسٹوں کی قیمتوں میں اضافے کا بم ان پر گرایا ہے وہ حکومتی پریشانیوں میں بھی اضافہ کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ حکومت کے خلاف پہلے ہی اپوزیشن سیاسی جماعت برسر پیکار ہیں اگر ان کے ساتھ عوام بھی شامل ہوگئی تو انہیں گھروں میں جانے سے کوئی بھی نہیں روک پائے گا کیونکہ ملک کے اصل سٹیک ہولڈرز عوام ہی ہیں اور انہیں خوشحال کئے بغیر کسی بھی صورت میں کامیاب نظام حکمرانی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب سردار محمد عثمان بزدار کو چاہیے کہ وہ سرکاری ہسپتالوں میں صحت کی مفت سہولیات کی بحالی کو یقینی بناتے ہوئے تشخیصی ٹیسٹوں کی قیمتوں میں ہونے والا حالیہ اضافہ بھی واپس لینے کے احکامات صادر فرمائیں تاکہ پنجاب بھر کے عوام صحت کی مفت اور معیاری سہولیات سے مستفید ہوکر صحت مند زندگی گزار سکیں۔
٭٭٭
رپورٹ: قسورعباس
اشاعت: ڈیلی پاکستان ملتان






Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved