تازہ ترین  

پاکستان نعمت خداوندی
    |     2 months ago     |    کالم / مضامین
برصغیر میں قائداعظم محمد علی جناح رحمہ نے 1906ء میں جب اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا تو آپ نے جماعت "کانگریس" میں شمولیت اختیار کی، کچھ وقت گزرنے کے بعد جب قائداعظم محمدعلی جناح رحمہ اللہ نے "کانگریس" کو یہ محسوس کرتے ہوئے چھوڑدیا کہ اس میں تو صرف ہندوؤں کا مفاد ہے ،مسلمانوں کے حق میں بہتر نہیں تو پھر آپ نے اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے جماعت "کانگریس" کو خیرباد کہ کر جماعت’’ مسلم لیگ‘‘ میں شمولیت اختیار کر لی ، آپ نے’’ مسلم لیگ ‘‘میں شامل ہو کر مسلمانوں کے ذہنوں میں اس سوچ و فکرکو اُجاگر کیا کہ اب برصغیر میں ایک الگ مملکت "پاکستان" کا مطالبہ کیا جائے کیونکہ ہندوستان میں ایک قوم نہیں بلکہ دو قومیں بستی ہیں پھر قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ نے اس بات کا برملا اعلان کیا کہ ہندوستان کی تقسیم کی جائے ۔ آپ کے اس اعلان کے بعد برصغیر میں ہندوؤں کی مسلمانوں کے ساتھ مخالفت شروع ہو گئی ایسے پرفتن اور سنگین حالات میں شاعر مشرق علامہ محمد اقبال رحمہ الله جو کہ دو قومی نظریے کے زبردست حامی تھے ،انھوں نے بھی قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ کے موٴقف کی تائید کرتے ہوئے اپنے انداز بیان (یعنی اپنے شعروں کے ذریعے)میں ایک الگ ملک یعنی "پاکستان" بنانے اور جذبہ آزادی کی تڑپ کو برصغیر میں مسلمانوں کے دلوں میں پیداکر دیا ۔
برصغیر میں ہندوؤں نے اس مطالبے کو مضحکہ خیز قرار دیا،یہاں تک کہ بعض اپنوں نے بھی اسے ناقابل عمل سمجھا لیکن قائداعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ اپنے موٴقف سے پیچھے ہٹنا نہیں جانتے تھے بلکہ آپ نے برصغیر کے مسلمانوں کو متحد کرکے ایک جھنڈے تلے جمع کر دیا اور انہیں یہ شعور دلایا کہ اب دو قومی نظریے کی بنیاد پر انگریزحکمرانوں سے مسلمانوں کے لیے جداگانہ انتخاب کا حق منوایا جائے ۔اس تحریک "پاکستان" کو روکنے کے لیے ہر قسم کے ہتھکنڈوں کو استعمال کیا گیا ۔۔۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت و فضل سے تمام کے تمام ناکام رہے ۔
مسلمانوں کا برصغیر کی تقسیم کا مطالبہ کرکے ایک الگ ملک "پاکستان" کو حاصل کرنا آسان کام نہ تھا بلکہ یہ راستہ انتہائی طویل اور پُرکٹھن تھا۔ اس وطن عزیز "اسلامی جمہوريہ پاکستان"کو حاصل کرنے کے لیے خون کی ندیاں بہی ،بڑے بڑے محلات میں رہنے والوں کو در در کی ٹھوکریں کھانا پڑیں، اپنی جائیدادوں کو چھوڑنا پڑا، کتنے ہی علماء کرام کو جیلوں میں پابند سلاسل کر دیا گیا اور کتنے ہی مسلمانوں کو بے دردی کے ساتھ قتل کر کے ان کی لاشیں درختوں پر لٹکا دی گئیں،کتنی ہی ماؤں ،بہنوں ،بیٹیوں کی عفت و عصمت کی دھجیاں اڑادی گئیں، قربانیاں بہت زیادہ تھیں لیکن باوجود اس کے مسلمانان ہند نے قائداعظم محمد علی جناح رحمہ الله کی قیادت میں بڑی ہی جرأت، بہادری اور جانوں کا نذرانہ پیش کر کے اس تصور اقبال رحمہ اللہ(پاکستان)کو حاصل کرنے کے لیے اپنے مقصد سے ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹے اور اپنے اس مضبوط عزم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔
قائداعظم محمد علی جناح رحمہ الله اور ان کے رفقاء کی پُرخلوص مسلسل محنتوں اور کوششوں کی بدولت وطن عزیز’’ اسلامی جمہوریہ پاکستان ‘‘پوری آب وتاب کے ساتھ 14اگست 1947ءکودنیاکے نقشے پر معرض وجود میں آگیا۔
قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ نے ایک مقام پر فرمایا : کہ’’ ہم نے "پاکستان" کا مطالبہ صرف ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا ، بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے ہیں جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں‘‘ ( یعنی دین اسلام کے بتائے ہوئے احکامات کے مطابق زندگی گزار کر دنیا و آخرت بہتر بنا سکیں)اور فرمایا: ’’ہمارا راہنما اسلام ہے اور یہی دین اسلام ہماری زندگی کا مکمل ضابطہ ہے‘‘۔ قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ چاہتے تھےکہ یہاں کے لوگ اپنے مذہب ( یعنی دین اسلام)کے مطابق اپنی زندگی بسر کر سکیں۔
لیکن ہائے افسوس! کہ ہم نے اپنے آباؤ اجدادکی ارض پاکستان کی خاطر قربانیوں کے مقصد کو بھلا دیا.... آج اسی بات کی ہمیں اشد ضرورت ہے کہ ہم قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ الله اور ان کے رفقاء کی محنتوں اور مقصد کو سمجھتے ہوئے اپنے آپ کا محاسبہ کریں ،اس تحریک "پاکستان" کو عملی جامہ پہنائیں اور اس عظیم نعمت خداوندی کی قدر کریں۔پاکستان زندہ باد





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved