تازہ ترین  

عید الاضحی
    |     2 months ago     |    کالم / مضامین
اسلام مےں دو ہی تہوار ہےں۔ اےک رمضان المبارک کے تشکر کے طور پر جسے ہم ےوم عےد کہتے ہےں اور دوسرا تہوار عےد قربان ےا عےد الاضحی ہے۔ عیدالاضحی حضرت سےدنا اسمعٰےل علےہ السلام کی عظےم قربانی اور حضرت ابراہےم علےہ السلام کے عظےم اثےار کی نہ صرف ےاد گار ہے بلکہ اس مےں حکمت الہٰی ےہ پوشےدہ ہے کہ جو اجر، جو برکات ،جوکےفےات اور جس طرح کی رحمتےں سےدنا حضرت ابراہےم علےہ السلام پر حضرت سےدنا اسمعٰےل علےہ السلام کو قربان کرتے ہوئے نازل ہوئیں تھیں۔اُن مےں امتِ محمدےہ علی صاحبہ الصلوہ والسلام کو بھی شرےک بنا دےاگیا۔
سےدنا حضرت ابراہےم علےہ السلام کی عمر اسی برس سے تجاوز کر رہی تھی کہ اللہ کریم نے اِس عمر مےں آپ کوبےٹاعطا فرماےا۔پہلے تو آپ کو یہ حکم ملا کہ اپنی زوجہ محتر مہ اور معصوم بچے کو وہاں چھو ڑ آﺅ جہاں آج بےت اللہ شرےف ہے ۔حضرت جبرائےل امےن ؑ نے رہنمائی کی اور سےدنا حضرت ابراہےم علےہ السلام انہیں وہاں چھوڑ آئے ۔ اس وقت وہاں سےنکڑوں مےلوں تک کسی آبادی کا کوئی نشان نہےں ملتا۔حضرت حاجرہ ؓ کا پانی کی تلاش میں بے تاب وبے قرار ہو کر پہاڑوں پر دوڑنا،حضرت اسمعٰےل علےہ السلام کی بے تابی، آب زم زم کا وہاں سے نمودار ہونا۔
حضرت سےدنا اسمعٰےل علےہ السلام کے بارے قرآن ِحکےم بتاتا ہے۔” فلما بلغ معہ السعی“۔ ( (37:102 ےعنی جب وہ اس قابل ہوئے کہ انگلی پکڑ کر ساتھ چل سکےں تو اللہ نے حکم دےا کہ آپ علےہ السلام اسے مےری راہ مےں قربان کر دےں۔قربانی کا اےک فلسفہ ےہ ہے کہ سےدنا حضرت ابراہےم علےہ السلام کے نام کے ساتھ لفظ ”خلےل اللہ“ ہے ۔ےوں تو سارے نبی اللہ کے دوست ہوتے ہےں۔ہر ولی اللہ کا دوست ہوتا ہے۔ ہر مسلمان اللہ کا دوست ہوتا ہے۔ اللہ سے دشمنی تو صرف کافر کے نصےب مےں ہے لےکن بعض لوگ اِس دوستی مےں اِس حد تک آگے چلے گئے کہ ےہی اُن کا نشان بن گےا۔ آپ اندازہ کرےں کہ جس اللہ کے بندے کی عمر اسی برس سے تجاوز کر رہی ہو۔اُس عمر مےں فرزند عطا ہو۔ جس کی پےشانی مےں نورِ نبوت درخشاں ہو پھر اس بچے کی عمر کا وہ حصہ جو بچپنے والا ہوتا ہے۔ اس کے بعد یہ حکم دےا جائے کہ اِسے مےری راہ مےں قربان کر دو۔اِس کےلئے کتنی محبت چاہئے حکم دےنے والے کے ساتھ؟ کہ آدمی اس کی گردن پر چھری رکھ دے ۔
ےہ وہ نظارہ ہے جو رب العالمےن نے اُن فرشتوںکو بھی کراےا جو کہتے تھے کہ تخلےق ِآدم سے کےا فائدہ ہو گا؟ ےہ زمےن پر فساد ہی کرےںگے ۔اللہ کرےم نے اُنھےں دکھا دےا کہ ان مےں اےسے بھی ہےں کہ جو سب کچھ مےرے اشارے اور مےرے نام پر مےری خوشی اور مےری رضا کےلئے انتہا ئی عزےز ترےن متاع اپنے ہاتھوں لٹا سکتے ہےں۔جب آپ علےہ السلام نے بسمِ اللہ، اللہ اکبر پڑھ کر سےدنا اسمعٰےل علےہ السلام کی گردن پر چھری چلا دی۔ خون کے فوارے ابلنے لگے۔ لاشہ تڑپ کر ٹھنڈا ہو گےا۔آنکھوں سے پٹی ہٹائی تو دےکھا سےدنا حضرت اسمعٰےل علےہ السلام ساتھ کھڑے مسکرا رہے ہےں اور دنبہ کٹا پڑا ہے۔ پرےشان ہو گئے ۔ےا اللہ کےا مےری قربانی قبول نہےں ہوئی؟ تو اللہ کی طرف سے ارشاد ہوا۔©©”قد صدقت الرےا ےا ابراہےم“ ( (37:105 ”اے ابراہےم!بے شک آپ نے خواب کو سچا کر دکھایا“ ۔ ےہ مےری مرضی کہ مےں نے حضرت اسمٰعےل کو بچا دےا اور دنبہ ذبح کرا دےا ”وفدےنہ بذبح عظےم“ ( (37:107 مےں نے اس کے بدلے بے شمار قربا نےاں قبول کر لےں۔ چنانچہ ےہ ذبح عظےم ہے۔ اس مےںاُس وقت سے لےکر قےامت تک جتنے لوگ شہےد ہونگے۔ وہ مکہ مکرمہ ، مدنےہ منورہ ، غزواتِ نبوی علےہ الصلوة والسلام اور اُس کے بعد ہوئے ۔کوئی لاشہ جو بدر واُحد مےں تڑپا یا کربلا مےں خانوادہ نبوی ﷺ کے چراغ اور جگر گوشے ہوں یا آج افغانستان، کشمےر، فلسطےن ، عراق اور پاکستان مےں ہو رہے ہیں۔ بطفےلِ محمدﷺ ہر شہےد کو ذبح اور قربانی کی لذت مےں شرےک کر دےا اور اُس قربانی کو حج کا رکن بھی قرار دے ِ دےا۔اب شہےد تو شہےد ہو کر لطف لے گئے۔ حجاج کرام نے مکہ مکرمہ، منٰی مےں جا کر اپنی قربانےاں پےش کر کے ثواب لے لےا ۔عامة المسلمےن کہاں جائےں؟ اﷲ نے فرماےا جو مسلمان روئے زمےن پرجہاں بھی ہو، جو جانور اُسے پسند ہو،خوبصورت اورپےارا لگے، مےری راہ مےں قربان کر دے، مےں اُسے بھی ذبحِ عظےم مےں شامل کر دونگا،وہی برکات ، انوارات اوروہی رحمتےں اُس پر وارد ہونگی جو سےدنا حضرت ابراہےم علےہ السلام اور سےدنا حضرت اسمعٰےل علےہ السلام پر اس وقت وارد ہوئےں تھےں۔
لہذا قربانی محض رسم نہےں ہے۔ ےہ اس طرح بھی نہےں ہے کہ خانہ پرُی کی جائے ۔اگر ہم نے پورے خلوص سے قربانی کی تو صرف دنبہ قربان نہےں ہوگا، صرف جانور ذبح نہےں ہو گا، بلکہ اللہ ہمےں توفےق دے گاکہ ہم اُس کی اطاعت کے لےے اپنے مفادات قربان کر سکےں۔ عبادات کے اوقات مےں آرام اور حلال کے مقابلے مےں حرام قربان کر سکےں۔ ہم مےں عاداتِ ابراہےمی ؑ آنا شروع ہو جائےں تو ےہ قربانی کا اےک نتےجہ ہے ۔جسے ہم پرکھ سکتے ہےں کہ کےا ہماری قربانی رسمی تھی ےا خلوص کے ساتھ تھی؟ ہمارے دل مےں جذبہ آےایا نہےں ۔ہر اےک کا حال اللہ جانتا ہے ےا کسی حد تک انسان خود اندازہ کر سکتا ہے۔ قربانی کرتے وقت سوچو کہ مےں کےاقربان کرنے چلا ہوں؟ ےہ کس نے حکم دیا تھا؟ ےہ سنتِ ابراہےمی تھی بطفےلِ محمد ﷺرب ِکرےم نے انعام مےں عطا کر دی کہ امتِ مرحومہ اس سعادت سے محروم نہ رہے پھر اسے ےومِ عےد قرار دے دےا۔ فرماےا پہلے دوگانہ ادا کرو پھر قربانی کرو اور سوچ کر کرو کہ اے اللہ تو کتنا کرےم ہے، مجھے اجر وہ دے رہا ہے گوےا مےں بےٹا ذبح کر رہا ہوں، جبکہ مےں اےک جانور ذبح کر رہا ہوں۔ اُس درد کو محسوس کرو کہ اگر بےٹا ذبح کرنا ہوتا تو تمہارے دل کا کےا عالم ہوتا ؟ربِ کرےم نے اس چھوٹی سی قربانی پر اتنا بڑا دردِدل عطا کر دےا ۔اب ےہ تو اپنے شعور کی بات ہے کہ ہم وہ کےفےت ، قرب اور دردِ دل کتنا حاصل کرتے ہےں؟ حقیقی قربانی تو ان لوگوں کی ہے جو سب کچھ اﷲ کے لئے قربان کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں ۔جو راہ حق میں کام آئے۔ خدا رحمت کندایں عاشقانِ پاک طنیت را۔کیا پاک مزاج لوگ تھے ۔ہم بہرحا ل جانور ذبح کرتے ہیں اور ہمیں یقین نہیں آتا کہ یہ قربانی قبول ہو گی؟ اس میں ہمارا خلوص اور سرمایہ مشتبہ ہوتا ہے۔ ہمارے طریقے خلاف سنت بلکہ رسومات پر مبنی ہوتے ہیں اور عبادت تو وہی ہے جو نبی علیہ الصلوٰة کے طریقے اور حکم سے ہو۔اپنی مرضی سے نہیں ۔سو ہم سے ہزاروں کوتاہیاں ہو جاتی ہیں۔
قارئین گرامی!قربانی کی حقیقت کو وہ لوگ پا گئے جو محض بقائے دین اور احیا ئے دین کے لئے واقعی قربانی دے رہے ہیں اور دیتے چلے جا رہے ہیں۔ آخری کتاب قرآن حکیم ہے۔ جب تک اﷲ نے دنیا کو قائم رکھنا ہے۔ تب تک نبوت بھی رہے گی۔ یہ دین بھی رہے گا۔ لیکن دنیا عالم اسباب ہے ۔اس میں کس کس کو اس سعادت سے سرفراز کرتا ہے؟ یہ اس کی پسند ہے۔ ہماری کوشش یہ ہو کہ جب جانور قربان کریں تو یہ دعا بھی کریں کہ اے اﷲ! نہ صرف ان جانورں کی قربانی ہم سے قبول فرما بلکہ ہماری ذاتی قربانی بھی قبول فرما۔قربانی کی عید تو شاید ڈھائی دن کی ہے لیکن قربانی کا موسم ڈھائی دن کا نہیں ہے ۔یہ ڈھائی دِن کی عید جانوروں کی قربانی کی ہے۔ جان و مال کی قربانی، عشق و محبت کی قربانی ،درددل کی قربانی کا موسم اپنے جوبن کی طرف بڑھ رہا ہے۔ وہ خوش نصیب ہوںگے جن کے دل میں اﷲ سے عشق ہو گا ۔اﷲ کے حبیب ﷺ سے محبت ہو گئی۔ اﷲ انہیں چن لے گا۔
اللہ کرےم ہماری قربا نےوں کو قبول فرمائے دےن ِبرحق پر زندہ رکھے اور دےن ِبرحق پر موت نصےب فرمائے اور دےن دار بندوں کے ساتھ حشر فرمائے۔آمےن 





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved