تازہ ترین  

منفرد شخصیت کی حامل ”ارم ہاشمی اور ”ٹی ہاوس“
    |     2 weeks ago     |    گوشہ ادب
ٹی ہاوس لفظ انگریزی زبان کا ہے۔اس کا تصور آتے ہی بندہ فوراًکسی ہوٹل،کھوکھے اور ڈھابے کے منظر میں کھو جاتا ہے۔جہاں ہر طبقہ فکر کے لوگ جسم کی تھکاوٹ اُتارنے کے لیے اور کچھ دیر سستانے کے لیے چائے کی چسکیاں آ لیتے ہیں۔اس دوران دل کے ارمان لفظوں کا روپ دھار لیتے ہیں۔یہی لمحے ان کے انمول ہوتے ہیں جب وہ دُنیا کے خرافات سے بے نیاز ہو کر خود سے باتیں کرتے ہیں۔دوستوں سے حال دل بیان ہوتا ہے۔بچھڑے یاد آتے ہیں۔عہد وفا کی رسمیں،بے وفائی کے طعنے،اپنوں کے ستم،محبوب کی ادائیں اور نخرے،چولہوں کے ٹھنڈنے ہونے کا غم اور نجانے ایک چائے کی پیالی میں قیدکتنے عذاب خرید رہے ہوتے ہیں۔ اُف یہ چائے۔
زمانہ جدت کی طرف جا رہا ہے۔پہلے شہر یا گاؤں کے ادیب اور شعراء حضرات کسی دوست کے ہاں بیٹھک یا چوپال میں بیٹھ کر دل کے حال احوال کرتے تھے۔پھر حکومت کو جانے کیا سوجھی اُس نے ہر شہر میں ادیب اور شعراء حضرات کے لیے ”ٹی ہاوس“تعمیر کرائے۔اب اس سے کون،کتنا استفادہ حاصل کر رہا ہے۔یہ بتانا میرا مقصد نہیں ہے۔ہم بات کرتے ہیں ”ٹی ہاوس“کتاب کی جس کی مصنفہ ارم ہاشمی صاحبہ ہیں۔سید خاندان اورپڑھے لکھے گھرانے سے تعلق ہے۔جہاں ادبی ذوق اور کتابوں سے محبت کرنے والے رہتے ہیں۔اپنے خاندان میں ارم ہاشمی پہلے فرد کی حیثیت رکھتی ہیں جنہوں نے قلم کے ذریعے اپنے جذبات،احساسات،تجربات،مشاہدات صفحہ قرطا س پر بکھیرے ہیں۔”ٹی ہاوس“ارم ہاشمی کے افسانوی مجموعہ پر مشتمل خوبصورت،عمدہ اور معیاری کتاب ہے۔
ارم ہاشمی اردو افسانہ نگار ہیں لیکن کتاب کا نام انگریزی میں کم از کم مجھے ہضم نہیں ہورہا ہے۔اس کتاب سے پہلے ارم ہاشمی کے نام سے واقف نہیں تھا۔”ٹی ہاوس“میرے عزیزم سمیع اللہ خان نے خلوص ِمحبت کے ساتھ ارسال کی ہے۔جو پاکستان ادب پبلشرکے ڈائریکٹر بھی ہیں۔سمیع اللہ خان محبت کرنے والا شخص ہے اللہ تعالیٰ اسے امن اور سلامتی والی زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین!۔
”ٹی ہاوس“کا سرورق نامور نثر نگارمحترم ناصر ملک صاحب کا تخیل ہے۔ایک قدرے اداس شخص کچھ پڑھنے میں محو ہے اور سامنے میز پر چائے کا ایک کپ اور اس کابیگ پڑے اس کا منہ چڑا رہے ہیں۔”ٹی ہاوس“سفید عمدہ کاغذ پر شائع کی گئی ہے۔جس کی کمپوزنگ غلام محمد خان ڈب نے کی ہے۔ٹی ہاوس پاکستان ادب پبلشرز میانوالی نے خاص اہتمام کے ساتھ شائع کی ہے۔”ٹی ہاوس“کے مالک آپ تین سو روپے میں بن سکتے ہیں۔ہیں نا زبردست بات۔جی ہاں اس کی قیمت صرف تین سوروپے ہے۔
”ٹی ہاوس“کا انتساب ”شمیم عارف“کے نام کیا گیا ہے۔ہدایت اللہ شاہ شاعر کا خوبصورت شعر اس کتاب کی مکمل کہانی بیان کر رہا ہے۔شعر کچھ یوں ہے:
گرچہ ہے سننے کے قابل داستاں میری مگر
میں نہ فن سے آشنا ہوں نہ مری کوئی زباں
”اعصاب شکن رائیڈ“ناصر علی سید کے اظہار خیال پڑھتے ہوئے مجھے ارم ہاشمی کا افسانہ ”ناموری“ستانے لگا ہے۔ناصر علی سید نے تفصیلاًٹی ہاوس پہ اظہار خیال کیا ہے۔ارم ہاشمی کے افسانوں کی متحرک فضا کے عنوان سے ”ممتاز راشد لاہوری“نے ارم ہاشمی کے افسانوں پر مدلل بات کی ہے۔آپ کا کہنا ہے کہ ارم ہاشمی بلاشبہ اپنے افسانوں میں کئی نئے پہلو اُجاگر کرتی نظر آتی ہیں اور یہ ان کی کامیابیوں میں ایک اہم پہلو ہے۔کتاب کے اندرون میں محمد حامد سراج صاحب لکھتے ہیں ارم ہاشمی کی رواں دُھلی ہوئی نثر پڑھ کر جی خوش ہوا ہے اور ہماری مٹی کو ایک عمدہ افسانہ نگار نصیب ہو گئی ہے۔کتا ب کے بیک فلاپ پر اصغر ندیم سید لکھتے ہیں ”ارم ہاشمی کے افسانے مشاہدے اور زندگی کی تفہیم کے حوالے سے بہت اہم ہیں۔ارم ہاشمی نے اپنے اردگرد کے مختصر علاقے کی عورتوں کی بصیرت اور خود آگہی کو موضوع بنایا ہے۔
اب تک جن لوگوں کا ذکر ہوا ہے انہوں نے ”ارم ہاشمی“ کے افسانوں پر بات کی ہے۔لیکن مجھے ارم ہاشمی کے افسانوں اور ان کی کتاب ”ٹی ہاوس“کی بات کرنی ہے۔براہ کرم مجھے برداشت کیجئے گا۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ میں نے یہ کتاب دس گھنٹوں سے بھی کم وقت میں لفظ بہ لفظ مکمل پڑھ لی ہے۔”ٹی ہاوس“میں کل تیرہ افسانے ہیں جن میں ”یہ میاں لوگ،ٹی ہاوس،ڈوبتا اُبھرتا آدمی،ناموری،میں کہاں ہوں،نجومی کیا کرے،شاعرہ کے نام برقی خط اور جاری کہانی نے مجھے بہت متاثر کیا ہے۔گو کے سبھی افسانے اپنے اندر ندرت خیال کے تمام خزانے رکھتے ہیں۔
ٹی ہاوس کے مطالعہ کے بعد ارم ہاشمی کے طرز نگارش سے مکمل طور پر آشنا ہو گیا ہوں۔محترمہ ارم ہاشمی کا قلم اپنے اردگر دکے مشاہدات،تجربات سے لفظ کشید کرکے اُنہیں افسانے کے روپ میں صفحہ قرطاس پر بکھیرتا چلا جاتا ہے۔افسانوں میں ”بن بیاہی“بقول ممتاز راشد لاہور ی،عورت کے جذبات کو تیز رفتاری کے ساتھ اسی کی زبانی بیان کر دیا جاتا ہے کہ جو شادی ہونے کے امکان کی وجہ سے ملنے والے مردوں کے بارے میں طرح طرح کے اندازے لگاتی پھرتی ہے۔میں سمجھتا ہوں اس میں عدن جیسی عورت کا ہی قصور ہے۔کسی حد تک مفت مشورے دینے والی سہیلیوں کا بھی ہے جو ڈاکٹر جینفر کا راستہ دکھاتی ہیں اور اس خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتی ہیں کے میں نہ یہ راستہ دکھاتی تو کوئی اور دکھادیتا۔کسی نے اس کی اصلاح کرنے کی کوشش نہ کی اور سارے الزام مردوں پر تھوپ کر خود کو بر ی الذمہ قرار دے دیا جب کہ جب بھی کوئی جرم ہوتا ہے اس کے محرکات مدعی اور مجرم دونوں تک جاتے ہیں۔ہم کسی ایک کو قصوروار نہیں ٹھہراسکتے۔
ٹی ہاوس“کا افسانہ ”بانجھ“میں بھی عورت ہی عورت کو گالی دیتی نظر آتی ہے۔لیکن کہاجاتا ہے خداجانے لوگوں کو سفید کپڑوں پر کیچڑ اُچھالنے میں کیا لطف ملا کرتا ہے؟عورت ہی عورت کی دشمن ٹھہری ہے۔چاہے وہ سوکن کے روپ میں ہو یا محبوبہ کے روپ میں،ماں ہو بہن ہو یا بیوی کے روپ میں مردوں کا سہارا لے کر خود اپنی ہی دشمن ہے۔
”کیبرے ڈانسر“میں خوب انسانی خواہشات کا پردہ فاش ہوا ہے۔لوگ چہرے پہ چہرہ سجائے فریب دیتے پھرتے ہیں۔انسان کا اندر کا انسان باہر کے انسان سے مختلف کیوں ہے؟یہ تضاد کیسا ہے؟زبردست افسانہ ہے۔”ٹی ہاوس“سرورق افسانہ ہے جس میں مختلف زوایوں سے مشاہدات کی آنکھ سے جذبات کی عکاسی کی گئی ہے۔محبت کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔بہترین جملہ ”میں یہاں کسی کے لیے نہیں آتی،میں صرف چائے پینے آتی ہوں“ہے۔لیکن چائے کے بہانے چالیس سال کی عمر میں محبت کی چنگاری میں سُلگ رہی ہوتی ہیں۔
ڈوبتا اُبھرتا آدمی“خوشیوں کا دورانیہ قدرے کم ہی ہوتا ہے لیکن لمحہ بھر کی خوشی انسان کے سارے غم،پریشانیاں اور اُداسیاں ختم کر دیتی ہے۔”ناموری“میں تلخ حقیقت سے پردہ اُٹھایا گیا ہے۔ارم ہاشمی نے کمال مہارت اور دلیری سے اپنے مشاہدات کے زورپر ایسے لوگوں پر طمانچہ مارا ہے۔جو معاشرے میں ناسور بن رہے ہیں۔”ناموری“میں ایک لکھاری کو اپنی تحریریں شائع کروانے میں جو مشکلات کا سامنا ہے وہ خوبصورت لفظوں کا لباس پہن کر سامنے آتے ہیں۔یہ حقیت ہے کچھ لوگ اپنے مفاد کی خاطر دوسروں کو بدنام کرنے کی وجہ بنے ہوئے ہیں۔اب سبھی ایڈئٹریا دانشور ایسے نہیں ہوتے۔
”سائباں“میں بھی ارم ہاشمی عورت کو بطور ہیرو پیش کرتی ہیں۔مانتے ہیں کہ مردوں کی طرف سے ناانصافیاں،زیادتیاں ہوتیں ہیں لیکن عورت مکمل طور پر مظلوم بھی نہیں ہے۔عورت ظالم بھی ہے۔مرد جو ایک گھر کا محافظ ہے اس کو سکون اور محبت میسر نہ آئے تو وہ کمزور ہو جاتا ہے۔عورت اُس کائنات کا حُسن ہے لیکن یہی عورت اس گلشن میں انارکی کی وجہ بھی ہے۔تاریخ شاہد ہے دُنیا میں جو بگاڑ ہے اس میں زیادہ تر کردار عورت کا ہے۔مختصر بات یہ کہ عورت ہی گھر کو گلشن بناتی ہے اور عورت ہی گلشن کو قبرستان میں تبدیل کرتی ہے۔
”میں کہاں ہوں“ارم ہاشمی نے عورت کے غموں کو بہترین روپ دیا ہے۔غموں سے لبریز افسانہ ارم ہاشمی کے فن کو سامنے لاتا ہے۔نجومی کیا کرے؟بلاشبہ سچ کڑوا ہوتا ہے۔حق سچ کہنے سے زیادہ سننے کی ہمت ہونی چاہیے جو کہ مجھ سمیت کسی میں بھی نہیں ہے۔فریبی دُنیا کو فریب میں ہی رکھنا چاہیے۔”معروف شاعرہ کے نام برقی نامے“پہلا برقی نامہ انچارج ادبی صفحہ کا ہے جس میں وہ شاعرہ کے قصیدے لکھنے پڑھنے کا کہہ رہا ہے۔زمانے بھر سے دُشمنی لے بیٹھا ہے لیکن اس میں اس کا مفاد واضح ہو رہا ہے جو وقت ملتے ہی حاصل کر لے گا یا کرنا چاہتا ہے۔اس کے اندر کی شیطانیت کا پردہ دھیرے دھیرے فاش ہو رہا ہے۔اسی طرح نوجوان مداح بھی اس کے گھر تک پہنچ جاتا ہے اور اُسے ایک طرح کا بلیک میل کرکے اپنی دیوانگی ظاہر کررہا ہے۔ایک ناکام عاشق۔ایک اور برقی نامے میں شادی کا پیغام بھی آیا ہے لیکن افسوس کسی نے اس کے فن پر بات نہ کی۔ہر کسی نے اپنے دل کو تھما ہے۔
”جاری کہانی“واحد کہانی ہے جس میں مجھے عورت نہیں ملی۔جی ہاں سچ کہہ رہا ہوں۔اس میں نہ عورت کا کردار ہے نہ مرد کو گھسیٹا گیا ہے۔یہ افسانہ باپ،بیٹی کا ہے۔جس میں بیٹی کی محبت باپ سے دکھائی گئی ہے۔بیٹی،باپ کے فن اور کردار پر فدا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کے یہ کہانی خود ارم ہاشمی کی ہے۔جس میں کرداروں کے روپ میں خود کی کیفیت کو بیان کیا ہے۔
”ارم ہاشمی“کے فن پر بات کی جائے تو ان کا اسلوب اعلی ہے۔سادہ اور عام فہم انداز اپناتی ہیں۔اپنی نگارشات میں اپنے اردگرد کے مشاہدات کو احاطہ تحریر میں لاتی ہیں۔عورت ہونے کے ناطے عورت کے مسائل کو ترجیح دیتی ہیں یوں چار دیواری کے اندر کے مسائل سامنے آتے ہیں۔عورت کو معاشر ے میں کن مسائل کا سامنے کرنا پڑتا ہے،وڈیرہ شاہی سے نبردآزما ہیں۔مردوں کوقصور وار ٹھہراتے ہوئے یہ بھول جاتی ہیں کے مردوں کے معاشرے میں رہتی ہیں۔گھر کے اندر بھی اس کا سامنا مردوں سے رہتا ہے۔
ارم ہاشمی کو ”ٹی ہاوس“کی اشاعت پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔بہت سی دعائیں۔  





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved