تازہ ترین  

یہ عشق موت کے اسباب پیدا کرتا ہے ۔۔۔۔۔ مَیں تیس سال سے اِس بات پر اڑا ہوا ہوں
    |     1 month ago     |    شعر و شاعری
زمینِ ہجر میں گردن تلک گڑا ہوا ہوں
مَیں تجھ کو ہار کے اب سوچ میں پڑا ہوا ہوں

ہر ایک سمت ہے شورش ، بلا کی وحشت ہے
مَیں دشت زاد ہوں اور شہر میں کھڑا ہوا ہوں

خدا کا شکر کہ زیبائشوں کا ہوں باعث
یہ اور بات کہ پازیب میں جَڑا ہوا ہوں

یہ عشق موت کے اسباب پیدا کرتا ہے
مَیں تیس سال سے اِس بات پر اڑا ہوا ہوں

کِیا تھا آپ نے ثروت کا ذکرِ خیر جہاں
مَیں احترام میں اب تک وہیں کھڑا ہوا ہوں

خدا کرے کہ تجھے بندگی پسند آئے
مَیں خاک ہو کے تری راہ میں پڑا ہوا ہوں

مَیں قہقہوں کے قبیلے کا آدمی تھا مگر
عجیب ہے کہ گلے دشت کے پڑا ہوا ہوں

ہیں اضطراب و اُ داسی مرے کفیلوں میں
انہی کی باہمی شفقت سے مَیں بڑا ہوا ہوں

بتا رہے تھے یہ فیصل امامِ عشق مجھے
مَیں انتظارِ مسلسل سے چڑچڑا ہوا ہوں
------********------





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved