تازہ ترین  

افسانہ: گم گشتہ کہانی
    |     1 week ago     |    افسانہ / کہانی
لڑکی نے ہمت کر کے گل بہار نرسری میں قدم رکھا۔ وہ گزشتہ کئی روز سے یہاں بلا ناغہ آتی تھی۔ وہ کئی پھول دار پودے خرید چکی تھی ۔اس کے گھر کا فرنٹ لان سج چکا تھا۔ وہ آج بھی ایک آس سے آئی تھی۔ اگرچہ اسے پتا تھا کہ اس نرسری کی مالکہ کبھی کسی سے نہیں ملتی۔ مگر نہ جانے کیوں اسے یقین تھا کہ آج وہ اسے مل ہی جائے گی۔ وہ پودے دیکھتی دیکھتی بے اختیاری میں چلتے چلتے نرسری کے پچھلے گراونڈ میں پہنچ گئی۔ اس کا دل ایک لحظے کے لئے رک سا گیا۔ وہ ہار سنگھار کے درخت کے نیچے نئے پھول دار پودے لگا رہی تھی ۔ اس نے سیاہ رنگ کا لباس پہنا ہوا تھا۔ اس کے بالوں کا رنگ دھوپ میں گرے Grey محسوس ہورہا تھا ۔اس نے بال جوڑے کی شکل میں باندھے ہوئے تھے۔ اس کے سر کے بالوں پر کہیں کہیں ہارسنگھار کے پھول نظر آرہے تھے، شاید ہوا کی سازش نے انھیں اس کے بالوں پر برسا دیا تھا۔ بہرحال پھول اس کے بالوں میں اٹکے ہوئے ایک دلکش منظر پیش کررہے تھے ۔ اس نے قدموں کی چاپ سن کر نظریں اٹھائیں، اس کی آنکھیں بڑی بڑی اور بہت سیاہ تھیں ۔اسے اس کی آنکھیں دیکھ کر اماوس کی سیاہ رات یاد آگئی۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجب سی اداسی ہلکورے لے رہی تھی ۔اس کے ہونٹوں پر بھی پپڑیاں جمی ہوئی تھیں ۔وہ ایک ایسا مسافر لگ رہی تھی جو طویل مسافت سے تھک کر چور ہوچکا تھا اور اب منزل پر پہنچنے کا منتظر تھا۔وہ ایک ٹرانس کے عالم میں اس کے پاس جاپہنچی اور اس کے قریب آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئی۔ اس نے گردن موڑ کر اسے دیکھا اور ہولے سے مسکرائی۔ اس مسکراہٹ میں بھی ایک عجب سا حزن آباد تھا۔اس نے ہمت جتائی اور بے اختیار بولی :
" میں کئی روز سے آپ سے ملنے آرہی ہوں ۔مجھے پتا ہے کہ آپ کسی سے نہیں ملتیں ۔مگر آپ کومجھے تو بتانا پڑے گا کہ آپ نے لکھنا کیوں چھوڑ دیا؟
آپ تو اپنے الفاظ سے سماں باندھ دیتی تھیں۔الفاظ آپ کے غلام تھے۔ روز ایک نیا سٹیج سجتا تھا اور آپ کے الفاظ پوشاکیں بدل کر نت نئے روپ دھار کر ایک نئی کہانی کو جنم دیتے تھے۔آپ نے اپنے قارئین پر اور خود پر بہت ظلم کیا ہے۔"
وہ اداسی سے مسکرائی اور کھوئے کھوئے لہجے میں بولی:
"میں نے لکھنا نہیں چھوڑا بس یوں سمجھو مجھے لکھنے سے روک دیا گیا۔ میرے ہاتھ سے قلم چھین کر توڑ دیا گیا اور میرے تخیل کو کالے پانی کی سزا سنا دی گئی۔ مجھے بطور مصنفہ بانجھ قرار دے دیا گیا۔ کیونکہ میرا قصور یہ تھا کہ میں اندھوں کی بستی میں سچ کی شمع سے اجالا کرنے کی کوشش کررہی تھی ۔میرے اردگرد جھوٹوں کا اژدھام تھا۔ میں نے اپنے الفاظ سے تبدیلی لانے کی کوشش کی۔مگر میری زبان سی دی گئی۔ میرے ہاتھوں سے قلم اور کاغذ دونوں کو چھین لیا گیا۔ کاغذ کے چھوٹے چھوٹے پرزے کر کے اسے دریا برد کردیا گیا۔ مجھے بتایا گیا کہ زندگی تو محض تب تک زندگی کہلاتی ہے جب تک اس میں گوچیGucci، مائیکل کورMichael Kore، ففتھ ایونیو Fifth Avenue اور گیسGuess کا تڑکا لگا ہوا ہو۔"
وہ بے اختیار لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر بولی:
"کیا تمھیں پتا ہے کہ مجھے بتایا گیا کہ پیپلز People's کے ڈائمنڈ بہت مشہور ہیں ۔عاصم جوفہ اور کھڈی بہترین فیشن کے مطابق کپڑے ڈیزائن کرتے ہیں ۔ سونے کے طلائی زیورات ایک عورت کے سنگھار کے لیے بہت اہم ہیں ۔بہترہن میک اپ مصنوعات ہمیشہ مہنگی ہوتی ہیں ۔ سستی میک اپ کی مصنوعات سے جلد کے خراب ہونے کا احتمال ہوتا ہے ۔"
وہ تلخی سے بولی :
" میں چلا چلا کر پوچھتی رہی۔۔۔۔
جس ملک میں بھوک ننگا ناچ کررہی ہو۔ معصوم بچے ،بچیوں کی عصمتیں داغدار ہورہی ہوں ۔بیروزگاری ، مہنگائی کے باعث لوگ خود سوزی کررہے ہوں وہاں یہ ہیرے کے بے جان ٹکڑے تم لوگوں کے کلیجے کیوں نہیں کاٹتے؟
یہ عاصم جوفہ اور کھڈی کے کپڑے ہی تمھارے تن کو چبھتے کیوں نہیں ہیں؟
یہ طلائی زیورات تمھاری شان کے لئے کیوں ضروری ہیں؟
یہ فیس واش ، فاونڈیشن اور میک اپ بیس تمھارے لئے اتنے اہم کیوں ہیں؟"
"اور پتہ ہے، وہ سب حیران ہوکر ایک دوسرے سے کہنے لگیں "
"یہ ہماری صنف کے لئے خطرہ ہے۔ اس کا سدباب کرنا بہت ضروری ہے ۔یہ بھلا عورت ہے؟"
نہ کوئی ناز و ادا ، نہ کوئی عشوہ طرازی۔ایسی عورتیں چند ایک ہی سہی۔۔۔ مگر ہمارے لئے خطرہ ہیں ۔
ملک اور معاشرے کے حالات سے ہمارا کیا تعلق؟
ہمیں اس مصنفہ کو سبق سکھانا پڑے گا۔ اسے نشان عبرت بنانا پڑے گا۔"
۔۔۔۔ "میں نے حیرت سے اپنی ہم صنفوں کو دیکھا اور کہا:
"دیکھو ! اللہ تعالی نے ہمیں بہترین تقویم سے پیدا کیا ہے۔خدارا ! اس احسان کو یاد رکھو۔ ہمیں اس معاشرے میں حق، انصاف اور سچائی کی مشعل روشن کرنی ہیں ۔ہماری بیٹیاں سجی دھجی مینیکوئنز نہیں ہونی چاہئییں ۔"
میری ہم جنس ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگئیں اور بولیں:
"بے چاری مصنفہ ! یہ کون سے انصاف اور حق کی بات کرتی ہے؟
حق تو وہ ہے جو ہم کہتی اور کرتی ہیں ۔کہیں ہم بہو بن کر ساس کو قید تنہائی کی سزا سنا دیتی ہیں ۔کیونکہ اب ہمیں اس کے بوڑھے بیمار وجود کی ضرورت نہیں محسوس ہوتی۔ ہم اسے زندہ سنگی دیواروں میں چنوا دیتی ہیں ۔کس نے کہا ہے کہ دیوار میں چنے جانے کے لئے "انار کلی" بننا پڑتا ہے اور اکبر بادشاہ کی موجودگی لازم ہوتی ہے ؟
کہیں ہم ساس بن کر بہو کو روز سر بازار نیلام کرتی ہیں ۔ہم اسے "بہو" بننے کی سزا دیتی ہیں ۔اپنے خاندان میں اس کی شمولیت کو سیاہ بختی قرار دیتی ہیں ۔کیونکہ اس دن کے بعد سے ہمارے بھائی یا بیٹے کے تمام گناہوں اور غلطیوں کی ذمہ دار وہی بہو ٹھہرائی جاتی ہے ۔
انصاف اور حق وہ ہے جو ہم کہتی ہیں اور سنتی ہیں ۔ "
تمام عورتوں نے سر جوڑ لئے۔ مجھے ان کے حکم پر پا بہ زنجیر کردیا گیا ۔ ایک عشوہ طراز عورت نے منہ ٹیڑھا کر کے انگریزی میں کہا:
" We should be done with this kind of creatures.
She is against the feminism. "
میں چلا کر بولی :
" تمھارا جھوٹ بھی اس لئے سچ ہے کیونکہ تم اسے انگریزی کا تڑکا لگا کر بیچتی ہو؟
میرا سچ اس لئے سچ نہیں کیونکہ میں اردو بولتی ہوں ۔
کس فیمنزم کا پرچار کرتی ہو تم لوگ؟
جس میں صرف ظاہری وضع قطع ، لباس اور رکھ رکھاو کی اہمیت ہے۔ وہ ظاہری وضع قطع جو برانڈڈ کپڑوں، مہنگی میک اپ کی مصنوعات، زیورات اور پینسل ہیل کی مرہون منت ہے ۔
کیا تم لوگ اس Gossip کے تڑکے سے نکل کر اپنے گھر، خاندان ، معاشرے اور ملک و قوم کے لئے کوئی بہتر کردار ادا نہیں کرسکتیں۔کیا نوکری کرنا اور اپنی ذمہ داریاں احسن طور پر اٹھانا کوئی پاپ ہے؟
یہ اپنے مہنگے شوق تم لوگ اپنی ذاتی کمائی سے پورے کر کے دکھاو تو میں مان جاوں تمھیں اور تمھاری گرومنگ Grooming کے شوق کو بھی۔۔۔۔۔۔۔حقیقت تو یہ ہے کہ تم لوگوں کے مہنگے شوق پوری کرنے کی ذمہ داری تمھارے گھروں کے مردوں کے شانوں پر ہے۔ تمھارے یہ ناز و انداز کی سوداگری مردوں کو جوت کر پوری ہورہی ہے۔جانتی ہو تم لوگ ! پاکستان کا شمار کرپٹ ممالک کی فہرست میں اس لئے ہے کیونکہ تمھاری فرمائشیں پوری کرنے کے لئے تمھارے گھروں کے مرد رشوت لیتے ہیں ۔ناجائز منافع خوری کرتے ہیں ۔چور بازاری کرتے ہیں ۔
آخر میں ایک وضاحت میں اور کرنا چاہوں گی۔میں انگریزی تم سب سے بہتر بول سکتی ہوں مگر میرا عشق میری زبان ہے۔ جس نے مجھے سوچ کی اڑان بھرنی سکھائی۔انگریزی خواندہ نہیں بناتی۔ انگریزی جھوٹ کو سچ نہیں بناتی۔ تم لوگ کل بھی غلام تھے اور آج بھی غلام ہو۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب تمھارے آقا انگریزی زبان، برینڈڈ کپڑے، جوتے، زیورات اور میک اپ کی مصنوعات ہیں ۔میں تم سب سے لاتعلق ہی رہنا چاہتی ہوں ۔کیونکہ اس غلامی سے میرا دم گھٹتا ہے۔"
بھیڑ بکریوں کے اس گروہ میں ایک بے چینی سی پھیل گئی۔
میں نے ترس بھری نگاہوں سے اس غول کو دیکھا اور فیصلہ کیا کہ ان کو آگہی کی قطعی ضرورت نہیں ہے ۔ یہ اپنی بنائی ہوئی شیشے کی مصنوعی دنیا میں خوش ہیں ۔جہاں صرف رنگ برنگے ملبوسات، زیورات، میک اپ، پینسل ہیل کے جوتے ، نت نئی خوشبوں کے پرفیومز خاندانی سیاستیں اور رنجشیں ہیں۔ ان کے استاد اور پیامبر انڈین اور پاکستانی سوپ ڈرامے ہی تھے۔ میرا دم اس دنیا کے تعفن سے گھٹنے لگا تھا ، ہر شیشے میں بگڑے ہوئے مسخ شدہ چہروں اور وجودوں کا عکس تھا۔ میں نے اپنا ناطہ قلم اور قرطاس سے توڑ دیا اور اس دنیا کو چھوڑ کر پودوں کی دنیا میں قدم رکھ دیا۔ "۔۔۔۔۔۔
لڑکی نے حیرت سے اس کی جانب دیکھا۔ اس عورت کے زرد عارض پر دو آنسو چمک رہے تھے ۔وہ آہستگی سے اٹھ کر نرسری میں بنی روش پر چل پڑی۔ اس کے بالوں میں اٹکے ہار سنگھار کے پھول نیچے گر چکے تھے۔ پوری روش اطراف میں لگے چیری بلاسم کے درختوں کے گلابی پھولوں سے ڈھکی ہوئی تھی ۔ ہوا معطر مگر بوجھل سی تھی۔ شاید سچ کا جنازہ نکل چکا تھا ۔لڑکی نے بے یقینی سے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا ، اس کا چہرہ بھی آنسوؤں سے تر تھا ۔





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved