تازہ ترین  

افسانہ: مجھے وداع کر
    |     1 week ago     |    افسانہ / کہانی
جھلے چپ کی کوئی منزل نہیں ہوتی خاموشی تو زندان نما ہے جس میں امید کا کوئی روشندان بھی نہیں امیراں نے آخری روٹی کا پیڑا بنایا
میرے اندر کا احتجاج مر گیا ہے میر محمد شکشت خوردہ امیراں کے سامنے بیٹھا تھا تو ایسا کیوں نہیں کرتی اپنے پیر سے اس درد کی کوئی دوا لے آئے تجھے تو اپنے پیر فقیر کے تعویز گنڈوں پر بڑا بھروسہ ہے ۔
میر محمد نے اس کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا ۔
امیراں اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔کون سا درد ؟ اس نے بے یقینی سے پوچھا ۔۔۔۔
یہی میری روح کا درد انصاف نہ ملنے کا قلق اور کیا اس نے پری کی فائل بے حسی سے سامنے دہکتے تنور میں پھنک دی لا اب روٹیاں لگا ۔۔۔۔ان درندوں نے تو پری کا جسم ہی بھنبوڑا تھا ہم آج اس کی روح تک کھا جائیں گے ۔۔۔۔۔میر محمد کی آنکھیں نم تھیں مگر پھر وہ گھبرا کر اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔۔۔مجھ سے نہیں ہوگا یہ میں خود کشی کر لوں گا پھندے سے لٹک جاؤں گا یا پاگل ہو جاؤں گا میں کیا کروں بولو مجھ سے میری بیٹی کی روح کا قتل نہیں ہوتا بولو میں کیا کروں اسے کیسے ماروں اسے مرنا ہوگا وہ روز زندہ ہوکر میری نظروں کے سامنے کھڑی ہو جاتی ہے اور پھر میں مر جاتا ہوں بولو میں کیا کروں ۔۔۔۔میں نے پچھلے دنوں سوچا تھا پری کی قبر کھود کر اسے ایک نظر دیکھوں اسے کیا پریشانی ہے ۔۔۔کیوں بے چین ہے۔ ۔۔۔۔تم تو جانتی ہو گھر پر تھی تو میں ایک دو بار سوتے میں اسے دیکھ آتا تھا ماں نہیں تھی اس کی بس میں ہی تو سب کچھ تھا ۔۔۔۔۔۔پر ممکن نہیں ہوا ۔۔۔۔کاش میں پوچھ پاتا تو وہ ہمیشہ کی طرح میری گردن میں باہیں ڈال کر کہہ دیتی اسے کیا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved