تازہ ترین  

افسانہ۔۔۔۔سیاہ بخت
    |     4 months ago     |    افسانہ / کہانی
شانو .....
کہاں مر گئی ہے باہر نکل میرا بھائی آیا ہے،
"ہائے میرا لال جل گیا ہو گا نا دھوپ میں، یہاں بیٹھ تجھے ٹھنڈا ٹھنڈا شربت پلاتی ہوں"...
ثُریا بیگم نے دُوپٹے کے پلو سے اپنے بھائی کے منہ سے پسینہ پُونچھتے ہوئے لاڈ سے کہا....
شانو....
آ بھی جا،، ایک تو اس لڑکی نے ناک میں دَم کر رکھا ہے، مجال ہے جو اِس کے کان پر جُوں بھی رینگی ہو....
ثُریا بیگم نے یکے بعد دیگرے کوئی دس پندرہ آوازیں دیں مگر، کتاب میں گُھُسی شانزہ نے جواباً پلٹ کر دیکھا تک نہ ۔
ثریا بیگم خود ہی صحن میں بچھے پلنگ سے اُٹھ کر کچھ بڑبڑاتی ہوئی کچن میں داخل ہوئی...
ہائے رمضان میاں!!!
قبر میں بھی کیڑے پڑیں گے تجھے، خود تو بھری جوانی میں مجھ بیچاری کو تنہا چھوڑ کر اللہ کو پیارا ہو گیا، اور یہ گُونگی بہری اولاد میرے سینے پر مونگ دلنے کیلئے چھوڑ گیا....
ہائے!!!
قسمت پھوٹی تھی میری تو، جو دُبئی اور امریکہ کے رشتے ٹھکڑا کر تجھ سے بیاہ رچایا...
اب بس بھی کر دو آپا... یہ کوئی عمر ہے جوانی کی باتوں کو دہرانے کی بچے سن رہے ہیں..
ہاہ.. اشفاق میاں تم تو بڑے سیانے ہو گئے،
ثریا بیگم نے تیوری چڑھاتے ہوئے اپنے بھائی کی اور خونخوار نظروں سے دیکھا...
ہائے!! نہ آئی عقل تو ایک اس نِگوڑی شانو کو نہ آئی کرم جلی کھا گئی زندہ نگل کر اپنے باپ کو بھی ڈائن...
ثریا بیگم کی شانزہ سے نفرت رمضان میاں کو کھو جانے کا غم نہیں بلکہ وہ دو فٹ کی کال کوٹھری تھی جو مرتے دم وہ شانزہ کے نام کر چل بسے تھے، شانزہ کی ماں کا تو شادی کے تیسرے سال اس کی پیدائش کی وقت ہی انتقال ہو گیا تھا، تو رمضان میاں اپنی پھوپھی زاد بیگم کزن ثریا کو بیاہ لائے، اور پھر ثریا بیگم سے شادی کے پانچویں سال خود قبر میں جا لیٹے ۔
ثریا کی سگی اولاد میں ایک لڑکا اور ایک لڑکی تھے ،دونوں بلا کے شرارتی اصل ناک میں دَم تو اُن دونوں نے کر رکھا تھا، شانزہ تو بس نام کی بدنام تھی...
محلے کے گھروں کی کھڑکیوں کے شیشے گیند سے توڑ آنا اور آئے دن کسی نہ کسی کے گھر ڈاکہ ڈالنا (چھوٹی موٹی چوریاں ) تو جیسے انکا معمول بن چکا تھا ۔
اماںّ تم بلا رہی تھی... کوئی کام تھا کیا...؟
شانزہ سر پر دوپٹا اوڑھتی ہوئی ہاتھ میں قلم اُٹھائے دروازے کے پردے سے باہر صحن میں جھانکی...
آ جا میری شہزادی....
شربت پلانا تھا تجھے اس لیے دو گھنٹے سے چیخ چیخ کر حلق پھاڑ لیا اپنا...
ثریا بیگم ایک بار پھر اُسے دیکھتے ہی اُس پر پڑی...
ہائے آپا بس بھی کرو۔۔۔۔۔۔!!
ماشاءاللہ _ماشاءاللہ... کتنی بڑی ہو گئی ہے اپنی شانو تو اور کتنی خوبصورت بھی ہو گئی ہے، کتنی چھوٹی سی تھی ناں یہ تو...
اشفاق میاں کا منہ تو جیسے کُھلا کا کاپھلا ہی رہ گیا شانزہ پر نظر پڑتے ہی شربت منہ کی بجائے گریبان میں انڈیل لیا۔۔۔
ہائے باولے ہو گئے ہو کیا .....؟؟
اشفاق میاں دیکھو تو یہ کیا کر ڈالا، سارا سفید کُرتا رنگ دیا....
ثریا بیگم بھاگتی ہوئی اشفاق کی طرف لپکی....
اررے کچھ نہیں ثریا باجی..!
بس زرا سا دھیان ہٹ گیا تھا...
اشفاق میاں کی شوخ طبیعت اب بھی برقرار تھی،
جہاں لڑکی کو دیکھتے لٹو ہو جاتے ...
نگاہیں اب بھی شانزہ کی شکل پر ٹکی ہوئیں تھیں...
اتنے میں ثریا آپا نے آواز دے کر دن دیہاڑے خوابوں کی دُنیا سے حقیقت کی زمین پر پٹخ دیا ۔
آہ.... ھاں!!!
اشفاق میاں چھوٹے ہو تم ابھی مجھ سے،
یہ گھاس تو تم کسی اور کو ہی ڈالنا اتنی ننھی نہیں میں جو نظروں کے تیر کہاں چلائے جا رہے سمجھ نہ سکوں.
بہت دیکھا ہے جوانی میں ایسا نین مٹکا، دھوپ میں نہ ہو لیے بال سفید!
(ثریا آپا نے ایک نظر اشفاق کو دیکھنے کے بعد شانزہ کی طرف دیکھا) ۔
اشفاق ...ثریا آپا کی باتوں سے بدمزہ سا ہو گیا...
تو لال شربت کا گلاس وہیں کُرسی پر دھر کر آپا کو گھورتے ہوئے باہر نکل گیا...
ہائے شانو "".....
کیڑے پڑیں گے تجھے بھری جوانی میں جھاڑو پھیرنے کی طاقت نہیں تُجھ میں، کل کو کمر باندھ ساس ..سُسر اور دسوں نندوں کے آگے پیچھے ناچتی پھرے گی اُن کے اشاروں پر...
بس مجھے کوئی فائدہ مت دینا....
منحوس ۔۔۔۔۔کہیں کی!
ثریا بیگم نے شانزہ کو گھورا اور پھر کرسی پر پڑا خالی گلاس اٹھا کر کچن میں گھس گئی ۔
گویا ہر چیز کی زمہ دار وہی تھی، ماں کے مرنے کی وجہ، سوتیلی ماں سے اُس کے شوہر کو چھیننے کی وجہ اور اب ثریا بیگم کے جوڑوں کا درد بھی شانزہ ہی کے سر ۔
................
دیکھ اماں آئے دن نہ میرے سر نیا سیاپا لے کر سوار ہو جایا کر....
ایسے کیسے شانو کو بیاہ دوں پورا محلہ واقف ہے یہ گھر اُس کے نام ہے، خالی ہاتھ رُخصت کروں گی تو کیا کیا باتیں نہ بنائیں گے لوگ؟
"بیسیوں رشتے آتے ہیں اس کے مگر بیاہنے کیلئے بھی پیسہ چاہئے پیسہ" جو میرے پاس نہیں ہے ...
میری اپنی سگی اولاد آنے آنے کو ترس رہی، تمہیں شانو کی پڑی ہے....
آخر کو کونسا سُکھ دے دیا مجھے اِس کے باپ نے ۔ جو اُس کی بیٹی کو سر پر اُٹھاتی پھروں ...
ہائے!!!
رمضان میاں تم سے تو خدا ہی پوچھے گا...
اب بس بھی کر دے ثریا، مر گیا وہ اب تو اچھے لفظوں میں اُسے یاد کر لیا کر، بڑی بے مَروت ہے تُو...
"ثریا سے کوئی بھی بحث میں جیت نہیں سکتا تھا، حتٰی کہ اُس کی اپنی سگی ماں بھی نہیں"...
"یہ تو شانزہ کا ہی جگرا تھا جو دن بھر کے طعنوں کا کڑوا گھونٹ بھی پی کر خاموش رہتی ۔
ورنہ ہوتی جو اگر کوئی تیز ترار لڑکی،،، توعقل ٹھکانے آ جانی تھی ثریا بیگم کی"۔
ہائے تو نگوڑی....
بات تو سُن اماں ثریا کے کان کے پاس ہو کر دھیرے سے بولیں ...
ایک کام کر ۔۔۔۔۔ اپنے اشفاق کے ساتھ بیاہ دے اس کو...
ثریا اشفاق کا نام سنتے ہی بوکھلا کر اماں سے پڑے ہٹ کر بیٹھ گئی ۔
ہائے اماں.... دماغ تو ٹھیک ہے ناں تمہارا؟؟
وہ نکچڑھی بھلا کدھر بیاہ رچائے گی اس نکمے فاقے کے ساتھ؟ نہ کوئی کام نہ کوئی دھندہ، دن پھر تو کانوں میں ٹوٹیاں دئیے بیاہی عورتوں سے باتیں کرتا ہے گلیوں کی خاک چھانتا پھرتا ہے ...
اب وہ دور تو ہے نہیں کہ گائے بھینس کی طرح اس کو رخصت کر ڈالوں ۔ چھ فٹ لمبی زبان ہے اس کی سیدھی بات پر کاٹنے کو دوڑتی ہے ۔ اب تم بہو بنا کر لے جاؤ اس میسنی کو تا کہ اب تمھارے سینے مونگ دَلے ...
ثریا بیگم نے اپنا کلیجہ پیٹتے ہوئے اماں کے آگے ڈرامہ رچایا ۔۔۔
آخر کو اماں بھی واقف ٹھہری تھی اپنی بیٹی سے .....
(ثریا بیگم کی باتوں پر اماں نے بھی ِزبردست قہقہ لگایا) ۔
اب ایسا بھی نہ ہے کیا کمی اپنے فاقے میں اچھا دکھتا ہے اور زہین بھی ہے ۔ میٹرک تو کی ہی ہے نا' آخر کو مل ہی جائے گی کوئی نہ کائی نوکری اُس کو ...
تُو بس شادی کی تیاری کر، آخر کو یہ گھر بھی تو اُسی کے نام ہے ناں!!
ہمیں تو بس جہیز کے نام پر ایک سُوئی تک نہیں چاہئے آخر کو یہ گھر بھی تو فاقے کا ہی ہے نا' اماں نے ثریا کے کان بھرتے ہوئے اُسے اس بات کی یاد دہانی کروائی کہ یہ گھر شانزہ کے فاقے سے بیاہ کے بعد بھی ان کا ہی رہے گا....
پانچ منٹ کی چُپ کے بعد کچھ سوچ کر ثریا بیگم نے بھی اماں کے ہاتھ ہر اپنا ہاتھ دھرتے ہوئے زوردار قہقہہ لگایا....
ہائے اماں یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں پہلی بار تم نے کوئی سمجھداری والی بات کی ہے...
اور پھر دونوں ماں بیٹی نے اُس دوگز مکان کی لالچ میں آپس میں شانزہ کا سودا کر لیا ۔





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved