تازہ ترین  

حسن و وفا کا پیکر
    |     2 weeks ago     |    کالم / مضامین
انسانی معاشرے کی بنیاد عورت اور مرد کے باہمی تعلق پر قائم ہے۔ معاشرتی اعتبار سے دیکھا جائے تو ان دونوں کے فرائض اور ذمہ داریوں میں تو فرق ہو سکتا ہے لیکن ان میں سے کس کی اہمیت دوسرے سے کم نہیں۔ صرف ایک عورت یا ایک مرد سے کوئی بھی معاشرہ وجود میں نہیں آ سکتا۔ انسانی زندگی کو آگے بڑھانے اور معاشرے کو قائم رکھنے کے لیے دونوں ہی بہت ضروری ہیں۔

جب سے دنیا وجود میں آئی ہے تب سے ہی عورت ذات ظلم کی چکی میں پستی رہی ہے۔ اسے ہمیشہ دوسرے درجے کی مخلوق سمجھا جاتا رہا ہے۔ کبھی یہ دنیا میں پہلا انسانی قتل ہونے کا باعث بنی تو کبھی اپنوں کے ہاتھوں زندہ زمین میں دفن ہونے کا.... غرض ہر معاشرے میں ہی عورت پر ظلم ہوتا رہا۔

ہندوستان میں بیوہ عورت اپنے شوہر کی چتہ پر جل مرنے کو ترجیح دیتی تھی کیونکہ دوسری صورت میں اسے معاشرے کے ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑتا اور وہ یہ ظلم و ستم برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتی تھی۔ اسی طرح اسلام سے قبل لڑکیوں کی پیدائش کو شرم کا باعث سمجھا جاتا تھا۔ اسے زندہ زمین میں دفن کر دینا معمولی بات تھی۔ عورت کو اپنی مرضی سے بیچا جاتا یہاں تک کہ عورتوں کو قرض لینے کے لئے گروی رکھ دیا جاتا۔ غرض اسلام سے پہلے عورت دنیا کی مظلوم اور مجبور ہستی تھی۔

اسلام نے عورت کی مظلومیت اور پستی کو بدل کر مردوں کے برابر حیثیت عطا کی ان کے حقوق متعین کیے۔ انہیں رحمت و شفقت کی نشانی قرار دیا انہیں جائداد میں حقدار بنایا۔ عورتوں کو مختلف فرائض دے کر ان کا مقام و مرتبہ اور وقار بڑھایا عورت مختلف حیثیت سے بحیثیت ماں، بیوی، بہن، بیٹی جیسے بلند مقام کی حقدار ٹھہری۔

آج ہم جس مہذب معاشرے میں جی رہے ہیں وہاں بھی عورت کو حقیر اور کمتر سمجھا جاتا ہے۔ اسے" پاؤں کی جوتی" جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے۔ اس کے جسم کو نمود و نمائش کے لیے اشتہارات میں بطور ماڈل پیش کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے معاشرے میں جتنی بھی گالیاں ہیں وہ سب کی سب عورت سے ہی منسوب ہیں۔

عورت پاؤں کی جوتی ہے والا محاورہ اتنا زبان زد عام ہوا کہ بہت سے پڑھے لکھے لوگ بھی اسے استعمال کرنا معیوب نہیں سمجھتے۔

کہا جاتا ہے کہ ہر چیر کے دو پہلو ہوتے ہیں ایک مثبت اور دوسرا منفی... اگر اسی جملے کو منفی معنوں میں استعمال کریں تو یہ عورت کے لئے تذلیل کا باعث بنے گا اور یہی جملہ اگر مثبت معنوں میں استعمال کریں تو یہ عورت کے لئے فخر کا باعث بنے گا۔ لیکن اس کو مثبت کیسے استعمال کریں۔ آئیے جانتے ہیں پہلے جوتی کی اہمیت....

ایک شخص نہا دھو کر تیار ہو، پینٹ کوٹ زیب تن کرے، اس پر ایک خوبصورت سی ٹائی لگائے، ایک مہنگے برانڈ والا پرفیوم اپنے جسم پر چھڑکے اور جوتا پہنے بغیر ہی کسی فنکشن میں چلا جائے تو کیسا لگے گا؟ بظاہر یہ سب کرنے کے بعد اس کی پرسنیلٹی بہت ہی پُرکشش لگے گی لیکن صرف ایک جوتے کی کمی کی وجہ سے وہ کسی پاگل سے کم نہیں لگے گا۔


ایک شخص ایک پُر خطر، دشوار اور کانٹوں سے بھرے رستے سے گزرنا چاہتا ہے۔ اس کے جسم پر معمولی سا لباس ہے لیکن جوتا نہیں ہے تو وہ چاہنے کے باوجود بھی اس راستے سے نہیں گزرے گا اور اگر گزر بھی جائے تو وہ کانٹوں کی وجہ سے اپنے پاؤں زخمی کرا بیٹھے گا۔ لیکن جب اس کے پاؤں میں جوتا ہو گا تو وہ ایسے بیسیوں پُر خطر، دشوار گزار اور پتھروں سے بھرے ہوئے راستے سے آسانی سے گزر جائے گا۔


ان دو مثالوں سے جوتے کی اہمیت تو سمجھ آگئی ہوگی یہی مثال ایک عورت کی بھی ہے۔ جب ہماری زندگی میں کبھی ایسا موڑ آ جائے جہاں پریشانیاں، ٹینشن، ڈپریشن کا سامنا کرنا پڑے۔ جب ایسے موڑ پر چلنا محال لگے۔ جب ان پُر خطر رستوں سے نکلنے کی کوئی راہ سُجائی نا دے وہاں اگر آپ کو ایک عورت کا ساتھ مل جائے تو زندگی کی تلخیاں، تلخیاں نہیں رہتی۔ عورت کا ساتھ مل جانا بہت سی پریشانیوں کو ختم کر دیتا ہے تبھی کہا گیا ہے کہ عورت کو مرد کے سکون کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔ اسی لئے عورت کو مرد کی زندگی میں ایک ہم سفر کے طور پر شامل کر دیا گیا ہے۔

ایک بڑے سے محل میں رہنے والی عورت کو ایک چھوٹے سے کمرے میں عزت سے رکھا جائے تو وہ ہر حال میں خوش رہ سکتی ہے اور اگر اسی عورت کو بڑے سے محل میں جہاں ہر طرف آسائش کا سامان ہو لیکن ایک عزت کرنے والے مرد کا ساتھ نا ہو ایک ایسے مرد کا ساتھ ہو جو اسے ذلیل و رسوا کرے تو وہ محل عورت کے لئے کسی جیل سے کم نا ہو گا۔


عورت کے لئے بیوی بننا سب رشتوں میں سےایک عظیم رشتہ ہوتا ہے اور ہر عورت کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی جگہ شوہر کے دل میں بہت خاص ہو۔ جس عورت کو مرد کی طرف سے بے پناہ پیار اور توجہ ملے تو اس عورت میں خود اعتمادی اور اس کی ذات میں بے پناہ اطمینان دیکھنے کو ملتا ہے۔ لیکن جب یہی مرد عورت کو پاؤں میں پڑی جوتی کہ کر تذلیل کرے اور اپنے ہر عمل سے اس بات کو ثابت کرنے کے در پر ہو تو ایسی عورت میں احساسِ کمتری، انجانے خوف اور ہیجان کی سی کیفیت دیکھنے کو ملتی ہے۔

قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے مردوں اور عورتوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ :

” تم (مرد ) ان کے (عورت ) کے ليے لباس ہو اور وہ تمہارے ليے لباس ہیں۔ “

اسی طرح نبی کریم صل اللہ علیہ والہ و سلم نے اپنے آخری خطبہ میں ارشاد فرمایا:

” عورتوں کے معاملہ میں خدا سے ڈرو تمہارا عورتوں پر حق ہے اور عورتوں کا تم پر حق ہے۔ “

یہاں بھی عورت کو مرد کے برابر اہمیت دی گئی ہے اور عورتوں پر مردوں کی کسی قسم کی برتری کا ذکر نہیں ہے اس طرح تمدنی حیثیت سے عورت اور مرد دونوں اسلام کی نظر میں برابر ہیں۔ اور دونوں کو یکساں اہمیت حاصل ہے۔

عورت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہی ہاتھ ہوتا ہے اور اگر اسلام کی نظر میں عورت کی اہمیت کو دیکھا جائے تو وہ جنت جس کے لیے ہر مسلمان خواہش کرتا ہے وہ عورت کے قدموں میں لا کر رکھ دی گئی۔

عورت تو حسن کا پیکر ہے، محبت کا میٹھا چشمہ ہے، عورت کے حسین جذبات اور احساسات سے ہی یہ دنیا قائم ہے عورت اگر نا ہو تو دنیا ایک بے رنگ سی جگی لگے عورت کی ممتا ہی نے تو دنیا کو قائم و دائم رکھے ہوئے ہے۔ عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھنے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہماری بہن اور بیٹی بھی کل کسی کے گھر جا کر کسی کے پاؤں کی جوتی بنے گی وہ بھی اگر ہماری طرح ہماری بہن اور بیٹی پر ظلم ڈھائے تو ہمارے دل پر کیا گزرے گی اور اگر یہی جملہ ہم اپنے کانوں سے اپنی بہن اور بیٹی کے لئے سنیں تو ہمیں کیا محسوس ہو گا؟ شاید ہم جو محسوس کریں وہ ہم بیان نا کر سکیں۔

مکافاتِ عمل دور نہیں، اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ وہ کسی بھی وقت کسی بھی صورت میں ہمارے سامنے آ سکتی ہے اس سے پہلے کی مکافاتِ عمل شروع ہو ہمیں اپنے کئے کی معافی مانگ لینی چاہیے۔ اس میں ہماری ہی بھلائی ہے ورنہ کبھی بھی کسی بھی وقت ہمارے گناہوں کا بوجھ ہم پر لاد دیا جائے گا اور ہم اس بوجھ کے نیچے جیتے جی مر ہی تو جائیں گے۔





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved