تازہ ترین  

درد وفا (ناول) پر تبصرہ
    |     4 months ago     |    گوشہ ادب
رات کی تاریکی کو چیرتا ہوا سپیدہ سحر نمودار ہو رہا تھا۔ مرغے کی بانگ صبح صادق کا مژدہ سنا رہی تھی۔رات ابھی چھٹی نہیں تھی کہ فضا ہر سو "اللہ اکبر " کی صداوں سے گونجنے لگی۔ آسمان پر چاند بادلوں سے اٹھکیلیاں کر رہا تھا۔ کبھی نمودار ہوتا کبھی روپوش۔ جس طرح ایک نئی نویلی دلہن کا گھوگھنٹ اٹھایا جائے تو وہ شرما کر ڈوپٹے میں منہ کر لیتی۔ کہیں کہیں ستارے ٹمٹماتے بمثل جگنو لگ رہے تھے۔

خلق خدا رب کا حکم مانے نماز سے فارغ ہو چکی تھی۔دن کا آغاز ہوا چاہتا تھا۔سورج میاں اپنی تمازت لیے نمودار ہو رہے تھے۔بچے سکولوں کو اور مزدور تلاش روزگار کے لیے آرام دہ بستر کو خیرآباد کہہ چکے تھے۔

کسی کے لیے دن کا سفیدا خوشیوں کا پیام بر بن کر اترا اور کسی کے لیے ماتم جان۔ دن بھر کی جاں گسل محنت بعد رات جب گھر لوٹا۔ تو ایک حسین سپنا سچ ہوتا پایا۔ ایک لکھاری دوست جس سے تعارف حادثاتی ہوا۔ اُس کے قلم سے نکلے الفاظ ناول کا روپ دھارے ہاتھوں میں تھے۔

وقت افطار کلیجہ منہ کو آتے بوجہ پیاس، فرحت بخش پانی کا گھونٹ خشک ہونٹوں سے ٹکڑا کر جسم میں جو تازگی پیدا کرتا ہے اس سے کہیں زیادہ فرحت مل رہی تھی۔پاوں تھے کہ زمیں پر نا لگ رہے تھے۔

مائیکرو بلاکنگ سے اپنے قلمی سفر کی شروعات کرنے والی"مدیحی عدن" بلاکنگ سے ہوتی ہوِئی آج ایک ناول نگار بن چکی ہیں۔ ایک لکھاری کے لیے صاحب کتاب ہونا ایسا ہی ہے جیسا شادی شدہ جوڑے کے لیے صاحب اولاد ہونا۔

"درد وفا" ایک ایسی لڑکی کی داستان ہے۔ جس نے اپنی ماں کو ہمیشہ پِستے دیکھا حالات کی چکی میں۔ جس کا باپ تو نکارہ تھا ہی ۔ بھائی بھی اُسی روش پر چل پڑا۔ ایدہ (ناول کی ہیروئن) کو اِن دونوں کے رویوں سے چِڑ ہے . وہ ماں کا ہاتھ تو بٹاتی ہے پر خوش دلی سے نہیں۔ کیفے میں موجود ایک لڑکا وہاج (ناول کا ہیرو) پڑھاکو ٹائپ سا ہے۔ ارے ارے یہ کیا ؟ میں نے تو خلاصہ بتلانا شروع کر دیا۔ پوری کہانی میں سنا دوں گا تو آپ کیا کریں گے ؟

چلیں مختصر سا بتلائے دیتا ہوں۔ ایدہ کو شادی کے بعد بھی سکون کے لمحات کم میسر آتے ہیں۔ کچھ وجوہات کی بنا پر وہ وہاج کو چھوڑ دیتی ہے۔ مختصر عرصہ میں وہاج مائیکرو سافٹ وئیر انڈسٹری میں اپنا مقام بنا لیتا ہے۔ ایدہ اِن حالات سے بے خبر اپنے پیٹ کی آگ بجھانے واسطے مختلف جگہوں پر ملازمت کرتی رہتی ہے۔ اچانک اُس کی کلاس میٹ رقیب اُس کے پاس آ کر اُسے وہاج کے بارے میں بتلاتی ہے۔ باقی کا جاننے واسطے آپ کو اپنی جیب زرا ہلکی کرنی ہو گی۔

ناول نگار کی تحریر کا یہ خاصا ہے۔ وہ الفاظ مجھ جیسے عام قاریوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے استعمال کرتی ہیں۔ انتہائی سادے اور شگفتہ۔ ناول پڑھتے ہوئے آپ کہانی کے ساتھ یو بہہ جاتے ہیں۔ جیسے ندی پہاڑ کی چوٹی سے بہہ جاتی ہے۔ ناول پڑھنے والے کو اپنے ساتھ اختتام تک جکڑے رکھتا ہے۔ تمام مناظر آنکھوں کے سامنے ہوتے محسوس ہوتے ہیں۔ بعض لکھنے والے بہت اچھا لکھتے ہیں۔ لیکن اختتام کو اصل پہنچ نہیں پاتے۔ سارا مزا کِرکِرا ہو جاتا ہے۔ بے شک اِن کا پہلا ناول ہے۔ کئی ساری غلطیاں بھی ہیں۔ کچھ پبلشر کی مہربانیاں بھی۔ اِن سب کے باوجود اختتام ایسا شاندار ہے ۔ کہ قاری اپنی زبان سے خود بول اٹھے "اگلا ناول کب لا رہی ہیں ؟"





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved