تازہ ترین  

محبت ایک پہیلی
    |     4 weeks ago     |    افسانہ / کہانی
آخر تم یہاں پہنچی کیسے ؟
اور تمھارے ماں باپ، بہن بھائی...
اس کی پاہزیبوں کی مسلسل چھن چھن میرے کانوں میں کھٹکنے لگی، سانس بند ہونے لگی،میری نظریں یہاں وہاں کھڑکی ڈھونڈنے لگیں ۔
مجھے بدمزہ پا کر اُس نے اپنے بازوؤں سے میری گردن کے گرد مضبوط حصار بنا لیا میرا دم مزید گھٹنے لگا...
پسینے کے قطرے ٹپ ٹپ بہہ رہے تھے، اس نے اپنے سُرخ ململ کے دوپٹے سے میرا چہرہ پونچھنا شروع کر دیا ،اس کی اِس حرکت سے بھی مجھے خاصی اُلجھن محسوس ہوئی مگر اب کیا کرتا...
بیس ہزار دے چکا تھا ایک رات کا، اور دوست نے اس بار واقعی بُری جگہ پھنسا دیا تھا۔
مہک واقعی خوبصورت تھی، اور اس نے حد درجہ کوشش بھی کی میرے قریب آنے کی، مگر، جتنی تیزی سے وہ میرے قریب آ کر مجھے چھونے کی کوشش کرتی میں اتنی ہی پھرتی سے دُور بھاگتا ....
دو چار بار تو اس سے بھاگنے کے چکر میں اس چھوٹے سے بیڈ سے کھسکتے کھسکتے زمین پر جا گِرا....
مگر پانچویں بار اس نے مجھے اپنے بازوؤں کے مضبوط حصار میں جکڑ لیا تھا اس بار خود کو بچانا کافی مشکل تھا...
اُففففف!!!
کیسے کر لیتے ہیں مرد یہ سب مجھ سے کیوں نہیں ہوتییں یہ عیاشیاں...(میں نے اپنا سر پیٹنا چاہا) ۔
میں نے اس بار بھی حوصلے اور صبر سے کام لیتے ہوئے اسے باتوں میں لگانے کی ناکام کوشش کی...
کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا بات کروں ۔
کہہ دیا بیڈ کے نیچے کچھ ہے....
اُس نے پہلے تو میری بات پر دھیان نہ دیا مگر میرے مسلسل بیڈ پر کُودنے کیوجہ سے بیڈ کا گدا ایک طرف کو جھک گیا تھا جس پر اُسے بھی کچھ شَر شَر کیسی آواز محسوس ہوئی ...
وہ جھک کر بیڈ کے نیچے کی صورتحال کا معائنہ لینے لگی، تو اتنے میں مَیں نے بھی سکھ کا سانس لیا ۔
اور اس دو منٹ میں شیری (اپنے دوست کو) سینکڑوں گالیاں دے ڈالیں۔
ہو گا یہ سب کا معمول، مگر میں تو سیدھا بندہِ خاکسار مجھے ان سب چونچلوں سے بھلا کیا غرض؟
استغفار ۔۔۔۔۔ استغفار!!
مجھے کانوں کو ہاتھ لگاتا.. آنکھیں میچے دیکھ مہک نے ایک زبردست قہقہہ لگایا...
جس پر میں ہکا بکا اسے دیکھتا رہ گیا...
وہ واقعی دل سے ہنسی تھی، کھل کر جیسے پہلے کبھی ہنسی ہی نہ ہو...
اس کے قہقے سے پورا کمرہ گونج اٹھا تھا، اس کی ہر ادا میں ایک نازکی ایک سحر سا چھلکتا تھا....
کافی دیر تک وہ مجھ پر ہنستی رہی، مجھے یوں لگنے لگا تھا جیسے ہر چیز زبردستی کروائی جا رہی ہو اُس سے...
مجھے اتنے غور سے اسے دیکھتا دیکھ وہ ہنسنے کے درمیان اک دم رُک گئی،اور میرے قریب آ کر بولی:
ایسے کیا دیکھ رہے ہو' ہاں؟
اس نے پھر سے اپنا نرم و نازک ہاتھ میرے ماتھے پر پھیرا، (جس سے میں قومے میں جاتے جاتے ہی بچا)...
مت کرو... یہ تمھاری عادت ہے کیا بات بات پر ہاتھ لگانا؟
میں نے غصے سے اس کا ہاتھ پیچھے جھٹکا۔
تو وہ بدمزہ سی ہو کر منہ بسورتی ہوئی دور صوفے پر جا بیٹھی ۔
اچھا سنو....؟
میں نے پھر سے اُسے مخاطب کرنا چاہا...
تو اس نے ایک سرسری سی نظر مجھ پر ڈال کر اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا۔
سنو تو...
میں نے ایک بار پھر اسے منانے کی ناکام کوشش کی...
جب وہ نہ مانی تو میں بیڈ سے اُٹھ کر اس کے پیروں میں صوفے کے قریب جا بیٹھا...
دیکھو تم ایک اچھی لڑکی ہو اور مجھے پتا ہے یہ مجبوری ہے تمھاری شوق نہیں، یہ سب چھوڑ کیوں نہیں دیتی تم...؟
تم چاہو تو میں تمھیں اس کیچڑ اور غلاظت سے نجات دلا سکتا ہوں، ہاں مگر تم چاہو تو...
میری اس بات پر اس نے پہلے تو حیرت بھری نظروں سے مجھے دیکھا اور پھر صوفے سے سَرک کر زمین پر میرے پاس آ بیٹھی..
"میں یہاں سے نہیں جا سکتی، مجھے خریدا گیا ہے اس عالیشان کوٹھے کیلئے، میں ملکہ ہوں یہاں کی مگر، پھر بھی میرا راج نہیں چلتا یہاں پر"۔
(اب کے اس کے لہجے میں مکمل اداسی چھا گئی تھی)...
میں اس کے قریب بیٹھا تھا، مگر اس نے اب مجھے ایک بار بھی چھونے کی کوشش نہیں کی..
شاید وہ پہلے اس خوف سے میرے قریب آنا چاہتی تھی کہ کہیں اس کی یہ رات خالی نہ چلی جائے، مگر میں تو پہلے سے ہی رات کی رقم ادا کر چکا تھا۔
اب وہ بھی یہ بات جان چکی تھی کہ مجھے اُس تک جسم کی کوئی حوس نہیں اور میں واقعی شریف آدمی ہوں ۔
وہ پُرسکون بِلاخوف میرے پاس بیٹھی رہی 3 گھنٹے بچے تھے میرے پاس مجھے واپس اپنے گھر جانا تھا (کراچی)۔
امتحانات اور تھیسز بھی مکمل ہو چکیں تو سوچا کہ یہاں (کوئٹہ) میں اکیلا کہاں آوارہ گردی کرتا پھروں گا اور پھر اماں بضد تھیں کہ عید اُن کے ساتھ ہی گزاروں ...
اب وہ سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھنے لگی اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سے روشنی کی کرن اُبھر آئی، شاید میرے اُس ایک جملے (میں تمھیں اس کیچڑ اور غلاظت سے نجات دلا سکتا ہوں) سے اس نے کہیں امیدیں مجھ سے وابستہ کر لیں تھیں ۔
اب ہم دونوں مل کر کوٹھے کے اس کمرے سے باہر نکلنے کا راستہ تلاش کرنے لگے کوئی خفیہ دروازہ تو موجود نہ تھا البتہ کھڑی ہی وہ واحد راستہ تھی جہاں سے میں اسے اس قید سے رہائی دلوا سکتا تھا... ہم کھڑکی کے چور رستے کا سہارا لیتے ہوئے وہاں سے دُور نکل گئے ...
روڈ ملتے ہی ہم وہاں سے فوراً کراچی کی بس پر چڑھ گئے، اس نے میرے ہاتھوں کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں ڈالیں اور ایک لمبی سانس باہر کو چھوڑتے ہوئے میرے کان کے نزدیک ہو کر بولی :
"یہ ہاتھ کبھی چھوڑو گے تو نہیں... ؟
اس سے ملاقات کے بعد یہ وہ واحد لمحہ تھا جب واقعی میں خود پر قابو نہیں کر پایا.... میں نے اپنا ہاتھ اسکے دونوں ہاتھوں پر ہلکا سا تھپتھپایا ...
"کبھی نہیں"...
یہ ہاتھ چھوڑنے کیلئے نہیں تھامہ محترمہ...
"اُسے اُس بدبودار شہر سے دور لے جانا چاہا،ایک نئی دنیا میں "...
اچھا اب بتاؤ عید کیلئے کیا کیا لینا ہے؟
شادی تو اماں کا ذمہ، مگر فلحال یہ چھوٹا سا میری طرف سے تمھارے لئے "عید کا تحفہ"
(میں نے اپنی چھوٹی انگلی سے میرون رنگ کی نگینے کی انگوٹھی اتار کر اس کی انگلی میں پہنا دی)...






Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved