تازہ ترین  

وہ حسن زاد وہ سیمیں بدن گلاب نما
    |     2 months ago     |    شعر و شاعری

وہ حسن زاد وہ سیمیں بدن گلاب نما
گریز پا ہے کچھ ایسا کہ ہے عذاب نما

میں زندگی کی تھکن کو اتارتا کیسے
چہار سمت ملے راستے سراب نما

کسی نے ٹھیک سے نفرت بھی کی نہیں مجھ سے
نصیب میں تھی محبت بھی اضطراب نما

جلا کے ہاتھ ، کیا قتلِ عام ظلمت کا
دیا تھا میری ہتھیلی پہ آفتاب نما

کبھی بھی ڈھنگ سے برتا نہ اپنے لہجے کو
کہ اپنے شعر بھی لگتے تھے انتخاب نما

کہ دل ہی اوب گیا تھا پڑھائی سے میرا
میں چھوڑ آیا ہوں چہرے کئی کتاب نما

وہ جھیل خشک ہوئے بھی زمانے بیت گئے
چمک رہا ہے پھر آنکھوں میں کیا یہ آب نما

بہت قدیم جواں لمس کی بدولت ہے
جو عہدِ پیری گزرتا ہے اب شباب نما

پلٹ کے وار کریں اور بھاگ جائیں عمر
کہ رفتگاں کے حقائق ہوئے ہیں خواب نما

عابد عمر






Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved