تازہ ترین  

عورت کہاں گئی؟
    |     3 months ago     |    کالم / مضامین

رجال اور نساء کی اشتراکیت سے معاشرہ وجود میں آتا ہے.اس کے خدو خال، نشیب و فراز، اصول و قواعد، اور طرز و اطوار سب یہی دو گروہ بناتے اور سنوارتے ہیں. ان ہی کے رحم و کرم پر نسل در نسل اثرات کی منتقلی کا انحصار ہے. ان کے ہاتھوں میں خیر اور شر دونوں لاٹھیاں تھما دی گئیں ہیں جس سے چاہیں اپنے صغار کو ہنکا دیں . عنوان میں مذکور لفظ " عورت" عربی زبان کا ہے جس کا مطلب" جسم کے وہ اعضاء جن کو دیکھنے سے شرم آئے" اور پھر اس کے لیے ستر کا لفظ وضع کیا گیا. اردو میں عورت کا اطلاق مرد کی ضد پر ہونے لگا. کیونکہ وہ بھی سر تا پا ڈھانپنے کی شئ ہے. مگر فی زماننا عورت کو عورت کہتے ہوئے زبان عار محسوس کرتی ہے. قلم اسے عورت لکھتے ہوئے تھرتھراتا ہے اور ضمیر لعن طعن کرتے ہوئے گویا ہوتا ہے کہ" مخاطب کو دیکھ کر القاب وضع کرو".
مغرب زدہ عوام و خواص عورت کو عورت کے درجے سے نکال کر " شو پیس" کی حیثیت دینے کے لیے سر گرم ہیں. کبھی حقوقِ نسواں کے لیے ریلیاں نکالتے ہیں تو کبھی اسمبلی میں بل پیش کرکے اپنی غلامانہ ذہنیت کا پرچار کرتے ہیں۔ نعروں، تحریروں اور آہ و فغاں میں ایک مطالبہ بڑے زور و شور سے کیا جاتا ہے کہ" عورت کو مرد کے برابر درجہ دیا جائے" کاش ! کہ اسلام کی تعلیمات سے ذرا  شناسائی ہوتی تو صورت حال میں اس حد تک بگاڑ پیدا نہ ہوتا. سورت الاحزاب آیت 35 میں دس صفات کو ذکر کیا گیاہے اور فرمایا کہ اگر انہیں مرد اختیار کرے تو بہشت کا حقدار ٹھہرے اور خاتون ان صفات سے متصف ہوجائے تو مغفرت اور رضوان وصول کرے. یاد رہے کہ اسلام جنس کی برتری کا درس نہیں دیتا بلکہ اسلام اعمال اور تقویٰ کی بالائی بتاتا ہے. کیا حضرت حسان کا یہ قول یاد نہیں؟ فرمایا کہ میں نے قرآن مجید، حلال و حرام، فرائض و احکام، اشعار، تاریخ عرب اور انساب میں حضرت عائشہ صدیقہ سے زیادہ کسی کو واقف نہیں پایا. کیا اصحاب رسول مسائل کے حل کے لیے حضرت عائشہ صدیقہ کے حجرے کے باہر جمع نہیں ہوتے تھے؟ کیا رابعہ بصری کے گھر حسن بصری جیسے ولی کامل ، مجتہد اور عالم تابعی کسبِ فیض کے لیے نہیں جاتے تھے؟ کیا اسلام کے شجر کو پہلا خون سمعیہ کا نہیں لگا؟ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور آپ کی لائی ہوئی شریعت طیبہ پر ایمان لانے والی پہلی خاتون خدیجہ نہیں تھیں؟ کیا تاتاریوں کی تباہکاریاں اور پھر ان کی شجر اسلام کی آبیاریاں بھول گئے؟ وہ ہاتھ جو پہلے اسلام کی شاخیں کاٹنے کے لیے تلوار پکڑتے تھے وہ ہی دست چند سالوں بعد اسلام کے تحفظ کے لیے کفار کے گریبان تک جا پہنچے۔ یہ کیسے ممکن ہوا؟ یہ انہیں خواتین کی محنت کا پھل تھا جو لونڈیاں بن کر تاتاریوں کے خاندان میں چلی گئیں لیکن انہوں نے اپنے سینے میں پھلنے والے اسلام کے خوشبو دار پودے کو اپنے تک محدود نہیں رکھا بلکہ اپنے اردگرد اس کی چھاؤں اور بو پے درپے پہنچانے لگیں. جس سے قاتل ہاتھ دست شفقت بن کر مظلوموں کے سر پر ٹھہرنے لگے. جس سے خونخوار بھیڑیے بدل کر سلجھے ہوئے شیر بن گئے. یہ ان ہی خواتین کی کارستانی سے ممکن ہوا.
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ہوس کے پرستار ایک جنس کی برتری اور دوسری کی تنزلی کا مطالبہ کر کے انصاف چاہتے ہیں؟۔۔۔ نہیں ۔۔۔ فقط ایک بھیڑیے کی چال ہے جوکہ کئی مردوں کے محفوظ حصار میں گھری ہوئی عورت کو علیحدہ کر کے اس پر جھپٹنا چاہتا ہے. فرمان نبوی کا مفہوم ہے کہ" ایک عورت چار مردوں (باپ ، بھائی،شوہر اور بیٹا)کو جہنم لے جائے گی " یعنی ایک عورت چار مردوں کے محفوظ حصار میں رہتی ہے اگر کوئی برائی عورت میں پائی جائے گی تو اس کا ذمہ دار مرد حضرات ہوں گے جنہوں نے اس تک یہ برائی پہچنے دی.
کافرانہ پروپیگنڈے میں آ کر عورت کی آزادی کے خواہاں اپنے ملک میں درندگی کی آئے روز نئی مثالیں بنتی نہیں دیکھتے؟ کبھی زینب اور فرشتہ پر ہوس کا اندوہناک حملہ ہوتا ہے تو کبھی تین، نو، چودہ، انیس سالہ بچیوں کی عصمت دری کرکے وحشیانہ سلوک روا رکھا جاتا ہے. اسلام کی پردہ داری کا خیال نہ گھر میں دوستوں اور عزیزوں کی آمد پر روک ٹوک. یہ تو ایسے ہی ہے کہ پہلے خود دعوت دو پھر واویلا کی صورت بنا کر آئیڈیل بنا ڈالو.
خدارا! اسلام کی تعلیمات پر غور کر کے اسلام کے احکام پردہ اور دوسرے مسائل مہممہ سے اپنے گھروں کو مزین کریں. اپنی  کلیوں اور معصوم بلبلوں کو سفاک درندوں کی پہنچ سے دور رکھیں  تو ان شاءاللہ اندوہناک واقعات کا جاری سلسلہ بھی تھم جائے گا اور فضل الٰہی سے ہر گھر امن و سکون کا گہوارہ بن جائے گا۔





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved