تازہ ترین  

کیا کوئی غریب کا پُرسان حال ہے؟۔۔۔ تحریر : مقصود احمد سندھو ۔ چیچہ وطنی
    |     3 weeks ago     |    کالم / مضامین

ملکی معیشت کی کشتی اس وقت ہچکولے کھارہی ہے اورکسی کوبھی سمجھ نہیں آرہا کہ حالات کس طرف جارہے ہیں ڈالر کی قیمت میں عدم استحکام روپے کی بے قدری غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی آسمان کو چھوتی مہنگائی بڑھتی ہوئی بیروز گاری معاشی بے یقینی اور بد حالی کی وجہ سے ہر ذی شعور پاکستانی فکر مند نظرآرہا ہے مگر ملک دشمن اوربد خواہوں کے دل میں لڈو پھوٹ رہے ہیں جس پر وہ خوشی کے شادیانے بجا رہے ہیں حکومت وقت قرضوں کے بھنور میں ہچکولے کھاتی معیشت کی کشتی کو مزید قرضے لیکر کنارے لگانے کے لیے اپنی کوششوں کے چپو چلا رہی ہے ضرورت سے زیادہ بوجھ تلے دبی اس کشتی کو کنارے لگانا کسی طرح بھی جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے جس کے لئے دل پہ پتھر رکھ کر ابتدائی بلے باز کی قربانی دیکر نیا منجھا ہوا کھلاڑی میدان میں اتارا جاچکا ہے تجزیہ کاروں کے مطابق جب تک انٹر بنک میں ڈالر کی قیمت میں استحکام نہیں آئے گابے یقینی کی یہ صوتحال اسی طرح نظر آئے گی سٹیٹ بنک، کمرشل بنک اوراوپن مارکیٹ میں روپے کی الگ الگ قیمت نظر آرہی ہے جس سے تاجر اور اسٹاک بروکر پریشان دکھائی دے رہے ہیں موجودہ حکومت کی نظر میں اس مالی بحران کا ذمہ دار سابقہ ادوار میں فراخ دلی سے لئے گئے قرضے اورماضی کی حکومتوں کی بے اعتدالیاں ہیں جبکہ سابقہ حکمران اس بحران کی ساری ذمہ داری موجودہ حکومت کی نا تجربہ کاری کو قرار دے رہے ہیں اگر ہم ماضی قریب کی ملکی سیاست کا جائزہ لیں توپتہ چلتا ہے کہ 2008 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی پیپلز پارٹی غریب کو روٹی کپڑا اور مکان تو نہ دے سکی مگر جمہوریت بہترین انتقام ہے کا نعرہ مستانہ بلند کرتے ہوئے سارا الزام سابقہ حکومت کے کھاتے میں ڈال کراپنے پانچ سالہ دور حکومت میں گزشتہ ساٹھ سالوں میں لئے گئے قرض کے برابرنیا قرض لیکر ملک کو دوبارہ آئی ایم ایف کے چنگل میں پھنساء کر عوام سے بہترین انتقام لیتے ہوئے مہنگائی کے طوفان کی بنیاد رکھ گئی بعد ازاں کے 2013کے عام انتخابات میں کشکول توڑنے، بد عنوانی کا پیسہ واپس لانے اور طائر لا ہوتی کے نعرہ سے انتخابات جیتنے والے بھی بہت کچھ گروی رکھنے کے بعدملک پراسی طرح قرضوں کے بوجھ میں بے پناہ اضافہ کر گئے اور اب نئی حکومت جسے ووٹ ہی اس بنیاد پر ملے تھے کہ مر جائیں گے قرض نہیں لیں گے اور ملک سے باہر پڑے کرپشن سے بنائے گئے اربوں ڈالرواپس لائیں گے وہ بھی بے بسی اور کسم پرسی کی حالت میں اپنے منشور سے انحراف کرتے ہوئے سابقہ حکومتوں کی ڈگرپہ چلتے ہوئے آئی ایم ایف کے آگے گٹھنے ٹیک چکی ہے ہے ملک پر غیر ملکی قرضوں کے ناقابل برداشت بوجھ سے معیشت نڈھال ہو چکی ہے جس کے نتیجے میں مہنگائی کا ایک طوفان برپاء ہونے جا رہا ہے جو پہلے سے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کے لئے ناقابل برداشت ہوگا اشیائے خوردونوش،ادویات ودیگر ضروریات زندگی کی ا ٓسمان کو چھوتی ہوئی قیمتوں نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے اگر مہنگائی کی رفتار یہی رہی تو پہلے سے پریشان حال لوگوں کے لئے ضروریات زندگی کا حصول مزید مشکل ہو جائے گا چھوٹے ملازمین کی تنخواہ اور مزدور کی دیہاڑی پہلے ہی بنیادی ضروریات اور یوٹیلٹی بلوں کی نذر ہو جاتی ہے بچوں کے لئے دودھ،گوشت اور پھل جیسی بنیادی ضرورت ایک آسائش کا درجہ حاصل کر چکی ہے تہواروں پر ان کے پاس اپنی سفید پوشی کابھرم قائم رکھنے کے لئے قرض کا سہارا لینا مجبوری بن جاتا ہے جس کیلئے انھیں اگلے کئی ماہ دل پہ پتھر رکھ کر اپنی خواہشات کی قربانی دینا پڑتی ہے اگر یہی صورتحال رہی تو آنے والے دنوں میں بے روز گاری اورافراط زرکی شرح میں اضافہ ہوگا جس سے بچوں کی تعلیم کے لئے حکومت کی جانب سے کی جانے والی کوششیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے اور چائلڈ لیبر میں بھی اضافہ ممکن ہے اس کے علاوہ اسٹریٹ کرائم میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے اس لئے ارباب اختیار کوچاہیے کہ وہ ان مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے سنجیدہ معاشی اقدامات اٹھائے ماضی کا رونا رونے کی بجائے بہترحکمت عملی اورمعاشی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے آگے بڑھا جائے۔قومی دولت لوٹنے والے افرادکسی رورعائت کے مستحق نہیں ہیں وہ چاہے کسی سیاسی،مذہبی گروہ یاادارے کے نمائندے ہوں یابیوروکریسی کے کل پرزے۔ان کے خلاف یکسوہوکرکاروائی کرناہوگی اورایسے اقدامات کرناہوں گے کہ وہ قانون کا سہارا لے کرفرارنہ ہوں تاکہ لوٹی ہوئی دولت واپس لائی جاسکے ورنہ یہ سارا عمل سیاسی انتقام اورمخصوص افرادکے خلاف مہم سمجھا جائے گااورسابقہ حکمرانوں کابیانیہ مضبوط ہوگا جس سے ملک سیاسی عدم استحکام کاشکارہوگا جو موجودہ حالات میں ملکی سلامتی کیلئے خطرہ بن سکتاہے اگر کوئی مجرم ہے تو سیاسی بیان بازیاں چھوڑ کر انھیں سخت سزائیں اس طرح دی جائں کہ سیاسی ٹرائل نہ نظر آئے او رایسا کڑا احتساب کیا جائے کہ آنے والوں کے لئے مثال بن جائے خاص طور پر وہ ابن الوقت لوگ جو ذاتی مفاد کی خاطر ملکی مفاد کو بالائے طاق رکھ کر چور بازاری کا حصہ بن جاتے ہیں جیسا کہ اس بار ڈالر کی زخیرہ اندوزی کی وجہ سے روپے کی بے قدری میں مزید اضافہ ہوا جس میں سابق وزیر خزانہ بھی بھی کسی حد تک قصوروار نظر آتے ہیں جنھوں نے وقت سے پہلے ہی ڈالر کی قیمت میں اضافہ کا خدشہ ظاہر کرکے مارکیٹ میں ہیجان پیدا کردیا بڑے عہدوں پر فائز ایسی شخصیات کو احتیاط کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے مہنگائی کے اس جن کو بوتل میں بند کرنے کے لئے حکومت،اداروں،تاجروں، صنعت کاروں اور صاحب ثروت لوگوں کو یکساں طور پر اپنی ذمہ داری ادا کرناہوگی جس کا واحد حل جذبہ حب الوطنی کا فروغ اورقومی مصنوعات کے استعمال کی ترغیب ہے جس سے مفاد پرستوں کی حوصلہ شکنی ہوگی،ذاتی مفاد سے اجتناب ضروری ہے جو کہ ہمارا دینی اور ملی فریضہ بھی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔







Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved