تازہ ترین  

قرآن پاک کی تعلیم کی برکات
    |     1 month ago     |    کالم / مضامین
دارارقم سکول کا نام تو آپ نے سنا ہی ہو گا۔ دارارقم سکول پاکستان کے اندر اعلی سطح پر تعلیمی معیار کی اعلی کارکردگی کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ جس سے ریاست پاکستان کے کئ بچے دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ قرآن پاک کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ گذشتہ دنوں میں ہمارے ایک نہایت ہی اچھے دوست دارارقم کے ڈائریکٹر علی رضا صاحب لاہور سے کراچی تشریف لائیں۔ تو اپنی سخت مصروفیات کے باوجود انہوں نے اپنا قیمتی وقت نکال کر چند گھنٹے ہمارے ساتھ گذارے۔ تو علی رضا صاحب سے دوستوں کے بارے میں تعارفی گفتگو کے بعد دارارقم کے بارے میں محمد اکبر جٹ صاحب نے سوال کیا۔ کہ اس وقت دارارقم کی چار سو برانچیں اس وقت پورے پاکستان میں ہے؟؟ تو ان کا جواب سن کر حیرانگی ہوئ۔ علی رضا صاحب نے بتایا کہ اس وقت الحمداللہ پاکستان میں 700 سے زیادہ برانچیں پے۔ اور ہمارے دوست فرمان صاحب یہ سوال کئے بغیر نہ رہ سکے۔ کہ اس کی کامیابی اور مشہور ہونے کا راز کیا ہے۔ تو علی رضا صاحب کا جواب ہی لا جواب تھا۔ انہوں نے بتایا ۔ کہ میں یہ سمجھتا ہوں ۔ کہ قرآن پاک کی برکت ہے ۔ کہ ہمارے اس ادارے سے ہر سال دو ہزار سے پچیس سو حفاظ بن کر نکلتے ہیں ۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ۔ کہ جب اللہ پاک کے پاک کلام کو پڑھایا اور پڑھا جائے گا۔ تو وہ ادارہ وہ پڑھانے اور پڑھنے والے دنیا میں سب سے بہتر اور افضل ہوں گے۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ """کہ تم میں سب سے بہتر وہ ہے۔ جو قرآن پڑھے اور پڑھاے۔"" اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسد سے منع فرمایا۔ لیکن صیح بخاری شریف کی حدیث نمبر 1409 میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "" حسد ( رشک ) کرنا صرف دو ہی آدمیوں کے ساتھ جائز ہو سکتا ہے۔ ایک تو اس شخص کے ساتھ جسے اللہ نے مال دیا اور اسے حق اور مناسب جگہوں میں خرچ کرنے کی توفیق دی۔ دوسرے اس شخص کے ساتھ جسے اللہ تعالیٰ نے حکمت ( عقل علم قرآن و حدیث اور معاملہ فہمی ) دی اور وہ اپنی حکمت کے مطابق حق فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہے"" اس میں کوئی شک نہیں ۔ کہ قرآن پاک اللہ پاک کا پاک کلام ہے ۔ اور حضرت جبریل علیہ السلام اس امانت کو لے کر نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے کر آتے ۔ اس کے باوجود صیح بخاری شریف کی حدیث نمبر 4998 میں آتا ہے۔ابو ھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت ہے۔ کہ جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ہر سال ایک مرتبہ قرآن مجید کا دورہ کیا کرتے تھے لیکن جس سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس میں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو مرتبہ دورہ کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال دس دن کا اعتکاف کیا کرتے تھے لیکن جس سال آپ کی وفات ہوئی اس سال آپ نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔ """قرآن پاک پڑھنا اور پڑھانے والے ادارے جتنے زیادہ ہوں اتنے کم ہیں کیونکہ پاکستان اسلام کے نام پہ بننے والا ملک ہے ۔ اس میں 22 کروڑ سے زیادہ آبادی ہے۔ 22 کروڑ والی اسلام کے نام پہ بننے والی ریاست کو ایسے ہزاروں دارارقم کی ضرورت ہے۔ جس میں دنیاوی بنیادی تعلیم کے ساتھ ساتھ قرآن پاک اور دین اسلام کی تعلیمات دی جایئں۔۔ تا کہ ایک مہذب معاشرہ پروان چڑھ سکے۔ اگر ہم نے ایسے ادارے بنانے پہ توجہ نہ دی۔ تو مغرب لبرزم کو پھیلانے میں بہت آگے تک نکل جائے گا اور امت مسلمہ کو قرآن پاک کی تعلیمات سے دور کر دے گا۔ کیونکہ مغربی طاقتوں کا ایک ہی مشن ہے۔ کہ مسلمان کو کیسے قرآن پاک واسلامی تعلیمات سے دور کیا جائے۔ کیونکہ مغربی طاقت کو اندازہ ہے کہ جب تک مسلمان قرآن پاک کی تعلیمات سے جڑا رہے گا۔ اور قرآن پاک کو اپنے سینے سے لگا کے رکھے گا۔ تب تک کوئی طاقت کوئی شکست نہیں دے سکے گی۔ قرآن پاک کی تعلیم ہر مسلمان چاہے وہ آمیر ہو یا غریب ،مرد ہو یا عورت کی بنیادی ضرورت میں سے ایک ہے یہ مسلمان کا حق ہے جو کوئی اسے نہیں چھین سکتا اگر دیکھا جائے تو انسان اور حیوان میں فرق تعلیم ہی کی بدولت ہیں تعلیم کسی بھی قوم یا معاشرے کےلئے ترقی کی ضامن ہے یہی تعلیم قوموں کی ترقی اور زوال کی وجہ بنتی ہے تعلیم حاصل کرنے کا مطلب صرف مدرسہ ، سکول ،کالج یونیورسٹی سے کوئی ڈگری لینا نہیں بلکہ اسکے ساتھ تہذیب سیکھنا بھی شامل ہے تاکہ انسان اپنی معاشرتی روایات اور قتدار کا خیال رکھ سکے۔قرآن پاک کی تعلیم وہ زیور ہے جو انسان کا کردار سنوراتی ہے دنیا میں اگر ہر چیز دیکھی جائے تو وہ بانٹنے سے گھٹتی ہے مگر تعلیم ایک ایسی دولت ہے جو بانٹنے سے گھٹتی نہیں بلکہ بڑھ جاتی ہے اور انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ تعلیم کی وجہ سے دیا گیا ہے اسلام میں تعلیم حاصل کرنا فرض کیا گیا ہے آج کے اس پر آشوب اور تےز ترین دور میں تعلیم کی ضرورت بہت اہمیت کا حامل ہے چاہے زمانہ کتنا ہی ترقی کرلے۔حالانکہ آج کا دور کمپیوٹر کا دور ہے ایٹمی ترقی کا دور ہے سائنس اور صنعتی ترقی کا دور ہے مگر اسکولوں میں بنیادی عصری تعلیم ،ٹیکنیکل تعلیم،انجینئرنگ ،وکالت ،ڈاکٹری اور مختلف جدید علوم کے ساتھ قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرنا آج کے دور کا لازمی تقاضہ ہے جدید علوم تو ضروری ہیں ہی اسکے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی بھی اپنی جگہ اہمیت ہے اس کے ساتھ ساتھ انسان کو انسانیت سے دوستی کےلئے اخلاقی تعلیم بھی بے حد ضروری ہے اسی تعلیم کی وجہ سے زندگی میں خدا پرستی ،عبادت ،محبت خلوص،ایثار،خدمت خلق،وفاداری اور ہمدردی کے جذبات بیدار ہوتے ہیں اخلاقی تعلیم کی وجہ سے صالح او رنیک معاشرہ کی تشکیل ہوتی ہے تعلیم کی اولین مقصد ہمیشہ انسان کی ذہنی ،جسمانی او روحانی نشونما کرنا ہے تعلیم حصول کےلئے قابل اساتذہ بھے بے حد ضروری ہیں جوبچوں کو اعلٰی تعلیم کے حصوص میں مدد فراہم کرتے ہیں استاد وہ نہیں جو محض چار کتابیں پڑھا کر اور کچھ کلاسسز لے کر اپنے فرائض سے مبرا ہوجائے بلکہ استاد وہ ہے جو طلب و طالبات کی خفیہ صلاحیتوں کو بیدار کوتا ہے اور انہیں شعور و ادراک ،علم و آگہی نیز فکر و نظر کی دولت سے اپنے شاگرہ کو مالا مال کرتا ہے جن اساتذہ نے اپنی اس ذمہ داری کو بہتر طریقے سے پورا کیا ،ان کی شاگرد آخری سانس تک ان کے احسان مند رہتے ہیں اس تناظر میں اگر آج کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوگا کہ پیشہ تدریس کو آلودہ کردیا گےا ہے محکمہ تعلیمات اور اسکول انتظامیہ اور معاشرہ بھی ان چار کتابوں پر قائع ہوگیا۔ کل تک حصول علم کا مقصد تعمیر انسانی تھاآج نمبرات اور مارک شیٹ پر ہے آج کی تعلیم صرف اسلیئے حاصل کی جاتی ہے تاکہ اچھی نوکری مل سکے یہ بات کتنی حد تک سچ ہے اسکا اندازہ آج کل کی تعلیمی ماحول سے لگایا جاسکتا ہے جیسے بچوں کا صرف امتحان میں پاس ہونے کی حد تک اسباق کا رٹنہ ہے بدقسمتی اس بات کی بھی ہے کچھ ایسے عناصر بھی تعلیم کے دشمن ہوئے ہیں جو اپنی خواہشات کی تکمیل کےلئے ہمارے تعلیمی نظام کے درمیان ایسی کشمکش کا آغاز کررکھا ہے جس نے رسوائی کے علاوہ شاید ہی کچھ عنایت کیاہو اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے تعلیم و تربیت میں معراج پاکر دین و دنیا میں سربلندی اور ترقی حاصل کی لیکن جب بھی مسلمان علم اور تعلیم سے دور ہوئے وہ غلام بنالیئے گئے یا پھر جب بھی انہوں نے تعلیم کے مواقعوں سے خود کو محروم کیا وہ بحیثیت قوم اپنی شناخت کھو بیٹھے فطرت بشری سے مطابقت کی بناپر اسلام نے بھی علم حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔جو لوگ معاشرے میں دنیاوی علوم کے ساتھ قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرتے ہوں اس انسان کا معاشرہ کے اندر اور اپنے گھر کے اندر ایک الگ مقام ہوتا ہے ایک نوجوان بچے کا قدر بزرگ لوگ صرف قرآن پاک کی تعلیم کی وجہ سے کرتے ہے توہمیں چاہیے کہ قرآن پاک کی تعلیم کو حاصل کریں اور اگر ایسا ممکن ہوا کہ ہمارے تمام اہم ایجوکیشن کے اداروں میں دنیاوی علوم کے ساتھ قرآن پاک کی تعلیم دی گئ۔ تو وہ دن دور نہیں کہ اللہ پاک ہمیں ہر میدان میں کامیابی عطاء فرمائے گے ۔ کیونکہ یہ ایسا علم ہے ۔ کہ جس پر دنیا و آخرت کی حتمی کامیابی کا دارومدار ہے لیکن کئی وجوہ کی بنا پر عصری تعلیم سے وابستہ افراد کے لیے علم دین کی فکر کرنا زیادہ ضروری ہے۔ اس کی سب سے پہلی وجہ یہ ہے کہ عصری تعلیمی اداروں میں جس فلسفہ حیات کی تعلیم و تبلیغ کی جارہی ہے، اس کی بنیاد ہی مادیت پرستی (Materialism)، عقل پرستی (Rationalism)، آزاد خیالی (Heterodoxy/Nonconformism)، نفس پرستی (Epicurism)، مذہب بیزاری (Irreligiousness) اور اللہ اور اس کے رسولوں کے احکامات سے بغاوت پر ہے جس کا مقابلہ کرنے اور دین پر جمے رہنے کے لیے علم دین کا ہونا اشد ضروری ہے۔ بصورت دیگر مغربی تہذیب (Culture Western) اور طرز معاشرت سے مرعوبیت اور اپنے مذہبی و تہذیبی ورثے کے تئیں احساس کمتری کا شکار ہوجانا، دل ودماغ سے دین کی عظمت کافرو ہوجانا اور اسلام کے بنیادی عقائد اور بہت سے احکام کے سلسلے میں شکوک و شبہات اور تذبذب کا شکار ہوجانا، عصری تعلیم کے لازمی ثمرات میں سے ہے۔ علاوہ از یں عصری تعلیم کا حتمی مقصد چونکہ اقتصادی ترقی، آشائش بخش زندگی کا حصول اور عیش کوشی ہی بن کر رہ گیا ہے اس لیے عصری تعلیمی اداروں کے فارغین کے اندر مال و دولت کی حرص و ہوس کا پیدا ہوجانا اور اس کے نتیجے میں حلال وحرام کی تمیز کا کھودینا عام طور پر مشاہدے میں ہے، جس کی وجہ سے انسانی قدریں بھی پامال ہورہی ہیں۔ عصری علوم کے لیے اگر کانونٹ (Convent) اور مشنری (Missionary) اداروں کا سہارا لیا گیا تو معاملہ کفر و الحاد تک بھی پہنچ جائے تو کچھ مستبعد نہیں۔ ان باتوں کا مطلب قطعی طور پر یہ نہیں ہے کہ عصری علوم کے اندر یہ خرابیاں ذاتی و خلقی طور پر (inherently) موجود ہیں بلکہ ان میں بہت سے ایسے علوم ہیں جو انسانیت کے لیے بہت ہی نفع بخش ہیں لیکن انہیں چونکہ مغربی افکار اور مغربی تہذیب کے قالب میں ڈھال کر پیش کیا جاتا ہے اس لیے مذکورہ نتائج سامنے آجاتے ہیں۔ یہ اسلام ہی ہے جو ایک انسان کو مادیت پرستی اور الحاد سے ہٹاکر خدا پرستی کی طرف لے جاتا ہے، عقل کو وحی الٰہی کے تابع کرنا اور نفس کی بندگی چھوڑ کر اللہ کی بندگی کرنا سکھاتا ہے اور اسے اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کا پابند بناتا ہے۔ لیکن یہ سب تب ہی ممکن ہے جب اسے اسلامی تعلیمات سے نہ صرف یہ کہ روشناش کرایا جائے بلکہ اس کی تعلیم و تربیت اسلامی اقدار کے مطابق کی جائے۔ ہمارے معاشرے میں تو ایک عجیب چلن ہوگیا ہے کہ بچہ تین سال کا ہوا نہیں کہ اسے کسی کانونٹ یا مشنری اسکول میں ڈال دیتے ہیں جہاں وہ اپنے دینی و ثقافتی ورثے سے بالکل کٹ جاتا ہے اور خالی ذہن پر مغربیت اور کفریہ افکار بہ آسانی نقش کردیے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں رسول پاکؐ کا ایک امتی جس کی صلاحیتوں کا استعمال دین کا دفاع کرنے اور اسلامی اقدار کی احیا وبقا کے لیے ہونا چاہیے تھا، اپنی صلاحیتوں کا استعمال دینی وشرعی اقدار کو تنقید کا نشانہ بنانے کے لیے کرتا ہے۔ علما کو تاریک خیال اور خود کو روشن خیال تصور کرتا ہے اور دشمنان دین کو تالیاں پیٹنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس طرح دنیا بنانے کی فکر میں والدین خود ہی اپنے بچے کی آخرت کو داؤ پر لگادیتے ہیں۔ جو لوگ دیندار تصور کیے جاتے ہیں وہ بھی اپنے بچوں کے لیے قرآن کی ناظرہ خوانی اور چند دعاؤں کو حفظ کرادینے سے زیادہ کی فکر نہیں کرتے، جس سے ان کے عقائد وافکار پر کوئی معنی خیز فرق نہیں پڑتا جب کہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ ان کے دل ودماغ میں اسلامی عقائد کو راسخ کیا جاتا، دین کی عظمت ان کے دلوں میں بٹھائی جاتی، اسلام کی بنیادی تعلیمات سے اسے روشناش کیا جاتا اور ان کے اندر داعیانہ صفات پیدا کی جاتی تاکہ زمانے کی تیز و تند ہواؤں کا مقابلہ کرسکتے لیکن افسوس صد افسوس کہ ایسا ہوتا نہیں ہے۔ عصری تعلیم سے وابستہ مسلمانوں کے لیے علم دین کی ایک گونہ زیادہ فکر کرنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کا اختلاط زمانہ طالب علمی سے لیکر عملی زندگی تک مختلف شعبہ حیات میں غیروں سے ہوتا ہے۔ مدرسوں کے فارغین کا واسطہ غیروں سے نہیں کے برابر پڑتا ہے کیوں کہ عام طور پر وہ لوگ مکاتب، مدارس، مساجد اور خانقاہوں تک ہی محدود رہتے ہیں، اس لیے ان کی زندگی میں جو دین ہے وہ غیروں کے سامنے نہیں جاتا۔ اس کے برعکس عصری اداروں کے فارغین کی پوری زندگی غیروں کے نگاہ میں ہوتی ہے اور اسلام کے بارے میں جو تصور وہ قائم کرتے ہیں وہ عصری تعلیم کے حامل مسلمانوں کی زندگی کو دیکھ کر ہی کرتے ہیں اور چونکہ ان کی زندگی میں دین نہیں ہوتا اس لیے وہ لوگ اسلام سے متاثر تو کیا ہوتے الٹا بدظن ہوجاتے ہیں۔ تجربے اور مشاہدے میں یہ بھی ہے کہ اگر کسی غیر مسلم نے کبھی کوئی سوال اسلام کے بارے میں اپنے مسلمان ساتھی سے کردیا تو اس بے چارے کے پاس اتنا علم بھی نہیں ہوتا کہ اس کا تشفی بخش جواب دے سکے، اس لیے یا تو وہ خاموش رہ جاتا ہے یا الٹی سیدھی باتیں بناکر اسے مزید بدظن کردیتا ہے۔ اس طرح غیروں کے نزدیک اسلام کا غلط تصور قائم کرنے کے ذمے دار عام طور پر عصری اداروں کے فارغ مسلمان ہی ہوتے ہیں نہ کہ مدرسوں کے فارغ علما الّا یہ کہ ان کے بیانات یا ان کی کارکردگی میڈیا کے ذریعے غیرمسلموں تک پہنچیں۔ اس لیے بھی بہت ضرورت اس بات کی ہے کہ عصری تعلیم سے وابستہ مسلم نوجوانوں کے لیے علم دین کی زیادہ سے زیادہ فکر کی جائے۔ تیسرا سبب جس کی وجہ سے عصری تعلیم سے وابستہ مسلمانوں کے لیے علم دین کی زیادہ فکر کرنے کا داعیہ پیدا ہوتا ہے یہ ہے کہ ایک عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ آج کے دور میں تمام شعبہ حیات میں مکمل اسلامی اقدار کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل ہی نہیں تقریباً ناممکن ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسلام ایک فرسودہ نظام حیات ہے جو اس دور کے لیے پریکٹیکل اور موزوں نہیں۔ اس طرح کی باتیں صرف غیر مسلم ہی نہیں کہتے بلکہ ایمان کی کمزوری اور اپنی تہذیب کے تئیں احساس کمتری کے شکار کچھ مسلمان بھی کہتے سنے جاتے ہیں جبکہ یہ سراسر غلط ہے۔ اسلام ایک آفاقی نظام حیات ہے اور اللہ رب العزت نے اس کی تکمیل کرکے اور انبیا کا سلسلہ موقوف کرکے تمام عالم کے انسانوں کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ یہی وہ نظام حیات ہے جو رہتی دنیا تک کے لیے موزوں اور کارآمد ہے اور تم سب کی دنیا وآخرت کی کامیابی اسی نظام سے وابستہ ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ دنیا کے اندر عدل و انصاف اور امن وسکون صرف اور صرف اسلام ہی لاسکتا ہے اور اسلام ہی انسانیت کے جملہ مسائل کا حل دے سکتا ہے، شرط یہ ہے کہ اسلام اپنی پوری اسپرٹ کے ساتھ ہم سب کی زندگیوں میں موجود ہو، صرف دعوائے مسلمانی نہ ہو۔ یہ بات تو تجربے سے بھی ثابت ہوچکی ہے کہ اسلام کے مقابلے میں جتنے بھی فلسفہ حیات پیش کیے گئے سب کے سب سیاسی، سماجی اور اقتصادی محاذ پر بالکل ناکام ثابت ہوئے۔ لیکن ہماری بدقسمتی بھی یہ ہے کہ موجودہ دور میں ہم کوئی خطہ ارض نمونہ کے طور پر پیش نہیں کرسکتے جہاں اسلامی نظام پورے طور پر نافذ ہو۔ اس لیے اغیار کو یہ کہنے کا موقع ملتا ہے کہ اسلامی معاشرت اور اسلامی اقدار کی باتیں محض کتابی باتیں ہیں جس کا حقیقت سے دور کا تعلق نہیں؟ اس لیے دور حاضر کے مسلمانوں کے لیے یہ ایک چیلنج ہے کہ وہ عملاً اس بات کو ثابت کریں کہ اسلام ایک پریکٹیکل مذہب ہے، اس دور میں بھی اس کی تعلیمات پر چلنا ممکن ہے اور آج بھی اس کی اتنی ہی معنویت (relevance) ہے جتنی کہ رسول اللہ اور صحابہ کرامؓ کے زمانے میں تھی۔ اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہر مسلمان خواہ وہ جس شعبے میں ہو خود کو اس شعبے میں رسول اللہ کے دین کا ایک نمائندہ تصور کرے اور اول درجہ میں اپنی زندگی میں اسلام کو نافذ کرکے دوسروں کے لیے عملی نمونہ بنے تاکہ دنیا والے یہ دیکھیں کہ ایک ایمان والا ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر، ایڈووکیٹ، تاجر، منتظم اور سماجی کارکن وغیرہ کیسا ہوتا ہے؟ مذکورہ وجوہات کا جائزہ لینے کے بعد ایک ہوشمند مسلمان یہ سمجھ سکتا ہے کہ عصری تعلیم سے وابستہ افراد کی اسلام سے عدم واقفیت، بے علمی اور بدعملی کے نتائج کتنے سنگین نوعیت کے ہیں اور انسانی معاشرے پر اس کے کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟ لیکن ایک عجیب بات یہ ہے کہ اس کی طرف نہ کسی نام نہاد دانشور کا خیال جاتا ہے نہ کسی تاریک خیال تصور کیے جانے والے مولوی صاحب کا، الّاماشاء اللہ بلکہ جسے دیکھو مدرسوں کے نصاب تعلیم کی اصلاح اور اسے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی فکر میں پڑا ہے۔ کسی دانشور کی زبان سے حرف غلط کی طرح بھی یہ نہیں نکلتا کہ عصری تعلیمی اداروں میں دین اور دینی تعلیم کو داخل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ ہم نے دنیا کی محدود زندگی کو ہی سب کچھ سمجھ رکھا ہے اور آخرت کی لامحدود زندگی کو بالکل بھلارکھا ہے جب کہ دنیوی زندگی کی اہمیت صرف اس لیے ہے کہ اس میں آخرت کی تیاری کرنے کا موقع فراہم کیا گیا ہے اور عقلمند انسان وہ ہے جو اس موقع کا صحیح استعمال کرلے۔ یہاں یہ واضح کردینا بھی مناسب معلوم ہوتا کہ بندہ مدارس کے نصاب تعلیم اور طرز تعلیم میں اصلاح اور اسے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی فکر کا مخالف نہیں ہے بلکہ صرف اس بات کا داعی ہے کہ جس درجے میں اس کی ضرورت ہے اس سے کہیں زیادہ ضرورت عصری اداروں کو اسلامائز کرکے قرآن پاک کی تعلیم کو لازمی کرنے کی ضرورت ہے ۔





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved