تازہ ترین  

بلدیاتی اداروں کی معطلی سے صوبہ بھر کے عوامی نمائندگان نالاں ۔ ۔ ۔ تحریر : مقصود احمد سندھو ۔ چیچہ وطنی
    |     3 months ago     |    کالم / مضامین

لوکل باڈیز ترمیمی بل 2019ء کے ذریعے حکومت کی طرف سے پنجاب بھرکے بلدیاتی ادار ے معطل کرکے اختیارات ایڈمنسٹریٹر کے حوالے کیے جاچکے ہیں حکومت کے عجلت میں پاس کیے گئے اس ترمیمی بل میں جہاں ماضی کے سیاسی رویوں کی یاد تازہ کردی وہیں معطل ہونے والے عوامی نمائندگان بنیادی جمہوری اداروں کے خاتمہ سے پریشان اورنالاں دکھائی دے رہے ہیں کسی نے اس بل کوعوامی مینڈیٹ پرشب خون مارنا قراردیا توکسی نے بنیادی جمہوریت کا قتل کوئی اسے طبقہ اشرافیہ کی جانب سے بنیادی جمہوری حقوق کوسلب کرنا سمجھتاہے توکوئی یہ کہہ رہاہے کہ بنیادی جمہوری اداروں کوسیاسی مقاصدکی تکمیل کیلئے خواہشات کی بھینٹ چڑھادیاگیاہے کچھ آوازوں کے مطابق عوامی ادارے تحلیل کرکے حکومت نے عام آدمی کے حقوق کا گلہ گھونٹ دیاہے باربار لوکل سیٹ اپ کی تبدیلی اوروقفے وقفے سے اِ ن اداروں پرمشقِ ستم ہمیشہ متنازعہ رہی ہے ۔ نئے بلدیاتی ڈھانچے کے مطابق انتخابات کب ہوں گے اور اِس سے عوام کو کیافوائد حاصل ہوں گے ،پرائمری جمہوریت کوکیانقصان ہوگا؟عام آدمی کی زندگی میں کیا تغیرات ظہورپذیرہوں گے یہ تومستقبل کی بات ہے اِس وقت ہم آ پ کوبتاتے ہیں کہ بنیادی جمہوری اداروں کے گلے پرآراچلنے کے بعدمختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے معطل شدہ سابق بلدیاتی چیئرمینوں کے جذبات کیاہیں یہ جاننے کیلئے ہم نے ساہیوال ،کمیر،چیچہ وطنی ،کمالیہ ،میلسی ، وہاڑی، حاصلپور، فورٹ عباس ،کبیروالا،لودھراں ،احمدپورشرقیہ ،اوچ شریف،راجن پورکے چیئرمینوں سے اداروں کی معطلی پران کا مءوقف جاننے کیلئے رابطہ کیا اُن کے خیالات وجذبات کچھ یوں ہیں ۔ ضلع ساہیوال کے چیئرمین چوہدری زاہد اقبال نے کہاکہ بنیادی جمہوری اداروں کا خاتمہ عوام کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے قیام پاکستان سے لے کراب تک نظام کی خامیاں دورکرنے کی بجائے ہردفعہ پرانا نظام لپیٹ کرنیاسسٹم لایاجاتاہے گزشتہ ایک سال سے فنڈزمنجمد ہونے کی وجہ سے عوام کوبے پناہ مشکلات کا سامنارہاہے ایڈمنسٹریٹرزعوامی نمائندوں سے بہترخدمت انجام نہیں دے سکتے موجودہ نظام ختم کرنے کی بجائے اس میں موجود خامیاں دورکی جاسکتی تھیں ۔ چیئرمین بلدیہ کمیررانا ابرارکے خیال میں حکومت کی طرف سے بلدیاتی اداروں کاخاتمہ ان پر شب خون مارنے کے مترادف ہے ،اداروں کی مدت پوری ہونی چاہئے تھی حکمرانوں نے بلدیاتی نظام کومیوزیکل چیئر بناکر رکھ دیا ہے ڈویلپمنٹ فنڈزروک کر عوام کے بنیادی حقوق سلب کرناسراسرزیادتی ہے ۔ ضلع ساہیوال کی ہی تحصیل چیچہ وطنی کے چیئرمین بلدیہ رانامحمداجمل خاں کاکہناہے کہ عوامی اداروں کوہمیشہ سے ہی مذاق بناکررکھا گیاہے گزشتہ بلدیاتی انتخابات سپریم کورٹ کے حکم سے عمل میں آئے تھے انہیں کام کرنے کاپورا موقع ملناچاہئے تھا ایک سال کاوقت انتخابات کے انعقادکیلئے بہت طویل ہے جس میں اضافہ بھی ہوسکتاہے ۔ عوامی نمائندگان کی معطلی کسی طورپردرست نہیں سسٹم کوچلتے رہناچاہئے تھا اس میں بہتری کیلئے ترامیم کی جاسکتی تھی نظام کاخاتمہ کسی طورپربہترقدم نہیں ہے ۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے چیئرمین غلام نبی مٹھوبھی حکومتی اقدام سے نالاں نظرآئے انہوں نے کہاکہ موجودہ نظام کوقبل ازمدت ختم کرکے ایک بے مقصدنیاتجربہ کیاجارہاہے ضلعی نظام کے خاتمے سے عوام کے مسائل میں اضافہ ہوگا ۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تحصیل کمالیہ سے ملک محمدشریف نے اپنے خیالات کا اظہارکچھ یوں کیا کہ بلدیاتی ادارے عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ان کی معطلی بلاجواز ہے پہلے نیا نظام وضع کیاجاتا اس پربحث کرکے اس کے اچھے برے پہلوءوں پرنظرثانی کی جاتی ایک مکمل نظام بنائے جانے تک موجود ہ سیٹ اپ کوکام کرنے سے روکنا کسی طوردرست عمل نہیں پی ٹی آئی حکومت نے جلدبازی سے کام لے کرعوام کومشکل میں ڈال دیاہے بیوروکریٹ کبھی بھی عوامی نمائندوں کا نعم البدل نہیں ہوسکتے ۔ کبیروالاسے اطہریوسف نے عوامی اداروں کی معطلی کوحکومت کی جلدبازی قراردیا ان کے مطابق اداروں کوکام کرنے کا پورا موقع ملنا چاہئے تھا اگران کا خاتمہ بہت ہی ضروری تھاتو بھی ان کا وقت مکمل ہونے سے ایک سال قبل ایساقدم اٹھایاجاتالوگوں کا الیکشن پربہت زیادہ خرچ ہوتاہے وقت پورا کرنا ان کاحق ہے عوامی نمائندے عوام کے مسائل کوبہترجانتے ہیں ان پرحکومت کو چیک اینڈبیلنس رکھنے کا حق ہے ۔ حاصلپورسے چیئرمین بلدیہ اشفاق رامے نے ’’سروے ٹیم‘‘سے گفتگوکرتے ہوئے کہا تمام سیاسی جماعتیں ایک ہی سوچ کی مالک ہیں زیادہ سے زیادہ اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتی ہے لوکل سیٹ اپ کوختم کرکے غیرسنجیدگی کامظاہرہ کیاگیاہے متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے افرادکا انتخابات میں حصہ لے کراقتدارکا حصہ بننا ایک خواب بن جائے گا ۔ چیئرمین بلدیہ فورٹ عباس حاجی جاویدنے حکومت کے اس قدم کو عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کاسبب قراردیا انہوں نے کہا کہ ایڈمنسٹریٹرکے پاس مسائل لے کرجانے سے عوام کو مشکل پیش آتی ہے جبکہ عوامی نمائندے انہیں میں سے ہوتے ہیں اورانہیں ہروقت میسررہتے ہیں جس سے ان کے مسائل بغیرکسی دقت کے بروقت حل ہوجاتے ہیں یہ تجربات اب بند ہوجانے چاہئےں ۔ لودھراں سے افتخارشفیع چیئرمین بلدیہ کے مطابق ہرحکومت نے اختیارات اپنے قابو میں رکھنے کیلئے ایسے ہی ہتھکنڈوں کا سہارالیاہے اس اقدام سے نظام میں بہتری کی کوئی توقع نہیں اس سے کارکن الیکشن کے عمل سے باہرہوجائیں گے ۔ سرمایہ دارہی اقتدار کا حصہ بنیں گے نیانظام محض ایک تماشہ ہے ۔ ملک عثمان بوبک احمدپورشرقیہ کے چیئرمین ہیں انہوں نے کہاکہ حکومت نے کچھ سوچ کرہی یہ فیصلہ کیا ہوگا عوام کے مسائل اورمشکلات میں کمی آنی چاہئے تاہم نئے نظام سے موجودہ نظام بہترہے عوامی نمائندے بیوروکریسی کی نسبت عوامی مسائل سے زیادہ باخبر ہوتے ہیں عوام کے قریب ہونے کی وجہ سے عوامی مسائل آسانی سے حل ہوتے ہیں ۔ بلدیہ اوچ شریف کے چیئرمین سبطین بخاری نے بھی حکومت کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے کہاکہ قانون بناناحکومت کاحق ہے مگراسے عوامی امنگوں کا احترام بھی کرناچاہئے ایڈمنسٹریٹرزکی تعیناتی سے ریونیو کی کاکردگی پرفرق پڑ ے گاعوامی مشکلات میں اضافہ ہونے کے علاوہ وقت کا ضیاع ہوگا اختیارات کی تقسیم ضروری ہے ۔ ضلع راجن پورسے چیئرمین حاجی محمد اکرم قریشی نے حکومتی اقدام کوبرداشت کی کمی اورعوامی مینڈیٹ کی توہین قراردیا اوراختیارات کی تقسیم کوتسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی مخالفت کی روش کوترک کرنے کا مشورہ بھی دیا ان کاکہناہے کہ تبدیلی ضرورلائیں مگراخلاقیات اوربرداشت کے فارمولے پر بھی عمل کریں نئے آنے والے نظام سے پرانے خاندان ہی اقتدار میں آئیں گے ۔ قارئین کرام یہ تھی سابق بلدیاتی نمائندگان کی رائے آنے والے نئے انتخابی سیٹ اپ پربحث آئندہ کیلئے اٹھارکھتے ہیں ۔






Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved