تازہ ترین  

دعوت اسلامی
    |     3 months ago     |    کالم / مضامین
                                                                                                                                                                       

  دعوتِ اسلامی اور حضورﷺ کی حکمتِ عملی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   



۔۔۔۔۔۔۔۔ شکیل قمر مانچسٹر



 ظہورِ اسلام سے قبل ہر طرف جہالت کے گھٹاٹوپ اندھیرے چھائے ہوئے تھے ٓادمی آدمی کے ہاتھوں ذلیل ورسواہو رہا تھا قدرِ انسانیت ناپید تھی پرائے تو کیا اپنے بھی حُسنِ سلوک سے بے بہرہ تھے ایسے میں کوئی کسی کو سیدھی راہ پر چلنے کی ہدایت ہی کیا کرتاجب کہ سیدھی راہ پر چلنے کی فکر ہی مفقود تھی عین جہالت کے اس دور میں خالقِ کائنات،مالکِ ارض وسماء رب العالمین نے انسانوں کو سیدھاراستہ دکھانے اور انکی رہنمائی کرنے کے لئے حادیء برحق حضرت محمدﷺکو معبوث فرمایا،چنانچہ آپﷺ نے علاقہِ عرب میں (جہاںآپ ﷺکی ولادت ہوئی تھی) کائنات کے اَزلی واَبدی مذہب اسلام کی تبلیغ کا آغاز کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ دائرہ ء کار پھیلتا چلا گیا اسلام کے ابتدائی دور میں ہی آپﷺ نے دوسرے علاقوں میں بھی اپنے سفیر اور نمائندے دعوتِ اسلامی کے لئے بھیجنے شروع کردئیےاس طرح چراغ سے چراغ جلنے کا یہ عمل تیز سے تیز تر ہوتا چلاگیا حتیٰ کہ آج دنیائے اسلام کا دائرہ اس قدر وسیع ہو چکا ہے کہ پوری دنیا میںتقریباً ہر پانچواں انسان الحمدوللہ مسلمان دکھائی دیتا ہے اور دنیا ئے اسلام کروڑوں چراغوں کی روشنی سے جگمگارہی ہے ابتدائی دور میں تبلیغِ اسلام کے سلسلے میں چراغ سے چراغ جلنے کا یہ عمل کچھ تیز ہوا توآپﷺ نے دنیا کے مختلف حکمرانوں کواسلام کی دعوت کے خطوط لکھےیہ تقریباً ۶؁ھ کا زمانہ تھا آپﷺ کی جانب سے دعوتِ اسلامی کے خطوط پا کر بہت سے حکمرانوں نے اسلام قبول کر لیا اِن میںحبشہ کے شاہ نجاشی،بحرین کے بادشاہ مندر بن سادی،عمان کےشاہجیفروحید، دمشق کے حاکم مندربن حارث،یمامہ کے حاکم ہوزہ بن علی اور قسطنطنیہ کے حکمران ہرقل شاہ کے نام خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں یہی زمانہ تھا جب آپﷺ نے ایران کے شاہ خسروپرویز کو حضرت عبداللہ بن خدامہؓ کے ہاتھ دعوتِ اسلامی کا پیغام بھیجا لیکن خسروپرویز نے ایک بہت بڑی سلطنت کا حکمران ہونے کے زعم میں آپﷺ کا نامہء مبارک ٹکڑے ٹکڑے کر دیا،اور پھر تاریخ گواہ ہے کہ اُس دور میں خسروپرویز کو کس قدر عبرت ناک شکست کا سامنا کرناپڑا اور اُس کی سلطنت کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔ ۶؁ھ میں ہی ثمامہ کے حکمران،نجدرغسان کے حکمران اورجبلہ شام کے حکمراننے خود آ گے بڑھکرداعیانِ اسلام کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔آنحضرتﷺ کی جانب سے دعوتِ اسلامی کا سلسلہ جیسے جیسے بڑھتا گیابہت سے لوگ اپنے وفود لے کر حضورﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے ایسے وفود میں وفدِدوس،وفدِصداء،وفدِثقیب،وفدِعبدالقیسوفدِبنی حنیفہ، وفدِطے، وفدِازو، وفدِ ہمدان،وفدِ نجیب،وفدِ سعد،وفدِ بنی اسد،وفدِ عدزہ،وفدِ اشعریہ، وفدِ خولان، وفدِنحارب، وفدِغمسان، وفدِبنی فزارہ، وفدِ بنی الحارث، وفدِبنی عیش، وفدِ فائد، وفدِ سلام اور وفدِ نجران کے نام بہت مشہور ہیں جنہوں نے خود اسلامقبول کرنے کے بعد اپنے اپنے قبیلوں میں جاکر اسلام کی اشاعت اور تبلیغ کا مثالی کام سر انجام دیا اور بے شمار غیر مسلموں کو حلقہء بگوشِاسلام کیا۔آنحضرتﷺ کی طرف سے دعوتِ اسلامی کے سلسلے میں متعدد واقعات تاریخ میں بہت مشہور ہیں ایسے واقعات کے مطالعہسے معلوم ہوتا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺجن صحابہ کرامؓ کودوسرے علاقوں میں دعوتِ اسلامی کے لئے بھیجتے تھے اُن کا انتخاب کس قدردرست ہوتا تھا اور دعوت ِ اسلامی کے کام میں حضور نبی کریم ﷺ کی حکمت ِ عملی اوردیگر خوبیوں کا کس قدر اہم مقام ہے،قیصرِ روم کے حلقہء بگوشِ اسلام ہونے کا واقعہ بھی ایسے ہی واقعات میں سے ایک ہے،حضور نبی کریم ﷺ کا نمائندہ جب قیصرِروم کے پاس دعوتِ اسلامی کا پیغام لے کر پہنچا تو قیصرِروم نے حکم دیا کہ اگر اس حدودِسلطنت میں عرب کا کوئی باشندہ مل جائے تو اُسے حاضرکیاجائے،اتفاق سے ان دنوں مشہور دشمنِ اسلام ابوسفیان کچھ دوسرے تاجروں کے ساتھ شام آیا ہوا تھا اِسے بیت المقدس لا کر دربار میں پیش کیا گیا،قیصرِروم نے ہمراہی تاجروں سے کہا کہ میں ابوسفیان سے سوال کروں گا اگر یہ کوئی غلط جواب دے تو مجھے بتادینا چنانچہ قیصرروم اور ابوسفیان کے مابین جو گفتگو ہوئی وہ”مکالمہ ء قیصرِروم اورابوسفیان“کے عنوان سے تاریخ میں محفوظ ہے، نفسِ مضمون مکمل کرنے کے لئے یہ گفتگویہاں نقل کی جاتی ہے۔ قیصررومِ۔” محمد ؐ کا خاندان اور نسبت کیسا ہے ۔“ ابوسفیان ۔” شریف و عظیم ۔“ یہ جواب سن کر قیصرِروم نے کہا ۔” سچ ہے نبی شریف گھرانے کے ہوتے ہیں تاکہ ان کی اطاعت میں کسی کو عار نہ ہو۔“ قیصر نے پوچھا ۔”محمدؐسے پہلے بھی کسی نے عرب میں یا قریش میں نبیؐ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔“ ابو سفیان ۔” نہیں ۔“ یہ جواب سن کر قیصرِروم نے کہا ۔”اگر ایسا ہوتا تو میں سمجھ لیتاکہ اپنے سے پہلے کی تقلید کرتاہے۔“قیصرِروم نے دریافت کیا ۔”کیا نبیؐ ہونے کے دعوے سے پہلے یہ شخص محمدﷺ جھوٹ بولا کرتا تھا یا اس کو جھوٹ بولنے کی کبھی ہمت دی گئی تھی۔“ ابو سفیاں ۔” نہیں ۔“ قیصرِ روم نے اس جواب پر کہا ۔” یہ نہیں ہو سکتا، جس شخص نے کسی کے متعلق جھوٹ نہ بولا ہو وہ خدا پر جھوٹ باندھے۔“ قیصرِ روم نے پھر پوچھا ۔”اس کے باپ دادا میں سے کوئی شخص بادشاہ بھی ہوا ہے۔“ ابوسفیان ۔”نہیں ۔“ اس جواب پر قیصرِ روم نے کہا۔”اگر ایسا ہوتاتو میں سمجھ لیتا کہ شائد نبوّت کے بہانے سے باپ دادا کی سلطنت حاصل کرنا چاہتا ہے۔“ قیصر نے دریافت کیا ۔”محمدﷺ کو ماننے والے مسکین حقیر لوگ زیادہ ہیں یا سرمایہ دار اور قوی لو گ۔“ ابوسفیان۔”مسکین حقیر لوگ۔“ قیصرِ روم نے کہا۔”ہر ایک نبیؐ کے پہلے ماننے والے اکثر غریب لوگ ہی ہوتے ہیں۔“ قیصر نے پھر پوچھا۔”ان لوگوں کی تعداد روزبروز بڑھ رہی ہے یا کم ہو رہی ہے۔“ ابوسفیان ۔” بڑھ رہی ہے۔“ قیصر نے کہا ۔”ایمان کا یہی خاصہ ہے کہ آہستہ آہستہ بڑھتا ہے اور حد کمال تک پہنچ جاتا ہے۔“ قیصر نے پوچھا ۔”کوئی شخص اس کے دین سے بیزار ہوکر پھر بھی جاتا ہے ۔“ ابوسفیان ۔”نہیں۔“ قیصر نے کہا ۔” لذّت ایمان کی یہی تاثیر ہے کہ جب دل میں بیٹھ جاتی ہے اور روح میں اپنا اثر قائم کرلیتی ہے تو پھر جدا نہیں ہوتی۔“ قیصر نے دریافت کیا ۔”یہ شخص محمدﷺ کبھی عہدوپیمان کو توڑ بھی دیتا ہے۔“ ابوسفیان ۔” نہیں۔۔۔۔لیکن اس سال ہمارا معاہدہ اس سے ہوا ہے دیکھیے کیا انجام ہو۔“ ابوسفیان کا بیان ہے کہ میں صرف اس جواب میں اتنا فقرہ ہی ادا کر سکا تھا مگر قیصر نے اس پر کچھ توجہ نہ کی اور یوں کہا ۔”بے شک نبیؐ عہد شکنی نہیں کرتے عہد شکنی دنیا دار کرتے ہیں نبیؐ دنیا کے طالب نہیں ہوتے قیصر نے پوچھا ۔”کبھی اس شخص (محمدﷺ)سے تمہاری لڑائی ہوئی۔“ابوسفیان۔”ہاں۔“ قیصر۔”جنگ کا کیا نتیجہ رہا۔“ ابو سفیان ۔”کبھی وہ غالب رہے (بدرمیں)اور کبھی ہم (اُحد) میں۔“ قیصر نے کہا ۔”خدا کے نبیّوں کا یہی حال ہوتا ہے لیکن آ خر کار خداکی مدد اور فتح ان ہی کو حاصل ہوتی ہے۔“ قیصرِ روم نے دریافت کیا ۔”اس(محمدﷺ) کی تعلیم کیا ہے؟۔“ ابو سفیان ۔”ایک خدا کی عبادت (بندگی اور غلامی) کرو باپ دادا کے طریق (شرک وبت پرستی وغیرہ)کو چھوڑ دو نماز و روزہ،سچائی و پاک دامنی اورصلہ رحمی کی پابندی کرو۔“ قیصر نے کہا۔”آخری نبیؐ کی یہی علامتیں ہم کو بتائی گئی ہیں۔۔میں سمجھتا تھا کہ نبیؐ کا ظہور ہونے والا ہے لیکن یہ نہ سمجھتا تھا کہ وہ عرب میں سے ہو گا۔“ پھر ابوسفیان سے کہنے لگا ۔” اگر تم نے سچ سچ جواب دئیے ہیں تو وہ ایک روز اس جگہ جہاں میں بیٹھا ہوا ہوں یعنی شام اور بیت المقدس کا ضرور مالک ہو جائے گا۔کاش میں ان کی خدمت میں پہنچ سکتا اورنبیﷺ کے پا ؤں دھویا کرتا۔“ابوسفیان کا بیان ہے کہ اس کے بعد آنحضرتﷺ کا نامہء مبارک پڑھا گیا،اراکینِ دربار اِسے سن کر بہت چیخے اور چلائے اور ہم کو دربار سے باہر نکال دیا گیا میرے دل میں اِسی روز اپنی ذلّت کا نقش اور آنحضرت ﷺکی عظمت کا یقین ہو گیا۔ 







Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved