تازہ ترین  

بیس سال سے اوورسیز پاکستانیوں کے کروڑوں روپے ہاوسنگ سوسائٹیوں کے نام پر ڈوبے ہوئے ہیں ۔
    |     2 months ago     |    کالم / مضامین

بیس سال سے اوورسیز پاکستانیوں کے کروڑوں روپے ہاوَسنگ سوسائٹیوں کے نام پر ڈوبے ہوئے ہیں۔  

 




میرا صرف ایک سوال ہے کہ سینکڑوں اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ ہاوَسنگ سوساءٹیوں کے نام پر جو فراڈ ہوا ہے اُس کے ذمہ دار کون ہیں ،اُن کو سزا کب ملے گی اور

متاثرین کوانصاف کب ملے گا ،شائد میرے اس سوال کا جواب حکمرانوں کے پاس بھی نہیں ہے،اسی لئے تو بیس سال سے سینکڑوں اوورسیز پاکستانیوں کے خون اور پسینے کی کمائی ہوئی رقم کو بڑی مہارت کے ساتھ سُرخ فیتے کی مدد سے ہڑپ کر لیا گیا ہے اس وقت نہ حکومت کچھ کر سکتی ہے اور نہ ہی عدلیہ ،سبھی قانونی موشگافیوں کی آڑ میں خود کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں ،بیس سال پہلے سینکڑوں اوورسیز پاکستانیوں سے ہاوَسنگ سکیم کے نام پر حکومت کی طرف سے لی گئی رقوم کے عوض اَب صرف اُن کو جھوٹے دلاسے دیئے جا رہے ہیں ،لے دے کربات قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے سپرد کی گئی تھی مگر وہاں سے بھی کوئی معقول جواب موصول نہیں ہو ا،بس قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز نے وزارتِ او پی ایف کو آخری بار تنبیہہ کی ہے اور کہا ہے کہ بیس سال سے تارکینِ وطن کی ہاوَسنگ سوساءٹی پر کام ٹھپ پڑا ہوا ہے ،قائمہ کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ ایم ڈی کی بے بسی کی فریاد اس بات کی علامت ہے کہ ادارہ تارکین ِوطن کے پیسے کی حفاظت کرنے میں ناکام رہا ہے ،قائمہ کمیٹی نے دو ماہ تک معاملات کو نمٹانے کی بھی ہدایات کی تھی جو کہ دو سال ہو چکے ہیں ،او پی ایف کے سابق ایم ڈی حبیب الرحمن جیلانی نے قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز کو بتایا تھا کہ تحصیل دار سے لیکر پولیس اَفسران تک چکر لگا چکے ہیں کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہے اُنہوں نے بتایا کہ آئیسکو نے اپنا کام جلد مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ،قائمہ کمیٹی کی رکن عالیہ کامران نے کہا  تھاکہ اگر سب کام قائمہ کمیٹی نے ہی کرنے ہیں تو او پی ایف کا فائدہ ؟کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے سابق ایم ڈی اوورسیز پاکستانیز فاوَنڈیشن حبیب الرحمن جیلانی نے کہا  تھاکہ پروجیکٹ کی تکمیل میں اُمید کی کرن نظر آرہی ہے ،اُنہوں نے کہا کہ ایف ڈبلیو او نے پچانوے فی صد ڈویلپمنٹ کاکام مکمل کر لیا ہے مارچ تک سی بلاک کے 350پلاٹ تیار کرکے اَلاٹیز کے حوالے کر دیں گے ،اُنہوں نے کہا کہ 406کنال اراضی کے مقدمات ہائی کورٹ میں زیرِالتوا پڑے ہیں ،او پی ایف کے ایم ڈی نے یہ بھی بتایا  کہ سوساءٹی میں صاف پانی میّسر نہیں ہو سکتا لہذا 24کنال اراضی صرف پانی کے لئے خریدی جا رہی ہے اُس سے اُمید ہے کہ پانی کا مسلہ حل کر لیا جائے گا ،32کنال اراضی آئیسکو کو گرڈ اسٹیشن بنانے کے لئے اَلاٹ کر رہے ہیں 500کنال اراضی گلبرگ ہاوَسنگ سوساءٹی کو دے دی ہے معاہدے کے مطابق وہ ہ میں راستہ دیں گے مگر تین سال سے کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی ہے ،سابق ایم ڈی نے یہ بھی بتایا تھا کہ سوساءٹی کی 102کنال اراضی پر قبضہ مافیاکا قبضہ ہو چکا ہے وہ بھی واگذار کرانا باقی ہے بہر حال قائمہ کمیٹی نے آخری وارنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ آئندہ دو ماہ میں کام مکمل کر لیا جائے تب ہم دورہ کرکے حتمی فیصلہ دیں گے ،یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لئے ہاوَسنگ سوساءٹی کی پلاننگ کرتے ہوئے اُن تمام معاملات کا خیال کیوں نہیں رکھا گیا جو اَب آڑے آرہے ہیں لگتا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لئے ہاوَسنگ سوساءٹی کی پلاننگ حکومتی ماہرین نے نہیں بلکہ کسی اَناڑی نے کی تھی اسی لئے ایک کے بعد ایک مسلہ کھڑا ہو رہا ہے اور اَب تو اتنے مسائل کھڑے ہو چکے ہیں کہ بیس سال گذرنے کے بعد بھی ایسا لگتا ہے کہ ابھی بیس سال مزید درکار ہیں اوورسیز پاکستانیوں کے لئے اسلام آباد کی ہاوَسنگ سوساءٹی کو پایہ ء تکمیل تک پہنچنے کے لئے اس پروجیکٹ میں سب سے بڑا گھپلا یہ ہے کہ سینکڑوں اوورسیز پاکستانیوں سے کروڑوں روپے پہلے ہی وصول کئے جاچکے ہیں اور آج بیس سال گذرنے کے بعد بھی اُن کی رقم گٹر میں ڈوبی ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔






Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved