تازہ ترین  

فیروز ناطق خسرو کی غزل کا ایک رنگ
    |     2 months ago     |    شعر و شاعری


دل میں کھٹکتی اور ضمیرکی روشن صدا کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے کئی طریقے اس جہان میں متعارف ہیں. ہر ایک اپنے اپنے دائرہ کار میں مصروف عمل ہے .چنداں کی مقبولیت کا ستارہ روشن اور کئ سیاہی کے مزے میں مست ہیں. مگر شاعری ایک ایسی چیز ہے کہ اس جہت سے اپنے مقصد کی تشہیر کرنے والوں نے دنیا میں منزل مقصود کو بہت جلد پایا. انقلابات کے برپا کرنے میں, جہاد میں مجاہدین کی صفوں میں جوش پیدا کرنے میں, گمراہ کو راہ راست پہ لانے میں اور زبان ولسان کو تادیر قائم رکھنے میں شاعری کا اہم کردار رہا ہے اور پھر اس کی مختلف اصناف میں غزل ایک ایسی صنف ہے کہ جس نے عوام الناس میں مقبولیت اختیار کر لی ہے وجہ شاید یہ ہے کہ اس کے ابیات میں تسلسل نہیں ہوتا انہیں یاد رکھنا آسان ہوتا ہے اور ایک کامل مضمون ایک بیت میں درج ہوتا ہے .بہت کم غزلیں ایسی ملتی ہیں جن کے تمام ابیات میں تسلسل پایا جاتا ہے.غزل نے بہت سارے مدارات میں سفر طے کرکے اتنی وسعت پیدا کر لی ہے کہ ہر موضوع کو غزل کے توسل سے بیان کیا جا سکتا ہے مگر عشق اول دن سے جزوِ لاینفک کی حیثیت رکھتا ہے جس میں عشق کی مستیوں, شرارتوں اور مسحورکن کیفیات کا ذکر نہیں چھیڑا جاتا وہ غزل مقبولیت کے اعلٰی معیار کو نہیں چھو سکتی. مگر جدت پیدا کرنے کے لئے شعراء نے عقل سے ماوراء اور حقیقت سے کوسوں دور مضامین کو ابیات میں ڈھالنا شروع کر دیا. جوسامع کے لیے سمع خراشی یا ہنسی کے سامان کے علاوہ کچھ نہیں. جنھوں نے حقیقی عنصر کو نوکِ زبان کرکے  الفاظ کے ضمن میں ابیات کے پہلو میں جڑا وہ بلندیوں اور رفعتوں کے آسمان پر پہنچ گئے. انہیں چند شخصیات میں سے ایک شخصیت" فیروز ناطق خسرو" کی ہے جنہوں نے اپنی تخلیق کو حقیقت کے لباس میں ملبوس کرکے بازارِ خلقت میں چھوڑ دیا. اپنے تجربات, مشاہدات اور گردوپیش نمودار ہونے والے دلخراش واقعات کو دلی کیفیات اور انسانی فطرت کے لوازمات سمیت الفاظ کا سہارا لے کر ابیات میں پرو دیا. بہتے دریا سے ایک چلو بھر کر پانی کے ذائقہ کو تو محسوس کیا جا سکتا ہے مگر اس کے جوانب و اطراف کی طوالت اور وسعت کی گہرائی میں دفن موتیوں کے متعلق کچھ سہی معلومات بہم نہیں پہنچائیں جاسکتیں. جناب کی غزلوں کے چند اشعار کو اسی نقطہ کے ساتھ پیش کر رہا ہوں اور موجودہ حالات اور حکومتی دعووں اور وعدوں کا اس شعر میں بہت لطیف اشارے کے ساتھ پرچار کیا گیا.
 تبدیلئِ نظام حکومت کی بات پر
 آئینہ گندرہ گیا چہرہ بدل گیا
 عشق جب عاشق کے رگ وپے میں سما جاتا ہے اور تمام اشیاء کی صورت جب دل سے مٹ کر ایک ہی مطلوب کی تصویر نقش رہ جاتی ہے. تو فراق کے لمحے بھی بسا اوقات وصال کے اوقات سے زیادہ پرلطف گزرتے ہیں. ہر طرف وہی دکھائی دیتا ہے اور آواز کا جادو سے سماعتوں کو ہمہ وقت مدہوش رکھتا ہے.
 آتی ہے نظر ایک ہی تصویر کشیدہ
 پرچھائیں کی صورت کبھی دالان میں کبھی در میں
 دیتے ہیں سنائیں ہمیں بچتےہوئے گھنگرو
 کیا لے کے ہوا اب تیری گفتار پھرے ہے
 ہماری شریفانہ وضع قطع اور میٹھا لب و لہجہ دوسروں کی نگاہوں میں تو ایک مقام دے سکتا ہے مگر اپنی نظر میں اپنے اعمال کی کتاب ہمہ وقت وا رہتی ہے اور دستکِ فکر دیتی رہتی ہے. 
خواہ کیسا ہی ملبوس زیب تن ہوں خسرو 
ہم لوگ برہنہ ہیں یہاں اپنی نظر میں 
واقعات کو اپنی اصلیت میں رکھ کر بیان کرنااور ایک میں ایک مفصل واقع کو اختصار کے ساتھ ترتیب دے کر بیان کرنا جناب خسرو صاحب کا ہی کام ہے 
 اک سر یہاں نیزے پہ تھا کل محوِ  تلاوت
  نظروں میں میری شام کا بازار پھرے ہے
 ہر نفس اپنی ذات کے محور میں مصروفیات کا بوجھ لیے گھوم رہا ہے اور کوئی کسی کی ذات کو کیا سمجھے گا؟  جبکہ قیل وقال کا پہلو فراموش ہے. اپنی اسی حالت کو خسرو صاحب نے یوں ذکر کیا 
ترستا ہے دل کرنے کو باتیں 
یہاں بندے کو بندہ ڈھونڈتا ہے
 ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اندر کو بدلنے کے بجائے ظاہری تصویر کی درستگی اور عمدگی کا سوچتے ہیں. باہر اگر سونے کا پانی چڑھا دیا جائے تو پیتل کہیں نہ کہیں اپنی اصلیت سے آشنا کر دیتا ہے.
 بول اٹھتی ہے غلاظت روحوں کی 
لوگ پرانے جسم بدل کرآئے ہیں
 نفس اپنے اوپر کئ پردوں کا سایہ کئے ہوئے ہے. کسی کی اصلیت کو دیکھیں بھی تو کیسے؟ ہر جانب چھپی ہوئی ذات کا چرچا ہے .ہم دوسروں پر شکوہ کیا کریں؟ ہمارا اپنا نفس اور اپنی روح کئ نقاب اوڑھے ہوئے ہے.
 تلاش کرتے ہو جس کو خسرو تم آئینے میں
 ملے گا وہ بھی نقاب اندر نقاب چہرہ
 والدین خدا کی ایک ایسی نعمت متمیزہ ہیں جس کا نعم البدل کوئی نہیں. ساری زندگی یہ ہی گن گاتے گنگناتے ہوئے گزار دیتے ہیں" بیٹا آپ ہی کے لئے تو سب کچھ کر رہے ہیں" خون پسینہ ایک کرکے اولاد کو پروان چڑھاتے ہیں.
 جسم بچوں کے ڈھانپنے کے لیے
 کھال اپنی اتارتا رہا
جماعت اور گروہ کے ساتھ اگر چلا جائے تو راہ کے بھیڑیے کچھ بگاڑ نہیں سکتے ورنہ ہمہ وقت چلتی ہوئی ہوا بھی کوئی گزند پہنچائے بغیر نہیں گزرتی 
  الگ ہو کر شجر سے ایک پتہ 
  ہواؤں کے تھپیڑے کھا رہا ہے
اشعار کے اس خالق کو خدا سلامت رکھے اور اپنے خزانے سے ڈھیروں انعامات کی بارش کرے۔۔۔آمین





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved