تازہ ترین  

اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل حل ہوتے ہوئے دکھائی نہیں دے رہے
    |     1 month ago     |    کالم / مضامین
،اوورسیز پاکستانیوں کے 
مسائل حل ہوتے ہوئے دکھائی نہیں دے رہے!
(شکیل قمر مانچسٹر)
اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لئے ہمیشہ ہی اخبارات کے کالموں میں بہت سی معلومات اور تجاویز شائع ہوتی رہتی ہیں اگرچہ اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل بہت زیادہ ہیں اور یہ خیال بالکل بھی درست نہیں ہے کہ یہ تمام مسائل ایک ہی جست میں حل ہو جایں گے لشٹم پشٹم ہم اس کے لئے اپنی کوشش جاری رکھیں گے جب تک کہ اوورسیز پاکستانیوں کے تمام مسائل حل نہیں ہو جاتے موجودہ دورِ حکومت میں مرکزی حکومت اور پنجاب کی صوبائی حکومت نے کچھ اقدام ایسے کیئے ہیں جس سے اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کے
حل کی طرف پیش رفت ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے مگر ابھی تک جو اقدام اُٹھائے گئے ہیں اُن کی رفتار بہت سُست ہے بلکہ کچھ معاملات میں تو مسائل کے حل کے لئے کئے جانے والے اقدام صرف دکھاوے کی حد تک ہیں اُن میں کسی قسم کی پیش رفت ہوتی ہوئی دکھائی نہیں دے رہی بیشتر معاملات میں بیوروکریسی آڑے آرہی ہے اور عمومی طور پر جو صورتِ حال پاکستان کے دیگر معاملات میں دکھائی دیتی ہے وہی کم و بیش اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کے حل کی راہ میں بھی رکاوٹ بنی ہوئی ہے ،سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک سے
زیادہ مرتبہ یہ کہا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کو حل کرنے کے لئے ’’وَن ونڈو آپریشن ‘‘کا طریقہ ء کار رائج کیا جائے اس سلسلے میں حکومت نے بھی اپنے احکامات جاری کیئے اور حکومتی احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے کچھ محکموں نے پہلے ہی پاکستان کے متعدد ایئرپورٹوں پر سنگل کاؤنٹر قائم کردیئے تھے لیکن ہم نے کئی مرتبہ تحقیقات کرنے کی کوشش کی، نتیجے کے طور پر ہمیں پاکستانی ایئر پورٹوں پر قائم کیئے گئے
کاؤنٹر پر کسی بھی جگہ کوئی سٹاف موجود دکھائی نہیں دیا اور اَب سپریم کورٹ کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے تمام ایئرپورٹوں پر ایسے کاؤنٹر قائم کر دیئے گئے ہیں جہاں ایک ہی جگہ پر تمام محکموں کی طرف سے سہولیات میسر ہو سکیں گی مگر انتہائی بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ مختلف محکموں کی طرف سے ایک ہی سائین بورڈ آویزاں کرکے اوورسیز پاکستانیوں کو ضرورت پڑنے پر متعلقہ کاؤنٹر سے رابطہ قائم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور بصورت دیگر وہاں فون نمبر بھی لکھ دیئے گئے ہیں جن پر رابطہ قائم کیا جاسکتا ہے مگر وہی پاکستانی بیوروکریسی کی بےڈھنگی چال ،کسی بھی کاؤنٹر پر کوئی آفیسر موجود نہیں ہے اور جب بھی متعلقہ فون نمبروں پر رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو جواب نادارد گویا سپریم کورٹ کے احکامات پر خانہ پُری کردی گئی مگر معاملات کو باقاعدہ نمٹانے کے کوئی ثبوت نہیں ملے بحرحال اس میں کوئی شک نہیں ہےکہ اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کو حل کرنے کے لئے حکومتِ پاکستان نے ایک اوورسیز پاکستانی زلفی بخاری کو اوورسیز کی وزارت کا انچارج تو بنا دیا ہے مگر لگتا ایسے ہے کہ اُن کی گرفت بہت کمزور ہے اور سالہاسال سے بگڑی ہوئی بیورو کریسی کوئی بھی کام سیدھا نہیں ہونے
دے گی ،گویا اوورسیز کے مرکزی وزیر صاحب کو تگڑی کا ناچ نچایا جارہا ہے ،یہ کوئی نئی بات نہیں ہے اس سے پہلے بھی بہت سے لوگ بڑی ثابت قدمی کے ساتھ ایسے عہدوں پر فائز رہے ہیں اور اُن میں جذبہ بھی بہت تھا کہ ہم اوورسیز کے مسائل حل کر کے ہی دم لیں گے مگر اس جنم جنم کی بگڑی ہوئی بیوروکریسی نے بڑوں بڑوں کے دم نکال دیئے اور وہ اپنا دورانیہ پورا کرکے واپس بھی چلے گئے مگر اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل اپنی جگہ پر ویسے ہی قائم و دائم ہیں جیسے پہلے تھے ،اُدھر اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لئے سپریم کورٹ نے متعدد مرتبہ احکامات صادر کیئے ہیں مگر ابھی تک کوئی بڑی پیش رفت دکھائی نہیں دی حتیٰ کہ سپریم کورٹ کے انسانی حقوق کے سیل میں اوورسیز پاکستانیوں کے لئے الگ شعبہ قائم کیا گیا تھا جس کے بہت ہی سود مند نتائج سامنے آرہے تھے مگر جونہی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس
ثاقب نثار ریٹائر ہوئے نئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سپریم کورٹ کے اندر انسانی حقوق کا سل ہی بند کردیا اس سے وہ اُمید بھی ختم ہوگئی جو اوورسیز پاکستانیوں کسپریم کورٹ کے ہیومن رائٹ سل سے وابسطہ تھی ،آج تک اگر اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کے حل کی بات کی جائے تو تھوڑی بہت جو بھی پیش رفت ہوئی ہے وہ سپریم کورٹ کی ہی طرف سے دیکھنے میںآئی ہے مگر سپریم کورٹ کے چیف صاحبان کے جلدی جلدی ریٹائر ہونے کی وجہ سے کوئی بھی معاملہ دیرپا نہیں رہتااِسی طرح اوورسیز پاکستانیوں کو وزیرِاعظم عمران خان سے بہت سی اُمیدیں وابسطہ ہیں آگے آگے دیکھیئے کیا ہوتا ہے ،
ع ۔ اَب تک دلِ خوش فہم کو تجھ سے ہیں اُمیدیں





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved