تازہ ترین  

عائشہ کے نام ۔۔۔ تحریر : علینہ ارشد
    |     5 months ago     |    افسانہ / کہانی

میں اس وقت سال اوّل میں تھی اور سن 2011 تھا جب میری اس سے ملاقات ہوئی۔ ملاقاتیں تو اس سے پہلے بھی بہت ہو چکی تھیں مگر ہوش سنبھالنے کے بعد یہ میری اس سے پہلی ملاقات تھی. میرے خالہ زاد اور اسکے تایا زاد کی شادی تھی۔جہانیہ سے لاہور کا طویل سفر طے کرنے کے بعد میں سستانے کے لیے لیٹی ہی تھی کہ اچانک سے اسکی آواز نے مجھے اپنی آنکھوں سے بازو ہٹا کر سیڑھیوں کی جانب دیکھنے پر مجبور کر دیا۔وہ ایک ہاتھ میں دوپٹہ سنبھالے اور دوسرا ہاتھ گرل پر رکھے نیچے اتر رہی تھی۔اسکی آنکھیں اتنی کشش رکھتی تھی کہ کوئی بھی ان میں ڈوبے بغیر نہیں رہ سکتا۔ وہ ہوتا ہے نہ کہ نئے آنے والے شخص کو کزنز کے گینگ میں جگہ نہیں ملتی تو میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔انتہائی نظر انداز ہونے کے بعد بالآخر دل نادان کو مجھ پر رحم آ ہی گیا اور اب کچھ ہم سے بھی حال چال پوچھ لیا گیا۔خیر جہاں رشتے جڑنے ہوں وہاں جگہ خود بخود ہی بن جاتی ہے. شادی کا سیزن بہت دھوم دھام سے گزر گیا. ابھی بھی یاد پڑتا ہے مہندی کی رات بہت سی باتیں کیں تھی ہم نے کچھ پرانی زندگیوں سے جڑی باتیں. مگر جہاں سے آئے تھے وہاں سے لوٹنا تھا۔ آنے سے پہلے ایک سوال جو اس سے کیا تھا مجھ سے دوستی کرو گی. اور پھر سے وہ مسکراتے ہوئے سیڑھیاں چڑھ گئی کہ دیکھوں گی سوچوں گی پھر کل پرسوں کچھ کہوں گی. میں گھر واپس آ گئی مگر اسکا انداز منفرد اور ہم دوست بن گئے اور تاریخ نہ دہرائی جا سکے گی اور شاید یاد کرے گی دنیا میرا اور اسکا افسانہ دوستی کی ایسی مثال رقم ہوئی کہ خاندان والے مثالیں دیتے ہیں. بہت سے گلے شکوے رہے۔کبھی یہ رشتہ بہت نازک مقامات سے بھی گزرا کہ مانو ابھی ختم ہوا اور ابھی مگر ایک دوسرے پر یقین نے اس رشتے کی بنیاد رکھی تھی اتنی جلدی کیسے ختم ہو جاتا۔
خون کے رشتوں سے زیادہ یہ احساس کا رشتہ اہم ہو گیا اور اتنا اہم کہ ہر معاملہ میں اسے اہمیت دی جانے لگی۔جیسے دوست کی خوشی ہی سب کچھ ہو۔اسکا دکھ سکھ ہنسنا رونا سب اہم ہو گیا اسکا درد محسوس ہونے لگا۔یونیورسٹی جاتے ہوئے ناشتہ پر زبردستی ہو، میرا چشمہ ڈھونڈ کر دینا ہو، میری گھڑی کلائی میں پہنانی ہو، مجھے ڈانٹنا ہو، تقریری مقابلہ سے پہلے میری ہمت بڑھانی ہو، میری شاعری کو سب سے پہلے سننا، رات کو کھلے آسمان تلے ڈھیروں باتیں کرنا ایک دوسرے کے دن کی روداد سننا اور کتھارسس کرنا سب جڑ گیا تھا۔اسے شاپنگ کا شوق تھا اور مجھے مختلف ریسٹورنٹز میں جانے کا ہر بات ایک دوسرے کی خوشی کے لیے قربانیاں دینا مانو اس دوستی نے 8 سال مکمل کر لیےْ اور اب دوست پیا گھت سدھار گئی۔آج صبح تمھیں رخصت کرنے کے بعد جب وہاں سے لوٹی مجھے دروازے تک چھوڑنے والا کوئی نہیں تھا، اور نہ ہی کوئی گلے لگا کر دعا دے کر نصیحت کر کے بھیجنے والا، وہاں مجھے کوئی تلقین کرنے والا نہیں تھا کہ دوائی وقت پر لینا۔گلاّ خراب ہے ڈاکٹر پاس ضرور جانا۔
دوست تم بہت یاد آتی ہو کیونکہ اب مجھ سے میرا حال پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا مجھ سے یہ کوئی نہیں پوچھتا کہ کھانا وقت پر کیوں نہیں کھایا، ابھی تک گھر کیوں نہیں گئی، مجھے میری موٹو کہہ کر پکارنے والی آواز مصروف ہو گئی ہے اب نئی زندگی میں۔
انسان کبھی کبھار کچھ رشتوں کو ہمیشہ لمحہ لمحہ جینا چاہتا ہے۔کچھ دن یادگار دن بن جاتے ہیں مگر ان کے گزر جانے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ کاش یہ لمحے تھم جاتے۔اب میری آنکھوں کو تمھیں دیکھنے کی عادت ہو چکی ہے مگر اب میری آنکھیں روز خالی رہتی ہیں اور یہ راگ الاپتی رہتی ہیں اسے کہہ دو نظر آ کر اذیت مختصر کر دے۔اب تمھاری میٹھی میٹھی ڈانٹ کی آواز کان میں نہیں گونجتی جو مجھے بار بار کہہ رہی ہو لڑکی تم تھکتی نہیں ہو ایک جگہ بیٹھے بیٹھے، اللہ کتنا موبائل استعمال کرتی ہو تم، میرے پاس آ کر بھی تمھیں فرصت نہیں ملتی اور میں ہر بار مسکرا کر موبائل سائڈ ٹیبل پے رکھ کر تمھارے سامنے بیٹھ جاتی تھی لو بھئی ہو گئی فارغ۔لمحہ لمحہ مسکراتی زندگی اب مسکرانے سے قاصر ہے اور میرا دھیان تمھارے کمرے میں پڑے اس صوفے پر جاتا ہے جہاں گھنٹوں بیٹھ کر ہم باتیں کیا کرتے تھے۔میرا دھیان باہر بالکونی میں جاتا ہے جہاں بہت سی خاموش سسکیاں مجھے آج بھی سنائی دیتی ہیں۔تمھاری ڈائری جس پر کبھی میرے لیے تم نے بہت کچھ لکھا تھا آج اس میں سے میں نے اپنے نام کے سب ورق پھاڑ ڈالے ہیں، وہ رشیں سیلڈ بھی اب وہ ذائقہ نہیں دیتا اور نہ ہی لیز اور مرنڈا کی بوتل میں وہ مزا رہا ہے جو رمضان میں افطاری کے بعد ہم کھایا کرتے تھے۔جانتی ہو اب مجھے گلاب جامن نہیں پسند کیونکہ اس میں اب وہ مٹھاس نہیں رہی۔تمھاری دی ہوئی گھڑی اب ہر روز کلائی پر باندھ کر جاتی ہوں مگر ووت ہے کہ چل ہی نہیں رہا۔ وہ جو پرفیوم تم نے دیا تھا اس میں سے آج بھی تمھاری خوشبو مجھے محسوس ہوتی ہے۔
ممانی اب بھی سوچتی ہیں کہ اب وہ اپنے آنسو کس کے سامنے بہائیں گی کس سے دل کی ساری باتیں کریں گی، پریشانیوں کو کس سے بانٹیں گی، میرے گلے شکوے اب کون سنے گا اب تو تمہیں میری خاموش سسکیاں بھی سنائی نہیں دیتی اور تمہیں لگتا ہے میرا گلا خراب ہے مجھ سے بولا نہیں جا رہا۔
اب بہت جلد اللہ حافظ کہہ کے میرے جواب کا انتظار کیے بغیر فون بند کر دیا جاتا ہے۔
میرے اندر سے آواز آتی ہے کہ تیری آواز میرا دزق ہوا کرتی تھی۔تو مجھے بھوک سے مارے گا مجھے معلوم نہ تھا. خدا کرے جس گھر میں تم گئی ہو وہاں کے لوگوں کو تم ہمیشہ خوش رکھو انہیں تم سے کبھی کوئی گلہ نہ ہو۔محبتوں کے ایسے نشتر بچھانا کہ سب اس کے حصار میں رہتے دم تک رہیں۔






Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved