تازہ ترین  

استاد کا مقام اور ذمہ داریاں
    |     5 months ago     |    گوشہ ادب
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں دوہراہ تعلیمی نظام رائج ہے، اگر والدین صاحب استطاعت ہیں تو وہ اپنے بچوں کو بہترین سے بہترین تعلیم دلوا سکتے ہیں۔۔۔ اندرون ملک یا بیرون ملک جیسے چاہیں ،پریشانی تو متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کے لئے ہے ، متوسط طبقے سےتعلق رکھنے والے افراد کو یہاں پر موجود نسبتاً بہتر اسکول کا انتخاب کرنا ہوتا ہے مگر یہاں بات اسکول یا اس کے کورس کی نہیں بلکہ استاد کی ہو رہی ہے ایک عام متوسط طبقے کے شہری کا بچہ بھی بہترین تعلیم وتربیت حاصل کرسکتا ہے بشرط یہ کہ اسے واقعی استاد اور معلم میسر آ جائے یعنی" علم دینے والا" استاد یعنی سکھانے والا" لیکن کیا واقعی آج موجودہ دور کے استاد ان لفظوں پر پورا اترتے ہیں..؟ سب سے پہلے تو ٹیچرز کے یا استاد کے اصل فرائض کیا ہیں ؟کیا محض کلاس میں آنا طوطے کی طرح بچوں کو رٹے لگوانا،یا مخصوص پلانر کے مطابق پڑھانا ہی استاد کا اصل مقصد ہے۔۔؟ جی نہیں، استاد کو ہمارے مذہب نے جو عزت و احترام دیا ہے جیسے کہ ایک حدیث شریف میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا" مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے "ایک اور جگہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے استاد کی عزت اور احترام کی اس طرح تاکید فرمائی " دنیا میں تمہارے تین باپ ہیں ایک وہ جو تمہاری پیدائش کا سبب بنتا ہے، دوسرا وہ جس نے اپنی بیٹی تمہاری زوجیت میں دی، تیسرا وہ جس سے تم نے علم حاصل کیا اور ان تینوں میں بہترین باپ تمہارا استاد ہے"...جب اس قدر درجہ اور احترام سے نوازا گیا ہے تو یقینا ذمہ داری بھی کس قدر عظیم ہوگی...! استاد کے فرائض میں شامل بچوں کو صرف کتابی علم دینا ہی نہیں بلکہ ان کو تہذیب و تمدن سے لے کہ اٹھنے بیٹھنے اور غرض یہ کہ اپنے رویے سے ان کو سکھائیں کہ کیسے ایک اچھا اور با مقصد انسان بن کر معاشرے میں رہنا چاہیے اور اس کے لیے ضروری نہیں کہ ہم بڑی بڑی باتیں کریں اور کوئی بہت بڑے عمل سے گزرنا پڑے ،بلکہ جیسے کہ بچے جب چھوٹی عمر میں ہوتے ہیں تو ان کے کچے ذہنوں میں سب سے زیادہ وہ جس سے متاثر ہوتے ہیں وہ ان کے استاد ہوتے ہیں وہ جن کی بات چیت کے انداز سے لے کر پہننے اوڑھنے کھانے پینے ان کے غصے ان کی ہر چیز کو اپنے اندر جذب کر رہے ہوتے ہیں اگر ہم ٹائم پر آئیں بچوں سے نرمی سے پیش آئیں ان کے سامنے کوئی ایسی گفتگو نہ کریں جس سے وہ غلط تاثر لیں کیونکہ کچے ذہنوں میں پنپنے والے خاکے بڑے پکے ہوتے ہیں اور زندگی بھر کے لئے اپنا تاثر چھوڑ جاتے ہیں،اس کے علاوہ جب بھی ہم بچوں کو کچھ سکھائے تو ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ وہ اس کو اچھی طرح سمجھ سکیں اور ان کو اتنا اعتماد دیں کہ اگر نہ سمجھے تو وہ بغیر جھجکے ہم سے سوال کریں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ٹیچرز جھنجھلائے ہوئے رہتے ہیں یا کام کا برڈن ہی ٹیچرز پر اتنا ڈال دیا جاتا ہے کہ وہ خود کو جکڑا ہوا محسوس کرتے ہیں، بدقسمتی سے ہمارے استاد کی قدر نہیں مسلسل جان مارنے اور محنت کے باوجود استاد کو وہ عزت اور مقام نہیں ملتا جو اس کا حق ہے نہ اخلاقی نہ معاشی لحاظ سے اگر ایک استاد کو اس کا حق ملے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ استاد بہت بہتر طور پر عملی طور پر اپنا کردار ادا کرسکیں کیونکہ قومی ملت کی تعمیر میں استاد کی اہمیت ہی جز کل ہے۔





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved