تازہ ترین  

پوسٹ اور کیپچر
    |     2 months ago     |    کالم / مضامین
سوشل میڈیا پہ اپنی تصاویر پوسٹ کرنا اور چیک ان کرنے والے کو اصل زندگی میں ناخوش قرار دیا جا چکا ہے. میں بہت دنوں سے اس پہ لکھنے کی کوشش کر رہی تھی آج ٹائم بھی مل ہی گیا. مختلف ادوار میں زندگی گزارنے والوں کا طریقہ اور رہن سہن ہر دوسرے دور کے انسانوں سے مختلف ہوتا ہے. اس پہ واویلا مچانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے. کسی کو سوشل ہونا پسند ہے اور کسی کو اپنی پرسنل سپیس میں رہنا بھاتا ہے. جیسے انسانوں میں introvert , extrovert اور ambivert ہے ٹھیک اسی طرح یہ سوشل میڈیا کا بھی چکر ہے. ایکسٹروورٹ کو تو سوشلائز ہونا ویسے ہی بہت پسند ہے اس لیے ان کی اس طبیعت پہ اختلاف بنتا ہی نہیں ہے. انہیں شور شرابہ اور بھیڑ والی جگہوں میں رہنا ہی اٹریکٹ کرتا ہے. یہ لوگ اکثر باتونی ہوتے ہیں. Ambivet ایسے لوگ ہیں جو دونوں جگہوں میں ایڈجسٹ کر لیتے ہیں. انہیں کبھی شور شرابہ اور مخصوص لمحوں میں تنہائی اچھی لگتی ہے. اب انٹروورٹ کی باری آتے ہیں یہ اپنی پرسنل سپیس مینٹین کرتے ہیں. انہیں شور شرابے میں الجھن ہونے لگتی ہے اور اپنی یا کسی بہت ہی اپنے کی کمپنی میں سکیور فیل کرتے ہیں. ایسے لگ رہا ہے میں ستاروں کا حال لکھ رہی ہوں کہ آج کیا ہونے جا رہا ہے. خیر ! انٹروورٹ خاموش طبع ہوتے ہیں اپنی لمٹس میں رہنے والے اور ذاتیات میں مداخلت سے پرہیز کرنے والے. ایسے لوگ بھی سوشل میڈیا پہ پوسٹ کرلیتے ہیں. بات جہاں تک مجھے سمجھ آئی ہے اس کے مطابق یہ ہے کہ ہم لوگ ڈائری لکھتے ہیں کتابوں کو دوست بنا لیتے ہیں لیکن چونکہ اب قلم کتاب کا رجحان کم ہوتا جا رہا یے تو زمانے کے مطابق تاریخ اور لمحوں کو یاد رکھنا آسان ہو گیا ہے. اس کی راہ سوشل میڈیا نے ہموار کر دیں. اپنے زمانے کے لوگوں کے مطابق بھی جی سکتے ہیں اور میموریز بھی بن جاتی ہیں. اس کا یہ مطلب نہیں کہ لوگوں کو بتانا ہے وہ بس اپنی زندگی کو محفوظ کر لینا ہے. کسی بھی شخص کی زندگی کے متعلق کوئی بھی فیصلہ نہیں سنایا جا سکتا. یہ سب پرسن ٹو پرسن بدل جاتا ہے. سب کی اپنی اپنی ترجیحات ہیں جو سب کے نزدیک اہم ہیں. تو سب سے اچھا کام یہ ہے کہ ہم لوگوں کو ان کے مطابق جینے دیں کیونکہ جو جیسا وہ ویسا یونیک ہے اس جیسا دوسرا کوئی نہیں ہے جو جیسا ہے وہ اپنی حالت کے مطابق خوبصورت ہے ہم سیکھ سکتے ہیں. اور مرنے تک یہ عمل جاری رہتا ہے. تو جی مارکزکربرگ کا شکریہ جس نے ہمیں لمحات کو سنبھالنے کا جدید ذریعہ مہیا کیا. اچھا!! دوسرا پوائنٹ آف ویو تصاویر کے متعلق ہے کہ پہلے لوگ آنکھوں میں مقید کرتے تھے آج کی جنریشن موبائل نکال کے کھڑی ہو جاتی ہے. مجھے دونوں پہ کوئی اعتراض نہیں ہے. وہ لوگ آنکھوں میں محفوظ کرتے ہوں گے اب موبائل ہیں تو لوگ کیپچر بھی کر لیتے ہیں. لیکن طریقہ دونوں کا ایک ہے. کیپچر کرنے کیلئے بھی آنکھ سے دیکھنا پھر اسے محسوس کرنا اور کیپچر کرنا ایک مکمل پراسس ہے. ایسے اندھا دھند تو کوئی بھی کِلک کرنا نہیں شروع کر دیتا ہو گا. ظاہر ہے پہلے منظر آنکھ کو بھاتا ہے پھر دماغ میں محفوظ ہوتا کے اور پھر موبائل میں مختلف اینگل سے محفوظ ہو جاتا ہے. اس لیے دونوں جنریشنز اپنے اپنے طریقے سے ٹھیک جا رہی ہیں. کمپیریزن کرنا سرا سر بےوقوفی ہے. ردا فاطمہ





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved