تازہ ترین  

تیری رہبری کا سوال ہے۔۔۔
    |     4 months ago     |    افسانہ / کہانی

''معاف کیجیے گا۔۔۔ میں یہ جاب نہیں کر سکتی۔۔۔۔میرا ضمیر ابھی زندہ ہے''
ڈینٹل کلینک کا سی ای او ہکا بکا رہ گیا۔۔۔ڈاکٹر ماہین ایک لاکھ تنخواہ کی آفر ٹھکرا کر جا چکی تھی۔۔
۔۔۔۔
بی ڈی ایس کے بعد ماہین کا ہاؤس جاب مکمل ہوے ابھی دو ماہ ہی ہوے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب وہ نوکری کی تلاش میں تھی ہاں ساتھ ساتھ ایف سی پی ایس پارٹ ون کی تیاری بھی زورو شور سے جاری تھی۔
اسی دوران اس نے اخبار میں ضرورت براۓ ڈینٹسٹ کا اشتہار دیکھا۔ کلینک سرگودھا میں تھا جب کہ ماہین اٹک کی رہائشی تھی۔ اس نے کال کر کے ساری تفصیلات حاصل کر لیں۔ وہ نا صرف سیلری پیکج اچھا دے رہے تھے بلکہ ان کے پاس رہائش کا بھی معقول انتظام تھا۔ آپشن اچھا لگا اور اس نے جاب کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ سی وی میل کر دی۔ اب تو جب بھی لیپ ٹاپ کھولنا ہوتا وہ سب سے پہلے میل چیک کرتی کہ شائد کہیں جاب کا سندیسہ آیا ہو۔ آخر کار اس کی امید بر آئی اور ایک دن یونہی بے دلی سے میل چیک کرتے ہوے اس کی آنکھیں چمک اٹھیں، میل کلینک کے سی ای او کی طرف سے تھی۔ اس کی سلیکشن ہو چکی تھی۔
سازو سامان سے بھرے ہوے تین بیگ اور ایک بڑا سوٹ کیس تیار کیا گیا۔ آخر کو اسے سرگودھا جانا تھا جوگھر کے قریب تو ہر گز نہ تھا۔
تیاریوں ہی میٖں جائننگ کا دن بھی آن پہنچا۔ ماں کی ڈھیروں دعائیں لیے وہ ابو کے ہمراہ عازم سفر ہوئی۔
راستے میں قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہوے وہ ٹرمینل پر پہنچ چکے تھے۔
ادھر سے اوبر سروس حاصل کی اور وہ بظاہر اپنی منزل پر پہنچ چکی تھی۔
''السلام علیکم سر!''
''وعلیکم السلام۔۔۔۔ جی تشریف رکھیں''
رسمی بات چیت چلتی رہی۔
''آپ اپنا پی ایم ڈی سی سرٹیفیکیٹ مجھے دیجیے گا وہ میرے پاس رہے گا''
ماہین کو شک گزرا۔۔۔
''کیا آپ کے کلینک کے ساتھ اٹیچ لیب ہے یا آپ ہیپاٹائیٹس سی اور دیگر ٹیسٹ وغیرہ کے لیے کسی اور لیب میں ریفر کرتے ہیں؟؟
ماہین کا سوال بہت اہم تھا۔ ہیپاٹائیٹس سی اور دیگر خون کے ذریعے منتقل ہونے والی بیماریوں کے پھیلنے کی ایک بڑی وجہ ٹیسٹ نہ کروانا ہے۔ استعمال شدہ اوزار چند منٹوں میں ایک نارمل فرد کو جان لیوہ امراض کی دلدل میں پھینک دیتے ہیں۔
''نہیں۔۔۔۔ ہمارا کسی لیب سے کوئی واسطہ نہیں۔۔۔۔۔ مریض سے ہم پوچھ لیتے ہیں کہ آیا ان کو ایسی کوئی بیماری ہے یا نہیں''
''مطلب اگر وہ نہ بتائیں تو۔۔۔۔۔۔''
''ایسی تو کوئی بات نہیں۔۔۔وہ بھلا کیوں نہ بتائیں گے۔۔۔۔ مریض لازمی بتاتے ہیں''۔
ماہین کا شک یقین میں بدل چکا تھا۔
چند منٹ لگے تھے اسے فیصلہ کرنے میں۔۔۔۔۔ اور پھر اس نے جاب سے انکار کردیا۔
۔۔۔۔۔۔۔
''مجھے ڈاکٹر ماہین کی آج کی اپائنمنٹ چاہیے''
''سوری سر۔۔۔ آج کی تو کیا۔۔۔ اس پورے مہینے کی اپائنمنٹس کی بکنگ ہو چکی ہے''
ماہین کا اسسٹنٹ کال پر مریض کو آگاہ کر رہا تھا۔
چلیں جب کی بھی ہے۔۔۔ روٹ کینال میں یہیں سے کرواؤں گا کیونکہ ڈاکٹر ماہین ہر مریض کا ہر ٹریٹمنٹ پورے پروٹوکول کے ساتھ کرتی ہیں''
ایف سی پی ایس مکمل کرنے کے بعد اس نے ذاتی کلینک پر پریکٹس شروع کر دی تھی۔
وہ غیر قانونی لاکھ ٹھکرانے والی آج قانونی کئی لاکھوں میں کھیل رہی تھی۔ 





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved