تازہ ترین  

اسلام اور خواتین کے حقوق"‎
    |     2 months ago     |    کالم / مضامین
8,مارچ جو کہ پچھلے کہیں سالوں سے خواتین کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ھے ۔ ۔
اگر ہم "خواتین" کی بات کریں تو اُس کیلئے کسی ایک مخصوص دن کی ضرورت نہیں، کیونکہ ہر دن ہی عورت کا ھے، اُس کے بغیر نہ تو دنیا کا نظام چل سکتا ھے ....اور گھر، گھر نہیں لگتا، عورت کے بغیر......
تو آج بات کرتے ھیں اُس عورت کی، جو اپنا ہر دن اپنے فرائض سرانجام دینے میں لگی ھے، بلا ناغہ بغیر چُھٹی، جس کا اتوار بھی خالی نہیں کاموں سے ۔
اِسلام ہی وہ واحد مذہب ھے جس نے خواتین کو اُن کے حقوق کی فراہمی کیلئے قرآن مجید میں مختلف جگہوں پر عورتوں کے حقوق پر زور دیا ، جبکہ باقی مذاھب میں خواتین کو اُن کے بنیادی حقوق حاصل نہیں ۔ ۔

اسلام میں صنفی کردار دو قاعدہ اصولوں کے ساتھ رنگا رنگ ہیں:
(1): خواتین اور مردوں کے درمیان روحانی مساوات..
اور
(2): یہ خیال ، کہ عورتوں کے لیے نسوانیت ہے اور مردوں کے لیے مردانگی . [28]

عورتوں اور مردوں کے درمیان روحانی مساوات سورت الحمد (33:35) میں بیان کی گئی ہے:

"بے شک جن لوگوں نے خدا کو تسلیم کیا اور عورتیں جو تسلیم کر تی ہیں اور جو ایمان لائے اور (عورتیں ) جو ایمان لائیں اور جو لوگ فرمابردار ہیں اور عورتیں جو فرماں بردار ہیں اور جو لوگ سچے ہیں اور عورتیں سچّی ہیں اور جو لوگ زکوۃ دیتے ہیں اور عورتیں جو زکوۃ دیتی ہیں اور جو روزہ رکھتے ہیں اور عورتیں جو روزہ رکھتی ہیں اور جنہوں نے اپنی عزت کی حفاظت کی اور عورتوں جنہوں نے اپنی عزت کی حفاظت کی اور جو خدا کو یاد رکھتے ہیں اور جو عورتیں خدا کو یاد کرتی ہیں تو خدا نے ان کے لیے بخشش اور وسیع اجر تیار کر رکھا ہے۔"

اسی طرح اسلام واضح الفاظ میں کہتا ھے کہ عورت جنس نہیں بلکہ ایک جسم بھی ھے، جبکہ آج کے معاشرے کے کچھ لوگوں کی سستی سوچ صرف اُس کے جسم تک کی رسائی چاہتی ھے، اُسے اپنی ضرورتوں کا مرکز سمجھنے کے سوا اۃس کے احساسات کو چھلنی کر دیا جاتا ھے ۔
ہر رشتہ عورت سے ہی قائم ودائم ھے:
ماں... ، بیٹی، بہن، بیوی____

"کسی کی عزت، کسی کا مان،
کسی کا غرور تو کسی کی مُحبت
عورت کا یر روپ ہی نرالا".....
عورت کو سنفِ نازک کہا گیا ھے، وجہ اُس کا پسپا حوصلہ یا پھر جنس نہیں، وجہ ھے اس کا حساس ہونا، اُس کا ہر رشتے کی دل سے قدرو محبت، عورت کی حساسیت ہی اُسے مرد سے جُدا کرتی ھے ،کیونکہ مرد میں قوتِ برداشت، اور حساس عورت کے مقابلے میں کہیں گناہ کم ہوتا ھے ۔
خواتین کی تعلیم کی تاریخ کی بات کریں تو یہ بہت پرانی ھے:
جیمز ای لنڈسے نے کہا :
کہ اسلام مسلم عورتوں کے مذہبی تعلیم کو فروغ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے.
[46] صحیح مُسلم کی حدیث کے مطابق (الگ الگ حدیثوں میں ائیشہ و محمد منسوب ہے)۔ انصار کی عورتوں کی قابل تعریف تھیں کیونکہ اسلامی شرعی قانون کے بارے میں مفید سوالات کرنے سے وہ شرمندہ نہیں ہوتی تھیں.

جبکہ خواتین کا رسمی مذہبی اسکولوں میں طلبہ کے طور پر داخل ہونا عام نہیں تھا، لیکن خواتین کے لیے مساجد، مدرسے اور دیگر عوامی مقامات پر غیر رسمی لیکچرز اور مطالعہ کے سیشن میں حصہ لینا ایک عام بات تھی۔
1930، تک 2.5 ملین لڑکیوں نے اسکولوں میں داخلہ لیا جس میں 0.5 ملین مسلمان لڑکیاں شامل تھیں۔
اسلام عورت کو وراثت سے لے کر اچھی تعلیم وتربیت تک کے حقوق میں برابری کی تلقین کرتا ھے....





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved