تازہ ترین  

عورتوں کا عالمی دن اور میرا موقف
    |     2 weeks ago     |    کالم / مضامین
آج خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے کچھ خواتین کی تصاویر نظر سے گزریں جو لاہور ،اسلام آباد اور کراچی میں کسی ریلی میں خواتین کے حقوق کے لئے اپنی طرف سے احتجاج میں مصروف تھیں ۔میں ان تصاویر کو دیکھ کر چکرا گئی ۔ان خواتین کے حلئے اور پکڑے ہوئے بورڈز دونوں ہی سونے پر سہاگہ تھے۔ ان بورڈز پر جو مطالبات لکھے تھے وہ بالکل غیر فطری اور نامناسب تھے۔ میرے اندر ایک سناٹا سا پھیل گیا ۔ہماری پڑھی لکھی خواتین کب آزادی اور بے حیائی کے امتیاز کو بھول گئیں؟کیا پڑھی لکھی خواتین قرآن پاک اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات بھول چکیں ہیں جو ایسے بورڈز لکھتے ہوئے اور لہراتے ہوئے انھیں فخر محسوس ہوا۔ہم بیرون ملک مقیم مسلمانوں کی اکثریت فخر سے سکارف پہنتی ہے ۔ہم بہت فخر سے بطور مسلمان خاتون اپنی پہچان لوگوں سے کرواتے ہیں ۔
ہمیں خواتین کا عالمی دن ایک ہی دن کیوں منانا ہے؟
میرے نزدیک ایک مسلمان معاشرے میں ہر دن خواتین کے عالمی دن جیسا ہونا چاہیے کیونکہ ہمارے رب کریم نے عورتوں کو عزت و وقار چودہ سو سال پہلے ہی بن مانگے دلا دیا تھا۔ہمارے پیارے نبی پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بی بی فاطمہ رضی تعالی کے ساتھ شفقت پدرری کی ایک ایسی خوبصورت مثال قائم کی جو رہتی دنیا کے لئے ایک مثال ہے۔ میرے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ازدواج مطہرات کے ساتھ اپنی زندگی کی ایسی عملی مثال امت کے سامنے رکھ دی جو بینا کے لئے ایک سبق ہے کہ اپنی ازدواج کے ساتھ کیسے سلوک کرنا ہے۔
میرے نبی نے دائی اماں حلیمہ کے ساتھ شفقت برت کر یہ واضح کردیا کہ اگر پالنے والی ہستی کا یہ مقام و مرتبہ ہے تو ہمارا دین پیدا کرنے والی ماں کو کیا اعلی مقام عطا کرتا ہے۔ ہمارے مذہب اسلام میں عورت کے حقوق و فرائض کا بھرپور خیال رکھا گیا ہے ، قرآن پاک میں ہر جگہ عورتوں کا زکر مردوں کے ساتھ ساتھ کیا گیا ہے۔ ہمیں جابجا قرآن پاک میں ایمان والیاں، روزے رکھنے والیاں ، مومنات کا زکر خیر نظر آتا ہے۔ قرآن پاک میں ہمیں حضرت مریم رضی تعالی عنہ اور حضرت آسیہ رضی تعالی کا زکر خیر نظر آتا ہے وہیں حضرت عائشہ رضی تعالی عنہ کی پاکبازی کی گواہی کی آیات بھی نظر آتیں ہیں ۔جس مذہب میں عورت کا مقام اس قدر بلند ہے وہاں اس مذہب کے ماننے والوں میں آج یہ تنزل کیوں نظر آرہا ہے؟
یہ ایک اہم سوال ہے۔اگر ہم گرد و پیش میں نظر ڈالیں تو افسوس اس بات کا ہے کہ آج کے دور میں عورت کا استحصال حد درجہ نہ صرف بڑھ گیا ہے بلکہ عام ہوچکا ہے۔ ۔یہ استحصال تعلیمی، معاشی ، معاشرتی،سیاسی، جنسی غرض ہر میدان میں عام ہوگیا ہے۔ ہماری عورت آج بھی پڑھ لکھ کر بھی محتاج اور بے بس یہ ہے۔ اسلام نے عورت سے تعلیم کا حق نہیں چھینا بلکہ علم کے حصول کی تلقین کی ہے۔ہمارے مذہب نے عورت سے نوکری یا ترقی کا حق ہرگز نہیں چھینا بلکہ معاشرے کی نام نہاد فرسودہ روایات نے یہ حق ان سے چھینا ہے۔ہم آج بھی شادیوں کے فیصلے میں لڑکیوں کی مرضی و منشا کو مقدم رکھے بغیر ان کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانک دیتے ہیں جبکہ ہمارا مذہب لڑکی کے اذن کو بہت ضروری قرار دیتا ہے۔آج کی عورت کو جنسی استحصال کا نشانہ بھی بنایا جارہا ہے۔اس کی وجہ بھی اسلام سے دوری ہے۔ آج کی عورت وراثت سے محروم ہے جبک اسلام نے اسے ورثے میں حصہ کا حق دیا ہے ۔میری نظر میں تمام مسائل کا حل ممکن ہے اگر ہم ضابطہ حیات اسلام کی رسی مضبوطی سے تھامے رکھیں ۔
اس ضمن میں عورتوں کو بھی بہت زمہ دار ہونے کی ضرورت ہے۔کھلے بال، مغربی لباس ترقی کی بنیاد نہیں ہے، آپ خواتین مغربی عورت کی زندگی سے ہرگز واقف نہیں ہیں ۔ میں آپ کو اس مغربی عورت کی کہانی سناتی ہوں ۔مغربی عورت کو تو میک اپ اور کپڑوں کی پروا تک نہیں ہے۔وہ روزگار کی فکر میں گرفتار ہے ۔اسے شہزادی بنا کر کھلانے والا کوئی نہیں ہے۔وہ خود کماتی ہے، گھر میں ضرورت پڑنے پر ترکھان، پینٹر ،مالی ،باورچی ،ڈرائیور اور نہ جانے کتنے بےشمار رول ادا کرتی ہے۔ مغربی عورت سڑک بھی بناتی ہے ، ٹرک بھی چلاتی ہے ، وہ سخت محنت کش ہے، اس کا سودا سلف اس کا میاں نہیں اٹھاتا وہ خود اٹھاتی ہے۔ وہ ماں بھی ہے ،بیٹی بھی ہے۔اس پر بے شمار زمہ داریوں کا پہاڑ ہے۔کیا آپ سب اس کے لئے بھی تیار ہیں یا صرف مغربی ملبوسات کا استعمال ہی آپ کے نزدیک آزادی کے پیامبر ہے۔
میرے مطابق خواتین کا عالمی دن صرف ایک دن پر محیط نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہمیں اپنی زندگیوں میں، معاشرے میں، اپنی اقدر و روایات میں ایسی مثبت تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے کہ ہمیں ہر دن خواتین کے عالمی دن جیسا لگے۔ یہ دن امریکہ میں عورتوں کے احتجاج سے شروع ہوا تھا کیونکہ فیکٹری میں سلائی کرنے والی ورکر خواتین کو "عورت " ہونے کے باعث پوری اجرت ادا نہیں کی جارہی تھی ۔ایک مغربی معاشرے میں عورت کے حقوق کی پامالی کی وجہ نظر آتی ہے ، مگر اسلامی معاشرت میں اس کی گنجائش قطعی نہیں نکلتی۔ چلیں آپ اور ہم مل کر عہد کریں کہ ہماری زندگیوں، خاندانوں اور معاشرت میں اسلام کے اصولوں اور نظریات کی بالا دستی پھر سے قائم کریں گے ۔اس طرح شمع سے شمع روشن ہوتی جائے گی اور روشنی کا کارواں چلتا رہے گا۔





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved