تازہ ترین  

بُوجا بچہ جاگدا ہی جاگدا
    |     3 weeks ago     |    کالم / مضامین

اسلاف یا اجداد کی جانب سے چلی آنے والی داستانیں لوک کہانیاں کہلاتی ہیں ۔ لوک کہانی میں حقیقت اورسچائی تو نہیں ہوتی لیکن کچھ نہ کچھ سبق ضرور ہوتا ہے۔مائیں کہانی سنایا کرتی تھیں تو ہم بڑی دلچسپی سے سنتے تھے ۔ایک تو اپنی ماں بولی کی مٹھاس اور پھر ماں کی شیریں زبان مزید دلچسپی پیدا کر دیتی تھی ۔،،بوجے بچے ،،کی کہانی بھی ہم نے اپنے بڑوں سے کئی بار سنی تھی اور اب مدتوں بعد پڑھی بھی ہے ۔میں اسے اپنی ماں بولی پہاڑہی زبان میں ہی یہاں نقل کر رہا ہوں ۔
،،کسے ملخے وچ ہیک بڈھی سی۔جہیڑی ایہھاں دے انسان نیدری اینی سی ۔لیکن وچا او چڑیل سی۔اُس جہیڑا کوئی انسان لبنا سا اُس کی کھائی شوڑنی سی۔ہیک دفعہ ہیک جنگت کوتے جلنا سا دے اُس رات پئی گئی۔اُس سوچیا کہ کوتے جاغ لبے تے رات گزاراں۔اے سوچی تھوڑا اگے لنگتھیا دے اُس ہیک کوٹھی نیدری آئی ۔او جلنا جلنا اُس نے اگوال گیا ۔تے دیکھنا کہ اُتھیں ہیک بڈھی اماں دی۔اُس اماں کی آخیا کہ میں کی رات گزارے نی جگہ لبسی ؟۔اماں تے پہلے تھی ہے لوڑنی سی کہ کوئی بندہ بشر لبے تے میں اُس کی کھاں۔اماں چٹھ کری بولی ۔کیاں نئی بچیا تو مہاڑا کول رات گزار۔او جنگت اماں کول ٹیغی گیا۔
پتہ نئی راتیں کویاں اُس جنگتے شک پیا کہ اے بڈھی میں کی کھائی شوڑسی ۔او لیٹیا تے سئی لیکن سوتیا نہیں ۔بڈھیا سوچیا کہ ہون سئی گیا ہوسی ۔اٹھی تے دند پلیرنے لگی۔جنگت بولیا ۔بڈھی اماں کہہ چٹکانی ؟کہہ مٹکانی؟،،بوجا بچہ جاگدا ہی جاگدا،،
اے گل بُجی تے بڈھی بولی۔بوجا بچہ کویاں سانا؟۔جنگت بولیا ۔اپنی ماں ہونی سی تے سرے پکائی دینی سی تے کھائی دے سونا ہونا سیس۔بڈھیا اٹھی تے سرے پکائے ۔بوجے بچے کی دیتیون کہ کھائی دے سئی وے۔بوجا بچہ سرے کھائی تے لیٹی گیا ۔بڈھی فیر دند پلیرنے لگی۔جنگت بولیا ۔بڈھی اماں کہہ چٹکانی ؟کہہ مٹکانی؟،،بوجا بچہ جاگدا ہی جاگدا،،
بڈھی بولی۔بوجا بچہ کویاں سانا ہونا؟۔جنگت بولیا ۔اپنی ماں ہونی سی تے مانیاں پکائی دینی سی تے کھائی دے سونا ہونا سیس۔
بڈھیا اٹھی تے مانیاں پکائیاں ۔بوجے بچے کی دیتیون کہ کھائی سائے۔بوجا بچہ مانیاں کھائی تے مُڑی لیٹی گیا ۔بڈھی فیر دند پلیرنے لگی۔جنگت بولیا ۔بڈھی اماں کہہ چٹکانی ؟کہہ مٹکانی؟،،بوجا بچہ جاگدا ہی جاگدا،،
بڈھی بولی۔تُو کویاں سانا ہونا؟۔جنگت بولیا ۔اپنی ماں ہونی سی تے پٹھے پرونے اوپر پانی آنی دینی سی دے پی دے سئی ہونا سیس۔
بڈھی اٹھی دے پرون ہنی دے پانی آندیے گئی۔لیکن پٹھے پرونے وچ پانی پینا ہے ناسا ۔ایہھے کی کرنیاں لو ہوئی گئی تے جنگت کھانونے تھی بچی گیا ۔
یہ کہانی پہلے سنی تھی ۔اب پڑھ کر خوشی ہوئی کہ اس طرح کی تیس لوک کہانیوں کو ڈاکٹر محمد صغیر خان صاحب نے اپنی ماں بولی میں، کتابی شکل میں محفوظ کیا ہے۔کتاب کا نام ،،پہاڑی لوک کہانیاں ،،ہے۔اور اس میں خالص پہاڑی زبان استعمال کی گئی ہے۔بندہ پڑھتا جاتا ہے اور مسکراتا جاتا ہے ۔اس میں میں ،،لون رانے ،،یعنی نمک کی بیجائی کرنے والے دو بھائیوں کی کہانی بھی ہے۔اس میں ،،بچہ پہوتو۔تل پورے۔صبر صبر،،والی کہانی بھی ہے ۔ساری کہانیاں بھول گئی تھیں لیکن پہاڑی لوک کہانیاں پڑھ کر بچپن کا سارا زمانہ یاد آگیا ۔
ڈاکٹر صاحب نے مختلف موضوعات پر اپنی ماں بولی میں کتابیں لکھ کر پہاڑی زبان پر بہت بڑا حسان کیا ہے ۔بہت سارے الفاظ اور چیزوں کے پہاڑی نام میں بالکل ہی بھول چکا تھا ۔آج ایک تحریر لکھتے ہوئے بڑے بھائی صاحب کو فون کر کے چیزوں کے نام پوچھنے پڑے ۔
کوئی تین سال پہلے ایک خاتون اپنے بچے کے بارے میں بتارہی تھیں کہ بچہ قرآن حفظ کر رہا ہے ۔میں نے پوچھا کہ کتنے پارے یاد کر لیے ہیں کہنے لگی،، ٹونٹی فیکس،،ہو گئے ہیں ۔کافی دیر سوچتا رہا کہ ،،یہ گنتی کا کون سا ہندسہ ہے آخر بچہ میری پریشانی سمجھ کر خود ہی بول پڑا کہ انکل چھبیس پارے ہوئے ہیں ۔
دنیا بہت ایڈوانس ہوگئی ہے ۔سوشل میڈیا کا دور ہے ۔لائیک اور کمنٹ انگلی کے ایک ہلکے سے اشارے سے ہوجاتا ہے ۔ایسی صورت حال میں پہاڑی زبان پر کام ایک بے فائدہ سا کام لگتا ہے ۔لیکن یہ بہت ضروری ہے ۔ہمارا ادبی سرمایہ چاہے وہ لوک کہانی کی شکل میں ہو یا لوک گیت کی شکل میں ہومحفوظ ہونا چاہیے ۔ڈاکٹر صاحب کی ان کاوشوں کو میں سیلوٹ پیش کرتا ہوں کہ انھوں نے بہت حد تک پہاڑی ادبی سرمائے کو محفوظ کیا ہے۔ڈاکٹر صاحب سمیت وہ تمام لوگ جو کسی نہ کسی صورت میں اپنی ماں بولی کے لیے کام کر رہے ہیں ان کی محنت قابل ستائش ہے۔پہاڑی لوک کہانیاں ایک چھوٹی سی کتاب ضرور ہے لیکن پہاڑی ادب کا ایک بہت بڑا خزانہ ہے۔اس میں ماں بولی کی مٹھاس بھی ہے اور دادیوں،نانیوں،پھوپھیوں ،ماوْں اور بڑی بہنوں کی یادیں بھی ہیں۔
آخر میں ڈاکٹر صاحب کی ہی کتاب،، دیواہ بلنا رہ،،سے ایک شعر نقل کرتا ہوں
ساہڑی جیڑی بولی دی
اے دی بہوں میٹھی
دویا کسے بولیا وچ
اے مٹھاس نئی جیٹھی
ترجمہ: ہماری جو زبان ہے۔ہے یہ بہت میٹھی۔دوسری کسی زبان میں ۔یہ مٹھاس نہیں دیکھی





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved