تازہ ترین  

آپکی بات خصوصی ایڈیشن۔۔۔۔۔مائکروف (مائکروفکشن)۔
    |     3 weeks ago     |    افسانہ / کہانی

بھیانک خواب ۔۔۔تحریر :حنا شاہد

وہ بکھر کے ریزہ ریزہ ہوا فٹ پاتھ پہ بیٹھا آہوں سسکیوں سے اپنے وجود کے ہر ہر ٹکرے کو بے دردی سے نوچ رہا تھا۔آج برسوں بعد اسے اپنی محنت کا صلہ ملا اور وہ بھی گھاٹے میں گیا۔اس کی تکلیف ،درد اور محرومی سے کوئی آشنا نہ تھا شاید اس کا باپ بھی نہیں۔جس خواب کو پورا کرنے کیلے وہ یہاں تک آیا تھا وہ خواب ہی سراب تھا۔صرف یہی کیوں بچپن سے اب تک دیکھے گئے سارے خواب ہی ایسے تھے۔نامکمل۔۔۔۔ادھورے۔۔۔۔ٹوٹے ہوئے۔ہاں ایسے ہی تو تھے ,ابا کہتے تھے انہیں بڑا شوق ہے کہ ان کی اولاد ڈاکٹر بنے۔بس کسی طرح بھی بنے وہ ہر صورت میں اپنے بچوں کو ڈاکٹر بنانا چاہتے ہیں۔ اور یہی ان کی پہلی اور آخری خواہش ہے۔غریب ابا ،جن کے ہاتھ میں آنا نہ دھیلا اور خواب دیکھتا تھا بڑے بڑے۔جانتا تو تھا اگر آگے بڑھنے کیلئے صرف ذہانت ہی ضروری ہوتی تو خود وہ کسی عدالت میں جج ہوتےیا پھر کوئی بہت بڑے افسر ہوتے ۔لیکن گھر میں تو فاقے پڑتے اور وہ بننے چلے افسر جج ہونہہ!بات تو ساری تھی ہی وسائل کی ، وہ جو نہ تب تھے نہ اب ۔
لیکن ابا کے سر پر نجانے کیوں کم از کم ایک اولاد کو ڈاکٹر بنانے کا جنون سوار ہو گیا تھا اور پانچ اولادوں میں صائم ان کا اکلوتا بیٹا تھا۔پڑھنے میں ذہین اور باپ کی طرح ہی بڑے بڑے خواب دیکھنے والاـلیکن اتنے بڑے خوابوں کیلے جو رقم چاہیے تھی وہ ابا کے پاس تو ہر گز نہ تھی۔ابا بھی وقت کے ساتھ اپنے شوق میں مزید جنونی ہوتا گیا اور ساتھ میں ِاسے ہڈحرامی اور نالائقی کے تانے دیتا۔ جیسے سب اس کے ہاتھ میں ہی تو ہے ۔ اور وہ تو پھر جوان خون تھا جوش میں آیا اور سب چھوڑ چھاڑ سات سمندر پار آ یٹھا۔دن رات کام کرتا اور پیسے کماتا۔پردیس میں پہلا خوشی کا دن اس کے لیے تب تھا جب بہن کا میڈیکل میں ایڈمیشن ہوگیا۔
اب تو مقصد ہاتھ آگیا۔دوسری بہنیں بھی اچھے سکولوں کالجوں میں پڑھنے لگیں۔اپنی کمائی بہن کو ڈاکٹر بنانے پہ لگاتا رہا۔ اور وہ دن جب اس کے نام کےساتھ ڈاکٹر لگا تھا ابا خوشی سے پھو لا نہیں سمارہا تھا۔اندھیرے میں چراغ جل گیا تھا۔وہ خود بھی تو اتنا ہی آسودہ تھا۔جیسے مقصد حیات مل گیا ہو جیسے سرمایہء کل ہاتھ لگ گیا ہو۔وقت مزید آگے سرکا تو ڈاکٹرنی کیلئے برادری میں ڈاکٹر ملنا زندگی موت کا مسئلہ ہوگیا۔اماں ابا کی ایک بار پھر نیندیں حرام ہوگیئں۔ سالوں کے انتظار کے بعد ہر طرف سے مایوس ہو کر انہیں ڈاکٹر بیٹی کو ایک دبئ میں رہنے والے انجینئر سےہی بیاہنا پڑا۔
داماد اچھا تھا خوب کھاتا پیتا گھرانہ تھا۔لیکن انہیں دھچکا تب لگا جب داماد جی نے ڈاکٹر بیٹی کو نوکری کرنے سے سختی سے روک دیا اور قوم کا ایک ڈاکٹر اپنے گھر میں قید کرکے سرشار ہوگئے۔
اماں ابا نے بھی وقت کی ریت رواج سمجھ کے ہاں میں ہاں ملائی
"کہ جی ,جسے سائیں راضی ویسے ہم راضی ...ہمارا کام تو تھا پڑھانا اور علم دلوانا باقی تم جانو تمہارا کام جانے " وہ ہاتھ سے ہاتھ جھاڑ کے سائیڈ پہ ہوگئے
۔لیکن صائم۔۔۔وہ بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپ تڑپ اٹھا۔ساری عمر کا سودوزیاں، جمع پونجی اور قربانی منوں مٹی تلے دب گئ اور وہ خود تو شاید بہت پہلے ہی اپنے خوابوں کو دفن کرتے ہوئے ساتھ ہی دفن ہوگیا تھا۔ بڑا ہی بھیانک کھیل کھیلا تھا مقدر نے اس کے ساتھ۔اور وہ اسی کھیل میں مست اپنی ساری جوانی تیاگ گیا تھا۔
٭٭٭٭٭ 

چٹھی رساں۔۔۔تحریر ـــــ شہلا کلیم

گھنیری پلکوں کے سائے میں ان گنت سپنے سجائے وہ کالج میں داخل ہوئی حیا کی پیکر، وفا کی دیوی، اسم بامسمی، پری زادپریشے----- خالص مشرقی لباس میں ناگن کی طرح بل کھاتی اور کمر پہ جھولتی سیاہ لمبی چوٹی نے کتنوں کے دل پہ سانپ لوٹا دئیے تھےـ
سفر شروع ہوا اور وہ عزت و عصمت کا پروانا لیے حیا کا مجسمہ بنی رہی، مگر کب تک؟؟ بدلتے موسم طبیعت پہ خاصہ گہرا اثر چھوڑتے ہیں ـ
آب و ہوا کی تبدیلی نے اس کی طبیعت پر بھی کاری ضرب لگائی ـ
زندہ وجود کے پہلو میں دل ہو اور وہ نہ دھڑکے یہ کیونکر ممکن ہے؟ انتھک کوششوں کے باوجود وہ خود پر قابو نہ رکھ سکی دل دھڑکا--- اور اس زور سے دھڑکا کہ اس کی صدا سب کو سنائی دی--- جھکی نگاہیں اٹھیں، ٹکرائیں اور گھنیری پلکوں تلے چھپے خواب بے حجاب ہو گئے--- سینے میں پوشیدہ دل کسی کے نام پر تیزی سے دھڑکنے لگا وہ جو سب سے جدا تھا گھمنڈی، بدمزاج، بلکل غیر سنجیدہ مگر پرکشش شخصیت کا مالک ـ ان دونوں کو یہ جملہ ایک دوسرے کے قریب کھینچ لایا تھا کہ مخالف صفات اٹریکشن کا باعث ہوتی ہیں ----
عادات و اطوار میں وہ بلکل اس کی اکلوتی سہیلی اور ہمراز شیریں سے مماثلت رکھتا تھاـ وہ بھی اپنے نام پہ کھری اترنے والی، لہجے میں ایسی مٹھاس لیے کہ لوگ چپک کر رہ جاتے، بلا کی شوخ اور چنچل، حسن میں بھی اپنی مثال آپ ـ پریشے کی سادگی کا یہ عالم کہ اس کی شوخیوں بھرے خطوط کا جواب بھی شیریں لکھتی اور انہیں منزل مقصود تک پہنچانے کا کام بھی اسی کے ذمے تھاـ المختصر وہ ایک "چٹھی رساں کبوتر" کا کام بخوبی انجام دے رہی تھی ـ جی ہاں کبوتر، بے زبان کبوتر جو سنتا اور دیکھتا تو ہے مگر کہہ نہیں سکتا اور محبتوں کے تمام پیغامات اپنے ننھے سے دل کے وسیع و عریض قبرستان میں دفن کر دیتا ہےـ وہ بھی سنتی دیکھتی اور---- اور محسوس کرتی---- جانے کیا---!
وقت قطرہ قطرہ کرکے بہتا گیا، حال ماضی کا ایک قصہ بنا، خوبصورت دن اور حسین شامیں کہیں پیچھے چھوٹ گئے، عزیز دوست دنیا کی بھیڑ میں جانے کہاں گم ہو گئے، شوخ قہقہوں کی گونج ماضی کی ایک یاد بنی، کالج کے دن ہوا ہوئے اور سب نے اپنی اپنی منزل کی راہ لی ـ رابطے تو رہے مگر تسلسل نہ رہاـ
ڈور بیل مسلسل بجے جا رہی تھی وہ بڑبڑاتی ہوئی دروازے تک پہنچی سامنے سر سے پاؤں تک خاکی لباس میں ملبوس ڈاکیہ کھڑا تھاـ پریشے کا دل خوشی اور حیرت کے ملے جلے احساس سے ڈولنے لگاـ چٹھی رساں نے اس کے نام کا ایک لفافہ تھما دیاـ
"منجانب شیریں
وہ من ہی من مسکرائی---
"اوہ تو یہ تھا اس کا سرپرائز
اس نے بیتابی کے عالم میں اپنی ہر دلعزیز دوست کی جانب سے آنے والا لفافہ چاک کیاـ لفافے سے ایک کارڈ برآمد ہوا---شادی کارڈ-- وہ چونکی اور بے صبری سے کارڈ کھولا جس پر جلی حروف میں دو نام چمک رہے تھےشیریں ویڈس فراز
اتنی بڑی خوشخبری پاکر وہ خوشی سے جھوم اٹھی تھی مگر یک لخت-فراز---وہ فراز پر اٹک گئی ولدیت دیکھ کر دنگ رہ گئی---- یہی تو تھا فراز احمد---
کچھ تھا جو بڑی بے دردی سے اس کے اندر ٹوٹا تھاـ مگر اس بار صدا صرف اس کو سنائی دی ـ اس نے پانیوں کی لکیروں سے بھری آنکھیں جھکا لیں اور گھنیری پلکوں تلے تمام خواب ڈھانپ لئے-
"کچھ چیزیں بے حجاب ہو جائیں تو اپنی وقعت کھو دیتی ہیں-" یہ سوچ کر اس نے لفافہ نذرِ آتش کر دیاـ خواب جل کر راکھ ہو گئے، چشمِ تمنا بجھ گئی----! 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 قیدی۔۔۔۔۔ تحریر: صاحب کپور

مجھے بابا دکھائی نہیں دے رہے، یہ میرا وہم ہے یا وہ سچ میں یہاں موجود نہیں۔ یہ جگہ کیسی ہے۔! یہ کوئی جیل نما جگہ ہے یا واقعی جیل۔!! مجھے سب دھندلا دکھائی دے رہا ہے۔ایک منٹ میں آنکھیں مسل کر دیکھتا ہوں ہاں اب کچھ بہتر دکھائی دینے لگا ہے۔ یہاں روشنی بہت کم ہے۔۔ سامنے دیوار کے ساتھ ایک میز ہے۔ میز کے ساتھ پانی کا گھڑا رکھا ہے۔ دیوار کے وسط میں اونچائی پر روشن دان ہے۔ لیکن روشنی نہیں آ رہی شاید دوسری جانب اندھیرا ہے۔۔
ہم چھ لوگ زمین پر بیٹھے ہیں۔ چار لوگوں کو میں جانتا ہوں۔ میں سوچ رہا ہوں کیا میں واقعی انہیں جانتا ہوں۔ میرے دائیں جانب دیوار کے ساتھ میری امی اور ان کے ساتھ ان کی ماسی بیٹھی ہیں، وہ شاید مجھ سے بے پناہ محبت کرتی ہیں۔ شاید یا یقیناً۔! ذہن میں سوال جنم لیتا ہے۔ امی کو ہمیشہ مجھ میں خامیاں ہی دکھائی دیتی ہیں۔ میرے بائیں جانب دیوار کے ساتھ نانی امی کی بیٹی بیٹھی ہیں ان کے ساتھ میری بڑی بہن بیٹھی ہیں۔۔ نانی کی بیٹی کو بوسے لینے کی عادت ہے جب دیکھو کبھی پیشانی تو کبھی گال چومتی ہیں۔ مجھے یہ عادت بالکل نہیں پسند لیکن انہیں منع بھی نہیں کر پاتا۔۔۔
تھوڑی دیر بعد اٹھتا ہوں، گھڑے کے پانی سے منہ صاف کرتا ہوں واپس اسی جگہ آ بیٹھتا ہوں، شاید آپی مجھے بہت چاہتی ہیں وہ میرا ہر کام میں ساتھ دیتی ہیں۔ شاید! مجھے کسی پر بھی یقین نہیں، شاید خود پر بھی نہیں۔ امی ہمیشہ مجھے ٹوکتی ہیں وہ چاہتی ہیں مجھے عمر قید با مشقت سنائی جائے۔ میری عمر ابھی کم ہے، میرے ہاتھوں میں بستہ تھما دیا گیا ہے۔ جبھی امی مجھ سے اکھڑی اکھڑی رہتی ہیں وہ مجھے بھٹی میں جھونک کر اذیت پہنچانا چاہتی ہیں ایسا مجھے لگتا ہے۔ شاید وہ مجھے کندن بنانا چاہتی ہیں۔!! شاید میں ایک اچھا شاعر ہوں شاید میں ادیب بننا چاہتا ہوں یا شاید مجھے اپنا نام سنہرے حروف میں لکھوانا ہے۔ لیکن میں تو گمنام ہوں۔ اوہ یاد آیا میری آپی شاعرہ ہیں۔۔ لیکن۔!! لیکن ایک بات ابھی تک سمجھ نہیں آئی جو میرے ساتھ کندھا جوڑے بیٹھا ہے وہ کون ہے؟
یہ چھوٹو مٹکے سا دکھتا ہے اسے مٹکا کہہ لیتا ہوں۔ ایک بات بتانا بھول گیا کمرے کے ایک کونے میں مٹی کا گلک بھی رکھا ہے آپی شعر لکھ کر اس میں ڈال دیتی ہیں لیکن گلک کبھی نہیں بھرتا۔ میں اب افسانے بھی لکھنے لگا ہوں لیکن آپی کو صرف اشعار سناتا ہوں وہ مجھے داد اور دعائیں بھی دیتی ہیں مگر امی مجھے دیدے پھاڑ کر دیکھتی ہیں۔ میں خاموش ہو جاتا ہوں۔ مٹکے کے ہاتھوں میں کاغذ ہے وہ شعر سناتا ہے سب خوش ہیں، امی مٹکے کی پیشانی چومتی ہیں۔۔
میرا یہاں دم گھُٹنے لگا ہے۔ مجھے یہاں سے آزادی چاہیئے، مکمل آزادی۔۔۔ مجھے ایک بار پھر شک نے گھیر لیا ہے۔۔ میں پانی پینے کے بہانے گھڑے تک جاتا ہوں گلک دیکھتا ہوں اس کے نیچے سوراخ ہے۔ میں حیران ہوں۔۔۔ پانی پی کر واپس اپنی جگہ آتا ہوں۔۔۔ کیا دیکھتا ہوں۔! مٹکے کا بستہ کاغذوں سے بھرا ہے یہ سب تو آپی کے شعروں والے کاغذ ہیں۔ ایسا مجھے لگتا ہے۔۔۔
ایک بار پھر سوالات کا جھماکا دماغ سے ٹکراتا ہے۔ چوری تو مٹکے نے کی ہے پھر میں قیدی کیوں۔!!
مجھے روشن دان سے روشنی کی کرن دکھائی دینے لگی ہے۔ مجھے بابا دکھائی دے رہے ہیں۔ میں یہاں سے جا رہا ہوں۔ میرے پاس دولت نہیں۔۔۔ میں اپنا نام چھوڑے جا رہا ہوں۔۔۔ ہاں صرف نام۔۔۔۔
کیونکہ میں امر ہوں قیدی نہیں۔
٭٭٭٭٭ 

بنت حوا پھر لٹ گئی ۔۔۔۔تحریر : راحت جبین

سات سالہ حرا نہ صرف گھر کی بلکہ پورے محلے کی جان تھی ۔وہ جہاں ماں کی آنکھوں کا تارا تھی تو وہیں باپ کی شہزادی تھی ۔اور بھائیوں کے لیے وہ کسی ننھی پری سے کم نہ تھی۔جس سے کھیل کر وہ خوش ہوتے ۔بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ وہ سب کے جینے کی وجہ تھی۔ وہ سارا دن گھر میں اور محلے میں کھیلتی رہتی ۔ حرا کے والد پیشے سے ایک ڈاکٹر تھے اور گاؤں کے لوگوں کے لیے ایک مسیحا تھے۔اور والدہ بھی صحت کے شعبے سے منسلک تھیں ۔ مگر پھر کسی کی بری نظر اس گھر کی خوشیوں کو نگل گئی۔اور جو گھر خوشیوں کا گہوارہ تھا وہ ماتم کدہ بن گیا۔
روز کی طرح ایک دن حرا کی ماں نے اسکول سے واپس آنے کے بعد بہت اچھے سے اسے تیار کیا ،کھانا کھانے کے بعد وہ گلی میں بچوں کے ساتھ کھیلنے کے لیے اچلتی کھودتی گھر
سے نکل گئی ۔ دو گھنٹے گزرنے کے بعد جب حرا واپس نہیں آئی تو ماں کو تشویش ہوئی،باہر جاکے دیکھا تو بچی کو نہ پایا ، ماں کا دل ڈھوبنے لگا اس کے والد کو اطلاع دی باپ نے بھی ہر جگہ دیکھا مگر مایوسی ہوئی۔سورج ڈھلنے کے ساتھ ساتھ ماں باپ کے دل کی دھڑکنیں بھی تھمنے لگیں ۔کافی سمے بیت جانے کے بعد خبر آئی کے پولیس کو نزدیکی پہاڑی کے پاس ایک بچی کی لاش ملی ہے۔حرا کے والد نے بڑی مشکل سے اپنی آپ کو سنبھالا اور عزیز و اقارب کے ہمراہ تھانے گئے۔بڑی مشکل سے دل کوتسلیاں دیں کہ یہ میری بچی نہیں ہو سکتی ، مگر جاب لاش پر نظر پڑی تو خود کو سنبھالنا نا ممکن ہو گیا ۔کیونکہ سامنے جو لاش پڑی تھی وہ اس کی معصوم سات سالہ بیٹی کی حرا کی تھی جو ایک جیتی جاگتی گڑیا سے ایک بے جان لاش میں بدل چکی تھی۔ اس کے کپڑے گرد آلود اور پھٹے ہوئے لگ رہے تھے جیسے بہت زیادہ مزاحمت کی گئی ہو ۔اس کی گردن پر نشان تھا جیسے اسے گلا گھونٹ کر مارا گیا ہو۔تفصیلی معائنہ سے پتہ چلا کہ معصوم بچی پر جنسی تشدد کرکے اپنی ہوس کا نشانہ بانانے کے بعد اسے گلا گھونٹ کر ہلاک کیا گیا ۔ ایک مسیحا جو دوسروں کی زندگی بچانے کے لیے دن رات جدوجہد کرتا تھا ۔ آج جب اپنی بیٹی پر آیا تو بالکل لاچار اور بے بس نظر آیا۔ لوگ بمشکل اس کے والد کو سہارہ دے کر گھر لائے تو گھر میں کہرام مچ گیا۔اس کی والدہ تو جیسے جیتے جی مر گئی ۔
گھر میں کئی دن تک لوگوں کا تانتا بندھ گیا ،لوگ تسلی کے بہانے روز آتے اور ان کے زخم تاذہ کرتے۔اس طرح کئی دن گزر گئے۔ اس کے بعد گھر میں موت کی سی خاموشی چھا گئی ۔جہاں کبھی حرا کی چھوٹی چھوٹی کلکاریاں گونجا کرتی تھی وہاں اب مہیب سناٹوں نے ڈھیرے ڈال لیے۔رشتے داروں نے بڑی مشکل سے والدین کو سکتے سے باہر نکالا ۔قریبی تھانے میں نامعلوم شخص کے خلاف پرچہ درج کرا کے تفتیش شروع کردی گئی۔دوران تفتیش جو حقائق سامنے آئے وہ مزید دل دھلا دینے والے تھے ۔ بچی کی زیادتی سے لے کر اسے قتل کرنے تک مجرم ان کی ہمسائی نکلی ۔ دوران تفتیش اس عورت نے اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا کہ بچی کی والدہ سے اس کی چھوٹی سی بات پر لڑائی ہوئی تھی جس کا انتقام اس نے اس معصوم بچی سے لیا۔ اس نے مزید کہا کہ اس نے یہ انسانیت سوز حرکت اپنے کسی وفادار آدمی سے کروایاہے ۔ اپنے اس گھناؤنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے وہ کہیں سے بھی پشمان نظر نہیں آئی ۔
عدالت کی کئی پیشیاں بھگتنے کے بعد آخر کار وہ اپنے ساتھی سمیت گرفتار ہو گئی ۔ اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلی گئی۔ سب لوگ مطمعن ہو گئے کہ مجرم اپنے انجام کو پہنچ گئے۔ اب کسی دوسرے کی بیٹی پر ہاتھ ڈالتے ہوئے کوئی سو بار سوچے گا ۔مگر قسمت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ ایک دو سال بعد ڈاکٹر کا شہر جانا ہوا اچانک اس کی نظر اپنی بچی کے قاتل پر پڑی جو آزادانہ جیل سے باہر گھوم رہا تھا پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ دونوں مجرم کسی طرح اپنی ضمانت کرانے میں کامیاب ہوگئے۔ماں باپ پر جو قیامت گزرنی تھی گزر گئی انہوں نے اپنا معاملہ اللہ کی عدالت پر چھوڑ دیا مگر بنت حوا مجسمہ سوال بن گئیْ ؟؟؟
کہ کب تک میری عزت مرد کی ہوس کی نظر ہوتی رہے گی ؟
کب تک میرے جیسی عورت ہی میری ہی دشمن بنی رہے گی؟
کب تک میرے قاتل اسی طرح کھلے عام گھومتے رہیں گے ؟
کب تک انصاف آنکھوں پہ پٹی باندھ کر کی جا تی رہے گی ؟
کب تک آخر کب تک؟؟؟
٭٭٭٭٭ 

خواب ۔۔۔تحریر: صبا جرال

سات رنگی قوس قزح کی چادر اوڑھے ، بہاروں کا ہاتھ تھامے وہ بادلوں پر چلتی جارہی تھی ۔ہوا نے کانوں میں سرگوشی کی تیرا محبوب آج تجھے لینے آ رہاہےاور اس سرگوشی سے اس کے گال انار کی طرح تپ گے ۔ لبوں پر مسکراہٹ مچل گی اور آنکھوں میں ستارے بھر گے ۔ خوشی اس کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی ۔اپنے من پسند شخص کے ساتھ جیون کا نیا سفر شروع ہونے کو تھا ۔اس دن کے سپنے اس سینت سینت کر رکھے ہوئے تھے اور آج اس کا محبوب اس کی مانگ ستاروں سے سجانے آرہا تھا۔ ہواوں میں مشک و عنبر کی خوشبو رچی تھی۔ ہر طرف خوشی کے شادیانے بج رہے تھے ۔ اس کے قدم زمین پر ٹک ہی نہیں رہے تھے ۔ہواوں کے سنگ اڑتی وہ کسی دوسرے جہان میں پہنچ گئی تھی جہاں اس کی اپنی چھوٹی سی راجدھانی آباد تھی ۔اور اپنی اس راجدھانی میں وہ ملکہ کی طرح حکم چلا رہی تھی۔ اور اس کا راجا اس کا ہاتھ تھامے اسے یوں سنبھالے چل رہا تھا جیسے وہ کانچ کی گڑیا ہو جو ذرا سی ٹھیس لگنے پر ٹوٹ کر بکھر جائے گی ۔سفید موتیوں سے سجے ہلکے گلابی رنگ کی لمبی سی فراک اپنے دونوں ہاتھوں سے تھامے اپنے راجا کے ساتھ تمکنت سے چلتی وہ خود پر فخر کر رہی تھی اس کے کانوں کے بڑے بڑے بولے شرارت سے گالوں کو چھو رہےتھے خوشی و انبساط اس کے انگ انگ سے نمایاں تھے
"تم دنیا کی حسین ترین عورت ہو ، میں ساری زندگی تمہارے حسن میں کھویا رہنا چاہتا ہوں راجہ کی مدہم مدہوش سی آواز اس کے کانوں میں رس گھول گئی۔
اس نے ادائے دلبری سے راجہ کی طرف دیکھا اس کا سانولا سلونا روپ گلاب کی طرح کھل رہا تھا ۔ اس کے لب بے اختیار محبت کا گیت گنگنانے لگے
میرے محبوب! مجھے کبھی چھوڑ کر مت جانا۔
تمہارے ساتھ ہی میرے جیون کی ہر خوشی ہے ۔
اگر تم نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا تو یہ جیون کی تپتی دھوپ مجھے جھلسا ڈالے گی میرے محبوب ! تمہارے ساتھ نے مجھے جو فخر و غرور بخشا ہے اسے کبھی زیر نہ ہونے دینا۔
میری آنکھوں میں ستارے جو روشن ہیں ان کو بجھنے مت دینا ۔
ورنہ میری آنکھیں اندھی ہو جائیں گی اور خود کو بھی نہ دیکھ پائیں گی۔۔۔۔
جوابا اس کے محبوب نے عمر بھر عزت و تحفظ دینے کے عہد و پیمان باندھے اور دل و دنیا کی ملکہ بنائے رکھنے کا عہد کیا
دنیا و مافیا سے بے خبر وہ اپنی چاہت کے دیار میں اٹھلائے پھر رہی تھی ۔۔۔۔
یکایک اس کی آنکھیں جلنے لگیں اس نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیے اور زور سے چلانے لگی آنکھوں سے پانی جھر جھر بہہ کر اس کی ہتھیلیوں کو بھگونے لگا
جب جلن کم ہوئی تو آہستہ آہستہ اس نے آنکھیں کھول دیں گھٹا ٹوپ اندھیرے کے سوا اور کچھ نہ تھا وہ تنہا اپنے کمرے میں سسک رہی تھی
اس کے خواب نے اس کی آنکھوں میں دم توڑ دیا تھا ۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بونگ کی بوٹی۔۔۔۔تحریر :عامر صدیقی، کراچی

وہ دیر سے کھڑی تھی، ایک دم خاموش اورلوگ ایک ایک کرکے فارغ ہوتے چلے جا رہے تھے ۔
پٹھ، چانپیں،ڈکری۔۔۔
روکھی،سوکھی، چربیلی۔۔۔
دل ،گردے، کلیجی۔۔
قصاب کے مشاق ہاتھ، بڑی پھرتی سے چل رہے تھے ۔گوشت کے لوتھڑوں سے زائد چربی الگ کرتے ،پٹھوں اور غدودوں کو پرے پھینکتے، ہڈیاں اور نَروٹھے نکالتے ،آرڈر کے مطابق تولتے ، پسند کے مطابق بوٹیاں ،قیمہ یا پسندے بناتے اور تھیلی میں ڈالتے ہوئے وہ، گویا ایک مشین کی صورت ہی اختیار کر گیا تھا ، ایک ایسی مشین ،جوپسینے سے شرابور ہونا بھی جانتی تھی۔۔۔ا سکی کشادہ پیشانی پر، موتیوں کی لڑیاں ابھر آئیں تھیں ، بغلوں سے گیلا ہوا اسکا مہین کرتا، اس کے توانا جسم سے چپک گیا تھا اور کھلے گریبان سے جھلکتا چاندی کا بڑا سا تعویز، اس کی ہر ایک جنبش کا ساتھی بن گیا تھا۔۔۔
’’ہاں بی بی ،تمہیں کیا چاہئے۔‘‘
قصاب نے ٹٹولتی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا ، پھراپنا چھرا اٹھاتے اور اسے صاف کرتے ہوئے آگے کی جانب جھک گیا۔ تعویز ،نصف النہار کی کرنوں میں جھلملااٹھا تھا۔۔۔
اب وہ دکان پر اکلوتی گاہک بچی تھی۔ گرم گرم ران کے پھڑکتے گوشت سے اپنا گال لگائے ہوئے ، اس نے اپنی آنکھوں کو نیم وا کیا اورلرزتی آ واز میں بولی۔’’مجھے بونگ کی بوٹی چائیے، نلی کے ساتھ۔اور دیکھو مجھے چھچھڑے بالکل نہیں چلتے۔‘‘
٭٭٭٭٭ 

بازی مات نہیں ۔۔۔تحریر: بشری دلدار

حیات کے سر بستہ رازوں کی کھوج ایک دن انسان کا موت سے معانقہ کروا دیتی ہے ۔ یوں سی ون کی اچانک موت نے سی ٹو کی ذمہ داریوں میں بے پناہ اضافہ کر دیا ۔ یونیورسل سائنٹفک آرگنائزیشن( یو ۔ایس ۔ او ) کا انچارج بننے کے بعد اس کو ایک قابل اعتماد سیکرٹری کی اشد ضرورت تھی۔اسی مقصد کے تحت اس نے یو ۔ایس ۔ او کی طرف سے تجربہ کار سیکرٹری کے لئے ایک ورچوئل ایڈ دیا ۔ ایف فور نے جب وہ ایڈ دیکھا تو اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی ۔ اسے لگا کہ قسمت نے اسے ایک موقع دیا ہے کہ وہ یو۔ایس ۔او کے سیکرٹ پروجیکٹس تک رسائی حاصل کر سکے ۔ اس کے شیطانی دماغ میں ایک خیال آیا اور ایک مکروہ مسکراہٹ اس کی لبوں پہ آ گئی ۔چار سال پہلے یورینیم کی معمولی سی چوری کو بہانا بنا کر جس طرح اسے یو ۔ایس ۔او سے نکالا گیا تھا، اب اپنی بے عزتی کا بدلہ لینے کا وقت آ گیا تھا ۔ فوری طور پر اس نے اپنی روبوٹک سیکرٹری پی لی کو بلایا اور اپنا منصوبہ بتایا ۔ پی لی نے اپنے باس کا ساتھ دینے کی حامی بھر لی ۔ ایف فور نے سال ہا سال کے تجربات اور محنت سے پولی اکریلونائٹرائل کو نہ صرف انسانی جلد کا متبادل بنا لیا تھا بلکہ اس کی رنگت ، نرماہٹ اور درجہ حرارت کو بھی جلد کے مطابق ایڈجسٹ کیا جا سکتا تھا ۔ اس طرح کسی حادثے کی صورت میں اسے انسانی جلد کی کامیاب پیوندکاری میں استمعال کیا جا سکتا تھا ۔ ایف ٹو کی یہ ایجاد اسے عالمگیر شہرت کی بلندیوں تک پہنچا سکتی تھی لیکن نفرت ، حسد اور جذبہ انتقام اس کی کامیابی کی سرشاری پر غالب آ گئے ۔ سو اپنے منصوبے پر عمل کرتے ہوئے اس نے اپنا پہلا تجربہ پی لی پے کیا اور اسکی بے جان سکن کو جاندار خوبصورت اور بے داغ جلد سے بدل دیا ۔ پولی اکریلونائٹرائل کی مناسبت سے پی لی کا نام بدل کر پولی رکھ دیا ۔ پھر کچھ ضروری ہدایات کی ساتھ پولی کو ایک سرخ نگینہ پہننے کو دے کر رخصت کر دیا ۔ پولی جب چست سیاہ لیدر سوٹ اور ہائی ہیلز میں ملبوس آئ ٹو کی لیبارٹری میں داخل ہوئی تو آئ ٹو نے اپنے سامنے پڑی سکرین سے نظریں ہٹا کر سامنے دیکھا تو چند ثانیے کے لئے مبہوت رہ گیا ۔ اس کی گردن میں ایک مہین چین میں جڑا سرخ موتی ایک عجب بہار دکھا رہا تھا ۔ اپنے تاثرات پر قابو پاتے ہویے ۔ آئ ٹو نے پولی کو چند قدم دور ایک دوسری سکرین کی طرف اشارہ کیا ۔ آئ ٹو کے ہر سوال ،ہر فارمولا ، ہر کیمیکل کی مکمل جانکاری سیکنڈز میں پیش کر دی ۔ آئ ٹو اس کی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ ذہانت سے بھی متاثر ہوا ۔ اس کو اپنی سیکرٹری کے طور پر سلیکٹ کر لیا ۔ پولی نے چند ہی دنوں میں اپنی خاص جگہ بنا لی ۔ لیکن اس نے یہاں آ کر دیکھا کہ یہاں موجود ہر فرد نیک نیتی سے دنیا کی بھلائی کے لئے کام کر رہا تھا ۔ یہاں موجود لوگوں اور خاص طور پر آئ ٹو کے لئے جس نفرت اور غصے کا اظہار اس نے ایف فور کے ہاں دیکھا تھا اس کا شائبہ بھی یہاں نہ تھا ۔کچھ دنوں بعد ، آئ ٹو نے پولی کو بتایا کہ کل صبح وہ اسے اپنی سیکرٹ لیبارٹری میں لے کر جائے گا جہاں وہ اور اس کے بہت خاص ساتھی ایک بہت اہم پروجیکٹ پر کام کر رہے ہیں ۔ ایف فور نے پولی کے سرخ نگینے میں جڑے الیکٹرو میگنیٹک ریڈار کے توسط سے جب یہ گفتگو سنی تو اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا کہ صرف چند گھنٹوں بعد برسوں سے اس کے دل میں پلنے والے جذبہ انتقام کو تسکین ملنے والی ہے ۔ رات اپنی آنے والی جیت کی خوشی میں گزاری پھر جونہی صبح اس نے اس ریڈار سے منسلک سکرین کو آن کیا تو وہ کالی بے آواز سکرین اس کو منہ چڑھا رہی تھی ۔ سکرین تو ایسی بے جان پڑی تھی جیسے کسی نے سرخ نگینے کو منوں مٹی تلے دبا دیا ہو ۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کاری وار۔۔۔تحریر: عائشہ عبدالغنی

لوگ بھی کیا کاری وار کرتے ہیں۔۔۔جِسے سامنے والا سمجھ ہی نہیں پاتا۔جب سمجھ پاتا ہے تب وقت ہاتھ سے سِرک جاتا ہے۔بچپن کا وہ قصہ اور دن ابھی بھی یاد ہیں جب ایک بڑھئ بابا کو میں نے اپنے سے والہانہ پیار اور محبت کرتے دیکھا۔وہ بزرگ اور شفیق بابا ہر دوسرے دن گھر پہ آتے مجھ معصوم کے سر پر ہاتھ پھیرتے اور پھر میرے گھر والوں کی آنکھوں میں میرے نام کی چمک دیکھ کر اپنے کام میں جُت جاتے۔جب فارغ ہوتے تو کوئی نہ کوئی شاہکار اُن کے ہاتھوں سے تیار شُدہ مِلتا۔مجھے پیار سے چمکارتے اور وہ شاہکار میرے نام کرتے۔میں اس بات سے بے خبر کہ اس شاہکار سے میں کیا کام لے سکتی ہوں بغل میں دبائے اُڑتی اُڑتی پھِرتی کہ بابا نے میرے لئے لکڑی کا کھلونا بنایا ہے۔

آج اگر غور کرتی ہوں تو سمجھ آتا ہے کہ اُس بزرگ کا میرے ساتھ نہ تو کوئی خونی تعلق تھا اور نہ ہی کوئی رشتہ داری۔پھر آخر وہ میرے لیے شاہکار کیوں تیار کرتے تھے؟
اب میں بخوبی اندازہ لگا سکتی ہوں کہ وہ تو ہمیشہ کاری وار کیا کرتے تھے میرے گھر والوں کے دلوں پر،اُن کے جذبات پر اور اُن کے خونِ جگر پر جس سے وہ میری محبت اور اُلفت پر کِھل اُٹھتے اور بابا جی کو ہر دوسرے دن اُس کے شاہکار بنانے پر اچھا خاصہ معاوضہ پیش کرتے،پھر اُس کے ساتھ ہمدردی کرتے،کھانا کھِلاتے اور بہت کچھ دے دلا کر رُخصت کرتے۔
تب تو وہ صِرف وقتی کھیل اور وقتی دل لگی لگا کرتی تھی لیکن آج جب محسوس کرتی ہوں تو گھر والوں کے لیے جذبات سے ٹھاٹھیں مارتا سمندر میرے سامنے کھڑا ہوتا ہے کہ کس طرح ان کی محبت بھی ایک ثمر کی طرح آہستہ آہستہ پَکتی رہی اور آج وہ ایک رسیلا پھل بن چُکی ہے۔جس کا ذائقہ دُنیا جہاں کی ہر چیز سے مُنفرد ہے۔
بڑھئ بابا نے تو اپنے گھر والوں کی محبت میں اُن کے نوالے پُورے کرنے کے لیے میرے گھر والوں کے دلوں پر کاری وار کیا اور پھر میرے گھر والوں نے اپنی لا محدود محبت کو رنگ دینے کے لیے مجھ نا چیز کے دِل پر کاری وار کیا۔دونوں اپنی اپنی غرض کے عظیم کاریگر معلوم ہوتے ہیں۔لیکن یاد رکھنا تم لوگ! یہ کاری وار بڑی انوکھی چیز ہے۔محبت میں کیا جائے یا نفرت میں۔بھانبھڑ دونوں طرف اُٹھتے ہیں۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دھرتی ۔۔۔تحریر : روبینہ شاہین

دھرتی کا پورا وجود لہو لہو تھا،اس کا سانس دھونکنی کی طرح چل رہا تھا۔مگر وہ اپنے مدار میں چپ چاپ گردش کیے چلے جا رہی تھی۔
اس کی ساری اولاد اس کے چوڑے چکلے سینے پہ موجود تھی۔جانور،چرندپرند اور سب سے لاڈلی مخلوق انسان،جو اسے سب سے زیادہ پیاری تھی مگر ستم بالائے ستم اسی انسان کے ہاتھوں اسے سب سے زیادہ چرکے لگائے گئے۔پتہ نہیں کیوں ؟جو آپ کا پیارا ہوتا ہے آپ اس کے پیارے کیوں نہیں ہوتے؟زمین کی آہو بکاہ جاری تھی۔۔وہ بولتے بولتے گہری سوچ میں ڈوب جاتی جیسے حالت ارتکاز میں ہو۔۔آج کل وہ کچھ زیادہ ہی چپ رہنے لگی تھی،کوئی سننے والا پرسان حال جو نہ تھا ایسے میں وہ اپنا دکھ کہتی بھی تو کیسے کہتی،سردی نے اس کی بوڑھی ہڈیوں میں سنسناہٹ پیدا کر دی تھی،حالیہ ریکارڈ توڑ برف باری نے اس کا جسم تو کیا سوچیں بھی منجمد کر دیں تھیں،ایسے میں سورج کی چنگاریاں جو کبھی کبھار ہی سہی اس کے ٹھٹھرتے وجود میں حرارت پیدا کر دیتیں تواس کے سوچنے کی حس بھی کام کرنے لگتی،آج بھی برف باری کے بعد تھوڑی دھوپ نکلیں تھیں،اسکی کرنوں میں اپنا آپ گرما رہی تھی جب ایک خبر سنائی دی،امریکہ بہادر جو کہ اس کا سب سے امیر اور بگڑا ہوا بیٹا تھا۔جتنا خوبصورت دکھتا تھا اس سے کہیں زیادہ بدصورت تھا،جی ہاں آپ ٹھیک سمجھے اصل خوبصورتی تو من کی ہوتی ہےتو میرے اس بدمعاش بیٹے نے بالآخر افغانستان میں اپنے ناجائز قبضے کو چھوڑنے کا اعلان کر دیا،دھرتی نے انگڑائی لی،اسے جھرجھری سی آئی ،امریکہ کی بدمعاشی پہ نہیں بلکہ ایک مرد مومن کی کہی ہوئی بات پہ ،ایمان اور یقین والوں کی باتیں ہی الگ ہوا کرتی ہیں۔وہ بھلا مانس جو اب اس دنیا میں نہیں ہے۔بش نے اس کی زمین پہ قبضہ ہی نہیں کیا بلکہ اسے للکارا کہ ہم زمین تیرے اوپر تنگ کر دیں گے،اس دھرتی سے اسی دھرتی کے بیٹے کو للکارا جا رہا تھا۔وہ بھلا مانس تھا چپ چاپ سنتارہا،سوچتا رہا،کہتا بھی تو کسے کہتا،اس کے اپنے بھی اس کے ساتھ جا ملے تھے۔۔۔کیا زمانہ تھا جب دیواریں ہی نہیں دل بھی سانجھے ہوا کرتے تھے۔لوگوں نے دیواریں بھی الگ کر لیں اور دل بھی،پاکستان سے اسے بڑی امیدیں تھیں مگر اس نے بھی۔۔ہر ایک کی اپنی سوچ ہے۔ہو گی اس کی بھی کوئی مجبوری،کہا نا بڑا ہی بیبا بچہ تھا،مجال ہے کسی کے لئے اپنے دل میں بغض اور کینہ پالے،کیونکہ وہ جانتا تھا دل اللہ کا گھر ہے اس گھر سے وہ چلا جاتا ہے جہاں بغض اور کینہ رکھا جائے۔چپ چاپ دعائیں کرتا رہا،ادھر ادھر سے خبریں اس کے کانوں تک پہنچتیں مگر وہ خالی نظروں سےآسمان کی جانب دیکھتا۔آسمان والے سے ہی اس کی ڈیلنگ تھی۔جانتا تھا جو زمین پہ نہیں ہوتا ،آسمان پہ ہوتا ہے اور ضرور ہوتا ہے۔اسی انتظار میں ظلم و بربریت کا کھیل دیکھتا رہامگر مجال ہے جو نا شکری کا ایک لفظ بھی بولا ہو،بولا بھی تو کیا بولا فقط اتنا "امریکہ کہتا ہے ہم تم پہ زمین تنگ کر دیں گے میں یہ کہتا ہوں اللہ کی زمین بہت وسیع ہے۔دیکھیں گے جیت کس کی ہوتی ہے؟بے یقینوں کی اس دنیا میں بڑے ہی یقین والا تھا ،کئی سال بیت گئے،ایک دن چپ چاپ میری گود میں آیا اور آنکھیں موند لیں،میں نے اپنے دونوں بازو ں اس کے لیے وا کر دیےاور وہ میٹھی نیند سو گیا۔کہا نا وہ مجھے بہت پیارا تھا۔کیونکہ وہ رب کا پیارا تھا۔آج افغانستان سے امریکیوں کی واپسی بتا رہی ہے کہ اس بھلا مانس کایقین کتنا سچا تھا۔اللہ کی زمین "اللہ والوں "کے لئے ہمیشہ ہر دور میں وسیع ہوا کرتی ہے۔بس ایک یقین بھرا دل چاہیے۔
٭٭٭٭٭ 

کیلنڈر کی موت ۔۔۔تحریر: کشف بلوچ

”آٹا ختم ہوگیا ہے۔“ بیوی نے اطلاع دی۔
”آج چاول بنا لینا۔کل کہیں سے ادھار پکڑ لاٶں گا۔ایک تو یہ مہینہ بھی بیس تاریخ کے بعد رینگنے لگتا ہے۔یکم آنے تک بندہ تنخواہ سے زیادہ ادھار لے چکا ہوتا ہے۔“ میں اخبار کا دوسرا صفحہ پلٹتے ہوئے بڑبڑایا۔
گھر میں کھانے کو کچھ بھی نہیں ہے۔اگر یہی حالات رہے تو کسی دن ہم ایک دوسرے کی ہڈیاں تک چبا ڈالیں گے۔“وہ چیخ کر بولی اور پھر ہاتھ میں پکڑی پلیٹ فرش پر دے ماری۔ فرش پر گرتے ہی پلیٹ دو حصوں تقیسم ہوگئی۔
کونے میں دبکی بلی لپک کر آئی اور پلیٹ کے کناروں پر چپکی رات کی سوکھی دال چاٹنے لگی۔بیوی نے چولہے کے پاس رکھے مرتبانوں کو ٹھوکر ماری تو خالی مرتبان دور تک لڑھکتے چلے گئے۔
شور سن کر تین دن سے بخار میں پھنکتی ہماری بڑی بیٹی فردوس ہانپتی کانپتی باورچی خانے تک چلی آئی۔
”تم کیوں باہر نکلی،جا کر آرام کرو۔“ میں نے اسے ڈپٹ کر کہا۔تو بیوی جیسے تپ کر بولی۔”خاک آرام کرے،آئے دن کے بخار نے لڑکی کا خون تک نچوڑ ڈالا۔میں تو کب سے کہہ رہی ہوں کہ کسی اچھے ڈاکٹر کو دکھاٶ۔مگر تمہاری اس پہلی تاریخ کے آنے سے قبل ہی ہم سب کی اجتماعی قبریں بن جائیں گی۔ بیوی کی بات پر میں نے اسے کینہ توز نظروں سے دیکھا۔
” کیسی زبان دراز عورت میرے پلے پڑ گئی۔“
میں ہاتھ میں پکڑا اخبار میز پر پٹخ کر جلے کٹے انداز میں بولا۔جی تو چاہا کہ اخبار کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے ساری خبروں کے چیتھڑے اڑا دوں۔مگر ایسا کر نہیں سکتا تھا۔
ابھی مالکِ مکان کا بیٹا اخبار لینے دوڑا آئے گا۔
دروازے کے بیچوں بیچ کھڑی فردوس ہمیں لڑتا دیکھ کر واپس پلٹ گئی۔
”جب سے آئی ہو،میرا خون چوسے جارہی ہو۔خود کم تھی، جو اپنی جیسی کئی اور جونکیں بھی میرے وجود سے چمٹا دیں۔بڑی لڑکی کو بخار ہے،چھوٹی کے جوتے نہیں ،بڑے لڑکے کی فیس بھرنی ہے اور چھوٹے کی قمیض نہیں۔“ میں یہ کہہ کر غصے سے باہر نکلا۔
باورچی خانے سے نکل کر کمرے کی طرف جاتے ہوئے میں نے آئینے میں اپنی مرجھائی ہوئی شکل دیکھی۔فکروں اور اندیشوں نے مجھے وقت سے پہلے بوڑھا کردیا۔
”میرا ہی خون جلائے جانا،خود کو ملامت مت کرنا۔تمہارے ساتھ کے لوگ کہاں سے کہاں سے پہنچ گئے اور تم رہے وہی کلرک کے کلرک۔“ پیچھے سے آتی بیوی کی آواز پر میں اندر جاتے جاتے رکا۔تناٶ سے میری کنپٹی کی رگ پھڑکنے لگی۔
یہ جملہ سن کر مجھے ہر بار ایسا لگتا جیسے کہہ رہی ہو کہ تم رہے وہی گدھے کے گدھے۔ میں اندر کمرے میں جانے کے بجائے سٹور کی جانب بڑھ گیا۔
”بس ۔۔۔ بہت ہو گیا۔۔اب میں مزید مداری کا بندر نہیں بن سکتا،میں یہ کھیل ہی ختم کر دیتا ہوں۔“
سٹور سے کمرے میں واپس آیا تو میرے ہاتھ میں ایک لمبی رسی تھی۔جسے میں پنکھے سے باندھنے کے بعد پھندا تیار کرنے لگا۔۔۔
ہلکی سی آواز کے ساتھ باہر کا دروازہ کھلا اور ساتھ ہی فردوس کی زندگی سے بھرپور آواز سنائی دی۔
”امی جلدی سے آ جائیں۔۔ گرما گرم نان اور کباب لائی ہوں ۔۔دونوں مل کر کھاتی ہیں۔پھر میں کھانا بناٶں گی۔میں نے چھوٹے بہن بھائیوں سے وعدہ کیا تھا کہ تنخواہ ملنے پر انہیں بریانی کھلاٶں گی۔“
میں نے چونک کر باہر جھانکا۔میری بیوی گیلے ہاتھ پونچھتی باورچی خانے میں گھس گئی۔
”کیا فردوس نے ابا آپ بھی آ جائیں۔۔ کہا یا نہیں ۔؟“
میں باورچی خانے کے دروازے پر چپ کھڑا رہا مگر کسی نے میری طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا۔میں دوبارہ کمرے میں آیا تو چونک اٹھا۔پنکھے کے ساتھ میری لاش لٹک رہی تھی۔
”اب یہ پہلی تاریخ اتنی جلدی کیوں آ جاتی ہے۔؟ “
میں نے افسردگی سے سوچا اور دیوار سے لگ کر رونے بیٹھ گیا۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیمو فلاج ۔۔۔۔تحریر: فرات حسین

سیلاب کو اترے اب کچھ روز ہو چلے تھے۔ ہر طرف کیچڑ میں لتھڑی زمین زیتونی رنگ میں لپٹ گئ۔ حواریوں کا ہجوم چھٹ چکا تھا۔ اسے لگا جیسے وہ ایک بار پھر سے یتیم ہو چکا ہے۔ خلعت شاہی چھن چکی تھی۔ وہ برہنہ بدن کو ڈھانپنے کےلیے درختوں کی اور لپکا۔ وہاں بھی پت جھڑ اس کا مونہہ چڑا رہی تھی۔ اب اسے یقین ہو چلا تھا کہ وہ عنقریب سیاہ جونکوں کا رزق بن جائے گا۔ اس نے مدد کےلئے خدا کو پکارنا چاہا۔ سہمیدہ نظروں سے آسمان کو دیکھنے لگا جیسے دو غیر مرئی پروں کا منتظر ہو۔ اس کی آواز گلے میں رندھ گئی۔ اسکا لہجہ کھائی میں لڑھکنے لگا۔ آج ساری رعونت خاک ہو چکی تھی۔خاصی تگ ودو کے بعد بھورے رنگ کی بوری نما چیز ہاتھ لگی جس سے عورات کو ڈھانپا۔ کوئی راہ سجھائی نہ دی تو قدم ایک انجانی سمت موڑ دیے۔ کچی بستی کے مکینوں نے کھانا اور ایک بد رنگ کرتا لا دیا۔ شہر پہنچ کر گھر بار کی خبر لی۔ سانس کچھ بحال ہوئیں تو دماغ کی ڈھیلی پڑتی چولیں کسنے لگیں۔ وہ جوڑ توڑ کے ہنر میں پختہ کار تھا۔ نئے دوست اکٹھے کیے۔ صرف دو سال میں ہی دوبارہ غلام گردشوں میں قدم جما لیے۔ بھاری عوامی مینڈیٹ نے سینہ چوڑا کیا تو کرتہ کچھ تنگ پڑنے لگا لیکن اب کی بار اس نے خلعت کو صندوق کی زینت بنا کر گاؤں والوں کا دان کیا ملگجا کرتہ پہنے رکھا جو بوسیدہ ہو کر کچھ اور خاکی نظر آنے لگا۔ اگلے چند روز میں کھیتیوں کے کچھ ضوابط رواج میں لائے گئے۔ کرتے میں ہریاولے رنگ کے چند پیوند بھی لگ گئے۔ جنتا کو اب بھی روٹی کے لالے پڑے تھے۔ بچے بے در بے گھر گلیوں میں دنگا مچاتے پھرتے۔ پڑوسی انگارہ آنکھوں سے غراتے ہوئے للکارتا۔ ساہوکار روپوں کے بدلے غلامی کا مطالبہ کرنے لگا۔ کرتہ پسینے سے بھیگنے لگا۔ جس دن صحرا اور پہاڑوں پر باد صرصر چلی، کرتے میں عنابی رنگ نے جگہ بنا لی۔ گدڑی نشین کا شہنشاہی جلال عود آیا۔ ایگزیکٹو آرڈر نے جگوں کو چست و توانا کر دیا۔ عوامی دور ہنگامی دور میں داخل ہو گیا۔ طبیب شہر نصیب شہر بدلنے لگ گیا۔ جہاں تکافل کو سر پرستی حاصل تھی وہیں تکاثر بھی پر پرزے نکال چکا تھا۔ اب اسکے غلبے کی باری تھی۔ اسکی ہمہ جہتی نے جیسے ہر شے کو گہنا دیا سیاہ اسودی، جو سب رنگوں کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا، نے اپنے پھیلاؤ کو وسعت دی۔ خاکی چھوئ موئ کی مانند سمٹ کر اپنا رقبہ محدود کرنے پرمجبور ہوگیا۔
٭٭٭٭٭ 

 جاہل عورت ۔۔۔تحریر : ریحانہ اعجاز

کھانا لاؤں؟
سلمیٰ نے جھک کر آصف کے پاؤں جوتوں سے آزاد کرتے ہوئے پوچھا ،
جاہل عورت ابھی آیا ہوں دو منٹ سانس لینے دو، کھانا دے کر جان چھڑانی ہوتی ہے ، آخر کرنا کیا ہوتا ہے تمہیں ؟۔
آصف نے خشمگیں نگاہوں سے گھورتے ہوئے کہا تو سلمیٰ سہم گئی ،
چپ چاپ کمرے سے نکل گئی ،
کچن میں انسو پونچھتے ہوئے روٹی پکا کر ہاٹ پاٹ میں رکھی ، سالن ہلکی آنچ پر رکھا کہ جانے کب آصف کھانا مانگ لے،
اسی دم زور دار دھاڑ کی آواز آئی ،
سلمیٰ ، کہاں دفع ہوجاتی ہے یہ عورت ، اتنی بھی عقل تمیز نہیں کہ جب شوہر گھر آئے تو اس کے پاس ہونا چاہیئے ، پانچ سال ہوگئے اس عورت کو برداشت کرتے ، مغلظات کا ایک طوفان تھا جو آصف کے منہ سے بنا کسی رکاوٹ کے سلمیٰ کی سماعت کو تہہ و بالا کر رہا تھا ،
وہ تیر کی طرح کمرے کی طرف لپکی ،
جی ، کچن میں تھی ،
کچن میں کس یار کو یاد کر رہی تھیں؟۔ میں نے یہاں فائل رکھی تھی ، کہاں ہے؟۔
آصف نے طنز کرتے ہوئے پوچھا ،
سلمیٰ دوپٹہ صحیح کرتی آگے بڑھی، سائیڈ ٹیبل کی دراز سے فائل نکال کے سامنے کی تو آصف خونخوار انداز میں بولا ، ہزار بار کہا ،جہاں چیز رکھوں وہیں پڑی رہنے دیا کر جاہل عورت ، دفع ہوجاؤ ، سلمیٰ دوسرے کمرے میں جا کر دبی آوازمیں سسک پڑی ، ننھا شرجیل سو رہا تھا وہ اس کے پاس بیٹھ کر اپنی سماعت میں مزید کسی زہر کے انڈیلے جانے کا انتظار کرتے ہوئے آنسو بہانے لگی ،
پانچ سالہ ازدواجی زندگی میں وہ کبھی آصف کا مزاج نہ سمجھ پائی تھی ، ساس سسر حیات تھے تب بھی اس کا رویہ یہی تھا ، ساس نے ہمیشہ یہی باور کروایا ، مرد ایسے ہی ہوتے ہیں ، اولاد ہو گی تو ٹھیک ہوجائے گا ، لیکن ننھا شرجیل بھی باپ کا مزاج نہ بدل پایا،
دوسروں کے سامنے آصف کی شخصیت اور تھی کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ اس بندے کا اپنی بیوی سے سلوک اس قدر ناروا ہو گا ،
جاہل عورت تو لقب ہی بن گیا تھا سلمیٰ کا ،اس ذلت سے اچھا ہے آصف مجھے طلاق دے دیں، یہی سوچتےاور روتے روتے سلمیٰ کی آنکھ لگ گئی ،
اتنا اچھا تھا اس کا شوہر اللہ جانے کلموہی کس چکر میں تھی جو اس نے طلاق دے ڈالی ،
تم نے ہی کوئی بے غیرتی کی ہو گی جو آصف نے تمہیں فارغ کیا اب ساری عمر ہمارے سینے پر مونگ دلنا ،
اتنا پیارا بیٹا ، اور تم جیسی بیوی ، ایسے تو کوئی نہیں چھوڑتا ، کچھ تو کیا ہو گا؟
آخر آصف بھائی نے تمہیں طلاق کیوں دی یار ؟۔ کوئی تو وجہ ہوگی ، وہ تو اتنے اچھے ہیں ،
آپا کیا تھا اگر آصف بھائی تلخ مزاج تھے ، کچھ تو میرا بھی خیال کیا ہوتا ،طلاق یافتہ کا لیبل تو نہ لگایا ہوتا ،
پڑوسی عورتوں ، دوستوں ، بہن ، بھابی کے طنزیہ ، شکی ، اور ذلت آمیز جملے سلمیٰ کی سماعت میں چھید کر رہے تھے،
سملیٰ ۔۔۔ کہاں گئی جاہل عورت،اس دھاڑ سے آنکھ کھلتے ہی پہلا خیال ،
اوہ اللہ ،شکر ہے وہ سب خواب تھا ، سلمیٰ نے کانوں پر ہاتھ رکھے ، جو اب تک " طلاق یافتہ " کے الفاظ سے سنسنا رہے تھے ، وہ لپک کر آصف کے پاس گئی ، جی ،
کھانا لاؤ ، میں بھوک سے مر رہا ہوں اور تمہیں آرام سوجھ رہا ہے ، سلمیٰ چپ چاپ کچن کی طرف بڑھ گئی ،
٭٭٭٭٭ 

چوڑیاں۔۔۔۔۔تحریر: رخسانہ افضل

جب بھی اٹھا کے ہاتھ مجھے مانگتی تھی وہ
کہتی تھی زور سے اس کی چوڑیاں آمین
میں نےپہلی دفعہ جب اسے دیکھا۔۔۔تو صرف اس کا ہاتھ ہی نظر آیا۔۔۔نظر کیا آیا پھر اور کچھ سمایا ہی نہیں نگاہوں میں۔۔میں اپنے دوست سے نوٹس لینے گیا۔۔۔بیل دی نام بتایا۔۔اندر سے جواب آیا بھائ نہیں اور یہ نوٹس وہ دے گئے تھے کہ آپ کو دے دوں۔۔۔مگر میں کہاں تھا ہوش میں۔۔۔اس کےخوبصورت ہاتھ ،گداز کلائیاں ان میں خوبصورت کانچ کی چوڑیاں۔۔لڑکیوں کے زیورات میں میری واحد پسند چوڑیاں۔۔۔۔کھن کھن کرتی، شور مچاتی چوڑیاں۔۔مجھے سمجھ ہی نہیں آئ کہ چوڑیاں زیادہ خوبصورت ہیں یا وہ پہننے والے ہاتھ۔۔دوبارہ آواز پہ ہوش میں آیا اور نوٹس پکڑے اپنی راہ لی ۔۔۔۔میں زندگی میں کبھی بھی دونمبری کا قائل نہیں رہا۔۔مجھے بس وہ اچھی لگ گئ۔۔۔دل کو بھا گئ اور میں نے اسے اپنی عزت بنا لیا۔۔زندگی بہت حسین ہو گئ۔۔۔۔۔۔من چاہا ساتھی زندگی کو کتنا حسن بخشتا یہ مجھے حنا کے آنے سے پتا چلا۔۔۔اوہ اچھا حیران نہ ہوں، حنا میری گھر والی کا نام ہے۔۔کیسا مان اور استحقاق لگا مجھے گھر والی کہتے ہوئے۔۔میں بہت لمبی زندگی جینا چاہتا ہو ں اپنی گھروالی کے ساتھ ،اپنی حنا کے ساتھ، اسکی رنگ برنگی چوڑیوں کے ساتھ۔۔۔۔جتنے اس کی چوڑیوں کے رنگ ہیں سب اس کی زندگی میں بھی بھرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔میں اس کی چوڑیوں کی کھنک سے آواز





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved