تازہ ترین  

ایک فون کال (کہانی)
    |     3 weeks ago     |    افسانہ / کہانی
مہرو کافی کا مَگ پکڑے کھڑکی سے باہر گلی میں کھیلتے بچوں کو دیکھتے ہوئے سوچنے لگی .....
بچپن بھی کتنا خُوشگوار ہوتا ھے ناں!!
نہ کسی کی فکر لاگو، اور نہ ہی کوئی غم لاحق .....
جہاں دل کرئے آؤ _جاؤ، کھیلو _کُودو، اور اگر
غلطی کر بھی دی تو کوئی بات نہیں ابھی ناسمجھ ھے ۔ یہی سوچ کر بہت سی بڑی غلطیاں بھی دل بڑا کر کے معاف کر دی جاتیں تھیں ۔
پھر جیسے جیسے بڑے ہوتے گئے ہماری اوڑھ دوسروں کی توجہ اور فکر گھٹتی گئی، کیوں؟
کیوں کہ شاید بڑے ہونے کے ساتھ سمجھداری آ جاتی ھے، اور انسان کو اپنا بوجھ خود اُٹھانا سکھایا جاتا ھے تاکہ آنے والے بُرے سے بُرے حالات کا مقابلہ کرنے کی بھی ہمت پیدا ہو جائے اور کسی سہارے کی کبھی ضرورت محسوس نہ ہو۔
مگر یہ چھوٹی چھوٹی باتیں بھی کبھی کبھی دل کو سکون پہنچانے کیلئے کافی ہوتیں ھیں۔
کس قدر بے غم ھیں ناں یہ بچے....
شام ہونے کو ھے کوئی انہیں یہ نہیں کہتا کہ باہر نا جاؤ، اس سے بات کرو اُس سے نہیں، یہ دوست ھے اور یہ دشمن وہ تو معصوم ھیں دنیا کے جھنبیلوں کی انہیں کیا بھلا کیا خبر....
کوئی بھی ان کا دوست بن سکتا ھے کوئی بھی پیار اور محبت سے انہیں اپنے رنگ میں ڈھال سکتا ھے،
مگر جوانی میں بچپن والا پیار کہاں چلا جاتا ھے..... ؟
وہی غلطیاں جن پر بچپن میں مسکرا کر نظرانداز کر دیا جاتا تھا، آج کیوں انہیں ہوا دی جاتی ھے ۔
کیا عمر کے ساتھ بچپن مر جاتا ھے؟
یا پھر...............
وہ جھولا، کھلونے، گڑیا والے شوق مر جاتے ھیں؟

گزشتہ برس جب مہرو علی کی محبت میں مبتلاء ہوئی تب اسکی عمر 19 سال تھی۔ تب اسے کہا گیا کہ راستہ غلط ھے اسے مت اپناؤ، اس رستے سے گزرنا بالکل یوں ہی ھے جیسے انگاروں پر سے ننگے پیر چلنا؟مگر مُحبت کو ان سب فلسفیانہ باتوں سے کہاں فرق پڑتا ھے۔۔۔ تب تو نگاہیں محبوب کی تصویر میں کھوئی، اور لب بس اسی کی باتوں کی چاشنی میں ڈوبے ہوتے ھیں،، کچھ سنائی دیتا ھے تو صوف اُسی کا لہجہ، کچھ دکھائی دیتا ھے تو ہر چہرے میں بس وہی وہ.........
مہرو دیوانگی اور پاگل پن کی اُس آخری سیڑھی پر کھڑی تھی جہاں سے واپسی کا رستہ اُس پر بند کر دیا گیا تھا، اُس کے اختیار میں تو وہ خود بھی نہیں رہی تھی...
پہروں بات کے بعد بھی دل نہ بھرتا تو رات بھی جاگ کر گزار دی جاتی، انتھ 'کنارہ ' ہی ھے ہر کہانی کا ۔
مگر اس کنارے تک پہنچنے کیلئے ناجانے کتنے ہی خونی رشتوں سے کنارہ کرنا پڑتا ھے ۔
علی کی محبت اس کیلئے بالکل یوں تھی جیسے شمع اور پروانہ، دونوں ہی ایک دوسرے پر جان چھڑکتے تھے ۔
مہرو کی کافی اس کے ھاتھوں میں پکڑے پکڑے ٹھنڈی ہو گئی تھی اس کی نظریں باہر گلی پر جمی ہوئیں تھیں مگر اُس کا دھیان اب ان بچوں سے ھٹ کر اپنے بچپن سے جوانی تک آ پہنچا تھا ۔۔۔،
علی تو اُس کی محبت میں اس قدر دیوانہ تھا کہ کبھی کبھار تو گجرانوالہ سے کراچی تک صرف اُس کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے آ جاتا، گلی سے ہی دیکھ کر واپس چلا جاتا، کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ کسی بھی صورت مہرو کی عزت پر آنچ بھی آئے باقی تو سب خدا کے ھاتھ میں تھا مگر جو کچھ اس کے بس میں تھا وہ اپنی طرف سے کوئی ایسی غلطی نہیں کرنا چاہتا تھا جو اُن کیلئے عمر بھر کی سزا بن جائے ۔
مگر ہونی کو کون ٹال سکتا ھے........
وہی ہوا جس کی فکر دونوں کو تھی،
رات 2 کے قریب مہرو کے فون کی گھنٹی بجی فون تکیلے کے نیچے پڑا تھا جو کہ وائبریشن پر تھا فون کی وائبریشن کی آواز سے اسکی آنکھ کھل گئی ۔
موبوئل سکرین پر چمکتے نبمر کے وہ ہندسے علی کے تھے،
اس پر عجیب سی کیفیت طاری ہو گئی کیونکہ پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا تھا،کہ اس وقت وہ مہرو کو کال کرے۔ وہ میسج پر ہی 11 بجے ایکدوسرے کو گُڈ نائیٹ بول چکے تھے۔
مہرو پریشانی میں آرام سے کُنڈی کھول کر چھت کی طرف جانے لگتی ہے تو اُس کے قدموں کی آھٹ سے اُس کا باپ اور بھائی جاگ گئے جو کہ چھت کی سیڑھیوں کے بالکل پاس والے کمرے میں تھے ۔
اُس سے اِس وقت چھت پر جانے کی وجہ پُوچھی گئی، مگر اس نے جواباً سَر جُھکا لیا.... اُس کی خاموشی چیخ چیخ کر سب کی سوالیہ نگاہوں میں اُسے مجرم ٹھہرا رہی تھی وہ چاہ کر بھی کسی کو ابھی کچھ نہیں بتانا چاہتی تھی، کیونکہ اُس کو شاید اپنے گھر والوں کی طرف سے اسی ردعمل کی توقع تھی، یہی سوچ کر شاید وہ بہتر حالات کے انتظار میں تھی ۔
مگر افسوس!! وہ بہتر وقت کبھی نہیں آیا......
اُس سے اُس کا موبائل فون چھین لیا گیا جس میں موجود علی کے میسج پڑھ کر اس پر ٹکی شکی نگاہیں اب پوری طرح یقین میں بدل چکیں تھیں ۔
۔۔ اگلی صبح اُسکا نکاح محلے کی مسجد کے مُلاں کے ساتھ پڑھا دیا گیا ۔جس کی پہلے سے دو عدر بیویاں اور آٹھ بچے تھے ۔
جھوٹی عزت بچانے کےلئے اسکی سچی محبت قربان کر دی گئی جیسے محبت نہیں کسی کا قتل کر دیا ہو اُس نے،
اور عدالت نے اُسے عمر قید یا سزائے موت کا فیصلہ سنا دیا ھو ۔
جس کال سے اُس کی پوری دُنیا اُجڑ گئی تھی، وہ زندہ درگور دی گئی وہ نمبر تو علی کا ہی تھا، مگر کال کرنے والا شاید علی کا کوئی دوست یا احباب تھا، جسنے ایکسیڈنٹ میں علی کی موت کی اطلاع دینے کیلئے اُسے کال کی تھی ۔
زندہ تو وہ بھی نہیں تھی___ بس فرق صرف اتنا تھا اُسکی لاش ابھی بھی سب کی نظروں کے سامنے چل پھر رہی تھی ۔





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved