تازہ ترین  

معاشرہ میں ادیبوں کا کردار
    |     3 weeks ago     |    گوشہ ادب
معاشرے کی تشکیل ایک تصور سے ہوتی ہے اور یہ تصور اقدار میں بدلتا ہےتو یہی ِ اقدار ایک معاشرے کی بنیاد ہوتی ہیں۔ تصورِ حیات کی ابتدائی تشکیل فکری اور فلسفیانہ سطح پر ہوتی ہے۔ یہ کام کبھی فرد کرتا ہے اور کبھی اجتماع ، ادیب اور شاعر کا معاشرے میں کردار بہت اہم ہوتا ہے. ادیب ، شعرا، لکھاری کسی بھی معاشرے کی وہ بنیاد ہوتے ہیں جن سے معاشرے اپنی راہیں متعین کرتے ہیں معاشرے میں شاعر اور ادیب کا کردار عام لوگوں کی نسبت پیچیدہ نوعیت کا ہوتا ہے۔
ادب اور معاشرہ دونوں ہی لازم و ملزوم ہیں کیوں کے ادب معاشرے پر اور معاشرہ ادب پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے. جیسے اچھا ماحول اچھے انسان کو جنم دیتا ہے. ایسے ہی برا معاشرہ برےادیب کو جنم دیتا ہے اور چونکہ ادیب معاشرے پر اثر انداز ہوتے ہیں اس لئے معاشرے کے معیار میں تنزلی ہوتی چلی جاتی ہے جس سے معاشرے کو زہر آلوکرنے والی سوچیں پروان چڑھتی ہیں اور معاشرے تباہی کا شکار ہو جاتے ہیں- یہ بات تسلیم شدہ حقیقت ہے کے ادیبوں کے فنی شہ پاروں میں معاشرے کی تصویریں چلتی پھرتی اور بولتی دکھائی دیتی ہیں ،ادب معاشرے کا عکاس ہوتا ہے ، اس لیے جب معاشرے میں عملی یا فکری تبدیلی آتی ہے تو ادب بھی اپنا راستہ تبدیل کر لیتا ہے۔
بقول خورشید ندیم ادیب معاشرتی تشکیل میں کوئی کردار ادا نہیں کرتا؛ تاہم اس میں شبہ نہیں کہ لطیف جذبات کی پرورش میں اس کا ایک کردار ہے جو معاشرتی تعمیر کے لیے ناگزیر ہے.
حقیقت حال میں دیکھا جائے تو ادب اورادیب کو سچ بیان کرنا چاہیے. ادیب سمندر کو کوزے میں بند کرنے کا ہنر جانتا ہے. معاشرے کی فکری رہنمائی ادیب کا ہی کام ہے، اس لئے ادیب معاشرے کےاجتمائی شعور کے فکری رہبر ہوتے ہیں. جو درحقیقت معاشرے کی تربیت کرتے ہیں.
علم و ادب کا زوال قوموں کے زوال کا باعث بنتا ہے اور قوموں میں فکری اور ادبی زوال فتنوں کو جنم دیتا ہے ۔ اہل علم و دانش امن کے فروغ کے لئے ہمیشہ اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔
آج کے ادیب پر شدت پسندی جیسے مسائل پے لکھنے بھاری ذمہ داری عاید ہوتی ہے. اہل علم و ادب کو اس ماملے پر لکھنے کی آزادی ہے، ان کوایسے مسائل پے کھل کر اپنے جذبات کااظہارکرنا چاہیے اور معاشرے کی فکری اور فلسفیانہ تربیت پے زور دینا چاہیے. بلاشبہ اس معاملے میں اہل علم و دانش کا خیال رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے ، حکومت کو اسی اقدامات کرنا چاہیے کے آزاد سوچ میں آج کا ادیب قرینے کا ادب تخلیق کر سکے جو کے معاشرے میں مثبت اثرات مرتب کرے . 





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved