تازہ ترین  

آرٹ اینڈ لائف انٹر نیشنل سوسائٹی کے زیر اہتمام ہونے والے تین کتابوں واورولا ،انتشار ذہن اور Scatter Mind کی تقریب رو نمائی کا آنکھوں دیکھا حال
    |     3 months ago     |    گوشہ ادب
دفتر کا دروازہ کھلا آفس بوائے کوریئر کا پیکٹ لئے میرے پاس آیا جو کہ میرے نام سے آیا تھا ۔ بھیجنے والے میرے ادبی محسن میرے ادبی مرشد جناب زاہد شمسی صاحب تھے ۔اب کیا تھا اس پیکٹ میں ۔کیا بھجوایا ہو گا زاہد شمسی صاحب نے ؟؟ جب تک پیکٹ کھولا نہیں ذہن میں مختلف سوال آتے رہے اور جاتے رہے۔جب وہ پیکٹ کھولا تو اندر سے ایک عدد خوبصورت دعوتی کارڈ برآمد ہوا ۔جس میں فقیر کوآرٹ اینڈ لائف انٹرنیشنل سو سائٹی کی طرف سے باقاعدہ دعوت دی گئی تھی امریکہ میں مقم پاکستانی نژاد ڈاکٹر آغا شاہد خان کی تین کتابوں واورولا ،انتشار ذہن اور Scatter Mind کی رونمائی تقریب کی۔ڈاکٹر آغا شاہد خان امریکہ میں مقیم ہیں مگران کا دل پاکستان میں دھڑکتا ہے۔کارڈ میں ہدایت کی گئی تھی کہ تقریب اپنے مقررہ وقت پر شروع ہو گی اس لئے وقت کی پابندی ضروری ہے۔ ایک بات میں یہاں بتاتا چلوں کہ زاہد شمسی صاحب کی میزبانی میں جو بھی ادبی تقریب منعقد ہو وہ اپنے مقررہ وقت پر شروع ہوتی ہے جو کہ ان کی وقت کی پابندی کرنے کی اچھی عادت کو ظاہر کرتی ہے۔یہ تقریب گزشتہ ہفتہ کے روز مورخہ 23 فروری 2019 کو شام 6 بجے کمیٹی روم بیسمنٹ ایوان اقبال لاہور میں منعقد ہوئی ۔راقم الحروف بھی وقت مقررہ سے کچھ دیر پہلے پہنچا تو سب سے پہلے سنیئر صحافی شہزاد عابد خان اور مرزاآفتاب بیگ سے ملاقات ہوئی ۔ ان دونوں صاحبان سے ملنے کے بعد آگے بڑھا تو سامنے علمی و ادبی شخصیت پروفیسر ڈاکٹر معین نظامی صاحب نظر آئے ان کے ساتھ مصافحہ کیا ۔ہال میں داخل ہوا تو سامنے محترمہ یاسمین ریاض شاہ صاحبہ کو مشفقانہ مسکراہٹ لئے ہوئے موجود پایا ۔مقررہ وقت پریہ تقریب جناب پروفیسر ڈاکٹر معین نظامی صاحب کی صدارت میں تلاوت کلام پاک سے شروع کی گئی ۔ تلاوت کلام پاک کی سعادت مبرم علی کے حاصل کی جبکہ بارگاہ رسالت میں ہدیہ نعت فاخرہ مشتاق نے زاہد شمسی صاحب کی لکھی ہوئیشہرہ آفاق نعت ’’کیفیت اشک بھری دل پہ میرے طاری ہو‘‘ پڑھ کرپیش کیا ۔اس خوبصورت اور باوقار تقریب کی نظامت زاہد شمسی صاحب نے بہت عمدہ طریقے سے سر انجام دی۔ اس تقریب کی مہمان خصوصی بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے زاتی معالج ڈاکٹر ریاض حسین شاہ صاحب کی صاحبزادی معروف مصورہ و شاعرہ محترمہ یاسمین ریاض شاہ صاحبہ تھیں جبکہ مہمانان اعزاز میں پروفیسر ڈاکٹر سید احمد جمال بخاری ، پروفیسر ڈاکٹر شعیب احمد اور ڈاکٹر طاہر حمید تنولی صاحب شامل تھے۔زاہد شمسی صاحب نے ابتدا ء میں کہا کہ ڈاکٹر آغا شاہد نے تین کتابیں اردو ، پنجابی اور انگلش میں لکھ کر کارہائے نمایاں انجام دیا ہے۔بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو اپنے وطن کے لوگوں کا درد اپنے دل میں رکھتے ہیں ان صاحبان درد میں ڈاکٹر آغا شاہد بلند مقام پر ہیں ۔ڈاکٹر ساھب ہیں تو دماغ کے ڈاکٹر مگر بات وہ دل کی کرتے ہیں ۔ ہر صاحب کتاب استحقاق رکھتا ہے کہ معاشرہ اس کو عزت کی نگاہ سے دیکھے اور آج ہم سب احباب ڈاکٹر صاحب کو ان کی تین کتابوں کی اشاعت پر مبار ک باد پیش کرتے ہیں ۔سب سے پہلے ڈاکٹر ٓغا شاہد خان کی پنجابی شاعری کی کتاب ’’واورولا‘‘ کی رونمائی کی گئی اور اس کتاب پر جناب ڈاکٹر طاہر حمید تنولی صاحب ڈائریکٹر ریسرچ اقبال اکیڈمی پاکستان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’ڈاکٹر آغا زاہد صاحب نے پاکستان سے دور رہ کر اپنے وطن اپنے ملک کی زبان اور پھر اپنے ملک کی علاقائی زبان جو بہت زیادہ رِچ ہے اور اس کے تحفظ کا سامان بھی دیار غیر میں کیا اس پر ہم ان کا جتنا بھی شکریہ ادا کریں کم ہے۔ان کی پنجابی زبان میں لکھی ہوئی شاعری کی کتاب ’’واورولا‘ـ‘ کتاب کو اس کے سرورق کو دیکھے بنا آگے نہیں بڑھ سکتے جس کو محترمہ یاسمین ریاض شاہ صاحبہ نے بنایا ہے اور اس کتاب میں شامل شاعری اور ڈاکٹر آغا شاہد خان کے خیالات کو اس کتاب کا سرورق پہلی ہی نظر میں بیان کر دیتا ہے گویا یہ وہ کتاب ہے جس نے اپنا سرورق بنانے والے کو بھی اپنے حصار میں لے لیا ہے‘‘۔اسلام آباد سے خصوصی طور پر آئے اینکر پرسن خاورنسیم لون صاحب نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر آغا شاہد خان ایک بہترین سرجن ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین انسان اور شاعر بھی ہیں ۔آپ ایک ادبی اور انسان دوست کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں ۔ان کی شاعری پڑھنے کے بعد مجھ پر انکشاف ہوا کہ ڈاکٹر آغا شاہد امریکہ میں رہتے ہیں مگر خواب اپنے وطن پاکستان کے دیکھتے ہیں ۔ڈاکٹر شاہد دیار غیر میں رہتے ہوئے پاکستانی کلچر اور پاکستانی ادب کو پر موٹ کرتے ہیں ۔ان کی شاعری کے ایک ایک لفظ میں اپنے وطن سے محبت نظر آتی ہے۔ڈاکٹر طاہر حمید تنولی صاحب کو کچھ ضروری کام سے جلدی جانا تھا اس لئے اس کے جانے کے بعد سٹیج پر ان کی جگہ پاکستان کے معروف کارٹونسٹ جناب جاوید اقبال کو تنولی صاحب کی نمائندگی کرنے کو بلایا گیا۔ڈاکٹر آغا شاہد خان کی دوسری کتاب ’’انتشار ذہن‘‘ کی رونمائی کی گئی اور اس کتاب کے بارے میں پروفیسر ڈاکٹر شیعب احمد نے گفتگو کی ان کا کہنا تھا ’’کتاب کا نام سنیئے انتشار ذہن ، عجیب ہے لیکن برا نہیںہے،نا مونوس ہے لیکن بے معنی نہیں ہے۔ جس زمانے میں ہم زندگی گزار رہے ہیں وہ کتاب سے دوری کا زمانہ ہے ۔کاغذ اور قلم سے مجرمانہ غفلت ، لاپرواہی اور بے رخی کا زمانہ ہے۔یہ وہ زمانہ ہے جس میں بجلی سے چلنے والے آلات کے بٹنوں اور سکرینوں پر انگلیاں چلتی جاتی ہیں اور آنکھوں کی پتلیاں پھیلتی اور سکڑتی رہتی ہیں۔ بے فیض سکرینوں اورٹھنڈے بٹنوں سے ترتیب پانے والا علم انسان کے اندر نہیں اترتا ۔گھروں میں کتابوں کی جگہ ٹی وی، کمپیوٹر اور یو ایس بی آجاتی ہیں ۔ لائبریاں غیر آباد اور ایکسپو سنٹر آباد ہو جاتے ہیں ۔ساتھ ساتھ بیٹھے ہوئے لوگ ایک دوسرے سے دور اور دور والے قریب ہوتے جاتے ہیں ۔ادبی تقریبات میں آنے والوں کی تعداد کم ہوجاتی ہے اور جو موجود ہوتے ہیں ان میں آدھے سے زیادہ اپنے موبائل فون پر غیر ضروری طور پر مصروف ہوتے ہیں ۔ایسے بے فیض اور بے ڈھنگے معاشرے میں کسی ڈاکٹر آغا شاہد خان کاشاعری کی کتاب لے کر آجانا نہایت ہی مستحسن اقدام ہے ۔یہ کتاب صحرا میں پھول کی طرح ہوتی ہے ۔بد ذوقی کے خلاف اعلان جنگ ہوتی ہے ۔جمالیات کے ہاتھ پر بیت ہوتی ہے۔اس لئے آغا شاہد خان مبارک باد سے کچھ زیادہ کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اسلحے اور الیکڑانک کے بازار میں لفظوں کی دکان کھولی ہے ۔ایک اور خاص بات یہ کہ میں اس کتاب کو پڑھ کر کہہ سکتا ہوں کہ ہمارا یہ شاعر دلی اور دماغی طور پر نہایت ہی شریف آدمی ہے ۔اس تقریب میں خاص طور پر برگیڈیئر سجاد بخاری صاحب بھی تشریف لائے جو کہ 65 اور 71 کی جنگ کے غازی ہیں ۔ڈاکٹر آغا شاہد کی تیسری کتاب Scatter Mind کی رونمائی بھی باقی دو کتابوں کی طرح سٹیج پر موجود سب معزز مہمانوں نے کھڑے ہو کر اپنے ہاتھوں کھول کر کی۔ اس کتاب کی بارے میں پروفیسر ڈاکٹر سید احمد جمال بخاری صاحب نے بڑی پر مغز گفتگو کر کے شاعر کا نقطہ نظر بیان کیا۔پروفیسر ڈاکٹر سید احمد جمال بخاری وہ شخصیت ہیں جن کے نام کا ایوارڈ yale یونیورسٹی امریکہ میں ایوارڈ دیا جاتا ہے۔جناب جاوید اقبال کارٹونسٹ نے تقریب سے مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی بندہ پاکستان سے باہر غیر ملک میں جا کر رہتا ہے وہ اپنے ملک پاکستان سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے ۔ہمارے پاکستانی ٹیلنٹ میں کسی سے کم نہیں ہیں ۔ہمارے پاکستانی دنیا کے جس کونے میں بھی ہیں وہاں پر اپنی کامیابی کا جھنڈا گاڑ کر اپنے ملک کا نام روشن کرتے ہیں جن میں زیادہ تر ڈاکٹر ہیں اور ڈاکٹر ز نے بھی اب ادبی میدان میں اپنی ادبی کدمات پیش کرنا شروع کر دی ہیں جس کی مثال آج ہمارے ساتھ موجود ڈاکٹر آغا شاہد خان ہیں ۔تقریب کی مہمان خصوصی محترمہ یاسمین ریاض شاہ صاحبہ نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر آغا شاہد خان کی تینوں کی کتابوںکے سرورق ان کی شاعری کے پیغام کے عین مطابق بنانے میں مجھے آغا شاہد کی شاعری مکمل پڑھنے کا موقع ملا ۔ان کی مکمل شاعری پڑھنے کے بعد میں نے ان کی شاعری کے پیغام کو ان تصاویر میں بیان کیا یہ ہی وجہ ہے کہ ان تینوں کتابوں کے سرورق کتابوں کے اندر موجود پیغا م کو عین مطابق ہیں ۔ڈاکٹر آغا شاہد کی شاعری میں ان کو اپنے وطن سے محبت اور زبان سے پیار صاف صاف نظر آتا ہے ۔سعد راجہ صاحب جن کے توسط سے ڈاکٹر آغا شاہد خان کی شاعری آرٹ اینڈ لائف انٹر نیشنل سوسائٹی تک پہنچی اور آج قارئین کے ہاتھوں میں ان تین کتابوں کی صورت میں آئی انہوں نے یو کے آن لائن تقریب سے خطاب کرنا تھا لیکن کچھ تکنیکی وجوہات کی بنا پر آن لائن خطاب نا ہو سکا لیکن ان کا پیغام زاہد شمسی صاحب نے پڑھ کر سنایا جس میں انہوں ے تقریب کے منتظمین کا شکریہ ادا کیا اور ڈاکٹر آغا شاہد کو کتابوں کی اشاعت پر مبار کباد دی ۔ تقریب کے دلہا ڈاکٹر آغا شاہد خان نے تقریب کے شرکاء سے اظہار خیال کرتے ہوئے سب کا شکریہ ادا کیا اور اپنی شاعری اردو پنجابی اور انگلش میں سناکر حاضرین سے خوب داد سمیٹی ۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ ان سے سوال کرتے ہیں کہ اتنی مصروفیت کے باوجود آپ کو شاعری کے لئے وقت کیسے مل جاتا ہے تو اسل بات یہ ہے کہ کبھی کبھی تو سرجری کرتے ہوئے بھی آمد ہو جاتی ہے ۔تقریب کے صدر پروفیسر ڈاکٹر معین نظامی صاحب نے خطبہ صدارت میںکہا کہ میں ڈاکٹر آغا شاہد خان کو نہیں جانتا تھا مگر جب زاہد شمسی صاحب نے مجھے ان کی کتابیںدیں تو مجھے احساس ہوا کہ زاہد شمسی صاحب کسی بھی ایسے آدمی کو ریفر نہیں کرتے نا بطور انسان ، نا بطور فنکار نا بطور شاعر جس میں کوئی خوبی نا ہو۔چنانچہ اسی محبت اور اسی اعتبار سے میں نے آغا شاہد کی تینوں کتابیںپڑھیں ۔ڈاکٹر آغا شاہد کی خصوصاََ پنجابی والی کتاب پڑھ کر میں بہت دیر تک یہ سوچتا رہا کہ چالیس پچاس سال پہلے کا جو لاہور تھا اور اس لاہور میں جو خاندانی اکائیاں تھیں ۔ ان خاندانی اکائیوں میں جو ماں اور باپ تھے جو ایسے فرزندوں کی تربیت کرتے تھے جو ان کے دل و دماغ میں وطن کی محبت ، اپنے دین کی محبت راسخ کر دیتے تھے وہ سارا نطام کہاں گیا ۔ہمیں یہ احساس ضیاں ہونا چاہئے ۔ آغا شاہد کی غزلیں اور نظمیں اور ربائی ہر لحاظ سے بہت اچھی ہیں ۔ خاص طور پر ڈاکٹر صاحب کا پنجابی کلام بہت شاندار اور جاندار ہے ۔امید ہے کہ آغا شاہد صاحب مستقبل میں ہمیں اور بھی اچھی شاعری پڑھنے کو دیں گے اور انہوں نے ڈاکٹر آغا شاہد صاحب سے زیادہ پنجابی کلام میں طبع آزمائی کرنے کا مشورہ بھی دیا۔اس یادگار اور پروقار تقریب کے انعقاد میں آرٹ اینٖڈ لائف انٹر نیشنل سوسائٹی کے ساتھ انٹر نیشنل اقبال سوسائٹی اور ایوان اقبال منیجمنٹ نے بھر پور تعاون کیا ۔ تقریب کے آخر میں تما م مہمانان اعزاز ، مہمانان خصوصی اور صدر محفل کو یاد گاری شیلڈ پیش کی گئیں اور یہاں زاہد شمسی صاحب کے ساتھ نظامت میں حافظ جنید رضا نے معاونت کی۔یو ں یہ یاد گار تقریب وقت کی رگ پر اپنی یاد کے نقوش چھوڑ کر اختتام پذیر ہوئی ۔ تقریب کے اختتام پر تمام شرکاء کو پر تکلف عشائیہ بھی دیا گیا جس میں سپیشل ریشمی سیخ کباب، مٹن قورمہ ، چکن بریانی کے ساتھ ساتھ گرما گرم چائے اور بوتل مینیو میں شامل تھی ۔ ہاں ایک اور میٹھے میں سپیشل ٹھوٹی فرنی بھی تھی ۔ فقیر کو چو نکہ میٹھا پسند ہے اس لئے فقیر نے باقی کھانا تو کم کھایا ٹھوٹھی پر زیادہ ہاتھ صاف کئے ۔ 
   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: محمد شہزاد اسلم راجہ
For feedback: shehzad_raja2002@yahoo.com, Cell; 0333-7104102 





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved