تازہ ترین  

کتاب نقش بر زمین پر خوبصورت تبصرہ
    |     8 months ago     |    گوشہ ادب
فیس بک کا یہ معجزہ ہے کہ اس نے دنیا ہتھیلی پر سجا دی ہے۔دنیا بھر کے احباب کی سرگرمیاں ایک آن میں پتہ چل جاتی ہے ۔جن دوستوں سے باقاعدہ یا بالمشافہ ملاقات نہ بھی ہو تو فیس بک انہیں ،،فیس ٹو فیس ،،کر دیتا ہے ۔فیس بک پرہی اخبار کا ایک ٹکڑا دیکھا جس میں ڈاکٹر محمد صغیر خان صاحب کی دو تازہ تصانیف ،،نقش بر زمیں ،،اور،،کدوں سویل ہوسی ،،کا ذکر تھا ۔ڈاکٹر صاحب کی مہربانی کہ انھوں نے ڈاک کے ذریعے دونوں کتابیں ارسال کیں ۔کدوں سویل ہوسی پر میں تبصرہ لکھ چکا ہوں
،،نقش بر زمیں،،کو پہلے سرسری دیکھا لیکن اس کتاب نے مجھے مکمل پڑھنے پر مجبور کیا ۔پہاڑی زبان پر ڈاکٹر صاحب کے کام کا معترف تو میں تھا لیکن اردو میں اتنی اچھی نثر بھی لکھ لیتے ہیں اس بات کا مجھے بالکل علم نہ تھا ۔
علم کی طرح لا علمی کی بھی کوئی حد نہیں ہوتی ۔ہر کچھ دن کے بعد یہ حقیقت طنزیہ مسکراہٹ سجائے سامنے کھڑی ہوتی ہے کہ یہ جو تم کتابچی ہونے کے دعویدار ہو۔ادب سے شناسائی کا زعم رکھتے ہو۔کتنے لاعلم،درست معنوں میں کتنے جاہل ہو
کشمیری ہونے کے باوجود ،،نقش بر زمیں ،،میں لکھے کرداروں میں سے صرف میاں محمد بخش اور غلام احمد مہجور کے علاوہ تمام کرداروں سے بالکل لاعلم تھا ۔اس کتاب کے مطالعے نے مجھے احساس دلا کر شرمندہ کیا کہ تم کس درجے کے ناواقف ہو ۔اس کتاب کے ذریعے ڈاکٹر صاحب نے ہمیں ایسے لوگوں سے ملوایا جو کشمیر کی دھرتی کے بہت بڑے ادبی ستارے ہیں
میں ڈاکٹر صاحب سے کبھی نہیں ملا کہ بتا سکوں کہ وہ کیسا انسان ہے لیکن تحریر بہت کچھ پردے اٹھا دیا کرتی ہے ۔آدمی چھپ کر بھی چھپ نہیں سکتا ۔
جتنا بھی محتاط ہو آ خر جانا جاتا ہے
آدمی اپنے لفظوں سے پہچانا جاتا ہے
یہ کیسا صاحب دل شخص ہے جو بھڑکتا تنور سینے میں لیے پھرتا ہے۔کیسی اچھی اور تخلیقی نثر لکھتا ہے۔اور کتنی روانی کے ساتھ لکھتا ہے ۔یہ روانی بھی لکھنے والے کا پتہ دیتی ہے۔لکھنے کی یہ سہولت آ ہی جاتی ہے لیکن بڑی ریاضت بڑی کشت کے بعد حاصل ہوتی ہے۔مجھ سے کوئی پوچھے کہ تحریر کو تاثیر کیا چیز بخشتی ہے تو میں کہوں گا کہ لکھنے والے کی سچائی اور خلوص تاثیر بخشتی ہے۔یہ بعد کی بات ہے کہ اس کی لفظیات کیا ہیں اور لکھنے کا سلیقہ کتنا ہے ۔یہ بھی تحریر کی خوبیاں ہیں لیکن بڑے بڑے لکھاریوں کی تحریروں میں سچائی اور خلوص کو غائب دیکھا ۔
،،نقش بر زمین،،دراصل کشمیر کی دھرتی کے اہل قلم پر لکھے گئے مضامین کا مجموعہ ہے جس میں خاکہ نگاری کے ساتھ ساتھ تاریخ کا عکس بھی شامل ہے ۔خاکہ نگاری آسان کام نہیں ۔خاکہ نگاری تو مجسمہ سازی ہے ۔تھوڑی سی ضرب اوچھی پڑی تو چہرے کے خدوحال مسخ ہوئے نہیں ۔ڈاکٹر صاحب نے ایسی شخصیات میں ایسے انداز میں خاکہ نگاری کی کہ قاری کو مداح اور ممدوح دونوں پر پیار آجاتا ہے ۔
برحال میں نے کافی کوشش کی کہ کتاب میں کوئی ایسا پہلو ڈھونڈ سکوں جس پر کوئی تنقیدی تبصرہ کر سکوں لیکن ایسا کو ئی پہلو نہیں ملا ۔دل کی چند باتیں تھیں جو کتاب پڑھ کر لکھ دی ہیں اگر نہ لکھتا تو دل ودماغ پر بوجھ رہتا ۔خراج تحسین اور شاباش کے علاوہ ڈاکٹر صاحب کے لیے بہت ساری دعائیں ،اللہ کرے زور قلم ہو اور زیادہ۔۔۔۔۔





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved