تازہ ترین  

"مائکرو فکشن / مائکروف" کیا ہے ؟ پڑھیئے تعارفی مضمون
    |     5 months ago     |    افسانہ / کہانی
تغیر کائنات کی روح رواں اور فطرت کی دلیل عظمی ہے۔۔اس سے انکار زندگی سے انکار ہے۔ذرے سے صحرا ، قطرے سے دریا ،کونپل سے شجر ، کنکر سے پتھر اور قطرہ شبنم سے لے کر اشک بےقرار تک ہر چیز اس کے دائرہ عمل میں مقید ہے جو علامت حیات بن کر حرکت سے عبارت ہے ۔۔۔اس حرکت کی ضد جمود ہے اور جمود ""موت"" ہے۔ آئین طے ہو چکا کہ جسے باقی رہنا ہے اسے جستجو کرنا ہو گی۔نئے راستے ،نئ منزلیں ،نئے شمس و قمر نئ دنیائیں پیدا کرنا ہوں گی۔اختلاف عمل کی اس دنیائے فنا میں ہر شے اس اصول سے واقف ہے اس لئیے تازگی اور ترقی کی خواہش ہر جگہ نت نئ تبدیلیوں کو بدلتے موسموں کی طرح رواج دیتی ہے۔۔۔۔
ادب جو کہ زندگی کا جزو لاینفک اور وجودفکر میں حرارت کا موجب ہے اس پر اس اصول کا اطلاق نہ ہو یہ ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔اسی حقیقت ازلی کے عرفان نے مدیر انہماک "سید تحسین گیلانی "کی فکر کے ایوانوں پہ دستک دی تو انہوں نے افکار کی خشک ہوتی زمین میں تغیر کا جو بیج بویا اس سے ادبی دنیا اور اس کے مکیں "" مائکرو فکشن "" کے نام سے متعارف ہوئے ۔یہ بے شک یہ ایک مغربی صنف ہے مگر سید تحسین گیلانی کی زرخیز سوچ کو سلام ہے جس نے قدیم کو جدید میں ڈھالنے کا نہ صرف انوکھا خیال پیش کیا بلکہ مصمم ارادے اور ثابت قدمی سے علمائے ادب کی رفاقت میں مرحلہ وار اس کی صورت گری کا بھی بیڑہ اٹھایا ۔۔۔جسے تاحال پیارے منہمکین کی سنگت میں وہ خوشدلی سے نبھا رہے ہیں۔
۔اس صنف کو سمجھنے اور اس کی ترقی و ترویج کے لئیے معتبر ادبا کے تحقیقی مکالمے ،مضامین اور انٹرویو کے ساتھ ساتھ گاہے بگاہے اس صنف کے حوالے سے انگریزی سے اردو تراجم بھی پیش کئے گئے جن کی مدد سے اس صنف کی روح کو نئے زاویوں سے سمجھا اور جانا گیا۔۔اب تک تجرباتی نشستوں میں چھ سو سے زائد تجرباتی امثال پیش کی جا چکی ہیں جنہیں روح ادب کے استاد ادبا اور ناقدین نے اپنے علم و فن کی روشنی میں پرکھ کر لکھنے والوں کے لئیے چراغ راہ روشن کئیے ہیں۔منہمکین نے ہارر ،سسپنس،سادہ بیانیہ،تجرید،علامت کے حوالے سے عمدہ تحاریر پیش کر کے اپنے قلم کے ہنر کو آزمایا ہے۔۔خواتین کے عالمی دن، لیبر ڈے،مدر ڈے کے حوالے سے خصوصی نشستیں بھی ہوئیں اس کےعلاوہ تادم تحریررمضان المبارک کی نسبت سے "حی علی الفلاح" کے عنوان سے مائکرو فکشن کے بعد تا حال تجرباتی مائکروف کا سلسلہ جاری ہے۔۔۔۔
گزشتہ عرصے میں جو تحقیقی کام میں اس صنف کے حوالے سے ہو چکا ہے اس میں اس صنف کے نام پر بھی غور جاری رکھا گیا اور بالخصوص اس حوالے سے بار بار ادباء کی رائے لی گئی ۔مکالموں میں بہت سے نام سامنے بھی آئے۔ دنیا بھر کے ادباء نے بہت سے ناموں کی تجویز دی مباحث ہوتے رہے کسی نے " خرد افسانہ "کہا کسی نے " مفسانہ " کسی نے "مفکشن " ...آخر کار کراچی سے ہمارے ایک محترم دوست شفقت محمود صاحب نے "مائکروف " کی اصطلاح کو استعمال کرنا شروع کیا تو دیکھا گیا کہ ادباء کی کثیر تعداد نے اس" مائکروف " کو معتبر حیثیت دی اور خود بخود یہ نام مستعمل ہوتا گیا اور اسے قبولیت کی سند ملی ، یوں نام کا قضیہ ختم ہوا- اس دوران انہماک فورم پر اردو کے معتبر ترین ناقدین و ادبا سے مکالمے بھی جاری رہے اس ضمن میں ابھی تک شموئل احمد ( انڈیا ) ستیہ پال آنند ( امریکہ ) نیلم احمد بشیر ( لاہور ) طلعت زہرا ( کینیڈا ) نسیم سید ( کینیڈا ) محمد حمید شاہد ( اسلام آباد ) شمسہ نجم ( امریکہ ) سلمی جیلانی ( نیوزی لینڈ ) ابرار مجیب ( انڈیا ) فارس مغل ( کوئٹہ ) صدف اقبال ( انڈیا ) عمار اقبال ( کراچی ) سلمی اعوان ( لاہور ) سلمی صدیقی ( راولپنڈی ) عاکف محمود ( لندن ) رفیع اللہ میاں( کراچی ) شین زاد ( کراچی ) نعیم بیگ ( لاہور ) سید فصیح احمد ( سعودی عرب ) علی کاظم ( مری ) فیصل سعید ( کراچی) ان سب کے مضامین/ خطوط / نوٹس و آراء مائکرو فکشن کے حوالے سے انہماک فورم میں منظر عام پر آ چکے ہیں جنہوں نے اس صنف کے اسلوب و ہیئت کے حوالے سے بالخصوص بات کی اور کئی ادباء اردو میں اس کے روشن امکانات و مستقبل کی نشاندہی کی-
اس صنف کی صورت گری کے ضمن میں سالار کارواں سید تحسین گیلانی صاحب (مدیر اعلی انہماک انٹر نیشنل فورم ) کا کہنا ہے کہ:

""مائکرو فکشن کی صورت گری کے حوالے سے انہماک میں شامل مائکرو فکشن مثالوں کی بات ہے تو عرض ہے وہ نشستیں مشق سخن سے متعلق ہیں ان سب سے ہی بہترین مثالوں کو سامنے رکھ کر ہم اس کی صورت گری کرتے چلے جائیں گے اس پر کام ہو رہا ہے میں اور دیگر دوست نوٹس بنا رہے ہیں .......لیکن یاد رہے یہ سب کہانی کے بهیتر ہی ہوگا ..انجام ...منظر نگاری ....حیرت ....ہر مائکرو فکشن کا حصہ ہوں گے - ہارر مائکروفکشن میں جزئیات نگاری کو خاصی اہمیت حاصل ہو رہی کیونکہ وہاں لفظوں سے قاری کو سارا منظر دکهانا ہوتا ہے لکھتے لکهنے قلم مائکرو فکشن کی جسامت کو تو بھانپ گئے ہیں اور ان کا قلم خود بخود طے کرتا گیا کہ اس کا حجم کیا ہو موضوع کے اعتبار سے لفظوں کی تعداد 600 تک جا سکتی ہے -
مائکروف جدید دور کی اہم ترین ضرورت بهی ہے اور اس صنف میں تخلیقی بیانی زیادہ اہم ہیں ہمارے ہاں سو لفظی کہانیوں کا چرچا ہے اچھا ادب میں ایسی اصناف کی پزیرائی ہونا چاہیے لیکن مائکروف افسانچے / سو لفظی کہانی سے الگ ایک ایسی صنف ہیں جس میں داستان کا لطف / قصہ گوئی کی چاشنی / افسانے کا فسوں اور ناول کی جزئیات نگاری مکالمے سب در آ سکتے ہیں کم لفظوں میں بڑی بات گہری بات اور گہری فکر سے جوڑتا مائکروف اس وقت ادباء کے لیے لکهنے کا ایسا تخلیقی رستہ ہے جہاں سب خود کو جیتا جاگتا اور مکمل تخلیق سے جڑا ہوا پاتے ہیں -""
سید تحسین گیلانی کی زیر سر پرستی مائکرو فکشن کی ترویج و ترقی اردو ادب کی تاریخ کا بے مثال اور انوکھا کارنامہ ہے اس صنف پر مزیدتحقیقی کام جاری ہے دنیا بھر کے عالم ادباء اس اپنے طور پر اس صنف کی ہیئت و اسلوب میں بہتری کے لیے مقالے اور مضامین لکھ کر ادبی خدمت سر انجام دے رہے ہیں۔۔۔۔۔۔
پرنٹ میڈیا بھی اس تاریخی و تحقیقی ادبی تحریک کے اغراض و مقاصد سے آگاہ ہوتے ہوئے مائکرو فکشن کی اشاعت میں جوش و خروش سے حصہ لے رہا ہے ۔۔"قومی تنظیم "(انڈیا) اور" گوشہ ادب "(انڈیا ) کے مدیران کا تعاون بالخصوص قابل ذکر ہے ۔۔۔ جو تسلسل سے تجرباتی امثال کو اپنے اخبار کی زینت بنا کر اس ادبی سفر میں قدم قدم ہمارے ساتھ ہونے کا ثبوت دے رہا ہے ۔۔۔" اردو لنک" ( امریکہ ) میں بھی اشاعت یقینی ہے۔۔۔۔۔۔۔یہ بات خصوصی طور پر قابل -ذکر ہے کہ اردو ادب کا پہلا " مائکرو فکشن نمبر " ۔۔۔شائع کرنے کا سہرا۔۔۔ماہنامہ گل ۔۔کے مدیر قاری ساجد نعیم صاحب کے سر بندھ چکا ہے۔۔۔پاکستان کے شہر بورے والا میں ۔۔"سید تحسین گیلانی صاحب" ۔۔ مدیر انہماک انٹرنیشنل فورم و جریدہ کی زیر قیادت منعقد ہونے والی پہلی " مائکرو فکشن کانفرنس " کے بعد ہر طرف مائکرو فکشن کی دھوم مچ گئی۔اس صنف کی مقبولیت کا تیزی سے بلند ہوتا گراف اس بات کی نوید ہے کہ ادب کا آئندہ دور بالیقین مائکرو فکشن / مائکروف کا دور ہی ہو گا۔۔۔اور تاریخ اس خدمت کو اردو ادب کے روشن دور کے نام سے
یاد رکھے گی۔
( انشاءاللہ)





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved