تازہ ترین  

بے دردی
    |     4 weeks ago     |    افسانہ / کہانی
مناہل نوکری ملنے کی خوشی میں آفس سے انٹرویو کے بعد نکلتے ہی خوشی کے اظہار کے طور پر دونوں ہاتھ منہ پر رکھ کر کودنے لگی، اُسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اُسے یہ نوکری مل کیسے گئی کیونکہ اس سے پہلے وہ ایک سیلز گرل کے طور پر کام کرتی ےتھی، جہاں پورا دن پیدل دھوپ میں لوگوں کے دروازے بجا بجا کر اُسے لوکل برانڈز کے صابن شیمپو منتوں کیساتھ بیچنے پڑتے تھے،اور جس دن کچھ نہ بکتا تو اس کا باس اسے نوکری سے نکالنے کی دھمکیاں دینے لگتا اور لان کی دی ھوئی رقم کی واپسی کا مطالبہ کرتا،تعلیمی قابلت کم ہونے کی وجہ سے اسے کہیں اور اچھی نوکری ملنا کسی معجزے سے کم نہ تھا۔
جاب مل جانے کی خوشی میں آفس سے نکلتے ہی وہ سامنے والی بیکری پر گئی وہاں سے جلیبی اور اپنے بابا جان کیلئے شوگر فری میٹھائی خریدتے وقت 500 کا بِل ادا کرتے ہوئے آج اس نے پہلی بار بغیر بحث کئیے ہی پانچ سو کا نوٹ بیکری والے کو تھما دیا ۔
کونکہ پرانے کھڑوس باس سے اسے چھٹکارا ملنے کیساتھ ساتھ زبردست سیلری پیکج بھی مل رہا تھا جو کہ اس کے لئے اسکی سوچ سے کہیں زیادہ تھا ۔
گھر کے دراوزے پر آتے ہی وہ دروازے کو ڈھول کیطرح پیٹنے لگی ....
اماں اندر سے کچھ بڑبڑاتیں ہوئیں نکلیں.... مناہل نے جھپٹ سے انہیں گلے لگا لیا اور دروازے پر ہی نئی نوکری کے متعلق بتانے لگی ___
اماں بھی یہ جان کر خوش ہو گئیں، ظاہر ھے وہ بھی بے بس تھیں جوان بیٹی کو کہاں تک خجل خوار ہوتے دیکھتیں اور پھر زمانہ بھی ایسا نہیں کہ عزت کو محفوظ سمجھا جائے اور پھر مناہل کی تو سابقہ ملازمت ہی کچھ ایسی تھی جہاں کوئی بھی اسے عزت کی نظر سے نہیں دیکھتا تھا ۔
اندر سے بابا جان کی کھانسی کی آواز سنتے ہی مناہل بھاگتے ہوئے اندر جاتی ھے اور اپنے بابا جان کو بھی اپنی نئی نوکری کے متعلق بتاتی ھے جسکا سن کر وہ شفقت سے اسکے سَر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اُسے ڈھیروں دُعائیہ کلمات سے نوازتے ھیں ۔
نوکری کے پہلے دن اس کیلئے آفس والوں کی جانب سے ایک چھوٹی سے پارٹی کا انتظام کیا جاتا ھے اور اُسے آفس کے تمام سٹاف سے بھی ملوایا جاتا ھے۔
باس کی سیکرٹری جو کہ کافی well dressed ہوتی ھے اسے اس کے کیبن تک چھوڑ کر آتی ھے جو کہ باس کے کیبن کے بالکل ساتھ واقع ہوتا ھے۔
مناہل اپنے کیبن میں پڑی ہر چیز کا بغور جائزہ لینے کے بعد سامنے ٹیبل پر پڑے میگزین کو اٹھا کر دیکھنے لگی اس پر چھپی ماڈلز کی پرکشش بولڈ تصویروں کو وہ حسرت سے دیکھنے لگی۔ کیونکہ وہ ایک لوئر مڈل گھرانے سے تھی جہاں 1000 سے اوپر کا جوڑا اسنے کبھی نہیں پہنا تھا اور ڈیزائنرز کپڑے وہ صرف خواب میں ہی سوچ سکتی تھی خریدنا تو دور کی بات ۔ ساتھ والیے کیبن میں موجود اسکا باس شاید اسکی شکل کے تاثرات سے ہی جان چکا تھا کہ وہ کن خیالوں میں گم ھے ۔
کچھ دن بعد ایک میٹنگ تھی جہاں بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مالکان شرکت کرنے والے تھے ،اگلے دن باس نے آفس کے تمام سٹاف کو جمع کر کے میٹنگ سے متعلق سمجھایا اور مناہل چونکہ آفس کی نئی ورکر تھی اس لیے اسے خصوصی طور پر باس کیجانب سے ھدایات دیں گئیں کی تمام تر Arrangements میں وہ بھی participate کرے ۔
3 دن بعد میٹنگ تھی جس کیلے شام 5 بجے کا وقت مقرر تھا مگر جن کے ساتھ میٹنگ تھی وہ ابروڈ سے آ رہے تھےبان کا فون آیا کہ موسم خراب ہونے کے باعث فلائٹ تھوڑی لیٹ ہو گئی ھے ۔
5 ہوتے ہی دیگر کمپنیوں کے مالکان بھی آنے لگے اور آفس کے باہر ڈھیروں عالیشان گاڑیوں کا رش دیکھ کر مناہل کی تو آنکھیں پٹھی کی پٹھی رہ گئیں ۔وہ آفس کے Corridor میں ویلکم کیلئے کھڑی سلائس مرسیڈیز سے اُترتے ہوئے امیر زادوں کو دیکھتی رہی۔ میٹنگ جو کہ 7 بجے ختم ہوجانی تھی سب کے آتے آتے ہی رات کے 10 بج چکے تھے مناہل اب پریشانی سے بار بار اپنی گھڑی کو بے چینی سے تکتی کی کب میٹنگ ختم ہو اور وہ گھر جائے، ادھر یہ پریشان تھی اور ادھر اماں اور بابا جان بھی اس کیلئے فکر مند بار بار دروازے کی اوڑھ دیکھتے ۔کیونکی رات کے دس بچ چکے تھے اور مناہل کی کوئی خبر تک نہیں تھی۔
گیارہ بجکر تیس منٹ(11:30pm) پر میٹنگ ختم ہوئی تمام سٹاف گھر جانے لگا مناہل بھی چادر لے کر باہر نکلنے لگی تو باس (سر آصف) نے کہا کہ رکو میں تمھیں ڈراپ کر دوں گا اس وقت لوکل کوئی بھی رکشہ یا گاڑی مشکل ہی ھے کہ ملے۔اس نے دو تین بار منع کیا....
سر!!! چھوڑیں آپ کیوں تکلیف کرتی ھیں؟......
میں Manage کر لوں گی.....
مگر چوتھی بار باس کے پرزور اِسرار پر اس نے ھاں میں سر ہلا دیا۔
شاید وہ اس بات سے انجان تھی تھی کہ اسے باس کیجانب سے اس پر کئے گئے تمام تر احسانوں کی کس قدر بڑی قیمت ادا کرنی پڑ سکتی ھے۔
آفس کے پارکنگ ایریا میں کھڑی پراڈو کا فرنٹ ڈور کھولتے ہوئے Boss نےاسے Front seat پر بیٹھنے کا اشارہ کیا .......
اس نے اپنی چادر سے ہلکا سا نقاب کر لیا اور شیشے سے باہر باہنی طرف دیکھنے لگی .....
ھاں تو مِس مناہل""""...!!!
کہاں رہتی ھیں آپ؟
اُسنے دبی سی آواز میں کہا: "سر یہیں گلشن کالونی میں"...
ھممممم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گلشن کالونی میں کس جگہ؟
سر آصف بیگ کی نظریں جو کہ اب ڈرائیونگ سے ھٹ کر مسلسل اب اُس پر ٹِکی ہوئیں تھیں اسے ان سے الجھن ہونے لگی تھی مگر کیا کرتی اب چلتی گاڑی سے کُودا بھی تو نہیں جا سکتا تھا ناں.............
سر ..!!!
یہاں سے آگے سے لیفٹ اور پھر رائٹ جہاں بڑا سا کھنبہ ھے مجھے وہیں اُتار دیں....
اُسکی بات کو اگنور کرتے ہوئے گاڑی داہنے سمت موڑ لی گئی ۔
240 کی سپیڈ میں گاڑی بھگائی جا رہی تھی اور اس سنسان جگہ پر مناہل کی چیخیں کسی بھی سماعت سے نہیں ٹکرائیں شیشہ دونوں ہاتھوں سے پیٹا جا رہا تھا اسکے ہاتھ میں موجود کانچ کی چوڑیاں ٹوٹ کر اس کے ہاتھوں خون نکلنے لگا اب تو وہ واقعی ہی گاڑی سے چھلانگ لگانے کو بھی تیار تھی مگر بدقسمتی سے گاڑی کو لاک کر کے ویرانے میں ایک درخت کیساتھ لگا لیا گیا۔۔۔۔۔۔۔
جہاں اسکی چیخ و پکار بے جان درختوں اور ان پر موجود بے بس پرندوں کے سوا کسی نے نہیں سنیں......
امیّ جی!!!
امیّ جی'ی'ی.... مجھے بچا لو ناں.... امیّ ی ی ی۔۔۔۔۔۔۔ی
پھر بڑی ہی بے دردی کے ساتھ اُس کا گلا دبا کر اُسے وہیں چھوڑ کر وہ فرار ہو چکا تھا... گھر والے تمام رات فکر و پریشانی میں مناہل کا انتظار کرتے رہے مگت وہ نہ لوٹی...
اگلی صبح جب اُسکی لاش ملی تو تفتیش کیلئے پولیس سب سے پہلے اس کے گھر، اور پھر آفس پہنچی جہاں وہ کام کرتی تھی، تو آفس کے چوکیدار نے اپنے بیان میں پولیس کو بتایا کہ حادثے والی رات 'سر آصف' ہی اسے گھر ڈراپ کرنے والے تھے، مگر پولیس کی آصف بیگ تک رسائی سے پہلے ہی آصف بیگ کے چمچوں نے پولیس کا منہ نوٹوں سے بند کر دیا ۔اور مناہل کی کیس فائل کہیں دوسری غریب اور بے سہارا لڑکیوں کی طرح باقی فائلوں کے نیچے دَب گئی، اور ماں 'باپ لڑکی کا معاملہ ھے ،یہی سوچ کر عزت بچانے کیلئے خاموش رہے ۔ ۔ ۔ !





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved