تازہ ترین  

کیدوں سویل ہوسی ۔۔۔۔۔ پہاڑی غزلاں
    |     4 weeks ago     |    گوشہ ادب
پہاڑی میری مادری زبان ہے اور بہت میٹھی زبان ہے۔بعض الفاظ میں اتنےمٹھاس اور کشش ہے کہ کبھی وہ لفظ سن کر یا پڑھ کر گھنٹوں تک اس کی لذت محسوس ہوتی رہتی ہے۔
پہاڑی زبان کا الگ سے کوئی رسم الخط نہیں ہے اردو حروف تہجی کا استعمال ہی کیا جاتا ہے اس لیے پڑھنے والوں کو تھوڑی مشکل ضرور پیش آتی ہے ۔

پہاڑی زبان میں پہلے "مہاڑیاں بگیاڑاں"پھر "پہاڑی آخان"پھر "خوشیاں سانویں رکھ" پھر "حالانکہ تو اُوے دیں" اور اب "کدوں سویل ہوسی " کو پڑھا اور آخری غزل کے مقطع کے ایک لفظ "توار وار" کی لذت محسوس کرتے ہوئے کالم لکھ رہا ہوں ۔
"کدوں سویل ہوسی " کے مصنف ڈاکٹر محمد صغیر خان صاحب سے بالمشافہ ملاقات کبھی بھی نہیں ہوئی۔جب ڈاکٹر صاحب نئے نئے پی ایچ ڈی کر کے آئے تھے تو تب میں جماعت دہم کا طالب علم تھا اور "ادبی کاوش تھوراڑ" کے دوستوں نے اُن کے اعزاز میں ایک تقریب رکھی تھی تو دور سے ہی دیدار نصیب ہوا تھا ۔اُس وقت ہم شعروادب سے بالکل ہی ناآشنا تھے۔
" کدوں سویل ہوسی "میں ڈاکٹر صاحب نےدل کی اور سچی باتوں کو غزل کی شکل دی ہے۔اور بہت ہی خوبصورت لکھا ہے ۔اصل غزل وہی ہے جس کے ہر شعر میں ایک مضمون چھپا ہو۔
"کدوں سویل ہوسی " کی ہر غزل کے ہر شعر میں ایک مضمون چھپا ہوا ہے جس میں ماضی کی یادوں کا ایک طویل سلسلہ بھی ہے اور پہاڑی زبان کے ٹھیٹھ لفظوں کی مٹھاس بھی شامل ہے۔

ایک غزل کا مطلع کچھ اس طرح ہے :

مہاڑا نکتہ نکتہ اُکرا اُکرا اُس کیا دا
مندا دا پہانویں چنگا اُ س کیا دا

اُکرا اُکرا،مندا ،چنگا ،پہانویں ، یہ پہاڑی زبان کے وہ الفاظ ہیں جن کی جگہ اردو یا انگریزی الفاظ نے لے لی ہے ۔
اسی طرح اسی غزل کےدوسرےشعر میں لفظ "بجوڑ" استعمال کیا ہے جس کے اردو معنی بے سلیقہ کے ہیں ۔یعنی وہ شخص جس کو کام کرنے کا طریقہ و سلیقہ نہ ہو۔یہ الفاظ پڑھ کر گھنٹوں اپنی ماں بولی کی حلاوت محسوس ہوتی رہی ہے۔ ایک اور غزل کا مطلع کچھ اس طرح ہے
اُنی ہرکُسے نے ساونے میں کنے ٹھٹھا کیتا
ایہھاں مہاڑا پیار جذبہ اُنی مٹھا کیتا
(اُس نے ہر کسی کے سامنے میرے ساتھ مذاق کیا ۔ اس طرح میرے پیار کا جذبہ اُس نے ہلکا کیا )
ٹھٹھا اور مٹھا دو ایسے لفظ ہیں جو اب پہاڑی زبان میں بزرگوں کے علاوہ کو ئی ہی بولتا ہوگا
کدول سویل ہوسی " کی غزلوں میں پہاڑی تہذیب و ثقافت کی جھلک بھی نظر آتی ہے ۔کہیں تختی اور بستے کا ذکر ہے اور کہیں کچے گھروں کا ذکر ہے اور کہیں غریبوں کا درد شامل ہے
غریب کویاں پڑھے لیخے نئے زمانے وچ
تختی نی رہی تے کپڑے نہ بستہ نی ریا

(نئے زمانے میں غریب کیسے پڑھے لکھے اب کپڑے کا بستہ اور تختی نہیں رہی )

بستہ ،تختی ،قلم ،دوات ،چھوڑی ،شوڑی
بیاہ،ٹہنگ،جنج،بارات ، چھوڑی شوڑی

کدوں سویل ہوسی کی غزلوں سے محسوس ہورہا ہے کہ ڈاکٹر صاحب ایک سادہ اور شریف انسان ہیں

میں نی لغنا کہ میں اس کی رام کری سکنیس
جینی اس کی رام کیتا اُس کمال کیتا

(مجھے نہیں لگتا کہ میں اسے متاثر کرسکتا ہوں۔جس نے اس کو متاثر کیا اُس نے کمال کیا )

ایک غزل کا ایک اور شعر جس میں عشق حقیقی،رومانیت ،اور تصوف اور ڈاکٹر صاحب کی درویشی کا عکس نظر آتا ہے۔

من کالا تے تن وی بوں کالا کِرٹھ دا
کہہ گل وہے میں اس نیاں اکھی نہ کاجل ہوئی اچھا ں

(اندر سے کالا ہوں اور باہر سے بھی بہت زیادہ کالا ہوں
کیسی بات ہو کہ میں کبھی اُس کی آنکھ کا کاجل بن جاؤں)

پہاڑی زبان پر کیا گیا ڈاکٹر صاحب کا کام ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ڈاکٹر صاحب کا احسان ہے کہ انھوں نے تحریروں کے ذریعے ہمیں اپنی ماں بولی سے جوڑے رکھا ہے ۔
"کدوں سویل ہوسی "مجھے بہت ہی پسند آئی ۔کتاب ختم ہونے تک میرے ساتھ ساتھ رہی اور پڑھتے ہوئے مسکراہٹ بھی ساتھ ساتھ رہی اور پہلی بار کسی کتاب کےمصنف سے کچھ الفاظ کے معنی بھی بذریعہ شارٹ میل سروس معلوم کیے ۔
مجھے پہاڑی زبان و ثقافت سے بہت محبت ہے۔یہاں میرے ساتھ پہاڑی بولنے والا کوئی نہیں ہے ۔بچے ابھی چھوٹے ہیں بیگم صاحبہ پنجابی ہیں اردو اور پنجابی ہی بولتی ہیں۔انھوں کتاب کا نام ہی مشکل سے پڑھا آگے پڑھنے کی کوشش کی لیکن کوشش ناکام ثابت ہوئی ۔
برحال ڈاکٹر صاحب کا پہاڑی زبان پر جو کام ہے اس کے لیے میرے پاس الفاظ کا ذخیرہ نہیں ہے کہ میں ان کو خراج تحسین پیش کر سکوں۔دھرتی ایسے بیٹوں کو صدیوں یاد رکھے گی۔
اس کتاب کا جو شعر مجھے بہت پسند آیا وہ آخر میں تحریر کر رہا ہوں
برھنے بدلے نیاں پھوہاں جدوں جدوں پینیاں
کچیا مٹیاں نیاں خشبواں دورے توڑوں گینیاں

(برستے بادل کی بوندیں جب جب برستی ہیں ۔کچی مٹی کی خوشبوئیں دور تک جاتی ہیں )





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved