تازہ ترین  

بھوتوں کا تاج محل
    |     4 weeks ago     |    گوشہ ادب
تاج محل کو محبت کی یاد گار کے طور پر سنا تھا.تاج محل کو شاعر اور گیت کار اپنے مدھر الفاظ میں ڈھال کر عشق و محبت کے فسانے سناتے اکثر سنے.تاج محل کو محبت کی عظمت اور توقیر بیان کرتے ادیبوں کو پڑھا.
مگر جب فلک کی کتاب سامنے آئی اور نام پڑھا تو ورطہ حیرت میں ڈوب گیا.بھوتوں کا تاج محل نام پڑھ کر ہی جھٹکا لگا تھا .مگر دوسرا جھٹکا یہ تھا کہ یہ ہولناک ، خوف ناک اور سانسوں کی منجمد اور دھڑکن کو تیز کرنے دینے والی کہانیاں بچوں کے لیے لکھی گئی تھیں.
پراسرار کہانی اور عجیب و غریب قصے لکھ کر قاری کو سحر میں جکڑنے والی مصنفہ کے قلم کی کاٹ کا اندازہ اور تجربہ مجھے ان کی پہلی کتاب 15 پر اسرار کہانیاں پڑھ کر ہو چکا تھا .مگر اب سوچ کا زاویہ اس سمت میں کسی بھوت کے کندھوں پر سوار سر پٹ بھاگ رہا تھا کہ یہ ننھی سی بچی بچوں کے لئے بھی ادب تخلیق کرنے کا بیڑا اٹھا رہی ہے ..
کتاب مجھے فلک کی جانب سے محبت اور احترام کے ساتھ ہدیہ ہوئی تھی.اس لئے کتاب کا مطالعہ اور اس پر کچھ کہنا لازم تھا ..
کسی بھی تخلیق میں تعمیر کا عنصر سب سے اہم اور لازمی جزو ہوا کرتا ہے اور بات اگر بچوں کے ادب کی ہو تو اس میں تعمیری سوچ ، مثبت انداز اور بچوں کے لئے خاص پیغام ہونا ضروری امر ہے .یوں تو کتاب میں دس کہانیاں ہیں مگر پہلی ہی کہانی کو پڑھنے کے بعد مجھے نہایت مسرت ہوئی کیونکہ کہانی ڈراونی اور آسیبی ہونے کے ساتھ ساتھ بچوں کے لئے اپنے اندر پیغام سموئے ہوے ہوئی تھی.
کہانی حویلی کا بھوت ایک ایسے بچے کی کہانی تھی جو گاؤں میں ایک آسیب زدہ مکان میں جا پھنستا ہے ،اور وہ بھوت کے سوالوں کے جواب دے کر جان بچاتا ہے .مگر کہانی میں نیا موڑ تب آتا ہے .جب بچہ اپنی ذہانت کی وجہ سے یہ جانچ لیتا ہے کہ سوال کرنے والا کوئی انسان ہے ،جن یا بھوت نہیں .یوں کہانی کھلتی ہے کہ وہ ایک بیمار بوڑھا کوڑھی انسان ہے .جسکی بیماری کی وجہ سے اس کا دنیا میں نا کوئی سہارا ہے نا کوئی اپنا.وہ اس وجہ سے یہاں آ چھپا تھا.
کہانی سے دو سبق ملتے ہیں کہ ہر غیر معمولی چیز بھوت پریت ہو یہ لازم نہیں ،دوسرا کسی انسان کی بیماری یا غربت کی وجہ سے اس کو معاشرے سے کاٹ پھینکنا جرم ہے .
خوفناک چڑیل کے کردار ماریو اور فریڈ بچوں کو سبق دیتے ہیں کہ ضروری نہیں کہ ہر نظر آنے والی چیز انسان ہی ہو .ایسی صورت حال درپیش آجاۓ تو اپنا بچاؤ پہلے کرنا چاہیے.
بوسیدہ عمارت سبق ہے ان بچوں کے لئے جو بڑوں کا کہا نہیں مانتے اور خود کو خطروں میں ڈالتے ہیں .دو دوست ایک آسیب زدہ عمارت میں داخل ہوتے ہیں ،جہاں جانا منع ہے .پھر نتیجہ وہی نکلتا ہے جس کا ڈر ہوتا ہے .ایک دوست کا سر کٹ جاتا ہے اور دوسرا کھڑکی سے چھلانگ لگا کر اپنی ہڈیاں تڑوا کر اپنے دوست کو کھو کر یہ سبق حاصل کرتا ہے کہ بڑے جس کام اور جگہ جانے سے روکتے ہیں .ان کا فیصلہ ہمیشہ بچوں کی بھلائی کے لئے ہوتا ہے .
اسی طرح تمام کہانیاں اپنے اندر جہاں ڈر کی ایک دنیا ، خوفناک مناظر ، ہولناک جگہیں ، ہیبت ناک روحوں کو چلتا پھرتا دکھاتی ہیں ،وہیں فلک کا قلم کسی ایک شہر یا ملک میں جا کر رکتا نہیں.اگر وہ دیہی اور مقامی منظر ایک کہانی میں دکھاتی ہے تو دوسری ہی کہانی میں وہ امریکا یا فرانس کے قبرستان ، سڑکیں ، تہوار اور روایات اس آسانی سے پڑھنے والے کے سامنے کھول کر رکھ دیتی ہے کہ پڑھنے والا ان مناظر کو ایک فلم کی طرح اپنی آنکھوں کے سامنے چلتا دیکھتا ہے ..
فلک نئے لکھنے والوں میں ایک خوبصورت اضافہ ہے ،تنقید سے مبرا نہیں ،مگر ہمہ وقت تنقید کرنا لکھنے والوں کا حوصلہ کمزور کرتا ہے .اسکے الفاظ ، اس کا تخیل ، اس کی سوچ کی پرواز ، اس کی محنت ، اس کی کتاب سے محبت یہ سب دیکھنے کے ساتھ اس کو پڑھتے وقت اس کی کم عمری بھی مدنظر رکھنی چاہیے.اس کے الفاظ وقت کے ساتھ ساتھ مزید پختہ ہو رہے ہیں .اس کی کہانی کو پڑھتے ہوۓ انسان ایک ایسے جہان میں پہنچ جاتا ہے جہاں پراسراریت عروج پر ہوتی ہے .دل کی دھڑکن تیز تر اور ہر آہٹ پر رونگٹے ضرور کھڑے ہوتے ہیں .وہ پڑھنے والے کو آسیب زد حویلی ، بند اور خوفناک مکان ، ویران سڑکوں پر موت کا رقص ، قبرستان میں لاشوں کی چیخیں اتنی آسانی سے دکھاتی ہے کہ پڑھنے والا اس ماحول کو اپنے اردگرد محسوس کر کے ڈرا ڈرا کہانی کو مکمل کرتا ہے .
اس ننھی مصنفہ کی کہانیوں میں احمد ، ماریو ،فریڈ ،مارٹن،سارا کونن جمی ، روزین ،جوزف ،ہنری،کرسٹی ، جان ، الغرض ہر ملک اور خطے کے باسی روحوں ، بھوتوں ، عجیب و غریب واقعات کا شکار ہوتے ہیں.
اپنی عمر سے بہت آگے لکھنے والی ،تمام عمر اور ادب سے محبت کرنے والے افراد کے لئے خوب صورت کہانیاں لکھنے والی اس ننھی اور معصوم لکھاری کے فن کو سراہنا چاہیے کیوں کہ وہ آج ادب کا روشن ستارہ ہے اور آنے والے کل وہ ادب کا سورج ہو سکتی ہے .بس ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کو پڑھا جاۓ تاکہ لکھنے والے کا دل بڑا ہو .اور وہ ادب کے مذید نئے نئے رنگ پڑھنے والوں کے سامنے بکھیر سکے.ویلڈن فلک





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved