تازہ ترین  

اکثر مشاعروں میں صدارت ، مہمان خصوصی اور اعزازی مہمانوں کی نشستوں کے ریٹ مقرر ہوتے ہیں۔۔۔سینئر شاعر اکرم کنجاہی کی خصوصی گفتگو آپکی بات پر
    |     3 months ago     |    تعارف / انٹرویو
مادیت پرستی کے اس دور میں جہاں ہم روحانی طور پر پتھروں کے زمانے میں ہی گھوم رہے ہیں اور ہماری روحیں پتھروں کی طرح بے حس ہوتی جا رہی ہیں وہاں اکرم کنجاہی جیسے شاعر تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوتے ہیں ۔اکرم کنجاہی ایک فطری شاعر ہے اور سخن وری اس میں ودیعت ہے بریں وجہ نئے اسلوب اور فنی حوالے سے اپنے ہم عصر شعراء میں منفرد مقام حاصل ہے ۔وہ بنیادی طور پر غزل کا شاعر ہے لیکن نظم میں بھی اتنا ہی عبور حاصل ہے کہ نظم بھی غزل کے ہی رنگ سے سرشار ہوتی ہے ۔ حق یہ کہ اکرم کنجاہی کو جذباتی اظہار کی تشنہ لبی کو سیراب کرنے کا ملکہ حاصل ہے کچھ دنیا گھومنے کے شوق نے بھی حقیقتوں کو یوں افشا کیا ہے کہ ہر لفظ زندگی کے راز کھولتا ہوامحسوس ہوتا ہے۔ <
کراچی اور گجرات سے بیک وقت شائع ہونے والا ادبی پرچے ’’سہ ماہی غنیمت ‘‘ کی ادارت کے فرائض سنبھال رہے ہیں جس کے توسط سے بھی پنجاب بھر میں اعلیٰ ذوق اور ادب و صحافت سے تعلق رکھنے والے تمام افراد ان کی عظمت کے معترف ہیں ۔کتاب کی اشاعت کے حوالے سے ہونے والی بات چیت میں اکرم کنجاہی نے شعر کی جو تعریف بیان کی وہ بھی اپنے آپ میں ایک سند ہے کہ جو لکھاری سخن بیانی کو اس گہرائی سے سوچتا ہے اس کے فن کو پرکھنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ شاعری دماغ سے بھی کی جاتی ہے اور دل سے بھی ۔۔آخر الذکر میں اسلوبیاتی سطح پر شعبدہ بازی تو ہو سکتی ہے مگر شعر قاری کے دل کے تار چھیڑنے سے قاصر رہتا ہے مگر شاعر ’’دل کو امام ‘‘کر کے شعر کہے تو شعر حسنِ تاثیر کا حامل ہو جاتا ہے اور قاری کی دکھتی رگوں کو چھڑتا ہے اور محسوس ہونے لگتا ہے کہ شاعرقاری کا مزاج آشنا ہے ۔ بلاشبہ لفظ خام کو کیسے غزل بنانا ہے اکرم کنجاہی سے بہتر کوئی نہیں جانتا مگر پھر بھی عاجزی و انکساری ان کی شخصیت کا خاصہ ہے اس کی وجہ یقینا آگاہی اورخوف الہی ہے اور جو موت کو یاد رکھتا ہے وہ ہمیشہ دلوں میں زندہ رہتا ہے اور یہی ان کی کامیابی کی وجہ ہے کہتے ہیں کہ :
مشت غبار بن کے کسی دن ہوا کے ساتھ
جانا ہے اس نگر سے اچانک قضا کے ساتھ
ان کے بارے میں مزید انھی سے جانتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:۔ آپ کو نثر نگاری یا شعر گوئی کا خیال کیسے آیا یا یہ کہ آپ ایک لکھاری بننے پر کیسے آمادہ و تیارہوئے؟
میرا خمیر ’’چناب ‘‘ کی رومان پرور مٹی سے اُٹھا ہے ۔ آبائی تعلق ضلع گجرات کے علمی و ادبی شہر کُنجاہ سے ہے۔مولانا ظفر علی خان ۱۹۳۷ ؁ء میں کُنجاہ تشریف لے گئے تھے ۔وہاں انہوں نے عہدِ اورنگ زیب عالمگیر کے نامور فارسی شاعر اور خدا رسیدہ ہستی مولانا محمد اکرم غنیمت کُنجاہی کے مزار پر حاضری دی اور کُنجاہ کی توصیف میں فی البدیہہ ایک طویل نظم کہی جو اُن کی کتاب بہارستان میں شامل ہے۔دو اشعار ملاحظہ فرمائیے

یہ حسن وعشق کی بستی اسے کُنجاہ کہتے ہیں
یہاں کی خاک کا ہر ذرّہ آتش پارہ ہوتا ہے
غنیمت کی لحد ہے اب بھی سوز و ساز کی محفل
مرے ہر جرم کا آ کر یہاں کفّارہ ہوتا ہے

سرسید احمد خان نے گجرات کو ہندوستان کا خطہء یونان کہا تھا۔گجرات نے فنونِ لطیفہ کے حوالے سے کئی معتبر ہستیوں کو جنم دیا ہے۔اِس خطّے کی علمی و ادبی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو فارسی ، اُردو اور پنجابی زبان کے علما،شعرأ اور ادبا کی ایک طویل فہرست ہے۔غنیمت ؒکُنجاہی،میاں محمد بخشؒ ، دائم اقبال دائم، محمد بوٹا گجراتی،مولوی فضلِ حق،استاد امام دین، پیر فضل گجراتی، شریف کُنجاہی،انور مسعود، روحی کُنجاہی ،فخر زمان، برگیڈئیر صدیق سالک، مستنصر حسین تارڑ،مسعود مفتی، عبداللہ حسین، احمد سلیم ،مسعود ہاشمی ،اقتدار جاوید،پروفیسر سیف الرحمان سیفی،شاہین مفتی، منیر صابری ، فیض الحسن ناصر ،افضل راز ،شیخ عبدالرشید ، کلیم احسان بٹ ، عتیق الرحمن صفی اور ایسے دیگر کئی تخلیق کار۔ایسے ادبی پس منظر میں میرا پہلا عشق تقریر کے فن سے تھا۔فنِ تقریر میں مہارت پیدا کرنے کے لیے اُردو شاعری کا خوب مطالعہ کیا۔اِس کثرتِ مطالعہ نے شعر گوئی کی طرف راغب کیا۔کالج میں میرا پہلا سال تھا ۔کُنجاہ میں ادبی تنظیم ’’بزمِ غنیمت‘‘ کے ماہانہ مشاعرے ہوا کرتے تھے۔ممتاز شاعر منیر صابری بزم کے سر پرست تھے۔ابتدائی طور پر اُن کو اپنا کلام دکھاتا تھا اور بزم کے ماہانہ مشاعروں کی نظامت کا فریضہ بھی سر انجام دیتا تھا۔کالج میں بھی گجرات کے ہر دل عزیز استاد اور ممتاز شاعر پروفیسر سیف الرحمن سیفی سے استفادہ کیا۔اُس سے اصلاح تو نہیں لی مگر انہوں نے نثر نگاری کی تحریک پیدا کی۔

سوال:۔ آپ کتنے عرصے سے اس میدان میں طبع آزمائی فرما رہے ہیں؟
غالباََ ۸۳۔ ۱۹۸۲؁ء میں پہلی غزل کہی تھی
سوال:۔ آپ کوئی سے ایسے دو واقعات بتائیں جنہوں نے اِس مقام تک پہنچنے کے لیے آپ کو جنونی یا ہمہ تن مصروف بنا دیا
زمانۂ طالب علمی میں ،راقم الحروف ایک نامور مقرر تھا۔تقریری مقابلوں اور مباحثوں کے لیے تقریر تیار کرنا پڑتی تھی ۔یوں لکھنے کی ابتدا تقریر نویسی سے ہوئی۔گورنمنٹ پبلک ہائی اسکول کُنجاہ (گجرات)کے زمانے میں ہمارے سائنس کے استاد محمد مظفر صاحب استعفا دے کر بیرونِ ملک (قطر) چلے گئے۔اُن کی الوادعی تقریب میں مجھے طالب علموں کی نمائندگی کرتے ہوئے تقریر کرنا تھی، میں نے اپنے اُردو کے استاد جناب خادم حسین خادم سے گزارش کی کہ مجھے تقریر لکھ دیں ۔انہوںنے مجھے سر سے پائوں اور پائوں سے سر تک دیکھا اور کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گئے۔پھر مجھے مخاطب کر کے کہنے لگے’’میں تو سمجھتا تھا کہ تم ایک دن میرا نام روشن کرو گے، مگر تم نے تو ابھی سے بیساکھیاں تلاش کرنا شروع کر دی ہیں۔اگر تمہیں بھی تقریر میں نے ہی لکھ کر دینی ہے تو دوسرے طلبا کی حالت کیا ہو گی؟‘‘۔یہ الفاظ تھے جنہوں نے تمام عمر میرے کام کو مہمیز کیا۔اسکول، کالج، یونیورسٹی اور قومی سطح کے تقریری مقابلوں اور مباحثوں کے لیے کبھی کسی سے تقریر نہیں لکھوائی۔خود مطالعہ کیا،حسبِ حال اشعار کہے اور تقاریر لکھیں۔پنجاب یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد تقریر کے فن پر میری دو کتب ’’فنِ خطابت‘‘ اور ’’اصولِ تقریر‘‘ بھی الحمد پبلی کیشنز ، لاہور سے اشاعت پذیر ہوئیں۔ان کتب کے درجنوں ایڈیشنز شائع ہو چکے ہیں۔

سوال:۔ آپ کوئی سے ایس دو واقعات بتائیں کہ جب جب آپ کی حوصلہ شکنی ہوئی یا یہ کہ کسی سینئیر لکھاری نے آپ کی بد تعریفی کرتے ہوئے آپ کو بد دل کرنے کی کوشش کی اور آپ نے کیا رویہ یا انداز اپنایا
ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی نے میرے کام پر اس انداز میں تنقید کی ہو کہ جو میرے لیے حوصلہ شکنی کا باعث بنی۔البتہ یہ انسانی فطرت ہے، یہ ضرور ہوتا ہے کہ آپ کسی شعبے میں یا کسی مقام پر تازہ تازہ وارد ہوتے ہیں تو پہلے سے موجود افراد میںسے کچھ آپ کے کام کو وقتی ’’پھلجھڑی‘‘ قرار دیتے ہیں تو کچھ کم صلاحیت آپ کی وجہ سے خوف زدہ بھی ہو جاتے ہیں۔حضرت علی(رض) فرماتے ہیں ، بد قسمت ہے وہ شخص جس کا کوئی حاسد نہیں۔بے صلاحیت سے کوئی کیوں حسد کرے گا۔برسوں پہلے جب میں نے شاعری کا آغاز کیا تو تقریر کے فن میں غیر معمولی صلاحیت کی وجہ سے میں ’’بزمِ غنیمت کُنجاہ‘‘ کا مستقل نظامت کار بھی مقرر ہوگیا۔ میرے آبائی شہر میں، عمر کے اعتبار سے کچھ سینئیرمقامی شعرأ کا رویہ قابلِ تعریف نہیں تھا۔آج بھی جب کہ کراچی میں قیام پذیر ہوئے مجھے ۲۶ سال بیت گئے ہیں اور میں تنقید نگاری ، شاعری اور ادبی پرچے کی ادارت کے حوالے سے ایک توانا حیثیت کے ساتھ یہاں موجود ہوں۔کچھ حضرات علمی سطح پر مکالمہ کرنے کی بجائے آپس میں بیٹھے ہوئے کانا پھوسی کرتے رہتے ہیں۔ایک بات پر وہ متفق ہو جاتے ہیں’’پنجابی ہے‘‘ ۔یہ رویہ تکلیف دہ تو ہوتا ہے مگر یہ اس بات کا ثبوت بھی ہوتا ہے کہ علمی سطح پر پستہ قد لوگ سازش کا سہارا لیتے ہیں۔

سوال:۔ آپ کوئی سے چند ایسے احباب کا تذکرہ فرمائیں جنہوں نے اس ادبی میدان میں سر گرم رہنے کے لیے آپ کی سر پرستی فرمائی
زندگی میں انسان تین طرح کے لوگوں سے ملتا ہے ۔فی زمانہ اکثریت اُن لوگوں کی ہے کہ جن سے ملاقات کے بعد دکھ دامن گیر ہوتا ہے کہ کاش نہ ہی ملے ہوتے۔خلقِ خدا میں ایسے بھی بہت سے ہیںکہ جن سے مل کر دل و دماغ پر کسی قسم کا کوئی تاثر نہیں اُبھرتا۔مل لیے تو ٹھیک نہ ملتے تب بھی کوئی فرق نہ پڑتا۔آخر الذکر انسانوں کی ناپید ہوتی ہوئی وہ نسل ہے جو اب نایاب نہیں تو بہت کم یاب ضرور ہے ۔ جن سے ملنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ ملنے میں بہت دیر کر دی۔ کاش پہلے ہی مل لیے ہوتے۔ میں حیاتِ چارروزہ میں جن چند شخصیات سے متاثر ہوا ہوں ۔یہ خوش گواراتفاق ہے کہ وہ سب میرے اساتذہ تھے۔میں خوش نصیب ہوں کہ مجھے اچھے اساتذہ ملے۔قاضی رحیم بخش ؒ گورنمنٹ پبلک ہائی سکول کُنجاہ (گجرات) کے پرنسپل تھے۔انگریزی، اسلامیات، عربی، ریاضی اور تاریخِ انگلستان کے عالم بے بدل تھے۔وہ اِس پائے کے عالم تھے کہ جہاں علم کی حدیں ختم ہوتی ہیں اور حکمت کی راج دھانی شروع ہو جاتی ہے۔وہ بلا شبہ خدا رسیدہ بزرگ تھے۔مجھے متعدد بار انہوں نے کئی باتیں رونما ہونے سے پہلے بتا دی تھیں۔ قاضی خورشید انور فارسی اور انگریزی ادب کے استاد اور مڈل سکول سے ریٹائرڈہیڈ ماسٹر تھے۔وہ نا بینا تھے اوررحیم بخشؒ صاحب کے دوست تھے ۔ وہ جب کبھی قاضی رحیم بخش صاحب سے ملنے آتے تو اِن دو شخصیات کے درمیاں اعلیٰ سطح کی علمی گفتگو ہوتی۔اُس گفتگو سے میں مرعوب بھی ہوتا اور لطف اُٹھاتا۔حضرت راغب مُراد آبادی میرے ادبی اُستاد تھے۔وہ ایک عظیم عروض داں، ماہرِ لسانیات ، شاعر اور استادالاساتذہ تھے۔اُن کی مجلس میں کسی قاموس العلوم کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔مجھ پرگھر کے ایک فرد کی طرح بہت شفقت فرماتے تھے۔برسوں کی صحبت میں ،میں نے اُن کی منہ سے کبھی کسی کی غیبت نہیں سُنی،نرگسیت سے کوسوں دور تھے ۔اگر اُن کے سامنے اُن کی تعریف کی جاتی تو فوراََموضوع بدل دیتے۔اُن کے کسی نہاں خانے میں توجہ طلبی کی ماری ہوئی کوئی طوائف نہیں تھی ۔تاریخِ ادب میں شاید ہی کوئی شاعر بدیہہ گوئی میںاُن کا ثانی ہو۔مگر جب اُن کا موازنہ اِس فن میں مولانا ظفر علی خان (اُن کے استاد) سے کرنے کی کوشش کی جاتی تو اِ س بات کو انتہائی نا پسند کرتے اور خود کو مولانا کے قدموں کی دھول قرار دیتے۔اتنے اعلیٰ انسانی اوصاف میں نے کسی شخص میں کم ہی دیکھے ہیں۔ہر سمت شاعرانہ تعلی کا نا گوار گرد و غبار اُڑ رہا ہے۔
وہ صورتیں الہی کس دیس بستیاں ہیں
اب جن کے دیکھنے کو آنکھیں ترستیاں ہیں

سوال:۔آپ چند ایسے لکھاریوں کا تذکرہ فرمائیں جن کی ادبی خدمات،انداز یا شخصیت سے متاثر ہوئے اور اُس سے آپ کے فن میں کیا نکھار یا تبدیلی پیدا ہوئی
وہ جو اب ہمارے درمیان نہیں رہے ،اُن میں ڈاکٹر عبادت بریلوی کا اردو تنقید کے ارتقا پر بڑا بھر پور کام ہے، اگرچہ اس موضوع پر بہت سے محقیقین نے کام کیا ہے مگر انہوںنے نہایت سہل انداز میں اپنے افکارکو پیش کیا ہے، ڈاکٹر ابواللیث صدیقی تخلیق کی روح میں اُتر کر اُس کی معنوی پرتیں کھولتے تھے، آج کا اُردو ادب، غزل اور متغزلین، تجربے اور روایت میں تحقیق و تنقید کا جو معیار ہے ، وہ اُن کی اعلیٰ علمی سطح کا عکاس ہے، انہوں نے غزل کے مخالفین خاص طور پر کلیم الدین احمد کے افکار کو ادھیڑ کے رکھ دیا ہے ۔علامہ نیاز فتح پوری بھی ہمہ جہت شخصیت کے حامل تھے، تخلیق کے جمالیاتی محاسن اجاگر کرنے میںثانی نہیں رکھتے تھے۔غالب کے حوالے سے اُن کے فکری مباحث اہم ہیں ۔ ڈاکٹر سلیم اختر کے افسانوی مجموعوں کڑوے بادام اور کاٹھ کی عورت میں تو ایسی کوئی خاص بات نہیں مگر تنقید کے معیار کے اعتبار سے مجموعہ، نظر اور نظریہ،ادب اور لا شعور میں تنقیدی وتحقیقی کام دیکھ کر خوش گوار حیرت ہوتی ہے۔ اُردو ادب ہو یا ادب کے مسائل، اصنافِ ادب ہوں یا تنقیدی اصطلاحات کی توضیحی ، افسانہ ہو یا ناول، ڈرامہ ہو یا غزل گوئی ، اقبال کی فکری و فنی جہات ہوں یا غالب کی نرگسیت، میر کی شخصیت و اسلوب سے لے کر راشد کے متروک کلام تک ، فراق کے تنقیدی ’’اندازے‘‘ ہوں یا احتشام حسین کا تصور ادب و نقد، انہوں نے تنقید و تحقیق کا اعلیٰ معیار قائم کیا ہے۔حتی کہ انشائیے پر اُن کا تنقیدی کام خود ڈاکٹر وزیر آغا کے انشائیے پر تنقیدی کام سے زیادہ وقیع ہے۔میں سید آل احمد سرور کی کتب تنقیدکیا ہے، نئے پرانے چراغ اور تنقیدی اشارے وغیرہ میں اُن کے تنقیدی افکار سے متاثر ہوں۔ البتہ نثری نظم کے حوالے سے مجھے آل احمد سرور اور ٹی ایس ایلیٹ کے افکار سے اتفاق نہیں۔ ڈاکٹر انور سدید، ڈاکٹر فرمان فتح پوری، ڈاکٹر جمیل جالبی بھی تنقیدی و تخلیقی وفور سے سرشار تھے۔ انجم اعظمی کے ہاں کلاسیکی شعرأ کے حوالے سے اسلوب اور لہجے کے مباحث مطالعے کے لائق ہیں۔اِن مشاہیرِ ادب کا کام دیکھ کر حیرت زدہ ہو جاتا ہوں اور جب بھی وقت ملتا ہے اُن کے کام سے بھر پور استفادہ کرتا ہوں۔

سوال:۔آپ اپنے چند اہم اور یاد گار شعر یا کالم کا تذکرہ فرمائیں جنہیں بہت زیادہ سراہا گیا ہو
سرکاری ملازمت کی پابندیوں کی وجہ سے ، میں نے کسی اخبار میں با قاعدہ کبھی کالم نگاری نہیں کی لیکن میرے ادبی کالم روز نامہ جنگ کراچی کے ادبی صفحات پر شائع ہوتے رہے ہیں۔میری ادارت میں شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی پرچے ’’غنیمت‘‘ کا ابتدائیہ بھی قارئین میں مقبول ہے۔گزشتہ دنوں ڈاکٹر جناب پیرزادہ قاسم رضا صدیقی نے مجھے فون کر کے نہ صرف اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا بلکہ اِس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ ’’‘غنیمت‘‘ کے ابتدائیے جلد کتابی صورت میں اشاعت پذیر ہونے چاہئیں۔اسی طرح کے خیالات کا اظہار کئی بار سینئیر شاعر پروفیسر منظر ایوبی بھی متعدد بار کر چکے ہیں۔علاوہ ازیں ۲۰۰۶؁ء سے ۲۰۰۸؁ء تک میں نے بطور مبصر؍تنقید نگار پنجابی ٹی وی چینل ’’اپنا‘‘ سے پنجابی زبان کے پہلے شاعر سے لے کر جدید دور کے اہم پنجابی تخلیق کاروں پر تاریخ وار سولو پروگرام کیے تھے۔وہ انتہائی مقبول پروگرام تھا۔وہ ہفتہ وار پروگرام رات ۱۱ سے ۱۲ بجے تک آتا تھا اور اُس کے ناظرین کی تعداد مشرقی پنجاب (بھارت) میں بھی بہت تھی۔ ایک دلچسپ بات یہ بھی تھی کہ جب میں کلاسیکی پنجابی صوفیا پر پروگرامز کر رہا تھا تو اُن دنوں سعودی عرب میں مقیم بہت سے پاکستانیوں کی جانب سے مجھے عمرہ کی پیش کش بھی ہوتی تھی۔

سوال:۔کہا جاتا ہے کہ شعر گوئی قلبی واردات سے مشروط ہے۔کیا آپ متفق ہیں
اچھا ادب وہی ہے جس کی تعریف اردو کے پہلے با قاعدہ تنقید نگار حالی نے بیان کی ہے۔اچھا ادب فرض کا پابند ہوتا ہے اور اس کی تخلیق اُسی وقت ممکن ہوتی ہے جب شخصیت ماحول کی مخالفت سے بے نیاز ہو کر سماج کے لیے کچھ کرنے کا ٹھان لیتی ہے۔مجھے فانی و جگر کے مکتبِ فکر سے سخت اختلاف ہے۔ادب کارِ زیاں نہیں۔’’اُردو ادب میں نئی تحریک‘‘ والے میرا جی، ن م راشد، قیوم نظر وغیرہ نے بھی ادب کے جمالیاتی پہلو ہی پر نظر مرکوز رکھی۔ ترقی پسند تحریک کے ادب پر احسانات کا قائل ہوں۔اس تحریک کو ترقی دینے اور بعد ازاںنقصان پہنچانے والے بھی لبرلز ہی تھے۔ یہاں تک کہ انگریزی حکومت نے سجاد ظہیر، ڈاکٹر رشید جہاں، علی احمد اورمحمود الظفر کے افسانوی مجموعے ’’انگارے‘‘ کو برصغیر کے باسیوں کے مذہبی عقائد کو نقصان پہنچانے کے جرم میں ضبط کر لیا۔لیکن اس ھقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ دنیا کا اعلیٰ ترین ادب فلسفۂ جمالیات کی تفسیر ہے ۔اظہارِ ذات اور انکشافِ ذات سے محبت کے کئی رنگ منعکس ہوتے ہیں۔مقبول ترین شعرا ٔ نے بھی محبت کے کئی شیڈز پینٹ کیے ہیں۔مومن خان مومن غالب مے مقابلے میں بہت محدود موضوعات اور کم تر رفعتِ خیال کا شاعر ہے مگر لہجے کی بات کی جائے تو وہ اس بنا پر غالب پر برتری لے گیا کہ اُس نے بڑے بانکپن اور ترنگ میں عشق اور عشق کی واردات کو صد ہا رنگ میں پیش کیا۔لہذا میری رائے میں اچھا شاعر وہی ہے جو غم و آلامِ زمانہ کے پردے میں اپنی روداد بھی کہہ دیتا ہے، اس انداز سے کہ اُس کی کہانی روداد جہاں معلوم ہونے لگتی ہے۔

سوال:۔آپ کس صنفِ سخن کو اپنے لیے سہل اور موافق طبع پاتے ہیں؟
اِن دنوں تو ادبی تنقید نگاری کی طرف بھر پور توجہ ہے۔ اِس سال شاعری، فکشن، انشائیے وغیرہ کے حوالے سے ان شا اللہ میری ۴ تنقیدی کتابیں منظرِ عام پر آئیں گی۔ علاوہ ازیں غزل کی پراگندہ خیالی میرے مزاج کے موافق ہے۔نظم کے لیے جس فکری یک سوئی کی ضرورت ہوتی ہے وہ اِس عہد کی افراتفری میں مجھے ابھی میسر نہیں۔

سوال:۔آپ نے معاشرتی مسائل اور زندگی کی تلخیوں کو اپنا خاص موضوع بنایا ہے، اس کی کیا وجہ ہے
ہر عہد میں شاعری کی مختلف تعریفیں سامنے آتی رہی ہیں۔ایک مکتبِ فکر ادب کی مخصوص ہئیت میں جذبات نگاری کو شاعری کہتا ہے۔اُردو ادب میں ایسے نامور استاد شعرا ٔ کی ایک طویل فہرست ہے جو شاعری کے صرف جمالیاتی پہلو پر نظر رکھتے ہیں اور اُسے محض حظ اُٹھانے کا ذریعہ قرار دیتے ہیں، جگر، فانی، حسرت، راشد، میرا جی، قیوم نظر سب اسی مکتبِ فکر کے نمائندہ ہیں۔دوسرے وہ ہیں جو اسے جذبات نگاری تک محدود نہیں کرتے بلکہ شاعری میں زندگی اور زندگی کے گہرے مسائل کو سمونے کے قائل ہیں۔وہ ادب سے تنقیدِ حیات کا کام لینا چاہتے ہیں۔یہ سب شاعری اور نثر میں مقصدیت کے قائل ہیں۔سرسید اور اُن کے رفقا خاص طور پر حالی کی تحریک اصلاح اس سلسلے کی اہم ترین کڑی ہے۔ بعد ازاں ترقی پسند تحریک بھی پوری توانا ئی کے ساتھ شعر کی افادی پہلو کی وکالت کرتی رہی۔انگریزی ادب میں بھی شاعری کو تفسیرِ حیات یا تنقیدِ حیات سمجھنے کا آغاز میتھیو آرنلڈ سے ہو گیا۔سیّد آل احمد سرور نے اپنے مضامین میں ادب کو تنقید حیات سمجھنے والے میتھیو آرنلڈ کے قول کو متعدد بار نقل کیا ہے۔اٰن کی نزدیک ادب برائے ادب کا نظریہ لغو، لا یعنی اور انحطاط کی نشانی کے سوا کچھ نہیں۔

سوال:۔اِس وقت حکومتی اور نجی سطح پر جو مشاعرے منعقد ہو رہے ہیں اُن کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے
مشاعرہ حکومتی ہو یا نجی، اِس عہد میں پی آر کا ذریعہ ہے۔اگر آپ کی پبلک ریلیشنگ اچھی نہیں ہے تو حکومتی کیا نجی مشاعرے میں بھی آپ کو کوئی نہیں پوچھے گا۔معیارِ سخن کوئی کسوٹی نہیں۔لاہور اور اسلام آباد کا تو مجھے زیادہ علم نہیں مگر کراچی سے متعلق یہ صد فی صد درست ہے کہ اکثر مشاعروں میں صدرات، مہمانِ خصوصی اور مہمانِ اعزازی کی نشستوں کے ریٹ مقرر ہیں۔میں نے خود سہ ماہی غنیمت کے زیرِ اہتمام ۲۰۱۶؁ئ، ۲۰۱۷؁ء اور ۲۰۱۸؁ء میں کوئی ۲۰ بڑے مشاعروں کا انعقاد کیا ۔ مجھے مشاعرے سے پہلے یہ اعلان کرنا پڑتا تھا کہ سہ ماہی غنیمت کے مشاعروں میں کسی مسند نشین سے نہ توپیسے لیے جاتے ہیں اور نہ ہی کسی کوئی پیسے دئیے جاتے ہیں۔دو مزید باتیں بہت اہم ہیں۔ایک تو یہ کہ مشاعروں میں پڑھا جانے والا کلام اگر تحریری صورت میں سامنے لایا جایا تو بہت معمولی درجے کا ہوتا ہے۔عام سے فکری تنوع اور رفعتِ خیال سے عاری سطحی اشعار پر جس طرح واہ وا ہو رہی ہوتی ہے وہ تنقیدی شعور رکھنے والوں کے لیے حیرت کا باعث ہوتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ کراچی جیسے شہر میں ایک مشاعرے میں شرکت کرنے بلکہ مشاعرہ لڑنے کے لیے کم از کم پانچ چھ گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔ اتنے طویل دنگل کی تھکاوٹ اتارنے کے لیے دو دن تو درکار ہوتے ہیں۔اس لیے اگر آپ کوئی اہم اور بڑا تخلیقی کام کرنا چاہتے ہیں تو تقریبات میں شرکت کے حوالے سے توازن ضروری ہے۔مشاعرے وقت پر شروع نہیں ہوتے ۔شرکا کے منفی رویے ہیں۔ایک دوسرے کی غیبت اور حسد کی کوئی حد ہے نہ حساب۔مسابقت کا جذبہ مثبت ہو تو ٹھیک ہے مگر یہاں ہرشخص استاد اور شاعر اعظم ہے۔کوئی کسی کو معمولی جگہ دینے کے لیے تیار نہیں۔اس لیے میں نے دوستوں سے معذرت کی ہے کہ بھائی گھر میں بیٹھ کے کام کرنے دو۔ادب تہذیب اور شائستگی سکھاتا ہے۔ہمارے قول اور فعل میں بہت بُعد ہے۔ہر شخص جلدی میں ہے۔وہ زینہ زینہ کر کے نہیں چھلانگ لگا کر چھت پر پہنچنا چاہتا ہے۔کور چشموں کی اِس دوڑ میں کون کچلا جا رہا ہے۔ کس کی عزت نفس مجروح ہو رہی ہے۔کہاں کہاں ہم تہذیب ادب کا گلا گھونٹ رہے ہیں۔کسی کو پرواہ نہیں۔

دوڑ اندھوں کی ہے اور شہر کی سڑکیں روحی
میں نے دیکھی ہیں پریشان فضا کی آنکھیں

سوال:۔آپ اپنی چند ایسی تخلیقات کا ذکر کریں جو آپ کو بہت پسند ہیں
میرا پہلا اہم کام جو تحریری صورت میں سامنے آیا وہ کالج اور یو نی ورسٹی کے طلبا اور طالبات کے لیے تقریر کے فن پر میری کتب ’’فنِ خطابت‘‘ اور ’’اصولِ تقریر‘‘ تھیں۔ ناقدین نے طالب علم مقریرین کے لیے انہیں اُردو زبان کی بہترین کتب قرار دیا تھا۔اِن کتب کے الحمد پبلی کیشنز، لاہور سے درجنوں ایڈیشنز شائع ہو چکے ہیں۔تنقید کے حوالے سے میرا ابھی تک اہم ترین کام ’’راغب مراد آبادی، چند جہتیں ‘‘ ہے۔ یہ کتاب بھی الحمد پبلی کیشنز، لاہور سے شائع ہوئی تھی۔ان شا اللہ ۲ مہینے تک اس کا دوسرا ایڈیشن رنگِ ادب پبلی کیشنز کراچی سے سامنے آ رہا ہے۔ میری ایک پیشہ ورانہ کتاب ’’Internal Audit in Banks‘‘ ۲۰۱۲؁ء میں شائع ہوئی تھی۔اپنے موضوع کے اعتبار سے یہ کسی بھی پاکستانی بینک کار کی پہلی اور واحد کاوش ہے۔ ویسے تو میری کئی اور بھی کتب ہیں مگر میری زیرِ ترتیب تنقیدی کتاب ’’محاسنِ فکر و فن‘‘ سے مجھے بہت امیدیں وابستہ ہیں۔

سوال:۔اگر آپ کے کالم یا ادبی شہ پارے پرنٹ ہوتے ہیں تو اُن کے نام بتائیں
جی میرا ادبی کالم ، میرے اپنے ادبی پرچے سہ ماہی غنیمت میں ابتدائیے کے طور پر شائع ہوتا ہے۔میرے مضامین بھی زیادہ تر اسی پرچے میں شائع ہوتے ہیں۔ ماضی میں میرے ادبی مضامین؍کلام روزنامہ جنگ ، روزنامہ نوائے وقت، نیرنگِ خیال (راولپنڈی)، ابلاغ (نوشہرہ)، سخن ور (کراچی)، صریر (کراچی)، اقدار (کراچی)، کارواں (بہاول پور)، شاعری (کراچی)، تخلیق (لاہور) اور بہت سے ادبی پرچوں میں شائع ہوتے رہے ہیں۔

سوال:۔نیا لکھاری آپ سے راہنمائی حاصل کرنا چاہے کہ آپ ہی کی طرح معروف و مقبول بن سکے تو آپ کا کیا مشورہ ہو گا
فی زمانہ ہم بہت جلد بامِ عروج پر پہنچ جانا چاہتے ہیں۔جن لوگوں کو مطالعے کا نشہ ہو جائے ، شہرت اُن کے لیے بے معنی ہو جاتی ہے۔نثر نگاری مشاہدے کے ساتھ ساتھ مطالعہ بھی چاہتی ہے۔شاعری کی صورت استثنائی ہے۔جدید تر نسل مطالعے سے بہت دور ہو گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کلام پر مشتمل مجموعے ہزاروں کی تعداد میں شائع ہو رہے ہیں۔مجھے ہر روز ڈاک سے کوئی نہ کوئی مجموعہ کلام ملک کے کسی کونے سے ضرور ملتا ہے۔نثر دم توڑ رہی ہے۔ہمیں نثر کے خوبصورت رنگوں کو بچانا ہے تو نئی نسل کو مطالعے کی عادت اپنانا ہو گی۔ پھر چونکہ چراغ بجھتے چلے جا رہے ہیں۔بڑھتے ہوئے اندھیرے میں کوئی چراغ جلے گا تو دور سے اُس کی روشنی ضرور دکھائی دے گی۔
اللہ کریم نے محنت کا پھل دینے کا وعدہ کیا ہے۔اس میں ہندو، مسلم، مسیح اور یہودی کی کوئی تخصیص نہیں۔شرط محنت ہے ذہانت ایک چراغ ہے اور محنت وہ دیا سلائی جس سے یہ چراغ روشن کیا جاتا ہے۔ماہرِنفسیات وِکٹر فرانکل جنہوں نے نازیوں کے ہاتھ اذیت سہی، اُنہوں نے لکھا:۔’’میرا دعویٰ ہے کہ جو بات انسان کو کٹھن حالات برداشت کرنے کی سب سے زیادہ قوت دیتی ہے، وہ یہ علم ہے کہ اُس کی زندگی کا ایک خاص مقصد ہے۔‘‘ دنیا کے تمام نفسیات دان اس بات پر متفق ہیں کہ انسان اتنی دیر تک اعلیٰ سطح کے مطالبات اور خواہشات کی تکمیل کی طرف نہیں بڑھتا، جب تک کہ اُس کی بنیادی ضروریات پوری نہیں ہو جاتیں۔ ہمارے ہاں سب سے بنیادی مسئلہ نان نفقے کا ہے۔حصولِ روز گار مشکل کر دیا گیا ہے۔ شاعری پیٹ نہیں بھرتی۔جامعات میں طالب علم ادبیات کی طرف شوق سے نہیں آتے ۔یقیناََ اُن کی پہلی ترجیح میڈیکل، انجینئرنگ، کامرس اور بزنس جیسے شعبے ہوتے ہیں۔

سوال آپ نے اگر کوئی اعزازات، انعامات یا اسناد حاصل کر لی ہیں تو اُن کا ذکر کرنا مناسب سمجھیں گے۔
جی میں بزنس ایڈمنسٹریشن ، قانون اور بنکاری میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں، تعلیمی کیرئیر بہت اچھا تھا۔زمانہ طالب علمی میں سکول، کالج، یونی ورسٹی اور قومی سطح پر بہترین مقرر قرار پا چکا ہوں۔ اِس طرح بہت سی اسناد ملیں اور انعامات اور میڈلز سے بھی نوازا گیا۔ اگر آپ کی مراد ادبی اعزازت سے ہے تو یہ سفر ابھی جاری ہے۔ ویسے اِس بد نصیب شعبے میں کوئی کسی کا اعتراف نہیں کرتا۔اکثر اعزازت ایک الگ نوعیت کی جد و جہد کا نتیجہ ہوتے ہیں۔تف ہے اُس اعزاز پر جس کے لیے خود داری کی موت واقع ہوتی ہو۔ خود میں نے البتہ استادِ گرامی حضرت راغب مراد آبادی کے نام سے منسوب ’’راغب مراد آبادی ایوارڈ‘‘ کا اجرا کیا ہے۔اس سلسلے کا پہلا ایوارڈ گزشتہ سال معروف شاعر و صحافی ’’اختر سعیدی‘‘ کو دیا گیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔








Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved