تازہ ترین  

ڈاکٹرز بمقابلہ ایف بی آر
    |     6 months ago     |    کالم / مضامین
گجرات شہر کے سرکاری اورپرائیویٹ ہسپتالوں میں کام نہیں ہورہا مریض خوار ہورہے ہیں ڈاکٹرز ہڑتال پر ہیں چونکہ ایف بی آر(فیڈرل بورڈ آف ریونیو) کی ٹیم نے بڑے پرائیویٹ ہسپتالوں پر چھاپہ مارکر ہسپتالوں کاریکارڈ ضبط کرلیاہے۔ان ہسپتالوں کے مالکان یاڈاکٹرز زیادہ ترعزیز بھٹی شہید ہسپتال یادیگر سرکاری ہسپتالوں سے بھی منسلک ہیں اس لئے سرکاری ہسپتالوں کی سروس بھی مریضوں کے لئے بری طرح متاثرہوئی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹرزکاپیشہ بڑاہی مقدس اور ڈاکٹرز معاشرے کے بہت ہی محترم لوگ ہیں ۔یہ معلوم نہیں کہ کن حالات میں ایف بی آر کو چھاپہ مارکر گجرات شہر کے معروف ہسپتالوں کا ریکارڈ ضبط کیاہے اور شہر کے سب ڈاکٹرز ہی سراپااحتجاج بن گئے ہیں۔ احتجاج تو حق ہے ہرشہری کااور پیشہ ورانہ انجمنیں بھی اجتماعی مفادات کے تحفظ اور ظلم وزیادتی کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں اس کافائدہ بھی ہوتا ہے لیکن احتجاج کو احتجاج ہونا چاہیے فساد یا بغاوت نہیں ۔ ڈاکٹرز کااحتجاج تو ریاست کے ایک ادارہ کی واقعتاً غلط کاروائی کے خلاف ہوناچاہیے مگر اس سے عوام اور مریض متاثر نہیں ہونے چاہئیں ۔اگر پرائیویٹ ہسپتالوں کے مالکان یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ بڑی زیادتی ہوئی ہے تو انہیں احتجاج اس طریقہ سے کرناچاہیے کہ انہیں عوام کی ہمدردیاں حاصل ہوں ۔ مثلاً وہ روزانہ ایک گھنٹہ کام نہ کریں یاہفتہ میں ایک یادودن جزوی طورپر کام نہ کریں مؤثر اور مدلل انداز میں میڈیاکے ذریعے آواآٹھائیں اپنے مسائل سامنے لائیں۔ریاستی اداروں کی اپنے خلاف ظلم وزیادتی اوربہترسروس کی راہ میں کھڑی رکاوٹیں حکومت کے نوٹس میں لائیں اس کاسب کو فائدہ ہوگاپرائیویٹ ہسپتالوں کے مسائل بھی حل ہوں گے عوام کی خدمت میں بھی بہتری آئے گی۔سرکاری اداروں کی اصلاح بھی ہوگی۔ وکلاء کی مثالیں سامنے ہیں وہ بھی احتجاج کرتے ہیں لیکن سائلین بہت کم متاثر ہوتے ہیں ۔گجرات کے ڈاکٹرز نے توایف بی آرکے خلاف بڑا سخت ردعمل دیاہے بالکل ایسے ہی جیسے پولیس ملزم پکڑ نہ پائے تو ملزم کے بھائی والد یاقریبی رشتہ دار کوہراست میں لے کر ملزم کو گرفتاری دینے پر مجبور کرتی ہے اسی طرح ڈاکٹرز نے ایف بی آر کی کاروائی کے خلاف حکام بالاکی توجہ حاصل کرنے کیلئے مریضوں کو ہی دیکھنا چھوڑ دیاہے ۔ ڈاکٹرزکے اس طرزاحتجاج کاکوئی اخلاقی جواز بھی نہیں ہے اور نہ ہی اس کوعوامی پذیرائی مل رہی ہے۔ سول سوسائٹی ڈاکٹرز کے اس طرح کے رویہ کی نہ صرف حامی نہیں ہے بلکہ امکان ہے کہ لوگ ان کے خلاف سڑکوں پر بھی آئیں۔ اگر ایساہوتاہے توڈاکٹرز کااحتجاج اتنامؤثر نہیں رہے گا۔ دوسری طرف ایف بی آرکی کاروائی بھی بڑی غیرمعمولی ہے اور عام طور پر ایسے انتہائی اقدامات بڑے ہی واضح ثبوتوں کے ساتھ کیے جانے چاہئیں اور اگر متاثرہ ہسپتالوں کے مالکان سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ ایف بی آر زیادتی کر رہاہے تو وہ قانونی چارہ جوئی کاحق بھی رکھتے ہیں۔ اس معاملے میں مقامی سیاسی قیادت کاکردار بھی بڑا اہم ہوناچاہیے لیکن وہ نظر نہیں آرہا۔ اگر ایف بی آر کایہ اقدام حکومتی پالیسی کے تحت ہورہاہے یعنی حکومت ٹیکس چوری پر قابو پاکر ریونیومیں اضافہ کرناچاہ رہی ہے اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کاعزم رکھتی ہے تواس کیلئے فوری انتہائی اقدامات کارگر ثابت نہیں ہوں گے پہلے مجموعی طور لوگوں کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے ۔ کرپشن اور سیاسی محاذ آرائی کی وجہ سے ہمارے ہاں سرکاری اداروں کی وہ ساکھ نہیں ہے کہ ٹیکس دہندگان اعتماد اور جذبہ حب الوطنی کے ساتھ سرکاری اہلکاروں کو سب کچھ سچ بتادیں اور سرکاربھی ان کی سچائی پریقین کرلیں اور ان کااحترام کریں ایسا ماحول ابھی بنانے کی ضرورت ہے جو دن رات میں بن سکے گا۔ اس کیلئے حکومت کو اداروں کی اس طرح اصلاح کرنا ہوگی کہ ان سے کوئی بے قاعدگی اور ٹیکس دہندگان کے ساتھ زیادتی سرزد نہ ہواور باقاعدہ مہم کے ذریعے لوگوں کااداروں پر اس طرح اعتماد قائم کیاجائے کہ کسی ٹیکس دینے والے کو خیال تک نہ آئے کہ اس کے ٹیکس کے پیسے سرکاری خزانے کی بجائے کسی اور کی جیب میں جائیں گے چونکہ پورے ملک میں ٹیکس چھپایاجاتاہے جس سے حکومت یاایف بی آر یقینی طور پربے خبر نہیں ہے ۔ اصلاح کیلئے حکومت کاعزم اور حکومت پر عوام کااعتماد درکارہوگاجو موجودہ حالات میں شاید ممکن نہ ہو چونکہ سیاسی محاذآرائی کاماحول ہے اور جبر کی صورت میں احتجاج اور ہڑتالوں کاسلسلہ شروع ہوگا جو ملکی معیشت کیلئے بڑانقصان دہ ہوگا۔ اس لئے حکومت کورواداری اختیار کرناہوگی اور احتساب کے عمل کو بڑا شفاف بناناہوگاکرپشن کے راستے روکنے ہوں گے ۔سیاست دانوں کی پکڑدھکڑ حکومت کیلئے مسائل پیداکرے گی اور اس کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کرے گی۔ بغیر ثبوت کے اپوزیشن کے سیاست دانوں کوگرفتار کرناحکومت کونقصان اور اپوزیشن کو فائدہ دے گا۔ اس لئے حکومت کوجبر کی پالیسی ترک کر کے ماحول کوخوشگوار بنانا چاہیے تاکہ بدعنوانی کاسدباب ہوسکے اور صحیح بدعنوانوں پر ہاتھ ڈالا جا سکے۔ حکومت اور اپوزیشن کی محاذآرائی میں عمل اورردعمل ہوتاہے ۔ جرائم پیشہ لوگ ایسے ماحول سےفائدہ اٹھاتے ہیں۔





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved