تازہ ترین  

سلام کی عادت ڈالیں
    |     6 months ago     |    کالم / مضامین
کل ایک مسجد کی طرف جانا ہوا,, وہاں جب پہنچے تو دیکھا باہر ایک صاحب کھڑے ہیں٫٫٫ جو بڑے دین دار معلوم ہوئے,,, ہم نے انہے سلام کیا,,,اور مصافحہ کیا,,,

سلام کا ان صاحب نے جواب نہی دیا،،،،ظلم یہ کہ مصافحہ کےلیے بھی جب ہاتھ بڑھایا تو انہونے تیں انگلیاں دیکر فیض یاب کردیا،،، ان صاحب کیساتھ دو بچے بھی تھے جو ماشاءاللہ ٹوپی اور کرتے میں ملبوس تھے،،، وہ بچے تو بے چارے تربیت کے مارے مصافحے کیلیے بھی ان سے کہنا پڑ!!! بیٹاہاتھ ملائیں!!!

اس واقعہ کے بعد ہم افسردگی کیساتھ سوچنے پر مجبور ہوگئے کے اگر وہ صاحب یہی معاملہ کسی عام آدمی کیساتھ کردیتے تو وہ بیچارہ تو بجاے دین کے قریب ہونے کے دین داروں سے دور ہوجاتا کیونکہ ایک مچھلی سارے تالاب کو گندا کردیتی ہے!!!

بہر کیف دین دار لوگوں میں اخلاق نہی اعلی اخلاق ہونے چاہیے سلام میں پہل ہونا چاہیے اور چہرے پر مسکراہٹ ہونا چاہیے!

ارشاد باری تعالی ہے واذا حییتم بتحۃ فحیو باحسن منھا او ردوھا ان اللہ کان علی کل شی حسیبا!!!!
جب تمہیں کوئی ھدیہ(سلام) دے تو اس بہتر ھدیہ(سلام) دو یا اس جیسا ہی دو

مطلب,,, السلام علیکم کا جواب وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ!!!

اور السلام علیکم ورحمۃ اللہ کا جواب وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!!!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کو جواب وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ومغفرتہ!!!!

یا کم از کم السلام علیکم کا جواب وعلیکم السلام تو دینا واجب کا درجہ رکھتا ہی ہے اور یہ مسلمان کا حق بھی اور حق تلفی کنیوالا گناہ گارہوگا!!!!

مسنون سلام کو رواج دیجیے

”سلام“ چوں کہ عربی زبان کا لفظ ہے، اس کی ادائیگی میں کبھی ناواقفیت کی وجہ سے غلطیاں ہوجاتی ہیں؛ اس لیے ذیل میں صحیح اور مسنون طریقہ درج کیا جارہا ہے:

افضل اور مسنون یہ ہے کہ ”اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہ “ کہا جائے اور ادنیٰ درجہ کا سلام ”اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ“ ہے، اس پر دس نیکیاں ملتی ہیں اور ”رحمةُ اللّٰہ“ کے اضافہ پر دس نیکیاں مزید بڑھ جاتی ہیں اور ”وبَرَکاتُہ“ کا اضافہ کرنا بہتر ہے اور زیادتی ثواب کے سلسلے میں اس کا حکم وہی ہے جو سلام کرنے والے کے لیے ہے( ردالمحتار ۹/۵۹۳)

فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے!!!!

ان السلام اسم من اسماء اللہ تعالی وضعہ فی الارض فافشواالسلام بینکم ٫٫٫٫
سلام اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے اللہ نے اسے زمین پر رکھا ہے سلام کو آپس میں رواج دو!!!
(بخاری)

سلام ذکر ہے اسلیے کے اللہ کا نام ہے٫٫٫ دعا ہے اسلیے کے آپس میں سلامتی وامن کی درخواست ہے پروردگا کی بارگاہ میں،،، اور اس سے آپسی خیرخواہی کاجذبہ انسان میں پیدا ہوتا ہے!!!

فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے!!!

البادئ بالسلام بریئ من الکبر,,,سلام میں پہل کرنیوالا تکبر سے بری ہے٫٫٫٫
(مشکوۃ )

اب خود احتسابی سے انسان پتا لگا سکتا ہے کے میں متکبر ہو یا نہی!!!!

سلام مسلمانوں کو اللہ کی طرف سے عظیم تحفہ ہے اور ذریعہ مغفرت ہے اسلامی معاشرے کی عکاسی کرتا ہے آپس الفت ومحبت کو پیدا کرتا ہے حسد عناد بغض کینہ جیسی فطرت سیئہ کو ختم کرتا ہے!!!

حضرت برا بن عازب رض سے روایت ہیکہ جب مسلمان آپس میں سلا کرتے ہیں تو جدائیگی سے قبل اللہ گناہوں کو بخش دیتے ہیں,,,,
(منتخب احادیث)

یہاں تک فرمایا ہیکہ!!!

حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہیکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا!!!!

مسکراتے چہرے کیساتھ سلام کرنا صدقہ ہے!!!
(بہیقی فی الشعب)

جہاں سلام کا رواج نہی ہوتا وہاں رحمتیں اور برکتیں نہی ہوتیں... اسلیے ضروری ہیکہ اپنی اولاد کو سلام کرنا سکھائیں اور خوب سلام کو عامریں

اللہ کے نبی سے پوچھا گیا؟؟؟ ای الاسلام خیر؟؟؟ کونسا اسلام اچھا ہے؟؟؟ آپ نے ارشاد فرمایا! تطعم الطعام وتقراْ السلام علی من عرفت ومن لم تعرف کھانا کھلاو(بھوکے کو) اور سلام جانے انجانے ہر شخص کو کرو !!!
(رواہ البخاری





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved