تازہ ترین  

درد دل سے جو آشنا نہ ہو !
    |     5 days ago     |    کالم / مضامین
پچھلے دو دنوں سے مسلسل بارش کی وجہ سے ماحول کافی خوشگوار ہوگیاتھا، لیکن ایسے میں اکثر گاوں میں رہنے والوں کی مشکلات بڑھ جاتی ہیں ، ہر طرف کیچڑ کی بھرمار کی وجہ سے جانوروں کے لئے چارے اور خشک رہائش کا بندوبست کرنے میں کافی دقتوں کا سامناکرنا پڑتا ہے ۔اس کے علاوہ بھی بہت سارے مسائل ہیں گاوں کی زندگی میں ، خاص طور پہ صحت کا مسلہ سرفہرست ہے ۔گذشتہ جمعرات کا دن عام دنوں سے کافی مختلف تھا ، ہمارےایک دوست کے والد صاحب کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی دمہ کے پرانے مریض ہیں انہیں برستی بارش میں ہسپتال لے کر جانا تھا ۔ پچھلے ڈیڑھ سال میں سمبڑیال اور سیالکوٹ کے سرکاری ہسپتالوں کے تجربے کی نظر میں دوست کو مشورہ دیا کہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال وزیر آباد لے کر چلتے ہیں سنا ہے کہ وہاں کچھ بہتر نظام ہے ۔ لیکن یہاں آکر پتہ چلا کہ ماشاءاللہ ہمارے ادارے اپنے اصولوں اور روائت کے بڑے پکے ہیں ۔حکومت کسی کی بھی ہو انہیں کچھ فرق نہیں پڑتا، ایمرجنسی میں ریسپشن پہ کوئی نہیں تھا ، وارڈ میں دو لڑکے فون پہ مصروف تھے ، مریض کو کبھی یہاں لے جاو کبھی وہاں ، بس ہدایات کی بھرمار تھی سکیورٹی کے بھی ناقص انتظامات تھے ۔ایسے میں کچھ میڈیاورکرزکے ہسپتال میں آتے ہی سارا سسٹم تیز اور سب چوکنے ہوگئے ۔ غرض سمبڑیال اور سیالکوٹ کے سول ہسپتالز کی طرح کا ماحول ہی یہاں بھی پایا۔ اگلے دن جمعہ تھا صبح چھ بجے کے قریب قاسم کی کال آئی کہ جلدی پہنچیں ابو کو دل میں درد ہورہا ہے ہسپتال لے کر جانا ہے ۔ معروف سماجی کارکن ڈاکٹر اشفاق الفضل فاونڈیشن کے روح رواں ہیں ، اکثر فری میڈیکل کیمپس کا انعقادکرتے رہتے ہیں ،انسانیت کی خدمت کا جذبہ اپنے دل میں رکھتے ہیں اور آج اسی دل میں تہجد کے وقت ہلکاہلکا درد اٹھا تو انہیں لے کر وزیرآباد انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پہنچے ۔ گذشتہ روز کی کوفت یہاں پہنچتے ہی ختم ہوتی محسوس ہوئی ، صفائی اور سیکیورٹی کے مناسب اقدامات ، ہشیار اور فرض شناس عملہ، متحرک ڈاکٹرز بخوبی اپنے فرائض خوش اسلوبی سے نبھاتے نظر آئے ۔ وزیرآباد انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا سنگ بنیاد سابق وزیراعلی پنجاب جناب پرویز الہی نے 2007ء میں کیا۔ یہ ایک شاندار منصوبہ تھا جس سے روزانہ ہزاروں غریب لوگ استفادہ کررہے ہیں ۔ پہلے دل کے مریضوں کو لاہور یا پرائیویٹ ہاسپیٹلز میں جانا پڑتا تھا جس سے کافی اخراجات آجاتے تھے جو ہر شخص برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ،یہاں کی انتظامیہ کی تحسین کرنی چاہئے کہ بڑے اچھے طریقےسے معاملات چلارہے ہیں، اچھے کاموں کی حوصلہ افزائی نہ کرنا بھی بددیانتی ہے ۔ سابق وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے صحت کے شعبے میں بہت محنت کی لیکن میں سمجھتاہوں وہ بھی سرکاری ہسپتالوں کی بگڑی مشینری درست نہیں کرپائے ، اور موجودہ حکومت کے وزیراعلی تو ماشاءاللہ مست آدمی ہیں یہ ڈاکٹرز مافیہ ان سے کیا ڈرے گا؟، اوپر سےحکومت نے پندرہ فیصد ادویات مہنگی کرکے عوام پہ جو بم پھوڑا ہے اس کی تکلیف بھی عام آدمی بہت محسوس کررہاہے ۔
کہنے کو تو سرکاری ملازم پبلک سرونٹ عوامی خادم ہوتے ہیں لیکن ان کا رویہ عام آدمی کے ساتھ فرعونوں جیسا ہوتا ہے۔کاش یہ جان پائیں انسانیت کی معراج خدمت میں ہے ، سکون و اطمینان دوسروں کے لئے آسانیاں فراہم کرنے میں ہے ۔اسی لئے کسی نے کہاہے ۔
"خدا نہ بخشے وہ دل کسی کو
درد دل سے جو آشنا نہ ہو "






Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved