تازہ ترین  

پہلے طوائفوں کے کوٹھے ہوا کرتے تھے۔۔۔۔۔۔!
    |     5 days ago     |    کالم / مضامین
 ہم بہت ذہین لوگ ہیں، ہم نے بہت سے چیلنجز کا سامنا کیا ہے،،، بھلا شیطان ہمارا کیا بگاڑیگا، ہم تو وہ ہیں کہ اب اگر شیطان بھی آجائے سامنے تو اسے دم دبا کر بھاگنا پڑے،،،!
کچھ ایسا کر کے جائنگے کہ ابلیس کبھی شرم سے سر نہ اُٹھا سکے،،، اس گستاخ، بدذات نے رب ذلجلال کو چیلنج دیا تھا، ہم اسے للکارتے ہیں،،،!  

انسانیت کی اس دہلیز سے جہاں انسان پاک تھا، ہر قسم کے عیوب سے۔ رحمت خداوندی سے ہر چیز خوشنما تھی۔ زندگی اپنی منزل کی طرف محوِ سفر تھی۔ مگر شیطان،،، کہ اسنے قسم کھا رکھی تھی،،،!

" بنی نوع انسان کے اندر فساد برپا کرنے کی، بے حیائی پھیلانے کی، بیحودگی کو عام کرنے کی،،،"

وقت کے ساتھ ساتھ ہر چیز بدلتی گئی، زمانے بدلتے گئے، انسان بدلتے گئے، رسم و رواج بدل گئے۔ جہالت بھی مات کھاگئی۔ پرانے اور دقیانوسی خیال کے حامل لوگ اپنی سوچ کے ساتھ ہی دفن ہوگئے۔

آج، یہ نئی صدی ہے، نئے نئے مناظر ہیں، تعلیم ہے، ٹکنالوجی ہے، ماہر اور ذہین انسان ہیں،،، " آج کچھ بھی 'ناممکن' نہیں،،،"

آج کے اس معاشرے میں اتحاد ہے، مساوات ہے، کوئی غیر نہیں، سب اپنے ہیں،،، " گلا کاٹنے والا بھی، چھری بھونکنے والا بھی، عزت لوٹنے والا بھی،،،" ہم آج کسی سے نفرت نہیں کرتے، کیونکہ ہم تو انسان ہیں۔ انسانیت ہی ہمارا مذہب ہے۔ ہندو، مسلم، سکھ، عسائی،ان لفظوں نے ہے اک درار لائی،،،!

آج باپ کا رعب بچوں پر نہیں ہوتا، ماں سے پوچھ کر بیٹی باہر نہیں جاتی۔ بیٹا دوستوں کے ساتھ مل کر فلم، شراب، جوا، زنا کرتے ہوئے شرمندہ نہیں ہوتا۔ کیونکہ ہم آزاد لوگ ہیں۔ ہم موڈرن زمانے کی مٹی گھول کر اَون کے ذریعہ تشکیل شدہ مورتیاں ہیں۔ رکاوٹ، ڈانٹ ڈپٹ، فٹکار یہ سب پرانے لوگوں کی عادات تھیں۔ آج کے اس معاشرے میں لڑکا لڑکی، عورت مرد کا کوئی بھید بھاؤ نہیں۔ کوئی کسی سے جدا نہیں، سب ایک ہیں۔

آج کوئی زینب پر، کوئی نربھیا پر زور زبردستی کرتا ہے، عزت لوٹتا ہے تو آوازیں گھٹ کر سانسیں نہیں روکتیں، چیخ و پکار سے زمیں آسمان کی جڑیں ہلا دی جاتی ہیں۔ انصاف کی گہار سے سڑکوں سے لیکر عدلیہ کی چوکھٹ تک تھرا اٹھتی ہیں۔

مرضی کے خلاف ایک بھی زینب اپنی آبرو پر ہاتھ نہیں لگنے دیتی، عزت پر ایک خول چڑھا رکھتی ہے۔ اور ابن آدم،،، اپنے جسم کو ایسا بنا نے کی کوشش کرتا ہے کہ نظر میں سما سکے، کسی حور کا باڈی گارڈ بن سکے۔ تاکہ کوئی غیر اسے ہاتھ بھی نہ لگا پائے، وہ صرف اسکی جاگیر ہو۔

آج باپ کو شرم نہیں آتی بیٹی کو بے پردہ دیکھ کر، ماں خود مغرب کی تہزیب کی دلدادہ ہے۔ ایک بھائی کو قطعی برا نہیں لگتا کہ بہن کے کتنے ایکس زندہ سلامت حسن و عسق کے مزے چکھ کر اپنی گندی سانسوں سے فضا کو میلا کر رہے ہیں۔ کیونکہ ہم آج ایک پرسکون ماحول کا حصہ ہیں۔ یہاں کسی کو کسی سے کوئی بیر نہیں۔ سب آزاد ہیں، جسکا جو من کرتا ہے کہتا ہے اور کرتا ہے۔ چاہے کوئی ویلنٹائن منائے یا کچھ اور،،،!

بھائی کو برا نہیں لگتا اگر بہن بےحیا گھومتی ہے۔ کیونکہ وہ خود بھی کسی کی بہن کے ساتھ گلچھرے اڑاتا ہے۔ ماں کو بچوں پر فخر ہوتا ہے، انکی بےحودہ بے ہنگم لائف اسٹائل پر، باپ خود بچوں کو نئے طرز کی زندگی دینا چاہتا ہے، موڈرن تہزیب، موڈرنِٹی کی تعلیم،،،!

موڈرن نصابِ تعلیم، اور نئی تہزیب کیا ہے،،،؟

فرنڈشپ ڈے، روز ڈے، کِس ڈے، چوکلیٹ ڈے، برتھ ڈے، مدرز ڈے، فادرز ڈے،،، کسی بھی طرح کا ڈے ہو بس منانا شرط ہے۔ ورنہ آپ دقیانوس، جاہل اور کم ظرف تصور کئے جائنگے۔

گناہ کی تعریف آج لوگ نہیں جانتے، آج کے سماج میں ہر چیز ہر رشتہ بہت مہذب اور قواعد و ضوابط کے دائرے میں پل رہا ہے۔ لڑکی کسی غیر کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر بازار بازار پھرا کرتی ہے۔ رشتے انگنت گردانے جاتے ہیں،،، فرنڈشپ، کلاسمِٹس، گرل فرنڈ- بُوائے فرنڈ وغیرہ،،، کوئی اعتراض نہیں، نہ بھائی کو فرق پڑتا ہے، نہ ماں کو شرم آتی ہے، نہ ہی باپ کو پریشانی ہوتی ہے۔

شور تو تب اٹھتا ہے جب کوئی بھوکا بھیڑیا انہی باتوں سے متائثر ہوکر کسی زینب کو شکار کر لیتا ہے، انسانیت تو تب شرمسار ہوتی ہے جب آدھی رات کو تھئٹر سے لوٹتے ہوئے نربھیا کا یار اسے بچا نہیں پاتا اور کچھ غیر، منچلے، شراب کے نشے میں دھت گوشت کو سرِ عام نوچ کھسوٹ کر کھانے لگتے ہیں۔ تکلیف ہوتی ہے کہ وہ طریقہ جاہلانہ تھا لڑکی ذات، نازک سی بابا کی شہزادی اسے برداشت نہیں کرپائی،،،!

مہذب طریقہ تو یہ ہے کہ چار شرابی کے بجائے آٹھ ایکس ہوں،،، دو چار راتیں یا چند ماہ و سال ہر کسی کے نصیب میں آئیں اور معاملہ بند کھڑکی کے پیچھے کا ہو، جب ایک سے من اوب جائے، تو وقت آنے پر دوسرا پاسہ پھینکا جائے،،،!

چودہ (14) فروری،،،!
کوئی ضرورت نہیں کہ اسکی تاریخ اٹھائی جائے، آج تاریخ خود شرمسار ہوجائیگی۔ وہ شخص ایک تھا جس نے ہزاروں کی آبرو اکیلے لوٹنے کی قسم کھائی تھی، ہزاروں دوشیزاؤں کے ساتھ ہمبستر ہوا، جرم بہت سنگین تھا، ایک اکیلا شخص کیسے کرسکتا ہے، باقیوں کا حصہ چھین نے کا اسے کوئی حق نہیں تھا۔ اسے تو مرنا ہی تھا پھانسی ہی اسکا مقدر تھی، آج ہر کسی کے نصیب میں ایک پاپا کی شہزادی ہے۔ ہر کوئی بہت سلیقے سے اس دن کو مناتا ہے۔

لڑکیاں اپنی عزت کو بناؤ شرنگار کی چادر میں لپیٹ کر، اپنے وجود کو ابن آدم کی نگاہوں کو قتل کرنے کا سامان بنا کر سر بازار پیش کرتی ہیں۔ اور ابن آدم وہی پرانا گھساپٹا "مجھے تم سے محبت ہے" کا جملہ لئے اپنی حور پری کو تلاشنے نکلتا ہے۔ کوئی نکاح نہیں، کوئی قاضی نہیں، ماں باپ کی ضرورت نہیں، بیحیائی اور بے غیرتی کا بازار لگتا ہے۔ بھائی بہن ایک ہی ہوٹل میں، ایک ہی بار میں، نشے میں دھت ناچ گانے میں مشغول، اس رات کے مزے لوٹتے نظر آتے ہیں۔ ماں باپ کو فکر لاحق نہیں ہوتی کہ بچے اب بڑے ہوگئے ہیں،،،!

پھر شروع ہوتا ہے وہ کھیل کہ جسکے سر عام کھیل نے پر یہ لبرلز، یہ نئی تہزیب کے پیشوا، مغرب کے پجاری زمین آسمان ایک کرتے نہیں تھکتے، درندوں کو پھانسی کی سزا دلائی جاتی ہے۔ مگر اس رات کوئی آواز حلق پھاڑ کر باہر نہیں آتی، وہاں ایک زینب، ایک نِربھیا کی بات تھی یہاں ہزاروں زینب لُٹتی ہیں، ہزاروں نِربھیاؤں کی آبرو پر داغ لگتے ہیں،،، نہ تو کسی کی غیرت جاگتی ہے نہ کوئی حقوقِ نسواں کا پر چم لہراتا ہے، سب بے سدھ تماش بین بنے ہوئے اپنی عیاری پر تالیاں پیٹتے اور خوش ہوتے ہوئے داد تحسین بٹور کر چلتے بنتے ہیں۔ کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا، ماکیٹ میں پروٹیکشن کی در اپنے عروج پر ہوتی ہے، آخر یہ چیز بنی ہے تو بکنی بھی چاہئے اور اس ایک رات سے زیادہ منافعہ اور کب ملیگا بھلا۔

رات گئی بات گئی،،، ایک دو ہفتے یا پھر ایک آت ماہ اور سال، پرانے رشتوں میں کھٹاس آہی جاتی ہے۔ کیونکہ ایک کے ساتھ پوری لائف نا با با نا،،،!

ہر چیز بدلاؤ چاہتی ہے، پھر سال بدلیگا پھر رات آئیگی، زینب پھر پیدا ہوگی، نر بھیا پھر شکار کی جائیگی، آواز اب بھی نہی اٹھی، آواز تب بھی نہیں اٹھیگی، اور ایسے ہی ہم سب اس کھیل کا حصہ بنتے رہینگے،،،!

پچھلے زمانے میں طوائفیں ہواکرتی تھیں، کوٹھے ہوتے تھے،رنگین مزاج لوگ وہاں شوق سے جاتے تھے، اور اپنی خاہش نفس کو تسکین دیتے تھے۔ کچھ پیسے خرچ کرتے تھے۔ آج کوٹھے بھی نئے طرز کے ہوگئے ہیں، پہلے محلوں سے دور ہوا کرتے تھے، آج انہی محلوں میں بن جایا کرتے ہیں،،، گلی کوچوں سے، مخلوط تعلیمی اداروں سے ہمیں ایک طوائف چنا ہوتی ہے، وقت 14 فروری سے قبل،،، پھر جو چاہو کرو، قیمت صرف " ڈھائی اکچھر پریم کے"۔ ہزاروں کی بچت ہوجاتی ہے، مستی بھی اور کوئی اعتراض نہیں، کوئی سائڈ افکٹ بھی نہیں،





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved