تازہ ترین  

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم۔۔۔۔!
    |     5 days ago     |    گوشہ ادب
ادب اور ادیب معاشرہ کا وہ لازم و ملزوم جز ہیں جو تہذیب و ثقافت کی نیو رکھتے ہیں. اپنی تخلیقات سے یہ نہ صرف معاشرہ کے اجتماعی کتھارسس کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں بلکہ اس کی خرابیوں کی نشاندہی کر کے اس کا حل بھی تجویز کرتے ہیں.بنا بریں اگر یہ کہا جائے کہ یہ معاشروں کا اجتماعی شعور ہوتے ہیں تو بے جا نہ ہو گا.

وطن عزیز کا دامن بھی ایسے بہت سے نادر و کمیاب گوہر ہائے نایا سے بھرا پڑا ہے جنہوں نے اپنے اپنے فن کی معراج کو چھوا اور آسمان فن پر ایک لا زوال ستارہ بن کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے. علم و ادب کی اس منور کہکشاں اور اس ستاروں کے اس جھرمٹ کا ایک چمکتا دمکتا نام فاطمہ ثریا بجیا ہیں.

بجیا آپا 1930 میں حیدر آباد کرناٹک کے ایک قصبہ رائے چور میں پیدا ہوئیں.
آپ نے تمام تر رسمی و غیر رسمی تعلیم اپنے گھر پر پائی . غالبا اسی کا فیض تھا کہ آپ ایک غیر روایتی ، حساس اور بیدار مغز خاتون تھیں جو ایک کامیاب ناول نگار ، اسٹیج پلے رائٹر اور ڈرامہ نگار ثابت ہوئیں.

تقسیم ہند کے کچھ ہی عرصے بعد ان کا خاندان ہجرت کر کے پاکستان آ گیا. یہاں بجیا کو بہت سے معاشرتی موضوعات خصوصا خواتین اور بچوں کے لیے لکھنے کا موقع ملا.
1960کی دہائی سے آپ نے پی ٹی وی کے لیے لکھنا شروع کیا. ازاں بعد پی ٹی وی کے لاہور اور اسلام آباد سینٹرز کو اپنی ابتداء ہی سے آپ کی خصوصی توجہ اور شفقت حاصل رہی. آپ ٹی وی,اسٹیج اور ریڈیو کی جانی مانی شخصیت اور لکھاری رہیں. کراچی، لاہور اور اسلام آباد سنٹرز سے آپ کے کئی شاہکار ڈرامے جن میں شمع، عروسہ، افشاں اور طویل دورانیہ کا کھیل " مہمان" نشر ہوئے اور مقبولیت کے ریکارڈ قائم کیے.

بجیا، جو اپنی راجدھانی کی بلاشبہ ملکہ تھیں، کی تحریر ندرت فکر، نیرنگئ خیال اور سلاست و روانی میں اپنی مثال آپ ہوا کرتی تھی. لفظ ان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے اور وہ انہیں جہاں پہنچنے کا اذن دیتیں کورنش بجا لاتے ہوئے وہ وہاں پہنچ کر اپنے معانی سے جملوں اور ڈائلاگز کو پر اثر اور معنی خیز بناتے رہتے۔
ان کا یہ کمال فن ہی ان کو شہرت دوام بخشنے کا باعث بنا. معاشرہ کے کرداروں کو کہانی کے پلاٹ میں باندھ کر معاشرتی رویوں اور مسائل کی نشاندہی و تہذیب جس انداز میں وہ کرتیں وہ انہی کا خاصہ تھا.

آپ کے شعبہ میں آپ کی اعلی خدمات اور مہارت کو سراہتے ہوئے کئی ایوارڈز سے نوازا گیا. ۱۹۹۶ میں پرفارمنگ آرٹس کے شعبہ میں لازوال خدمات پر آپ کو پرائڈ آف پرفارمنس جبکہ ۲۰۱۳ میں حکومت پاکستان کی جانب سے ہلال امتیاز سے نوازا گیا. علاوہ ازیں آپ کی خدمات کے اعتراف میں آپ کو جاپان کے اعلی ترین سول ایوارڈ سے بھی نوازا گیا.

جہان فن کا یہ تابناک باب ۱۰ فروری ۲۰۱۶ کو اپنے چاہنے والوں کو اپنی یادوں اور نمناک آنکھوں کے ساتھ چھوڑ کر ہیمشہ کے لیے بند ہو گیا. ۸۵ سال کی عمر میں آپا کراچی کے ایک اسپتال میں گلے کے کینسر سے لڑتے ہوے جان کی بازی ہار گئیں. ان کی اٹھاسی ویں سالگرہ پر گوگل نے جہان فن کے اس تارے کو اپنے منفرد انداز میں سلام عقیدت پیش کیا اور بجیا کا گوگل ڈوڈل اس روز گوگل کھولنے والے کو پاکستان اور بجیا کا تعارف کرواتا رہا. 





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved